کیا خوب مسیحائی ہے؟
13 May 2019 2019-05-13

پاکستان کے بائیس کروڑ غریب عوام کی بے نور اور بے کیف زندگی میں آئی ایم ایف کے معاہدہ کا ایک ایک تازہ ہوا کا جھونکا آیا ہے۔ اب کپتان کے نئے پاکستان کی پہلی اینٹ چھ ارب ڈالر کے اس معاہدے کے ساتھ رکھی جائے گی ، عوام کو مذاق نہیں سمجھنا چاہے ان کے امیدوں بھرے خواب پورے ہونے کا وقت آچکا ہے کپتان نے ادھر ادھر سے ادھار پکڑنے کے بعد لمبا ادھا ر پکڑ لیا ہے ۔یہ کیا خوب لمحہ ہے کہ پروین شاکر کے وہ سنہری اشعار یاد آگئے

اس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ ہاتھ رکھا

روح تک آگئی تاثیر مسیحائی کی

اب ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑا ڈھالنے کا وقت ہے۔آئی ایم ایف کے اعلامیے کے مطابق پاکستان کو 39 ماہ میںچھ ارب ڈالر قسطوں میں جاری کئے جائیں گے۔اعلامیے میں تجویز کیا گیا ہے۔ تمام شعبوں پر ٹیکس کا برابر بوجھ لادا جائے گا۔ معاہدے میں تو اسٹیٹ بینک کی خود مختاری قائم رکھنے کی ہو گی صرف کوشش۔ میرے جیسے عام لوگ جو اعداد و شمار اور معاشی اصطلاحیں نہیں سمجھتے،بے شک ہمارے وزیرخزانہ سادہ لوح عوام کو لچھے دار اور اقصادی گھمن گھیریاں کتنی دیں ماضی میں عالمی مالیاتی اداروں سے وابستہ وزیر خزانہ کے ہم نشینوں نے ہماری قوم کا بھلا نہیں کیااور کرتے بھی کیسے جب یہ بھاری ڈالروں کے عوض اپنی ایکسپرٹی کا معاوضہ لیتے ہیں تویہ طرف داری آپ کی کیسے کرسکتے ہیں۔یہ کہانی کپتان کے پسندیدہ ڈکٹیٹرایوب خان سے شروع ہوتی ہے جب انہوں نے انتخاب کرائے تو دھاندلی کو سائنس کا درجہ دیا۔ ایوب خان نے آئی ایم ایف کے اقتصادی ماہر محمد شعیب کو امریکہ سے بلایا اور اپنا وزیر خزانہ بنا لیا۔ اس آئی ایم کوٹڈ وزیر خزانہ نے عوام کا بھٹہ ہی بیٹھا دیا لائینوں میں لگا کر اناج دیا جانے لگا،ڈیپو ہولڈروں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا ۔ مہنگائی ایسی کہ حبیب جالب کو اس پر ایک نظم لکھنی پڑی۔بھٹو آیا اس نے اپنے اقتصادی ماہرین کو آزمایا یہ بھی کورے نکلے۔۔کپتان کے ماضی کے ارشادات اپنی جگہ یہ نہیں ہوگا کہ معاہدہ ہوتے ہی ایک کروڑ گھر تعمیر ہونا شروع ہو جائیں گے۔ پہلے ہی عوا م کی زندگی مشکل ہے اب غریبوں کا خدا ہی حافظ ہی۔ پاکستان کے سیکرٹری خزانہ کے بارے میں رپورٹ ہوا ہے کہ ان کو تو اس معاہدے کی خبر تک نہیں ہے۔نہ حکومت سن رہی ہے نہ آئی ایم ایف کے پاکستانی ہرکارے۔یہ ملک پاکستان کے بائیس کروڑ عوام کا ہے۔اس نے کیا سمجھ کر عوام پر اتنا بوجھ لاد دیا ہے۔ مریم اورنگ زیب ہی نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو بھی اس معاہدے پر کڑی تنقید کر رہے ہیں اس معاہدے کو نہ ماننے کی باتیں ہو رہی ہیں۔اب سیاسی قیادت کی نااہلی کا نقارہ بجنے والا ہے جب پرندے گھونسلوں سے اڑ کر کسی اور رخ کی طرف جانے لگیں کے تو ’’پارٹی از اور‘‘ والا معاملہ ہونے جارہا ہے۔ عید کے بعد جو بڑی عید آئے گی مطلع صاف ہو جائے گا۔

