قرضہ کی قیمت کون ادا کرے؟
13 May 2019 2019-05-13

خوشخبری آئی ہے کہ آئی ایم ایف نے ہاں کر لی ہے۔ اب قرضہ مل جائے گا۔ حکومت پہلے یہ کہتی رہی کہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔عرب ممالک سے لے کر ہند چینی اور خود چین تک سفر کئے گئے۔ آخر یہی رائے بنی کہ آئی ایم ایف سے ہی قرضہ لینا پڑے گا۔ عالمی مالیاتی ادارہ آئندہ 39 ماہ کے دوران چھ ارب ڈالر کا قرضہ دے گا۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان سے مالیاتی پیکیج کے معاہدے سے متعلق اعلامیہ جاری کردیا۔میڈیا میں اگرچہ اس ڈیل کی تمام تفصیلات نہیں آئی ہیں۔ اور شاید میڈیا میں یا پارلیمنٹ میں کبھی آ بھی نہ پائیں۔زیادہ سے زیادہ اس اعلامیہ سے ہی کچھ سمجھا جاسکتا ہے۔اعلامیے میں تجویز کیا گیا کہ پاکستان میں ٹیکسوں کابوجھ تمام شعبوں پر یکساں لاگو ہوگا۔آئی ایم ایف کے مطابق حکومت پاکستان نے اسٹیٹ بینک کی خود مختاری قائم رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستان آئندہ 3 سال میں پبلک فنانسنگ کی صورتحال میں بہتری لائے گا،پاکستان انتظامی اصلاحات سے ٹیکس پالیسی کے ذریعے قرضوں میں کمی لائے گا۔آئی ایم ایف نے پاکستان سے کہا کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کا تعین مارکیٹ کے طے کرنے کرے گا۔ پاکستان آیندہ بجٹ کے خسارے میں 0اعشاریہ6 فیصد کمی لائے گا۔

ملک کی مالی صورتحال کا نقشہ کھینچتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے منصوبہ بندی نے کہا ہے کہ پاکستان کی درآمدات اور برآمدات میں فرق رواں سال بیس ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ زرمبادل کے ذخائر میں پچاس فیصد کمی ہوئی ہے۔ غیر ملکی قرضہ 96 ڈالر تک جا پہنچا ہے۔ اخراجات میں کمی ہمارے مفاد میں ہے۔برآمدات میں بہتری نہیں بیرونی سرمایہ کاری نہیں آرہی۔ ریاستی اداروں کی صورتحال جو ہے سو ہے۔ محصولات وصولی بھی صحیح نہیں۔ کئی ایسے شعبے ہیں جہاں ہم ضرورت سے زیادہ خرچ کرتے ہیں۔ ایسے میں ان کا مشورہ ہے کہ خسارے میں چلنے والے ادارے بیچ دیئے جائیں۔ عوام کو ملنے والی سبسڈی ختم کردی جائے۔ امیر وں پر ٹیکس لگائے جائیں۔ اس معاہدے کے پروسیس پر سوالات اٹھائے جار ہے ہیں۔وزیر خزانہ اسد عمر اور گورنر اسٹیٹ بینک واشنگٹن میں مذاکرات کی سربراہی کر رہے تھے۔ میڈیا نے کامیاب مذاکرات کی خبر دی۔ اچانک ان دونوں کو ہٹا دیا گیا۔ بعد میں جو ٹیم بنی اس میں وزارت خزانہ کا کوئی اعلیٰ افسر شامل نہ تھا۔وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف قرضہ دے تو رہا ہے لیکن اس کی واپسی کی ضمانت چاہئے۔وزیر موصوف کی ضمانت سے کیا مراد ہے؟ ایک ضمانت یہ کہ عالمی مالیاتی ادارے نے اپنے دو ملازمین عبدالحفیظ شیخ کو وزارت خزانہ میں اور رضا باقر کو

بطور گورنر اسٹیٹ بینک لگایا گیا۔پھر جاکر کہیں مذاکرات کامیاب ہوئے، اس پروسیس پر سیاسی اور میڈیا کے حلقے یہ کہہ رہے ہیں کہ آئی ایم ایف نے آئی ایم ایف سے ہی مذاکرات کئے ہیں۔

خود حکومتی عہدیداران کہتے ہیں کہ شرائط بہت سخت ہیں۔ تمام مالی پیکیجز کچھ شرائط کے ساتھ ہوتے ہیں۔ دنیا مالی اداروں کے اس جال میں ہے جہاں وہ پسماندہ ممالک کے وسائل نچوڑنا چاہتے ہیں۔ بعض بڑے اقدامات بشمول اضافی ٹیکس عائد کرکے 700 ارب جمع کرنا، شرح مبادلہ کی تبدیلی کی اجازت، بجلی کی نرخوں میں اضافہ اور پالیسی ریٹ میں اضافہ اُن اقدامات کا حصہ ہیں جو پہلے ہی کرنا ہوں گے۔

