’’چیئرمین نیب کو پارلیمنٹ طلب کرے۔۔۔ !‘‘
13 مئی 2018 2018-05-13

’’ چیئرمین نیب کو پارلیمنٹ طلب کرے ‘‘ یہ چھ الفاظ تقریباً تمام بڑے اُردو قومی اخبارات کی شہ سرخیوں کا حصہ ہیں جو انہوں نے وزیر اعظم جناب شاہد خاقان عباسی کے قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کی خبر کی تفصیل دیتے ہوئے جمائی ہیں۔ جنابِ وزیر اعظم نے بدھ کو قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے خلاف 4 ارب 90 کروڑ ڈالر بھارت بھجوانے کے الزام میں نیب کی طرف سے انہیں نوٹس دینے پر چیئرمین نیب کو پارلیمنٹ میں طلب کر کے تفتیش کا مطالبہ کیا اور کہا یہ معاملہ ہمارے لیے تشویش اور دُنیا میں پاکستان کی بدنامی کا باعث بنا ہے۔ یہ بہت اہم اور سنجیدہ معاملہ ہے اور ایک دشمن ملک کو پیسے بھیجنے کا الزام ہے جو سابق وزیر اعظم پر لگایا گیا ہے۔ اس کی تحقیقات کیلئے خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے جو نیب کے چیئرمین کو طلب کرے اور اُن سے معاملے کی تحقیقات کر کے رپورٹ ایوان میں پیش کرے ۔ جناب شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کا الزام بہت سنجیدہ معاملہ ہے جو کسی عام شخص پر نہیں بلکہ ملک کے سابق وزیر اعظم پر لگایا گیا ہے۔ ایوان اس چیز کو دیکھے اور چیئرمین نیب کو طلب کرے ۔ اُن سے پوچھے کہ کس نے آپ کو اختیار دیا اور آپ کے پاس کیا ثبوت ہیں۔ اس حوالے سے کوئی اور اطلاعات ہیں تو ثبوت سے ثابت کریں۔ اس طرح تو کسی پر بھی الزام لگا دیں گے۔ ہم الیکشن میں جا رہے ہیں اور نیب کا ادارہ یہ الزام لگا رہا ہے تو موجودہ حالات میں یہ قبل از وقت دھاندلی کے زمرے میں آتا ہے۔ ملک کے سابق وزیر اعظم پر ایسے الزامات ہمارے لیے شرمندگی اور تکلیف کی بات ہے لہٰذا رول 244 کے تحت ایوان کی کمیٹی بنائی جائے جو اس معاملے کی تفتیش کرے ۔ نیب کے ارکان کو طلب کر کے پوچھے ، رپورٹ بنا کر ایوان میں پیش کرے تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں۔ جناب وزیر اعظم نے مزید کہا کہ نیب کرپشن کے خلاف اپنا کردار ادا کرے اور انصاف کے تقاضے پورے کرے ۔ میاں محمد نوا زشریف کے خلاف نیب کی عدالتوں میں کیسز چل رہے ہیں ، ہفتے میں چھ ، چھ پیشیاں ہو رہی ہیں جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ نیب میں انصاف ہوتا نظر نہیں آرہا ۔ اب نیب کی طرف سے 8 مئی کو پریس ریلیز جاری کی گئی جس کے مطابق نیب کے سربراہ کہتے ہیں کہ نواز شریف نے 4 ارب 90 کروڑ ڈالر بھارت بھیجے۔ ادارے اس قسم کے کام کریں تو ملک نہیں چل سکے گا۔ شرمندگی اس بات کی ہے کہ چیئرمین نیب کا نام میں نے اور خورشید شاہ نے اتفاق سے بھیجا۔ ہمارا حق ہے کہ جب اس طرح کی باتیں ہوں تو عوام اور اس ایوان کے سامنے رکھیں۔

