رےاست کہاں ہے؟
13 May 2019 2019-05-13

چند دن قبل جناب چےف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعےد کھوسہ کا بےان مےڈےا کی زےنت بنا۔ اےک کےس کی سماعت کے دوران جج صاحب نے فرماےا کہ " اس ملک مےں سب سے بڑا مسئلہ جھوٹ اوردھوکہ دےنے کا ہے"۔ جناب چےف جسٹس نے بالکل درست نشاندہی کی ہے۔ جھوٹ جےسی برائی (جسکی اللہ اور اسکے رسول ﷺ نے ممانعت فرمائی ہے) ہماری زندگےوں کا حصہ بن چکی ہے۔اسی طرح دھوکہ دہی،جعلسازی اور فرےب کاری کا نا سور ہمارے معاشرے مےں سراےت کر چکا ہے۔ کم وبےش تمام شعبوں مےں ےہی کےفےت دکھائی دےتی ہے۔

مثال کے طور پر آج کل چےنی باشندوں کی پاکستانی لڑکےوں سے شادی کا معاملہ مےڈےا پر زےر بحث ہے۔ غےر ملکی مےڈےا مےں بھی اس اسکےنڈل کے چرچے ہےں۔ وفاقی تحقےقاتی ادارے نے تقرےبا دو درجن چےنی باشندے گرفتار کےے ہےں، جو پاکستانی لڑکےوں کو شادی کا جھانسا دے کر چےن لے جاتے اور وہاں انکے اعضاءاور جسم فروشی مےں ملوث تھے۔ انتہائی قابل افسوس بات ےہ ہے کہ ےہ گھناو¿نا دھندا مقامی اےجنٹوں (پاکستانےوں) کی مدد سے جاری تھا۔ اسی طرح چند دن پہلے کی خبر ہے کہ ڈےرہ غازی خان مےں " ڈبل شاہ ©" کی طرح کا اےک کےس" اسپےڈو بائےک اسکےم" منظر عام پر آےا ہے۔ ابھی تک ڈھائی سو سے زائد متاثرہ افراد سامنے آئے ہےں جنہوں نے اپنی رقم دوگنی کرنے کے لالچ مےں لاکھوں روپے اس اسکےم مےں لگائے تھے۔ےہ تو صرف دو خبرےں ہےں۔آئے روز اےسی وارداتوں کی خبرےںہماری نظروں سے گزرتی ہےں۔

دھوکہ دہی کا رجحان شعبہ تعلےم مےں بھی عام ہے۔ خاص طور پر ہائر اےجوکےشن سےکٹر مےں۔ بڑی بڑی ےونےورسٹےاں اور کالجز جعلسازی مےں ملوث ہوتے ہےں۔ والدےن لاکھوں روپےہ فےس ادا کر کے اپنے بچوں کو داخلہ دلواتے ہےں۔ ےہ نام نہاد تعلےمی ادارے نو جوانوں کا روپےہ اور قےمتی وقت ضائع کرنے کے بعد انہےں ڈگری کے نام پر بے مصرف کاغذ کا ٹکرا تھما دےتے ہےں۔ وفاقی ہائر اےجوکےشن کمےشن نے اپنی وےب سائٹ پر بلےک لسٹ تعلےمی اداروں کی اےک فہرست آوےزاں کر رکھی ہے۔ وقتا فوقتا مےڈےا مےں اشتہارات کے ذرےعے بھی عوام الناس کو آگاہ کےا جاتا ہے۔ اسکے باوجود صورتحال مےں خاطر خواہ بہتری نہےں آ سکی۔بلےک لسٹ تعلےمی اداروں مےں بہت سے ادارے نامور سےاسی و سماجی شخصےات کی زےر سرپرستی ےا زےر ملکےت ہےں۔ اےسے مےں انہےں کام کرنے سے روکنا کوئی آسان کام نہےں۔ ےوں بھی ان نام نہاد تعلےمی اداروں کو بند کروانا ہائر اےجوکےشن کمےشن کا کام نہےں ہے۔ متعلقہ اداروں کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے بہت سے جعلی ادارے برسوں سے تعلےم فروشی کر رہے ہےں۔ ان مےں جعلی لاءکالجز بھی ہےں ، جو قانون کی غےر قانونی ڈگریاں بےچنے کا کام کرتے ہےں۔ اسی طرح جعلی مےڈےکل کالجز ہےں، جو پی اےم ڈی۔ سی سے اجازت نامہ (NOC) حاصل کےے بغےر قائم ہوتے ہےں۔ کروڑوں روپےہ فےس وصولتے اور طمطراق سے کام کرتے ہےں۔ ےہاں تک کہ بوگس ڈگرےاں جاری کرتے اور جعلی ڈاکٹرز مارکےٹ مےں سپلائی کر کے مرےضوں کی زندگےوں سے کھےلتے ہےں ۔ مگر بہت کم اےسا ہوا کہ کوئی جعلی مےڈےکل کالج بند کےا گےا ہو۔ لوگوں کی جانوں سے کھےلنے کا اےسا ہی کاروبار جعلی ادوےات کی فےکٹرےاں بھی کر تی ہےں۔ جان بچانے والی جعلی ادوےات تک تےار کی جاتی ہےں۔ اسکے باوجود کسی کو ان فےکٹرےوں کے مالکان پر ہاتھ ڈالنے کی جرا¿ت کم ہی ہوتی ہے۔

