”تعلقات ِدیرینہ ، یادوں کا خزینہ“ 
13 May 2021 2021-05-13

 تحریرگزشتہ میں بھی میں نے وطن عزیز کے رہنماﺅں کے ساتھ، تعلقات بلکہ بلاتکلف دوستی کے بارے میں ذکر کردیا تھا، اب دوبارہ اپنی یادوں کو سمیٹ کر میں کچھ اور معززین کا ذکرکرتا ہوں، پہلے ہرحکومت کو معزولی کے مرض جان لیوا کے ”مرتکب“ جناب نوابزادہ نصراللہ خان کا ذکر ہو جائے وہ ہرحکومت میں اپوزیشن لیڈررہے، اور مواقعے اقتدار ملنے کے باوجودبھی وہ اس کانٹوں کی سیج پہ چڑھنے سے احتراز کرتے رہے، نوابزادہ نصراللہ خان جو، جنوبی پنجاب کے سرائیکی علاقے خان گڑھ کے رہنے تھے، دراصل وہ تقسیم ہند کے بعد جب نقل مکانی کرکے پاکستان تشریف لائے، تو وہ خان گڑھ کے بہت بڑے زمیندار تھے، اور ان کے آموں کے باغات تھے، اور ہمیشہ سے ان کی عادت تھی، کہ وہ حزب اقتدار اور حزب مخالف کے ممبران ایوان نمائندگان کو بغیرکسی ترجیحات خاص کے ہرسال بھجوایا کرتے تھے نحیف ونزاردکھنے والے یہ شخص حب الوطنی میں ید طولیٰ رکھتے ہوئے اپنے اندر بجلیاں بھری رکھتے تھے، شعروسخن کے یہ رسیا نہ صرف خود بہت اچھے شاعرتھے، بلکہ ان کو برصغیر کے عظیم شعرائے کرام کے ہزاروں شعر یادتھے، اس طرح وہ حال ہی میں داغ مفارفت دینے والے، مشاہد اللہ خان سے بھی کہیں آگے تھے، نوابزادہ ہمیشہ اچکن اور قراقلی ٹوپی پہنتے، بلکہ پھوننے والی ترکی جناب نوابزادہ نصراللہ خان، لاہور میں نکلسن روڈ، ریلوے سٹیشن پہ ہمیشہ رہائش پذیر رہے، ان کا یہ گھر کرائے کا تھا، یہاں مجھے ایک دلچسپ بات یاد آئی ، جس کالونی میں، میں رہتا ہوں، اس کالونی کوجنرل ضیا الحق مرحوم نے اپنے جنرلوں کے لیے بنایا تھا، اس عسکری کالونی کے بنگلہ نمبرتین میں نواب زادہ نصراللہ خان کے داماد بھی کرائے پہ رہتے تھے، اور یہ گھر میجر جنرل وحید گجیال صاحب کا ہے، چونکہ ان کے دوران ملازمت رہائش لاہور سے باہر رہی، لہٰذا انہوں نے یہ گھرکرائے پہ دے دیا تھا، جب وہ ریٹائرہوئے تو انہوں نے نواب زادہ نصراللہ کے داماد کو گھرخالی کرنے کو کہا، تو مسلسل تقاضے کرنے کے باوجود بھی داماد نے مکان خالی کرنے سے صریحاً انکار کردیا، تو جنرل صاحب نے کہا، کہ میری یاداللہ آپ کے سسر نوابزادہ نصراللہ صاحب سے بھی ہے، اگر آپ نے مکان خالی نہ کرایا تو میں ان سے آپ کی شکایت کردوں گا، یہ سن کر بجائے اس کے کہ وہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے، انہوں نے کھلکھلا کر قہقہہ لگایا، اور بولے وہ مجھ سے خاک مکان خالی کرانے کا تقاضہ کرسکتے ہیں، انہوں نے تو خود وہ مکان خالی نہیں کیا، جہاں وہ مدتوں سے رہائش پذیر ہیں۔ 