جناب وزیر اعظم کے یہ خیالات بڑے واضح اور کسی تشریح کے محتاج نہیں ہیں۔ ان سے پتا چلتا ہے کہ جنابِ وزیر اعظم سمجھتے ہیں کہ نیب کے چیئرمین نے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے خلاف 4 ارب 90 کروڑ ڈالر بھارت منتقل کرنے (منی لانڈرنگ) کے الزام میں نوٹس جاری کیا ہے تو اپنے اختیارات سے تجاوز ہی نہیں کیا ہے بلکہ میاں محمد نواز شریف جو پہلے ہی نیب عدالت میں اپنے اور اپنے بیٹوں، بیٹی اور داماد کے خلا ف دائر ریفرنسز میں پیشیاں بھگت رہے ہیں اُن کے خلاف مزید ایسی چارج شیٹ جاری کی ہے جو ٹھوس حقائق و شواہد پر مبنی ہونے کی بجائے سابق وزیر اعظم کے خلاف محض الزام تراشی اوراُن کی کردار کشی کرنے کے مترادف ہے۔ جنابِ وزیر اعظم کے اس مؤقف یا نقطہ نظر کی تائید ورلڈ بینک جس کی رپورٹ کو بنیاد بنا کر نیب نے سابق وزیر اعظم کے خلاف 4 ارب 90 کروڑ ڈالر بھارت منتقل کرنے کے الزام میں تحقیقات کا حکم دیا ہے کی 8 مئی کو جاری کردہ وضاحت اور اُس کے ساتھ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے جاری کردہ تردید سے بھی ہوتی ہے۔ تاہم نیب کا 8 مئی کو جاری کردہ اپنے اعلامیے کے مطابق کہنا ہے کہ چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے میڈیا رپورٹس (ایک اُردو اخبار میں یکم فروری 2018 ء کو چھپنے والے کالم ) کی بنیاد پر میاں محمد نواز شریف کے خلاف 4 ارب 90 کروڑ ڈالر بھارت منتقل کرنے کے الزام کی تحقیقات کیلئے آرڈر دیا۔ نام نہاد میڈیا رپورٹس جس کا حوالہ نیب کے اعلامیے میں دیا گیا ہے کے مطابق 2016ء میں بھارتی حکومت کے سرکاری خزانے میں 4 ارب 90 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم مبینہ طور پر بھیجوائی گئی جس سے بھارت کے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور پاکستان کو نقصان ہوا۔ یہ رقم مبینہ طور پر میاں محمد نواز شریف اور دیگر شخصیات نے بھیجوائی ۔ نیب کے اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ رقم بھیجوانے کا تذکرہ ورلڈ بینک کی 2016ء کی ریمیٹنس ایند مائیگریشن رپورٹ (Remittance & Migration Report )میں بھی کیا گیاہے۔

نیب کے چیئرمین نے میاں محمد نواز شریف کے خلاف اس رپورٹ کو بنیاد بنا کر منی لانڈرنگ کے الزام میں تحقیقات کے لیے نوٹس جاری کرنے کا حکم 8 مئی کو دیا تو اُسی دن ورلڈ بینک نے ہی نہیں سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی میاں محمد نواز شریف کے خلاف میڈیا رپورٹس میں آنے والے منی لانڈرنگ کے الزام کو مسترد کر دیا۔ ورلڈ بینک نے اپنی ریمیٹنسایند مائیگریشن رپورٹ 2016ء کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ قطعی طور پر بے بنیاد اور غلط ہے کہ ورلڈ بینک نے اپنی ریمیٹنسایند مائیگریشن رپورٹ 2016ء میں سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور بعض دیگر شخصیات پر بھارت کو 4 ارب 90 کروڑ ڈالر کی رقم بھیجوانے (منی لانڈرنگ) کا الزام عائد کیا تھا۔ورلڈ بینک کی جانب سے اس رپورٹ کی تیاری کا مقصد دنیا بھر میں ریمیٹنساور مائیگریشن کا اندازہ لگانے کی ایک کوشش تھی جس میں نہ تو کسی منی لانڈرنگ کاکوئی تذکرہ کیا گیا تھا اور نہ ہی کسی شخصیت کو انفرادی طور پر اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ ورلڈ بینک نے اپنی وضاحت میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کی وضاحت کا بھی حوالہ دیا جس میں سٹیٹ بینک نے رقم بھارت بھیجوانے سے متعلق رپورٹ کو مسترد کیا ہے۔ سٹیٹ بینک نے ستمبر 2016ء کے اپنے اعلامیے میں بتا دیا تھا کہ مالی سال 2015-16ء کے دوران پاکستان سے صرف 1 لاکھ 16 ہزار ڈالر کی ترسیلات بھارت بھیجی گئی تھیں جبکہ اس دوران 3 لاکھ 29 ہزار ڈالر بھارت سے پاکستان آئے۔

