نااہل اور گناہ گار کی تکرار
13 May 2019 2019-05-13

نشے کئی قسم کے ہیں چرس، افیون، شراب ، کوکین، تمباکو، ہیروئن ، ڈرگ نہ جانے کیا کیا۔ اقتدار کا نشہ ہی آخری نشہ نہیں علمیت کا زعم اور جعلی دانشوری کا نشہ تو تمام نشوں پر حاوی ہے۔ کسی تنگ جگہ جیسے ریلوے پھاٹک کے ساتھ پیدل گزرنے والوں کے لیے ریوالونگ جنگلہ سا نصب ہوتا ہے جہاں سے ایک وقت میں صرف ایک ہی شخص گزر سکتا ہے۔ شرابی جو کہ نشے میں دھت گزر رہا تھا جبکہ ایک سپورٹس مین، باہوش آدمی اس سے پہلے گزرنا چاہتا ہے دونوں اس بات پر کہ پہلے میں گزروں گا اڑ جاتے ہیں ۔آپس میں الجھ پڑتے ہیں۔ لوگوں کا ہجوم بھی اکٹھا ہو جاتا ہے۔ باہوش آدمی اسے کہتا ہے تم شرابی ہو۔ مدہوش ہو ، بدکار ہو، گناہ گار اور تم بدکردار ہو جواب میں شرابی اسے کہتا ہے تم نا اہل اور احمق ہو دونوں افراد ایک دوسرے کے لیے یہی الفاظ شرابی بدکار، بدکردار، گناہ گار اور دوسرا اس کو احمق اور نا اہل کہے جاتا ہے۔ نشہ میں دھت شخص کو ہجوم کے لوگ کہتے ہیں تمہیں وہ شرابی بدکار نہ جانے کیا کیا کہہ رہا ہے اور تم اس کو صرف احمق اور نا اہل کہہ رہے ہو۔ یہ کیا طعنہ اور موازنہ ہے۔ لہٰذا ایک چاچا شرابی سے کہتا ہے ۔ تم گناہ گار ہو اس کے جواب میں نا اہل اور احمق کا کہہ کر نیچا دکھانے کے لیے کیا جواز ہے ۔ نشے میں دھت شخص کہتا ہے کہ میں تو نشے میں ہوں میں الجھ گیا یہ ہنومان ہوش و حواس میں میرے ساتھ الجھا پڑا ہے جو کہ عقل کی ضد ہے یہ مجھ سے کم تر اس لیے ہے کہ میرا نشہ تو گھنٹے آدھ گھنٹے میں ختم ہو جائے گا مگراس احمق اور نا اہل کی حماقت اور نا اہلیت کا نشہ جو کہ اس کی فطرت ہے زندگی بھر اس کے ساتھ رہے گا اس لیے میں اس کو احمق اور نا اہل کہہ رہا ہوں کہ اس کا 100 دن 9 ماہ یا 5 سال کی نہیں عمر بھر کا ہے جبکہ میرا نشہ تو گھنٹے بھر کا ہے ہجوم نے ہوش و حواس والے آدمی سے کہا کہ یار وہ تو نشے میں ہے آپ تو ہوش میں ہوتے ہوئے الجھنے جیسی نا اہلیت اور حماقت کر رہے ہو جو نشے میں دھت بھی نہیں کر رہا۔ دراصل کسی چاچے کی پنچایت میں نا اہل ہونا اور حقیقت و ہجوم سے نا اہل ہونا بڑا فرق ہے۔ آج کے دور میں اہلیت اور دیانت کا فرق بھی واضح ہونے لگا۔ تقریباً بیس سال پہلے مجھے ڈرائیور کی ضرورت تھی میرے محکمے کے ایک سپاہی جس کو میں بھائیوں کی جگہ سمجھتا ہوں محمد اکرم خان کھارا نے ایک ڈرائیور کا بندوبست کیا۔ وہ ڈرائیور بھی کاہنہ قصور یا اوکاڑہ کا رہائشی تھا۔ ڈرائیور صبح سویرے ہی آ گیا میں واک کر کے واپس آیا تو دیکھا ڈرائیور میں نے نام پوچھا اس نے بتایا جمیل میؤ گاؤں میں مولوی جیلا کہتے ہیں بڑی عید کے عید قربانی کرنے اور کھالیں اکٹھی کرنے کی وجہ سے جیلا کٹوا بھی کہتے ہیں۔ میں نے پوچھا اس سے پہلے کہاں ڈرائیورنگ کرتے تھے کہنے لگا کہ قصور کاہنہ اور اوکاڑہ میں اور گارڈن ٹاؤن لاہور میں ویگن کار سب کچھ چلایا ہوا ہے۔ میں نے پوچھا شادی شدہ ہو اس نے کہا جی ہاں! مگر بیوی سے بنی نہیں بچہ کوئی نہیں ہے۔ آپ کے شہر گوجرانوالہ میں سمیع اللہ بٹ اور ناصر غنڈی کے پاس بھی کام کیا ہے۔