کوئی حکومت ہوتی ہے اور نظر آتی ہے۔غریبوں کو یوں مت لوٹو۔اس سے بہتر تھا ملک ریاض کی منت سماجت کر لیتے۔مہنگائی کو روکنا تمہارے بس میں نہیں تو قدرت کے اصول بھی ایسے حکمرانوں کے لیے طے ہیں۔

رمضان کا مہینہ آتے ہی ایک ایسی لہر چلی ہے ۔بے خبر حکمرانوںاور سلطانوں کو اس بات کااندازہ نہیں ہے کہ ریاست مدینہ کے ماڈل میں کتنے ملین افراد خط غربت سے نیچے جا گرے ہیں ۔ جو کام آتا نہیں اس کے لیے 23 سال غرق کیوں کئے ہیں۔اپوزیشن تو ان کو سلیکٹ ہی کہتی ہے۔ اگر ایسا نہیں تو نواز شریف کی طرح ایک جوڈیشنل کمیشن بنادیں تاکہ روز کا قصہ ختم ہو جائے۔پوری قوم کو مبارک ہو کہ اب دودھ کی نہریں بہنے والی ہیں وہ کروڑوں نوکریاں لاکھوں گھر آنکھ بند کرتے ہی ملنے والے ہیں۔مراد سعید کے دو ارب ڈالر بھی آنے والے ہیں جن میں سے ایک ارب ڈالر منہ پر مار کر قرضہ چکا دیں گے اور ایک ارب ڈالر سے وہ پاکستان کے شہریوں کی قسمت اس طرح بدلیں گے۔ ایسا وعدہ ہی کیا تھا ہمارے دشمن اورپڑوسی ملک کے ایک وزیر اعظم نے۔ امیدیں ہماری طرح ادھر بھی بہت تھیں،اب وہ وزیر اعظم اس نعرے کی وجہ سے منہ چھپاتا پھر رہا ہے۔ اس نے ووٹ لینے کے لیے کہا تھا کہ ہر غریب شہری کے اکاونٹ میں وعدے کے مطابق 15لاکھ ڈالے جائیں گے۔ نہ وعدے کے مطابق غریبوں کو گھر ملے۔ ہمارے کپتان نے ایک ایسے شخص کے بارے میں نیک خواہش کی کہ اس کی جیت سے مسئلہ کشمیر حل ہوگا، کپتان کے لیے بری خبر یہ ہے کہ ان کی خواہش کے بغیر ہی پڑوسی وزیر اعظم مسئلہ کشمیر حل کرنے کا وعدہ انتخابی مہم میں کر رہا ہے۔ آئین سے دفعہ370 کو ختم کرنے کا اعلان کر رہا ہے۔اب مودی کے خلاف اور کشمیریوں کے حق میں محبوبہ مفتی اور فاروق عبداللہ بول رہے ہیں۔مودی نے معیشت کی حالت کیا سے کیا کردی ۔بھارت میں بھی آئی ایم ایف کے بارے میں کہا جاتا ہے اس نے ہندوستان کی معاشی نمو کو گھٹایاہے۔بھار ت کو دیکھا جائے وہاں حکومت بھارتیہ جنتا کی آئے یا کانگرس کی دونوں کی بیرونی سرمایا کاری کی پالیسی ایک ہی رہی ہے۔دونوں کی کوشش تھی کہ چین کی طرز پرسرمایا کاروں کو راغب کیاجائے۔تاکہ چین کی طرز پر بھاری روز گاری کے مواقعے نکلیں،عوام کے معیار زندگی میں بہتری آئے۔لیکن وہاں کے سیاست دانوں نے ایک مفروضے کی بنیاد پر جوآئی ایم نے انہیں دکھائے تھے ایسے ایسے نعرے لگا دیے جو آگے چل کر بے کار ثابت ہوئے۔چین اور ہندوستان میں فرق یہ تھا کہ چین میں سرمایا کاروں کو بلانے کی پالیسی تو ایک دم شروع نہیں ہوئی تھی۔یہ وہ زمانہ تھا جب امریکہ اپنے دشمن روس کو شکست دینے کے لیے بے چین تھا اس نے اپنے سارے وسائل جھونک دیے،پاکستان میں سرمایا کاری کیاآتی امریکہ نے ڈالروں کے زور پر پاکستان کے فوجی حکمران ضیا الحق کو اپنے ساتھ ملایا نے پاکستان کے مذہبی طبقے کو بھی بھی جہاد قرار دے کر اس جنگ میں شامل کیا پھر پانچ ستارے والے ہوٹلوں میں افغانستان کے مجاہدین کو سپیکر کی حثیت سے بلا کر لیکچر دلوائے جاتے۔پاکستان کی اکانوی کو درست کرنے کے لیے عالمی مالیاتی اداروں کے مستقل ماہرین بھی آکر بیٹھ گئے۔ان میں محبوب الحق بھی تھے جو ضیا الحق کے مالی مشیر بھی رہے۔اس مشکل صورت حال میں چین نے بھی ایک جنگ شروع کی یہ جنگ اپنی معیشت کود درست کرنے کی جنگ تھی ۔اس زمانے میں چین میں مال کی طلب تھی۔اس طلب کی وجہ سے مغربی ممالک کی ملٹی نیشنل کمپنیاں چین میں سرمایا کاری کرنے کے لیے تیار تھیںاس زمانے میں بھاری مقدار میں جو سرمایا آیااس سے چین میں روز گار پیدا ہوااور دیکھتے ہی دیکھتے چین عالمی اقتصادی منظر نامے پر چھا گیا ۔