شرائط یہ ہیں کہ آئندہ بجٹ میں اخراجات میں کمی اور آمدنی میں اضافے کے ذریعے 1120 ارب روپے جمع کرکے مالی ایڈجسٹمنٹ کو جی ڈی پی کے 2.6 فیصد پر لانا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ 600 سے 700 ارب روپے جمع کرنے کیلئے اضافہ اقدامات درکار ہیں تاکہ مذکورہ مالی ایڈجسٹمنٹ کو یقینی بنایا جا سکے۔ صورتحال بتاتی ہے کہ اخراجات میں کمی کے حوالے سے زیادہ اقدامات ممکن نہیں۔ یعنی آٹھ سو سے ایک ہزار ارب روپے تک کے نئے ٹیکس لگائے جائیں گے۔روپے کی قیمت مارکیٹ سے منسلک کرنے کا مطلب ہے کہ روپے کی قیمت میں مزیدکمی کا امکان ہے۔اس پروگرام کے تحت دو سال کے دوران سات سو ارب روپے کی سبسڈی ختم کی جائے گی۔ پہلے سال ساڑھے تین سو ارب روپے۔ گیس اور بجلی کی قیمتیں بڑھانے پر اتفاق رائے کیا گیا۔ آئی ایم ایف ٹیم نے ترقیاتی بجٹ کم کرنے کی بھی بات کی ۔ لیکن وہ ایک حد سے زیادہ کم نہیں کیا جاسکتا۔

سوال یہ ہے کہ کیا اس سے معیشت بحال ہو جائے گی؟پاکستان گزشتہ 71 سال کے دوران 21 مرتبہ قرضہ لے چکا ہے۔ یہ جو رقم حاصل کی جارہی ہے وہ قرضہ اتارنے یا ہماری درآمدات اور برآمدات میں گیپ کو پورا کرنے میں خرچ ہو جائے گی۔

اس پورے معاہدہ کا خلاصہ یہ ہے کہ بعض اخراجات کم کرنے ہیں۔ سبسڈی ختم کرنی ہے اور کچھ نئے ٹیکس لاگو کرنے ہیں۔اس کے لئے مختلف آپشنز ہیں۔ جس پر سنجیدہ حلقوں میں خواہ میڈیا میں بحث بھی چل رہی ہے ۔ سبسڈی ختم کرنے کا مطلب عوام کو ناراض کرنا، جس کی کوئی بھی سیاسی حکومت متحمل نہیں ہو سکتی۔ صوبوں کا حصہ کم کرنے سے صوبائی کشیدگی بڑھے گی۔ آخر کس کے حصے سے کٹوتی ہو۔ آئی ایم ایف کے اس معاہدے کے حوالے سے ملک کے اندر ایک اور بحران جنم لے رہا ہے۔ وزیراعظم کہتے ہیںکہ اٹھارویں ترمیم نے وفاق کو کنگلا کر دیا ہے۔ پیپلزپارٹی کا موقف ہے کہ وفاق کی نااہلی کے باعث صوبے دیوالیہ ہو گئے ہیں۔ وفاقی حکومت محصولات کی کم وصولی کر پائی ہے۔ لہٰذا وہ صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ میں مقرر کردہ حصہ نہیں دے پائی ہے۔ خاص طور پر سندھ حکومت اس پر سخت موقف اختیار کئے ہوئے ہے۔ پہلی مرتبہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کا صرف سیاسی نہیں بلکہ مالی امپیکٹ بھی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ تاحال بعض شعبوں میں وسائل، اختیارات اور اثاثے صوبوں کو منتقل نہیں کئے جاسکے ہیں۔

اخراجات میں کمی کہاں سے ہو؟ عسکری شعبے میں، انتظامی شعبے میں یا سیاسی شعبے میں؟اس ضمن میں اراکین اسمبلی و سینیٹ خواہ بیوروکریسی پر اٹھنے والے اخراجات کی بھی بات کی جاتی ہے۔ پنجاب اسمبلی کے اراکین نے اپنی تنخواہیں اور مراعات میں اضافے کا بل منظور کیا، جس کو وزیراعظم عمران خان نے مداخلت کر کے روکا۔ بعض اہل رائے حضرات سول سائیڈ کے ان اخراجات کو زیادہ اجاگر کیا ہے۔ اس پر پیپلزپارٹی کا یہ موقف سامنے آیا ہے کہ سب کا یعنی عسکری اداروں اور عدلیہ کا بھی احتساب ہونا چاہئے۔ بات یہ ہے کہ ملک کا کوئی بھی ادارہ اپنے اخراجات کم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ کہتے ہیں کہ کوئی بھی اخراجات کم نہیں کئے جاسکتے۔ اگر کوئی بھی اخراجات کم نہیں کرسکتا تو پھر اس کا بوجھ عوام کو ہی اٹھانا ہے۔ مزید ٹیکس لگیں گے۔ سبسڈی ختم ہوگی۔ اشیائے خوردنی وصرف کی قیمتیں بڑھا دی جائیں۔


ای پیپر