ورلڈ بینک اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کی ان وضاحتوں کو سامنے رکھا جائے تو پھر یہ کہنا پڑتا ہے کہ چیئرمین نیب نے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور دیگر شخصیات کے خلاف 4 ارب 90 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم بھارت منتقل کرنے کے الزام کی تحقیق کا جو حکم دیا ہے وہ سر ا سر غیر منطقی اور غلط مفروضوں پر مبنی ہے۔ جن اداروں اور اُن کی رپورٹس کو بنیاد بنا کر چارج شیٹ تیار کی جا رہی ہے وہ ادارے یا اُن کی رپورٹس ہی اس چارج شیٹ کے حق میں گواہی دینے کیلئے تیار نہیں ہیں تو پھر ساری کارروائی غیر منطقی ہی نہیں بلکہ بوگس ہو جاتی ہے۔ اس تناظر میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی میں اپنے پالیسی بیان میں پارلیمان کی کمیٹی بنانے اور چیئرمین نیب کو اس کے سامنے طلب کرنے اور میاں محمد نواز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزام میں شواہد پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے تو وہ اس میں یقیناًحق بجانب ہیں۔ اس کے ساتھ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی طرف سے اس امر پر شرمندگی کا اظہار کہ اُنہوں نے جاوید اقبال کے بطورِ چیئرمین نیب نام پر کیوں صاد کیا تھا یقیناًیہ بھی اپنی جگہ درست ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال جب سے چیئرمین نیب بنے ہیں انہوں نے بیان بازی اور بعض مخصوص حلقوں کو ہدفِ تنقید بنانے پر زیادہ زور دیا ہے ۔ ادارے جن کا کام تحقیق و تفتیش کرنا ہوتا ہے وہ خاموشی سے حقائق و شواہد کی بنا پر الزامات کے فیصلے کرتے ہیں نہ کے بیان بازی اور بھڑکیں مارنے کو اپنا وتیرہ بناتے ہیں۔ یہ نہیں ہوتا کہ وہ فرضی اورمفروضوں پر

مبنی رپورٹوں یا کسی اخبار میں چھپے کالم کی بنیاد پر اتنے بڑے فیصلے کرنے شروع کر دیں۔ میاں محمد نواز شریف کے خلاف 4 ارب 90 کروڑ ڈالر بھارت منتقل کرنے کے الزام اور نیب کے اس بارے میں اعلامیے سے جہاں میاں محمد نواز شریف اور اُن کی جماعت مسلم لیگ ن کی کردا رکشی کی گئی ہے وہاں نیب اور نیب کے سربراہ جناب جسٹس جاوید اقبال کی غیر جانبداری پر بھی اُنگلیاں اُٹھی ہیں ۔ چیئرمین نیب کیلئے یہ صورت حال یقیناًسبکی کا باعث ہے کہ سنجیدہ قومی حلقوں نے جن میں میڈیا کے نامور اور مؤقر تجزیہ نگار اور اینکر پرسن شامل ہیں انہوں نے بھی اس سارے تماشے کو پسند نہیں کیا ہے۔ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے بھی اپنی جماعت کی مجلس عاملہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب کے خلاف تحقیقات کرنے اور انہیں برطرف کرنے کا مطالبہ ہی نہیں کیا ہے بلکہ اس امر پر افسوس کا اظہار بھی کیا ہے کہ چیئرمین نیب اُن کے خلاف انتقامی کارروائیوں پر اُتر آئے ہیں۔ یہ صورت حال یقیناًخوش کن نہیں قومی اداروں اور اُن کے سربراہان اور ذمہ دار افراد کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی آئینی حدود وقیود کے اندر رہتے ہوئے اپنے فرائض سرانجام دیں۔


ای پیپر