اللہ سب بے اولادوں کو اولاد سے نوازے انسانی جذبات سے واقفیت کے اور احساس کے لیے بھی ضروری ہے۔

میں نے پوچھا اب جب ادھر آئے ہو تو کیا کام کرتے تھے کہنے لگا کہ دین کا کام میں نے کہا وہ کیا بولا کہ تبلیغی جماعت کے ساتھ جاتا ہوں تاکہ اپنے بڑوں کی طرح آوارہ نہ ہو جاؤں پہلے میں آوارگی بہت کرتا تھا اب ہدایت پائی ہے۔ میں انتہائی خوش ہو اکہ دیانت دار ہے اور ویسے بھی مجھے تبلیغی جماعت سے بہت رغبت ہے بلکہ میرے تمام دوست حضرت محمد عاطفؒ ، حضرت محمد عبدالوہاب صدیقیؒ اور اللہ سلامت رکھے قبلہ مقصود احمد بٹ ، طلعت ، شاہد مبشر، مولانا تخلیق الرحمن، جناب مفتی عبدالخالق ، قبلہ ملک سلیم گویا میری دوستی کی بنیاد ہی دین اور تبلیغ ہے۔ میں نے گاڑی کا موبل آئل اور پانی چیک کرنے لیے اسے کہا کہ وہ ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ میں نے کہا حضرت بانٹ کھولیں وہ مزید تشویش میں چلا گیا میں نے خود بانٹ کھولا تو اس نے کہا ٹاپا بولیں ناں۔ میں نے سوچا یہ میواتی ہے بانٹ کو ٹاپا بولتا ہے۔ جیسے سرحد پار بقول فردوس جمال کے فردوس ہوتا ہے اور پنجاب میں فردوس ہوتی ہے۔ مراد سعید ہوتی ہے اور پنجاب میں مراد راس ہوتا ہے۔ سرحد پار عمران ہوتی ہے اور پنجاب میں میاں نواز شریف ہوتا ہے۔ سرحد پار شیخ رشید ہوتی ہے اور پنجاب میں شورش کاشمیری ہوتا ہے۔ سرحد پار زرداری ہوتی ہے اور پنجاب اور پورے پاکستان میں زرداری کہلاتا اور محسوس بھی ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ ڈرائیور اپنی بولی میں بانٹ کو ٹاپا بولتا تھا۔ ان دنوں میں جناب پرویز صالح جو کہ بڑے بھائیوں کی طرح ہیں کے ساتھ ماڈل ٹاؤن لاہور اُن کے 6 کنال گھر کی دو کنال پر مخیط اینیکسی میں رہتا تھا۔ وسیع لان اور باقی سہولیات میرے استعمال میں تھیں وہ کم ہی استعمال کرتے تھے۔