برسوں سے ہم اےسی خبرےں بھی سنتے ہےں کہ بےرون ملک نوکری ےا تعلےمی داخلے کا جھانسا دے کرخواہشمندوں سے لاکھوں روپے بٹورلئے جاتے ہےں۔ اسکے بعد اےجنٹ مال سمےٹ کر فرارہو جاتے ہےں۔ ےا پھر غےر قانونی طرےقوں سے پاکستانےوں کو سرحد پار کروانے کی کو شش کی جاتی ہے۔ پھر ہوتا ےہ ہے کہ بند کنٹےنروں مےں دم گھٹنے سے کئی افراد جان سے ہاتھ دھو بےٹھتے ہےں۔ ےا کشتی الٹنے سے ہلاکتوں کی خبرےں آتی ہےں۔ اکثر و بےشتر اےسے افراد کسی ملک کی سرحد عبور کرتے ہوئے گرفتار ہوجاتے ہےں۔اےک انگرےزی روزنامے کی تازہ ترےن رپورٹ کے مطابق تقرےبا گےارہ ہزار پاکستانی دےگر ممالک کی جےلوں مےں قےد ہےں، مگر ہماری رےاست کو ان سے کوئی دلچسپی نہےں۔( سعودی شہزادے کی پاکستان آمد پر سعودی جےلوں مےں قےد پاکستانےوں کی رہائی کا جو اعلان ہوا تھا اور جسکی خوب تشہےر کی گئی تھی۔ وہ وعدہ تاحال تکمےل کا منتظر ہے)۔ ہمارے ہاں بہت سی جعلی اور غےر رجسٹرڈ ہاوسنگ سوسائٹےاں بھی موجود ہےں۔اپنا گھر بنانے کے آرزومند اپنی عمر بھر کی پونجی ان منصوبوں مےں جھونک دےتے ہےں۔ آخرمےں انہےں معلوم ہوتا ہے کہ وہ فرےب کاری کا شکار ہو گئے ہےں۔ حج عمرے جےسے مقدس معاملات بھی فرےب کاری سے مستثنیٰ نہےں۔ اللہ کے گھر کی زےارت کروانے کے نام پر لاکھوں روپے وصول کےے جاتے ہےں اور عےن وقت پر لوگوں کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ فراڈ کا شکار ہو گئے ہےں۔ جعلی پےر اور عاملوں کے قصے بھی معمول کے واقعات ہےں۔ ےہ نقلی پےر حاجت مندعوام کے جذبات سے کھےلتے اورانہےں بےوقوف بنا کر اپنا اُلّو سےدھا کرتے ہےں۔مگر ان عاملوں کی گرفت بھی کم کم ہی ہوتی ہے۔

