اصغر خان کیس کا منطقی ا نجا م
13 مئی 2018

اس سے تو کچھ کلا م نہیں کہ ایئر ما ر شل ر یٹائرڈ ا صغر خا ن ایک ا چھے سیاست دا ن تھے یا نہیں، لیکن ایک تو ان کی حب ا لو طنی پہ شبہ کر نا خو د پہ شبہ کرنے کے متر ا دف ہے۔ دو سرے ان کی ز ند گی میں کر پشن کا دور دور تک شائبہ تک نہیں ملتا۔ وہ بنگلہ د یش کو تسلیم کر نے کے لیے کبھی تیا ر نہیں ہو ئے اور انہو ں نے اس خطہ ا ر ض کو ہمیشہ مشر قی پا کستا ن کے نا م سے یا د کیا۔ ان کی بے نظیر بھٹو کے وا لد ذو لفقا ر علی بھٹو سے مستقل سیا سی مخا صمت بھی کو ئی ڈھکا چھپا راز نہیں۔اس کے با وجو د اپنی د لیر اور ایماندار طبیعت کے زیرِ ا ثر انہو ں نے 1990ء میں بے نظیر بھٹو کی حکو مت کا پتہ صا ف کر نے اور پھر انہیں آئند ہ ہو نے والے انتخا با ت میں بھی نا کا م کر نے کی غر ض سے مہر ا ن بینک سکینڈ ل کے خلا ف عدا لت میں آ وا ز اٹھا ئی۔ اس کیس کا فیصلہ 2012ء میں آ یا۔ پھر بھی چھ سال تک اس پہ عمل در آ مد نہ ہوا ۔اس فیصلے کے خلا ف سا بق آ رمی چیف مر زا اسلم بیگ اور سابق ڈی آ ئی آئی ایس آ ئی اسد در ا نی نے نظر ثا نی کی در خوا ستیں دیں جو سپر یم کو ر ٹ نے مستر د کر دیں۔ جبکہ اٹارنی جنرل اور ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فیصلے پر عملدر آمد کے اقدامات کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ 6 سال سے عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوا، عدالت ان افراد کا تعین کرے گی جنہوں نے عملدرآمد نہیں ہونے دیا۔ عدالت نے کوئی حکم امتناعی نہیں دیا لیکن اس دوران ایک سابق، ایک نگران اور موجودہ حکومت نے فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا۔ جن سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم کے حوالے دیئے گئے ان میں سابق وزیراعظم نواز شریف سمیت نامی گرامی سیاست دانوں کے نام شامل ہیں جبکہ آئی جے آئی کے قیام اور رقم تقسیم کرانے والوں میں سابق صدر غلام اسحق خان ، آرمی چیف مرزا اسلم بیگ، سابق سربراہ آئی ایس آئی اسد درانی، ایم آئی چیف اور کچھ بیوروکریٹس شامل تھے۔ کیس کی تفصیل میڈیا میں آچکی ہے۔ 2012ء میں سپریم کورٹ اپنا فیصلہ بھی دے چکی ہے، جس میں ریاستی اداروں کو سیاسی مداخلت سے گریز کی تلقین کرتے ہوئے حکومت کو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا، مگر کسی حکومت نے اس فیصلہ کو ما ضی کا طر یقِ کا ر د ہر ا تے ہو ئے قا بلِ عمل نہ سمجھا۔ بالآخر اسی فیصلہ کے دور رس تناظر میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں فل بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ میڈیا کے مطابق مرزا اسلم بیگ کے وکیل نے التوا کی درخواست کی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔ چیف جسٹس نے اسلم بیگ کو روسٹرم پر بلایا، اسلم بیگ نے خود دلائل دیئے اور کہا کہ قسم کھا کر کہتے ہیں کہ بطور آرمی آفیسر اپنی آئینی ذمہ داری سے کبھی انحراف نہیں کیا۔ الیکشن اور ان کے نتائج سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ اصغر خان کے بیٹے کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا مقدمہ میں تین افراد اسلم بیگ، اسد درانی اور یونس حبیب کو فریق بنایاگیا ہے۔ یونس حبیب اس وقت حبیب بینک کے سربراہ تھے۔ 1990ء میں اسمبلی کو ختم کرکے دوبارہ الیکشن کرائے گئے اور فیصلہ ہوا کہ پیپلز پارٹی کے مخالف سیاستدانوں کو فائدہ دیا جائے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا خلاصہ یہ ہے کہ سیاستدانوں میں رقوم تقسیم کی گئیں۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اسلم بیگ نے این جی او بنائی، تین کروڑ اسے بھی دیئے گئے۔ چیف جسٹس نے کہا این جی او کو دی گئی رقم کی وصولی ہونی چاہیے تھی۔ چیف جسٹس کے استفسار پر وکیل نے کہا کہ عدالت نے مختصر فیصلے میں 1990ء کے الیکشن کو دھاندلی زدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مطلوبہ نتائج کے لیے انتخابی عمل کو آلودہ کیا گیا اور سابق صدر کے خلاف اقدامات کا حکم دیا جو اس وقت دنیا میں نہیں ہیں۔ چیف جسٹس کا یہ سوا ل انتہا ئی ا ہمیت کا حا مل ہے کہ فیصلہ اکتوبر 2012ء میں آیا۔ اتنا وقت گزرنے کے باوجود عملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا۔ عدالت میں اٹارنی جنرل پیش ہوئے اور معلومات حاصل کرنے کے لیے 2 روز کی مہلت کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا اسد درانی نے تسلیم کیا کہ انہوں نے سیاست دانوں میں رقم تقسیم کی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ اسد درانی کو رقم تقسیم کرنے کی ذمہ داری آرمی چیف نے سونپی۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ یونس حبیب نے رقم لا کر دی اور ذمہ داروں نے تقسیم کی۔ اصغر خان کے بیٹے کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے مزید کہا کہ اصغر خان کیس میں پیسے لینے اور دینے والوں، سب کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ اس حقیقت پہ سا سی حلقو ں کے در میا ن کو ئی دو ر ا ئے نہیں کہ آئی جے آئی کی تشکیل اور بے نظیر حکومت کو انتخابی دھچکا لگانے کی دخل اندازی معتبر ا دا رو ں کی بلند سطح پر سسٹم سے چھیڑ خانی کی بدترین کوشش تھی جس کے اثرات اور شرارے آج بھی ملکی سیاست کے وجود کو بھسم کرنے کے لیے بے تاب ہیں۔ عدلیہ نے اپنے اس وقت کے فیصلہ میں قرار دیا تھا کہ وہ الیکشن فراڈ تھے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض اہم شخصیات آئی جے آئی کی تشکیل کا فخریہ کریڈٹ لیتی تھیں، اس لیے وہ رقوم جو تقسیم ہوئیں ان کی واپسی ناگزیر ہے۔ یہ راز بھی ابھی سامنے آنا ہے کہ 14 کروڑ میں سے کتنی رقم بانٹی گئی اور کن لوگوں نے بہ نفس نفیس وصول کی۔
اور پھر بہت سے سیا ستد انوں کے بیا نا ت سا منے آئے جس میں انہو ں نے رقو م لینے سے انکا ر کیا۔تاہم کیس کی حساسیت کے پیش نظر بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ماضی کے معاملات اور اسٹیبلشمنٹ کی فروگزاشتوں اور لغزشوں پر حرف گیری سے مبادا کہیں سویلین اور عسکری تعلقات اور ہم آہنگی کا میکنزم عدم توازن سے دوچار نہ ہوجائے۔ تاہم ملک کے معتبر حلقوں کو یقین ہے کہ عدلیہ کے فیصلہ سے ملکی سیاست پر ایک بدنما داغ مٹ جائے گا۔ سیاسی اور جمہوری عمل میں شفافیت کے راستے کھل جائیں گے، بہرحال اس اندیشہ کو مدنظر ر کھتے ہوئے سیاستدان اپنے جمہوری رویوں پر نظر ثانی کریں تو بہتر ہے۔ ملکی سیاست کے اندھی گلی میں داخل ہونے سے پہلے ہی سیاستدان فروعی اختلافات سے بالاتر ہوں تاکہ عدالتی احکامات سسٹم کی شفافیت کے لیے نسخہ کیمیا ثابت ہو سکیں۔ سیاسی عمل میں توازن، جواب دہی اور شفافیت سے گزر کر ہی گڈ گورننس کا سفر بہ خیر و خوبی طے ہوسکتا ہے۔ اس باب میں اصغر خان کیس اس منجمد مائنڈ سیت کی تبدیلی کا سبب بھی بنے گا جس کی نشاندہی سلمان اکرم راجہ نے کی ہے۔ ہمیں ا صغر خا ن کے اس ا حسا ن کو جس میں انہو ں نے متعدد سیا سی حلقوں کی جا نب سے ا ختلا ف کے با و جو د ہر قسم کا د با ؤ لینے سے انکا ر کیا ، کبھی نہیں بھو لنا چا ہیے۔ انہو ں نے و طن کی محبت میں قا ئم ر ہتے ہو ئے اپنی سمت ہمیشہ در ست ر کھی اور یہ فعل کو ئی آسا ن نہ تھا۔ اس کیس کے فیصلے پہ خلو صِ نیت سے عمل در آ مد اس ملک کی تقدیربد ل سکتا ہے۔


ای پیپر