پانچ سال بعد
13 مئی 2018 2018-05-13

پارلیمنٹ کے قیام اور حکومت کی مدت میں توابھی کچھ روز باقی ہیں لیکن عام انتخابات کے انعقاد کو پورے پانچ سال ہوگئے۔ گویا انتخابی عمل کی آئینی مدت تو مکمل ہو گئی۔حکومت اپنی مدت مکمل پوری کر کے خود بخود تحلیل ہو جائے گی تو پھر اس کی کارکردگی کا پوسٹ مارٹم ضرور کرینگے۔لیکن فی الحال جمہوریت اور انتخابی عمل کی باری ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ آنے والا الیکشن گزرے الیکشن سے کتنا مختلف ہو گا۔آج کی جمہوریت گزرے کل کے مقابلہ میں کتنی توانا کتنی ضعیف ہے۔آج کا ووٹر جب ووٹ ڈالنے جائے گا تو اس کے پاس ماضی قریب کے مقابلہ میں سازگار ماحول ہو گا۔ ووٹر کے پاس آپشن پہلے سے زیادہ ہیں یا کم الیکشن کو مانیٹر کرنے کیلئے محتسب اور مشاہدہ کار کا کردار ادا کرنے والا میڈیا مظبوط ہوا یا کمزور اور ان دنوں کیفیات کے درمیان تیسری صورت یہ بھی ہے کہ کیا میڈیا نیوٹرل ہے یا منقسم؟2013 کے انتخابات سے لیکر تا دم تحریر اور انتخابی مہم کے آغاز پر ایسے ہی کئی سوالات ہیں جو ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ضروری نہیں کہ ان سوالوں کا جواب مکمل طور پر درست حالت میں مل جائے۔لیکن کھو ج لگانے میں کیا حر ج ہے؟ 2018 کے انتخابات توقع کے مطابق ہوئے تو جولائی کے اختتام کی کسی شبھ تاریخ کو منعقد ہونگے۔عام انتخابات کے انعقاد سے پہلے سیاسی و انتخابی ماحول بالکل ویسا ہی ہے جیسا اضطراب بے یقینی ہیجان کا شکار جمہوری ارتقا کے مراحل سے گزرتے معاشرے میں ہوتا ہے۔ قابل انتخاب شخصیات کے ریوڑوں کے ریوڑ بھاگ بھاگ کر اقتدار کی ٹرین پر سوار ہونے کیلئے کوشاں ہیں۔یہ تو وقت بتائے گا کہ جس کے پیچھے وہ بھاگ رہے ہیں وہ سچ مچ اقتدار کی طلائی ٹرین ہے یا ٹرک کی بتی۔ خبریں ہیں کہ قابل انتخاب شخصیات خاندانوں کو غیر مرئی مخلوق نیشنل ٹرین میں سواری کا راستہ دکھا رہی ہیں۔ ایسا ہو گا۔لیکن ایسے عجلت پسند بھی ہیں جو ارد گرد کے حالات دیکھ کر قافلہ مشاق میں شامل ہونے کیلئے ہلکان ہو رہے ہیں۔یہ دیکھے بغیر اقتدار کی مجوزہ ٹرین میں کوئی خالی سیٹ ہے بھی یا نہیں۔اگر ماضی کی طرح پائیدان پر کھڑے ہو کر ہی سفر کرنا ہے تو تگ و دو کا کیا فائدہ۔بہر حال چوائس اپنی اپنی۔جس طرح آج ان میں کئی مرتبہ کسی پارٹی کا سٹرائیک بالر فریق مخالف کی وکٹیں گرا رہا ہے۔ ایسا ہر الیکشن میں ہوتا رہا۔آج کل چونکہ اقتدا ر کے اس کھیل میں کئی انڈر نائنٹین کھلاڑی جو سیاسی تاریخ کا حوالہ دیتے وقت 2011ء سے پیچھے نہیں جاتے۔وہ کون سا الیکشن ہے جب اقتدار کے فراق میں مارے مارے پھرنے والوں نے در محبوب پر پلکوں سے دستک نہیں دی۔