ہمیں دشمن کی کیا ضرورت ہے
13 مئی 2019 2019-05-13

پاکستان میں امریکی پرچم دو گروہوں کے پاس ہوتا ہے ۔امریکی ایمبیسی والوں کے پاس لہرانے کے لئے اور جماعت اسلامی کے پاس جلانے کے لئے۔اسرائیل کا صرف جماعت کے پاس ہوتا ہے اور جماعت ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہوتی ہے ۔کسی نے بڑے پتے کی بات کی ہے کہ پاکستان کے کسی بھی ایشو پہ رائے بنانے کے لئے مذہبی جماعتوں کی رائے دیکھئے ،قومی مفاد اس کے بر خلاف ہو گا۔پاکستان کے عوام نظریاتی طور پر مذہبی ہیں اور عملی طور پر ہمیشہ غیر مذہبی جماعتوں کو ووٹ دیتے ہیں کیونکہ مولوی کو وہ جنت کا اور سیاستدان کو وہ ملک کا ناظم دیکھتے ہیں۔فوج سے وہ لوگ پیار کرتے ہیں جو مرنے سے نہیں ڈرتے اور جو مرنے سے ڈرتے ہیں انھیں پیار کرنے پہ راضی کرنا اب ہائبرڈ وارفئیر کا ایک اہم ستون ہے ۔بھارتی فلموں کی نمائش ایم ایم عالم روڈ لاہور کے سنیما میں اس لئے مضحکہ خیز ہے کیونکہ محمد محمود عالم نامی ائیر فورس کے پائلٹ نے چند لمحوں میں متعدد بھارتی طیاروں کو گرا کر تکریم حاصل کی اور اس تکریم کا اظہار لاہور کی ضلعی حکومت نے ان کے اعزاز میں سڑک کا نام رکھ کر کیا اور اس سڑک پر سنیما بنانے والے چونکہ تکریم سے سنیما نہیں چلا سکتے لہٰذا بھارتی فلمیں اجازت ملنے پر چلاتے ہیں جہاں بھیڑ چودہ اگست اور چھ ستمبر کی چھٹیوں میں دیدنی ہوتی ہے ۔اب اس میں اگر آپ کو مزاح نظر نہیں آتا تو قصور آپ کے ان زرعی جینز کا ہے جو منطق کو زمین میں ہل چلانے کا سامان تصور کرتے ہیں۔بلاشبہ پاکستان ایک طاقتور ریاست ہے جس کے متمول مریضان جگر چنائے کے ہسپتالوں سے ٹرانسپلانٹ کروانے کے لئے بیتاب رہتے ہیں جنھیں میڈیکل ویزہ سشما سوراج نے اب شاہ محمود قریشی کی سفارش سے مشروط کر دیا ہے ۔اب یہ پاکستانی پاکستان سے علاج کروانے سے تو رہے جب تک پی کے ایل آئی پہ نیب اور پی ٹی آئی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔سیاست اور نجاست کے صوتی اثرات بھی پاکستان میں برابر ہیں جس کی وجہ اردو لغت کے مرتبین کی کوتاہ بینی ہے ۔اردو پاکستان میں امتحان اور امکان کا رجحان ہے جس کی حوصلہ شکنی ایچیسن مافیا کرتی ہے ۔پنجابی میاں بیوی لڑ کر اردو بولتے ہیں اور اردو میاں بیوی لڑ کر بولنا بھول جاتے ہیں۔پنجابی میاں بیوی کی لڑائی تب ہی ختم ہوتی ہے جب اردو ختم ہوتی ہے اور اردو میاں بیوی دو لڑائیوں کے درمیانی وقفے کو ہی افزائش نسل کی ونڈو گردانتے ہیں جیسے لائٹ سپیکٹرم میں ویزیبل ویو لینتھ کی ایک مخصوص ونڈو ہوتی ہے ۔پاکستانیوں کی تعداد ان کے معیار کے معکوس ہے اور معیار بند ہوتی لائبریریوں سے ظاہر ہوتا ہے ۔یہاں جوتے دکانوں میں اور نایاب کتابیں فٹ پاتھ پہ بکتی ہیں اور فٹ پاتھ بھکاریوں کو علاقے کا ایس ایچ او منتھلی پہ بیچتا ہے ۔پاکستانی دو کاموں کی وجہ سے پوری دنیا میں اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ایک دن کے وقت موٹر سائیکل سوار کو جلتی ہوئی لائٹ کے بارے میں انگلیاں کھول بند کر کے بتانا اور دوسرا موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھی خاتون کے لہراتے دوپٹے کو ٹائر کی تاروں میں الجھنے سے بچانے کے لئے موٹر سائکل چلانے والے کو بھائی صاحب مخاطب کر کے بتانا۔اس کے علاوہ اگر سڑک پہ کوئی لڑ رہا ہو یا زخمی ہو تو کھڑا ہو کے تماشا دیکھنے کو فوقیت دیتے ہیں۔پلیٹوں اور دیگوں میں پاکستانی گوشت کے رسیا ہیں اور سبزیوں کا استعمال صرف مجبوری میں کرتے ہیں۔پاکستانی بچوں سے پیار کرتے ہیں مگر استاد کے تشدد کو مولا بخش کی لیگیسی گردانتے ہیں۔اکثریت شادی کی رسیا ہیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے ۔ڈانس پارٹیوں پہ چھاپہ مار کر تتلیوں اور بھنوروں کو صرف تب پکڑا جاتا ہے جب منتھلی کے پیسے تھانے نہیں پہنچتے۔سٹیشن پہ جو کلیجی ہری مرچوں کے ساتھ ریڑھی پہ بکتی ہے ،اس کی صفائی دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے مگر فوڈ اتھارٹی صرف وہاں چھاپے مارتی ہے جہاں سے فائن کی مدمیں لاکھوں روپے ملتے ہیں۔ان تمام باتوں کے باوجود پاکستان کا کوئی دشمن بھی بال بیکا نہیں کر سکتا کیونکہ ہمارے خود کے ہوتے ہوئے ہمیں بھلا کسی دشمن کی کیا ضرورت ہے ۔


ای پیپر