حےرت کی بات ےہ ہے کہ ےہ سب نا جائز دھندے کسی تہہ خانے مےں، چھپ چھپا کر نہےں ہوتے۔ بلکہ کھلے عام کےے جاتے ہےں۔ باقاعدہ دفاتر قائم ہوتے ہےں۔ بڑے بڑے بورڈ آوےزاں ہوتے ہےں۔ ٹی وی، اخبارات اور سوشل مےڈےا پر تشہےر کا اہتمام کےا جاتا ہے۔ باقاعدہ رابطہ نمبر درج ہوتے ہےں۔ اسکے باوجود کسی روک ٹوک اور گرفت کے بغےر اےسے لوگ اپنا کام جاری رکھتے ہےں۔ ان تمام معاملات سے نمٹنے کےلئے ہمارے ہاں ادارے موجود ہےں۔ مگر اداروں کی کارگزاری کا اندازہ لگا لےجےے ، جنکی موجودگی مےں ےہ تمام کاروبار طمطراق سے جاری و ساری ہےں۔غور طلب بات ہے کہ جب جعلی تعلےمی ادارے قائم ہو رہے ہوتے ہےں۔ جعلی ڈگرےاں بانٹی جاتی ہےں۔ جعلی ڈاکٹراور وکےل مارکےٹ مےں بھےجے جاتے ہےں۔جب جعلی پےر اور عامل اپنے اڈے اور دکانےں سجاتے ہےں۔ جب بڑی بڑی ہاو¿سنگ سوسائٹےاں لاکھوں کروڑوں روپے کے اشتہارات کے ذرےعے سادہ لوح افراد کو اپنی جانب راغب کرتی ہےں۔ اس وقت رےاست اور متعلقہ ادارے کہاں سو رہے ہوتے ہےں؟ چلےں مان لےتے ہےں کہ اےسے لوگوں کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہےں۔ مگر رےاست ان جعلسازوں سے کہےں زےادہ قوت اور وسائل کی حامل ہوتی ہے۔ دراصل اداروں کی ناقص کارکردگی کی اےک وجہ ےہ ہے کہ ان مےں افسران کی کاکردگی جانچنے کا کوئی مو¿ثر نظام موجود نہےں ہے۔لہٰذا شعوری لاشعوری طو ر پر افسران سستی اور غفلت کا مظاہرہ کرتے ہےں۔ متاثرےن مےں سے کوئی شکاےت کرتا ہے تو افسران اس شکاےت پر کم ہی کان دھرتے ہےں۔ ےا پھر تفتےش کے نام پر متاثرہ فرد اےک عذاب کاشکار ہو جاتا ہے۔لہذا بےشتر متاثرےن سمجھتے ہےں کہ پےشےاں بھگتنے سے کہےں بہتر ہے کہ معاملہ اللہ کے سپرد کر دےا جائے۔

ضروری ہے کہ اس صورتحال کو تبدےل کرنے کےلئے رےاست پوری قوت کےساتھ بروئے کار آئے۔ اصولی طور پر کوئی فراڈ مےنجمنٹ پالےسی وضع ہونی چاہےے۔ تاکہ عوام الناس کو جعلسازی سے بچاےا جا سکے۔اس ضمن مےں نظام قانون و انصاف کو بھی مضبوط بنانا بے حد ضروری ہے۔ غلط کاروں کی فوری گرفت اور سزا کا اہتمام ہو گا تو معاملات خود بخود بہتر ہو تے چلے جائےں گے۔ متعلقہ اداروں اور افسران کی کارکردگی کو بہتر بنانے کےلئے جوابدہی کا کڑا نظام وضع کرنا ہوگا۔ اگر اےسا نہ کےا گےا تو دھوکہ بازی کا سلسلہ مزےد پھلتا پھولتا جائے گا۔

اس تصوےر کا اےک دوسرا رخ بھی ہے۔ ہمارے معاشرے مےں جہاں دھوکہ دہی اور فرےب کاری کا دھندہ موجود ہے۔ وہاں نےک دل افراد، اچھے ادارے اور تنظےمےں بھی موجود ہےں۔ جو ہر طرح کے سےاسی اور ذاتی مفادات سے بے نےاز فلاح انسانےت اور خدمت خلق مےں مصروف ہےں۔ غزالی اےجوکےشن ٹرسٹ بھی اےسا ہی اےک انتہائی نےک نام ادارہ ہے۔ ےہ ٹرسٹ گزشتہ 23 برس سے، دےہاتوں مےں بسنے والے غرےب ، ےتےم،بے سہارا اور معذور بچوں کو زےور تعلےم سے آراستہ کرنے کے مشن پر گامزن ہے۔ سےد عامر جعفری اور ڈاکٹر سمےعہ راحےل قاضی جےسی دےگر نےک نام شخصےات نے اس مشن کا بےڑا اٹھا رکھا ہے۔ اےسے ادارے ہماری مالی اور اخلاقی امداد کے اصل مستحق ہےں۔ خاص طور پر رمضان المبارک کے با برکت مہےنے مےں ہمےں اےسے اداروں کو ضرور ےاد رکھنا چاہےے۔قارئےن غزالی اےجوکےشن ٹرسٹ سے رابطہ کرنا چاہےں تو اسکی وےب سائٹ (www.get.org.pk) پر درج فون نمبروں پر رابطہ کےا جا سکتا ہے۔عطےات اور صدقات کےلئے بنک الحبےب گارڈن ٹاون برانچ لاہور۔ اکاو¿نٹ نمبر0007-0081-047153-01-4


ای پیپر