اس کے بعد قارئین کیا ہوا، جنرل وحید گجیال صاحب نے اپنے یونٹ سے فوجی ٹرک منگوایا، اور فوجی جوانوں نے ان کا سارا سامان باہر سڑک پہ رکھ دیا، اللہ خیرصلہ، قارئین کرام، ایک بات آپ کی معلومات کے لیے لکھے دیتا ہوں ساری عمر ان کے پولیٹیکل سیکرٹری رہنے والے جناب عنایت اللہ خان چانڈیو، نوابزادہ صاحب سے کہیں بھی کم درجے کے زمیندار نہیں تھے، چانڈیو صاحب ڈیرہ غازی خان کے رہنے والے تھے اور نہایت نفیس ، نیک، معاملہ فہم، خوش گفتار ، زیرک انسان تھے، وہ خود بھی اچھے شاعر تھے، قارئین ایک بات سوچنے کی ہے، کہ ایک جاگیردار ہوتے ہوئے بھی وہ نوابزادہ صاحب کے اس قدر معتقد کیوں تھے؟ وہ کہا کرتے تھے، کہ نوابزادہ صاحب جیسا انسان صدیوں میں ایک پیدا ہوتا ہے، چونکہ عنایت اللہ خان چانڈیو میرے خالہ زاد بھائی جناب احمد بخش باپاصاحب ریٹائرڈ سیشن جج اور آج کل مشیر صوبائی محتسب ہیں، کے انتہائی قریبی دوست تھے، انہیں نوابزادہ نصراللہ خان سے اس قدرعقیدت تھی کہ وہ اپنا آبائی شہر چھوڑ کر ہمیشہ ان کے پاس چلے جایا کرتے تھے، ایک اور بات جو عقیدتوں کی انتہا ہے کہ نوابزادہ اور ان کے بلامعاوضہ پولیٹیکل سیکرٹری رہنے والے، دونوں اس دنیا سے چلے گئے ہیں مگر عنایت اللہ چانڈیو صاحب کا پورا خاندان اپنے آبائی شہر ڈیرہ غازی خان کو خیرباد کہہ کر خان گڑھ میں ہجرت کرگئے ہیں، میری ان صاحبان دانش سے اکثر ملاقات ہوتی تھی نوابزادہ صاحب سے میری ملاقات ہمیشہ یا تو پر کانٹیل کے باہر ہوتی یا، اندر اجلاس کے دوران ہو جایا کرتی تھی، ایک خاص بات جو میں آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں، نوابزادہ نصراللہ صاحب کاپورا دیوان، میرے بھائی جان کے پاس محفوظ ہے، جسے نوابزادہ اپنی زندگی میں شائع نہ کرواسکے، دراصل عنایت اللہ خان چانڈیو ان کا دیوان چھپوانے کے لیے مختلف پبلشرز سے رابطہ کررہے تھے اور اس دوران اچانک دل کا جان لیوا دورہ پڑنے سے وہ خالق حقیقی سے جا ملے وہ دیوان میرے بھائی صاحب کے پاس محفوظ ہے۔اور انہوں نے میرے رابطہ کرنے یہ بتایا، کہ میری خواہش ہے کہ رمضان المبارک کے بعد دیوان کوچھپوا لینا چاہیے، میں نے انہیں بتایا، بلکہ درخواست کی کہ وہ دیوان مجھے بھجوادیں تاکہ میں اسے شائع کروانے کا بندوبست کراسکوں، انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ عید کے بعد ان شاءاللہ بھجوا دوں گا، نوابزادہ نصراللہ صاحب کی اپنے وطن سے محبت، انس اور الفت پورا زمانہ واقف ہے کہ پاکستان سے عقیدت ہی ان کاا وڑھنا بچھونا تھا، زمانہ آمریت اور زمانہ جمہور میں بھی ان کا رویہ ایک جیسا تھا، نہ تو کوئی ڈکٹیٹر انہیں رام کرسکا، اور نہ ہی انہیں دوسرے مراعات ومرادیں پوری کروانے کے وعدے وعید کرنے والے، اسی لیے تو حضرت علامہ اقبالؒفرماتے ہیں کہ نوابزادہ جیسے جنس بے مایہ، جب وصال کرجاتے ہیں۔ 

زوال علم وہنر مرگ ناگہاں اس کی 

وہ کارواں کا متاع گراں بہا!

مجھے رلاتی ہے، اہل جہاں کی بیدردی

فغان مرغ سحر کو جانتے ہیں سرود!

قارئین ان شاءاللہ اگلی دفعہ میں دوسرے اکابرین ملک کے بارے میں اپنے تعلقات دیرینہ ونصیحت آموز پہ روشنی ڈالوں گا کیونکہ اس سے ایک تو بہت سی پرتوں سے پردہ ہٹتاہے، اور آگہی جنون بھی سبق آموز بن جاتی ہے،!!!(جاری ہے)


ای پیپر