غم کے مارے لوگوں کو آسانیاں فراہم کرنے والے ادارے
13 مئی 2019 2019-05-13

نیکیوں کا موسم بہار ، ماہ رمضان اپنے اندر تما م تر رحمتوں اور بر کتوں کو سموئے ، اللہ جی کے انعامات و اکرامات کی بارشیں بر سا رہا ہے ۔جس کا ثبوت یہ ہے کہ ذخیرہ اندوزوں کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کر نے والوں کی غلط حرکتوں کی وجہ سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باوجود بھی ہر شعبہ زندگی سے رکھنے والا فرد چاہے وہ غریب ہو یا امیر ، اسے باآسانی کسی نی کسی ذریعہ سے بہترین چیزیں میسر آرہی ہیں۔ یہ رمضان المبارک کی ہی بر کات ہیں کہ تنگ دل لوگ بھی اپنا دل بڑا کر کے اپنے سے چھوٹے لوگوں کو خیال کرتے ہوئے راشن، کپڑے اور ضروریات زندگی کی اشیا ء ان میں تقسیم کرتے نظر آتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ یہی دین اسلام کا حسن ہے اور یہی اس کا فلسفہ بھی ہے ۔

قارئین ! دین اسلام کے اسی فلسفے کے تحت کئی کئی سالوں سے جو ادارے مخلوق خدا کی خدمت میں ہمہ وقت مصروف ہیں ان میں سے ایک پی۔او۔بی (پریونیشن آف بلائنڈنیس ٹرسٹ )ہے جو اندھیروں کے مسافروں کو روشنی کا سفیر بنا نے کے عظیم الشان مشن پر ڈٹے ہوئے ہیں ۔ بصارت سے محروم لوگوں میں بینائی کی دولت تقسیم کرتے ڈاکٹر انتظار حسین بٹ کا شمار بھی اللہ کے مقربین میں ہوتا ہے جو اپنی تما م تر صلاحیتوں اور وقت کو مخلوق خدا میں آسانیاں تقسیم کر نے کے لئے وقف کر چکے ہیں ۔بظاہر تو ملک پاکستان بلکہ دنیا کے بڑے آئی سرجنز میں ان کا شمار ہوتا ہے اور جس کا ذرہ برابر بھی فخر اور غرور ان میں نہیں پایا جا تا۔ان کی خدمات اور ان کی عاجزی کو دیکھتے ہوئے مجھے تو کبھی کبھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس جہاں کی روح نہیں ، یہ اللہ جی کے ایسے بندے ہیں جن کے سینوں میں مال و عزت اور اس جیسی

تمام تر آلائشوں کی بجائے خدمت انسانی کی محبت ڈال دی گئی ہو۔ ڈاکٹر صاحب اور ان کی ٹیم کو اس بات کا احساس ہے کہ یہ دنیاجس کے ہم باسی ہیں یہاں ہر منٹ بعد ایک بچہ اپنی بصارت کھو رہا ہے ۔ایک اندازے کے مطابق تقریباََ1.4ملین بچے بینائی کے نعمت سے محروم ہیں ۔ لہذا یہ اسی بات کو مدنظرکھتے ہوئے نا بینائوں کو بینائی کی دولت سے نوازے جانے والے مشن پر گامزن ہیں ۔ پی۔او۔بی ٹرسٹ گذشتہ بارہ سالوں سے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں فری آئی کیمپس کا انعقاد کر کے دکھی اور بے آسرا انسانیت کے دکھوں کا مداوا کرتی ہے اور ایسے ہزاروں لوگوں کی امید بنتی ہے جو امید کی نعمت سمیت بینائی کی نعمت سے بھی محروم ہو جاتے ہیں ۔