اس میں شک نہیں کہ امریکہ اس حقیقت کو مان چکا ہے چین کا مقابلہ کرنے اس میں سکت نہیں ہے۔امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ جو ختم ہونے جارہی تھی امریکی صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کے بعد یہ جنگ تیز ہوگئی جب انہوں نے دو سو ارب ڈالر کی چینی مالیت کی چینی مصنوعات پر اضافی ٹیکس لگائیں ۔ امریکہ اور چین دونوں ایک دوسرے پر اربوں ڈالر کے اضافی ٹیکس لگا چکے ہیں ۔ٹرمپ اقتدار میں آنے کے بعد چین پر غیر منصفانہ تجارتی حربے استعمال کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔یہ سرمایا کاری کی جنگ ہے۔ مودی کے پانچ سالوں میں سرمایاکاری اعداد شمار غلط تھے ۔یہ آئے گا اور وہ ہوگا۔ حقیقت یہ ہے بھارت کے سرمایا کار اپنا پیسہ نکال کر باہر لے گئے ہیں۔ ہم کیا خوب لوگ ہیں ، آئی ایم ایف مقابلہ آئی ایم ایف کے مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں یہ خوش خبری سنائی ہے۔ خانوادہ سومرو خاندان حفیظ شیخ نے۔ وہ پاکستان بننے سے پہلے دو مرتبہ منتخب ہونے والے الہی بخش مومرو کے نواسے ہیں۔اور پہلے بھی وہ وزیر خزانہ رہ چکے ہیں۔انہوں نے غریبوں کو تسلیاں دی ہیں کہ یہ ہو جائے گا اور وہ ہوگا،ہمارے لوکل میڈ وزیر خزانہ کی ناکامی کے بعد انہیں خزانہ کی قائمہ کمیٹی کا چیرمین بنایا گیا ہے۔ ۔شیخ رشید کی طوطا فال کہتی ہے مہنگائی سے لوگ پریشان ہیں ۔ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں جو بھاشن کپتان نے سنے ان بھی تسلی نہیں ہوئی۔ پاکستان میں سرمایا کاری اسی وقت آئے گی جب ملک میں سیاسی بحران نہ ہو۔حکومت کمزور اور اوپر سے نااہلی کے شاندار مظاہرے کرے تو اپنے دشمن آپ ہیں یہ لوگ؟


ای پیپر