اب تو تعداد ماضی کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ ورنہ ماضی میں تو چند گھنٹوں کے اندر پرانی پارٹیاں ختم اور نئی پارٹیاں وجود میں آجایا کرتی تھیں۔کیونکہ انقلاب،تبدیلی اور سٹیٹس کو توڑدینے کے دعویدار آخری تجزیہ میں سو دوسو قابل انتخاب شخصیات کے ہاتھوں برضاورغبت یرغمال بن جاتے ہیں۔اور اپنا نظریہ بخوشی ان عادی پارٹیاں بدلنے والوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ایک باریک لیکن سادہ نکتہ تبدیلی کے نقیب قائدین کو سمجھ نہیں آتا کہ اگر یہ نام نہاد قابل انتخاب افراد اپنے بازوؤں کی طاقت پر جیتنے کی پوزیشن میں ہوئے تو ٹکٹ کیلئے ان کی گاڑی کے ارد گرد دیوانہ وار رقص کیوں کرتے۔لیکن مسئلہ شائد تجزیے کی صلاحیت کا ہے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ قوت فیصلہ کی کمی ہو۔یہ بھی ممکن ہے کہ جملہ قائدین پر محض تہمت ہو فیصلہ کہیں اور سے آتا ہو۔یہ بھی ممکن ہے کہ افطار سے کچھ دیر پہلے روزہ توڑ لینے کی خو قائدین کو لوٹو ں کو پذیرائی دینے پر مجبور کر دیتی ہوں۔ایک نہیں کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔نتیجہ بہر حال یہی ہے کہ محنت بے لوث نظریاتی کارکن کرتے ہیں اور آخر میں ان کے کندھوں پر سوار وہ عادی فصلی بٹیرا ہوتا ہے جس کے خلاف انہوں نے گزشتہ الیکشن میں نعرہ بازی کی ہوتی ہے۔ پی ٹی آئی کے کارکن اس مرتبہ اس تلخ تجربے سے گزریں گے۔ماضی میں یہ تلخ جام باقی پارٹیوں کے کارکن پی چکے ہیں۔ لیکن سیاسی جماعتوں کی قیادت کے منصب پر براجمان ان جمہوری شہنشاہوں کو کون سمجھائے۔ان کو اس بادشاہانہ طرز عمل اور رویوں کا عادی بھی تو کارکن ہی بناتے ہیں۔لہٰذا ساقی کی عنایت سے مہمان بھی بدلتے رہتے ہیں اور جام بھی۔ماضی کی بات کی تو معاملہ دور چلا جائے گا۔2002 میں ساقی کی نگاہ ناز نے اشارہ کیا تو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے 140 ارکان اسمبلی نے اپنی جماعتیں چھوڑ دیں۔اور قائد اعظم کے نام پر مبنی جماعت مسلم لیگ (ق) میں شامل ہو ئے۔جو جیت گئے وہ من کی مراد پا گئے۔جو ہار گئے وہ منہ بسورتے رہے۔ پانچ سال گزرے اور 2008 کا الیکشن آگیا عام انتخابات سے پہلے محترمہ بینظیر بھٹو،نواز شریف،شہباز شریف وطن واپس آ چکے تھے۔البتہ نواز شریف کو الیکشن لڑنے کی اجازت کسی غیر تحریری معاہدے کے تحت نہ تھی۔ ان انتخابات میں قابل انتخاب شخصیات کو معلوم تھا کہ ہواؤں کا رْخ کس سمت میں ہے۔ لہٰذا مسلم لیگ (ق) کے پچاسی کے قریب ارکان پارلیمنٹ نے اپنی رسیاں تڑائیں اور پیپلز پارٹی،مسلم لیگ (ن) کی کھرلی پر جا کر جگالی شروع کر دی۔ جو مسلم لیگ (ق) میں رہ گئے انہوں نے حسب ذائقہ کے مصداق مرکز میں پیپلز پارٹی اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کو جائن کر لیا۔