پریونیشن آف بلائنڈنیس ٹرسٹ ، اب تک ایک لاکھ ستر ہزار سے زائد مریضوں کے آپریشن اور مصنوعی عدسہ کی پیوند کاری سمیت14لاکھ مریضوں کا معائنہ کر چکے ہیں۔ اتنا بڑا کام اور اتنی مہارت کے ساتھ بالکل مفت کیا جا تا ہے اور اس کے لئے مخیر حضرات کا تعاون حاصل ہوتا ہے ۔ صرف پانچ ہزار میں بینائی کی نعمت سے محروم شخص کو اللہ کی رحمت کے ساتھ دیکھنے کی صلاحیت دے دی جاتی ہے ۔ آئیے پی۔او۔بی آئی ٹرسٹ کے اس عظیم مشن میں ہم بھی ان کا ساتھ دیں اورنیکیوں کے موسم بہار میں ہم بھی کسی ایک شخص کو بینائی جیسی نعمت لوٹانے میں مدد گار بنیں اور ماہ رمضان کی رحمتوں اور برکتوں سے مستفید ہو جائیں ۔

قارئین محترم !ایک ایسا ہی ادارہ فائونٹین ہائوس ہے جہاں ذہنی طور پر مفلوج لوگوں کا علاب بڑی عمدگی کے ساتھ کیا جا تا ہے ۔ وہ جنہیں اپنے چھوڑ جاتے ہیں، فائونٹین ہائوس اور ڈاکٹر امجد ثاقب نے انہیں اپنے سینے سے لگایا ہے اور اس میں کتنے ہی صحتیاب ہو کر صحت مند زندگی گذار رہے ہیں ۔ فائونٹین ہائوس میں آنے کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ جنت کا کوئی ٹکڑا ہے جہاں کے مکین بھی دنیا کی کسی بھی قسم کی لالچ سے پاک ہیں ۔ کسی کو بھی ان سے کوئی خود نہیں ، حزن نہیں غم نہیں ۔ یہ اپنی زندگی میں مصروف صرف اور صرف اپنے مدار میں رہتے ہیں ۔ لیکن یہاں کا ہر باسی ایک داستان رکھتا ہے ۔ بڑے بڑے دانشور، پروفیسرز، ڈاکٹرز اور صنعت کار ، جن کے دماغ کا ایک خلیہ ادھر سے ادھر ہوا اور وہ اپنی نارمل زندگی سے ابنارمل زندگی کے مسافر بن گئے ۔ یہ ابنارمل زندگی سے نارمل زندگی کا مسافر بننے کے لئے ہماری طرف دیکھ رہے ہیں ۔ آئیے اپنا دست سخاوت دراز کریں اور اپنے ہی جیسے لوگوں کو اپنی ہی جیسے زندگی گذارنے کے لئے آسانیاں فراہم کریں ۔

قارئین کرام !الخدمت فائوندیشن کا شمار بھی دنیا کے ایسے بڑے فلاحی اداروں میں ہو رہا ہے جو یتیم ، بے آسرا اور لاچار بچوں کی کفالت کا مشکل ترین کام بڑی آسانی کے ساتھ سر انجام دے رہی ہے ۔ پاکستان کے ہر شہر میں جنہوں نے یتیم بچوں کے لئے شیلٹر ہوم بنائے ا ور اس کے ساتھ بہترین تعلیم و تربیت کے لئے تعلیمی ادارے بھی تعمیر کئے ہیں ۔ حالیہ دنوں میں مری میں آغوش کالج کے نام سے جتنا بڑا کام انہوں نے شروع کیا ہے وہ یقینا قابل تحسین ہے ۔ اب تک لاکھوں یتیم بچوں کو بہترین رہائش، تعلیم و تربیت اور انہیں معاشرے کا بہترین اور منفعت بخش انسان بنا نے کے لئے الخدمت فائونڈیشن جو کچھ کر رہی ہے وہ بھی ہمارے تعاون سے ہی ممکن ہو پا رہا ہے تو پھر کیوں نہ ہم اللہ کے دئیے میں سے کچھ حصہ ان جیسے اداروں کو دے کر مزید ستر فیصد کا اور انتظام کر لیں اور نہ ختم ہونے والی جنتوں میں اپنا گھر بنا لیں ۔ یہ کوئی مشکل سودا نہیں بلکہ آسان بہت ہی آسان ۔ پھر سوچنا کس بات کا؟آئیے غم کے مارے لوگوں کو آسانیاں فراہم کر نے والے اداروں کے دست و بازو بنیں۔


ای پیپر