آوارگی کے بعد دیانت داری ،زہد و تقویٰ کا پس منظر رکھنے والے ڈرائیور سے میں نے کہا کہ چلو بھائی! چلیں واہگہ بارڈر جانا ہے۔ اس نے کہا ہماری بہت سی برادری ادھر رہتی ہے میں جاتا رہتا ہوں۔ وہاں قلی تو ہیں ہی سارے میرے اپنے۔ گویا مجھے راستہ بتانے کی زحمت بھی نہ ہو گی۔ میں گھر کے اندر سے کچھ فائلیں اور لنچ بکس لینے چلا گیا۔ اتنی دیر میں اس نے گاڑی گیٹ کے باہر کھڑی کی ہوئی تھی۔ میں باہر آیا اور گاڑی میں بیٹھ گیا۔ سامنے ہی کوئی دو سو گزپر نواز شریف پارک تھا۔ موصوف نے گاڑی جو پاؤں سے اٹھائی کہ اگلے لمحے ایک امرود فروش کو بانٹ پر اٹھایا ہوا میں نے فوراً ہر چیز بھول کر ابھی سورۃ یٰسین کھولی ہی تھی کہ بند کرکے اس کی طرف متوجہ ہوا شور مچایا سٹیئرنگ کو الٹے ہاتھ کیا آگے درخت تھا اس کو سیدھے ہاتھ کیا نہ جانے چند لمحوں میں اس گاڑی کے سٹیئرنگ کے ساتھ کیا کیا ہوا۔ امرود والا تو بانٹ سے سلپ ہو کر گاڑی سے کہیں گر گیا بس ڈرائیور کی اتنی آواز کہ صاحب مجھے موقع دیں فکر نہ کریں پریشان نہ ہوں میرے پیچھے کسی کا ہاتھ ہو تو میں بالکل فٹ ہوں۔ میں نے اسے لمحہ بھر کے لیے ایزی کیا ہی تھا کہ سیدھے ہاتھ تو پارک تھا اور الٹے ہاتھ بڑے بڑے لان والے گھر تھے۔ کسی نے اپنے مالک کی گاڑی کے لیے کوٹھی کا گیٹ کھولا ۔ میرے ڈرائیور جمیل میؤ نے اس کھلے گیٹ میں گاڑی گھسا دی میں تو گاڑی کے اندر مارے خوف کے کھڑا ہی ہو گیا کوٹھی کا مالک اپنی گاڑی چھوڑ کر گھر کے اندر بھاگا میں نے سوئچ آف ، ہینڈ بریک توڑنے کی حد تک اوپر اور گاڑی بند کر دی۔ کوٹھی والوں سے معافی مانگی، امردود والے کو جرمانہ دیا اور منت سماجت کی ۔ میں نے سوچا کہ یار پہلے ڈرائیور تو پٹرول، سودا سلف دیگر چھوٹے موٹے کاموں سے قینچی مار لیتے تھے۔ یہ تو میرے مال جان کے ہی در پے ہوا چلا تھا۔ اگر گاڑی میں بیوی بچے ہوتے تو سارا خاندان فارغ تھا۔ اس دن سے میں نے سوچا کہ اگر ڈرائیور رکھوں گا تو سب سے پہلے اس کی مہارت کا امتحان لوں گا دیانت داری نہ دکھائے گا تو نکال باہر کروں گا مگر احمق ، اناڑی ناتجربہ کار فلاحی کام بھلے کرے مگر گاڑی نہیں چلا سکتا۔

یہ تو وہی بات ہے کہ مزدور رکھو کہ یہ اینٹیں چھت پر چڑھا دو دو قلا بازیاں مار کر دکھائے ۔ مختلف انداز دکھائے یا زیادہ سے زیادہ آٹھ گھنٹے پل پل وضو کر کے نفل نیت لے تو کوئی ٹھیکیدار یا مالک اس کو بچوں کی تعلیم و تربیت یا بزرگوں کی نرسنگ پر تو رکھ لے گا مگر معمار نہیں رکھے گا۔ میں نے ڈرائیور سے پوچھا کہ اس سے پہلے گزارہ کیسے کرتے تھے کہتا ہے ایڈوانس، ادھار اور امداد لے لے کر گھر کا بجٹ اور ٹارگٹ پورا کرتا رہا ہوں۔ جب میں گھر آیا تو پتا چلا کہ پورچ سے گیٹ تک گاڑی جناب پرویز صالح کا ڈرائیور ایوب خان لے کر آیا تھا ورنہ یہ سو دن کیا 9 ماہ میں بھی گاڑی پورچ سے گیٹ تک نہ لا سکتا۔ لہٰذا ڈرائیور رکھیں بد دیانت ہو نکال باہر کریں مگر نا تجربہ کار، اناڑی گاڑی اور گاڑی میں بیٹھنے والے افراد سب کو مٹا ڈالے گا۔ ناتجربہ کار کو گاڑی نہیں دی جا سکتی چہ جائے کہ کسی محکمہ، معاشرت یا ملک کی قیادت۔


ای پیپر