اور اقتدار کے کیک سے اپنا حصہ وصول کیا۔پھر الیکشن 2013 آیا تو حالات کا رخ مسلم لیگ (ن) کی طرف تھا۔پی ٹی آئی کا سونامی بھی ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔لہٰذا کئی جغادری سیاستدان تو لیڈر کو آتے دیکھ کر سر راہ سڑک پر گاڑی روک کر کھڑے ہوئے۔ اور قائد کے سایہ سر پرستی میں سر جھکائے داخل ہوئے۔2013 کے انتخابات کے بعد جمہوریت اور انتخابی عمل اور پارلیمنٹ کی خوب در گت بنی۔شائد یہ ان کا رد عمل تھا جو اپنی مرضی کے نتائج حاصل نہ کر پائے۔بات چار حلقوں کو کھولنے سے چلی دھرنے کے ذریعے پارلیمنٹ کو بے توقیرکرنے تک جا پہنچی۔ہر ممکن کوشش کی گئی کہ عام آدمی کی نظر میں پارلیمنٹ کو بے توقیربے وقت اورحقیر ثابت کیا جائے۔ سول نا فرمانی ہنڈی کے ذریعے پیسہ باہر بھجوانے کی ناکام تحریک پارلیمنٹ کا گھیراؤسمیت ہر قدم اٹھا یا گیا۔لیکن جیت ان کی ہوئی جن کے ساتھ پارلیمنٹ کی اکثریت تھی۔ اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ کی بالا دستی کو یقینی بنایا۔اس فتح کے بعد حکومت اس تسلسل کو برقرارنہ رکھ پائی تو ناکامی حکمران جماعت کی ہے۔کسی اور کی نہیں۔عام انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا لیکن عدالتی فیصلہ آیا کہ کوئی منظم دھاندلی نہیں ہوئی۔جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔شائد فراموش کر گئے کہ وہ بھی عدالتی کمیشن تھا جس نے عام انتخابات کے متعلق فیصلہ دیا۔اب عام انتخابات سے پہلے یہ الزام دہرا دیا گیا ہے کہ 2013 میں دھاندلی ہوئی۔سر پرستی کا الزام عسکری قیادت پر لگا۔باررثبوت الزام لگانے والے پر ہے۔
گزشتہ کے مقابلے میں اگلے الیکشن سے پہلے انتخابی اصلاحات ہو چکی۔انتخابی عمل کا آغاز ہو چکا عمران خان کا الزام ہے کہ ماضی میں مسلم لیگ (ن)کی مدد کی گئی۔آج نواز شریف کہہ رہے ہیں کہ ان کا مقابلہ تحریک انصاف ہے نہ پیپلز پارٹی سے بلکہ خلائی مخلوق سے ہے۔وکٹوں پر وکٹیں گر رہی ہیں۔زیادہ وکٹیں پی ٹی آئی گرا رہی ہے۔لیکن مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی بھی اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔انتخابی تجزیے فی الحال ذرا ٹھنڈے ہیں۔البتہ نگران وزیر اعظم کے متعلق ٹیوے بازی جاری ہے۔نگران وزیر اعظم کون ہو گا۔یہ کوئی ایسی اہم بات نہیں۔اصل کامیابی یہ ہے کہ الیکشن ہونے جارہے ہیں کچھ لوگ کہتے ہیں جمہوریت کمزور تو نہیں ہوئی۔قلمکار کا موقف ہے کہ جمہوری پودا بڑا تو نہیں ہوا لیکن اپنی جگہ قائم تو ہے۔جڑ سے تو نہیں اکھاڑ پھینکا گیا۔کچھ پودے مظبوط ہونے میں زیادہ وقت لیتے ہیں۔جمہوریت بھی ایسا ہی پودا ہے۔


ای پیپر