گلوبل ویلج!
13 مئی 2018 2018-05-13

یہ دنیا گلوبل ویلج ہے۔ افریقہ واحد براعظم ہے جو مسلم اکثریت پر مشتمل ہے۔ اس کے باوجود افریقہ کے کئی ممالک میں اہل اسلام، اقلیت بلکہ بہت چھوٹی سی اقلیت میں بستے ہیں۔ طویل عرصے کے بعد افریقہ کے بعض ممالک میں جانے کا اتفاق ہوا۔ نیروبی میں تھا کہ سفارت خانہ پاکستان کے اول سیکرٹری جناب سلیم اللہ خان نیازی نے اپنے ہاں عشائیے کی دعوت دی۔ نماز عصر اور مختصر قیلولہ کرنے کے بعد نماز مغرب پڑھی اور ثاقب بٹ کے ہمراہ میں اور راؤ محمد اختر صاحب اپنی منزل کی جانب روانہ ہوگئے۔

ثاقب بٹ راستوں سے واقف ہیں۔ ان کی گاڑی میں ہم لوگ بہت جلد سلیم اللہ صاحب کے ہاں پہنچ گئے۔ موصوف ایک بہت محفوظ سوسائٹی میں مقیم ہیں، جہاں سکیورٹی کا بہت اچھا انتظام ہے۔ پاکستانی سفارت خانے کے اکثر افسران یہیں رہائش پذیر ہیں۔ نیازی صاحب نے ہمارا پُرتپاک استقبال کیا اور کشادہ گھر کے اندر لے گئے۔ ساتھ ہی ملازمین کے لیے کوارٹر بنا ہوا تھا۔ سلیم اللہ صاحب نے مجھے بتایا کہ آپ کے دوست ڈاکٹر فاروق صاحب آپ کا پوچھ رہے تھے۔ میں نے کہا کہ وہ کہیں قریب رہتے ہیں تو ان سے ملتے جائیں گے۔ فرمانے لگے نہیں وہ ابھی تھوڑی دیر میں خود یہاں پہنچ جائیں گے۔ میرے لیے یہ اطلاع باعثِ مسرت تھی۔ میں تو ذوق ہم خیال ہوں

اے ذوق کسی ہم دمِ دیرینہ کا ملنا

بہتر ہے ملاقات مسیحا و خضر سے!

تھوڑی دیر کے بعد ڈاکٹر فاروق صاحب تشریف لے آئے۔ ماشاء اللہ پچیس سال پہلے کی طرح دھان پان، دبلے پتلے اور سمارٹ! حسب مطابق مسکراتے ہوئے آئے اور گلے ملے۔ میں نے کہا ڈاکٹر صاحب آپ ابھی تک جوان ہیں، یہ سن کر بہت ہنسے اور کہنے لگے آپ بھی تو بوڑھے نہیں ہوئے۔ ہر شخص دوسرے کو کہتا ہے کہ آپ بوڑھے نہیں ہوئے مگر حقیقت میں وہ خود کو ہی جوان تصور کر رہا ہوتا ہے۔ اچھا رویہ اور عادتِ مسلمہ یہی ہے کہ انسان حقائق کو دل سے تسلیم کرلے۔ اچانک حفیظ جالندھری یاد آئے جنھوں نے بڑی لَے میں کہا تھا

ابھی تو میں جوان ہوں

ابھی تو میں جوان ہوں

عبادتوں کا ذکر ہے

نجات کی بھی فکر ہے

مگر سنو تو شیخ جی!

عجیب شے ہیں آپ بھی

بھلا شباب و عاشقی

الگ ہوئے بھی ہیں کبھی

محفل جمی تو مختلف موضوعات پر گفتگو ہونے لگی۔ اس دوران ڈاکٹر صاحب نے کچھ سنجیدہ اور علمی سوال شروع کر دیے۔ ساتھ ہی کہنے لگے کہ میرا بیٹایہ سوالات اکثر کرتا رہتا ہے۔ سلیم اللہ صاحب نے فرمایا کہ ڈاکٹر صاحب کا بیٹا بھی ڈاکٹر ہے اور انہی کی طرح سمارٹ ۔ میں اسے ابھی بلا لیتا ہوں، تاکہ وہ بھی شریکِ محفل ہوجائے۔ تھوڑی دیر میں فاروق صاحب کا بیٹا ڈاکٹر عمر فاروق بھی آپہنچا۔ بڑے تپاک، احترام اور محبت سے

ملا۔ پھر اس نے قرآنِ پاک کی مختلف آیات کے بارے میں بہت اچھے سوالات کیے۔ اسی طرح بنی اسرائیل کی تاریخ کے بارے میں قرآن کی روشنی میں اس نے اپنی آراء پیش کیں اور مجھ سے ان کے بارے استفسار کیا۔ بنی اسرائیل یعنی یہود کے بارے میں قرآن میں بار بار تذکرہ ملتا ہے کہ اللہ نے ان کی بدعملیوں اور بغاوت کے نتیجے میں ان پر ذلت و ادبار مسلط کیا ہے۔ آج اسرائیل کی صورت میں جو ناجائز ریاست قائم ہے اور جس کے سامنے تمام پڑوسی مسلم ممالک بے بس ہیں۔ اس کی کیا توجیہہ کی جاسکتی ہے؟

میں نے عرض کیا قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل اپنے کرتوتوں کی وجہ سے ملعون ہیں، اس کے باوجود کبھی کبھار اللہ اپنی مصلحت و مشیت کے تحت خود انھیں مہلت دے دیتا ہے یا کچھ دیگر لوگوں کے ذریعے ان کو پناہ مہیا ہوجاتی ہے اور یہ ذلت کے باوجود ان کی پناہ میں گُل کھلاتے رہتے ہیں۔سورہ آل عمران میں اللہ کا ارشاد ہے:

’’یہ جہاں بھی پائے گئے، ان پر ذلت کی مار ہی پڑی، کہیں اللہ کے ذمے یا انسانوں کے ذمے میں پناہ مل گئی تو یہ اور بات ہے۔ یہ اللہ کے غضب میں گِھر چکے ہیں، ان پر محتاجی اور مغلوبی مسلط کر دی گئی ہے اور یہ سب کچھ صرف اس وجہ سے ہوا ہے کہ یہ اللہ کی آیات سے کفر کرتے رہے اور انہوں نے پیغمبروں کو ناحق قتل کیا۔ یہ ان کی نافرمانیوں اور زیادتیوں کا انجام ہے‘‘۔ (آیت نمبر۱۱۲)

اس کے ساتھ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ خود مسلمان جو آج یہودیوں کے مقابلے میں بے بس نظر آتے ہیں، اللہ کی آیات کے وارث ہونے کے باوجود انہیں پسِ پشت ڈال چکے ہیں۔ آج نام کے مسلمان تو کروڑوں ہیں مگر قرآن و سنت پر عمل کرنے والے آٹے میں نمک ہی کے برابر ہیں۔ اللہ سے کٹ جانا ذلت و خواری ہے۔ جو بھی اللہ کو فراموش کر دے، اللہ کی رحمت اس سے روٹھ جاتی ہے۔ مسلمان اگر اللہ کی طرف رجوع کرکے صحیح معنوں میں قرآن و سنت کے مطابق اپنی زندگیاں اور اپنا نظام ڈھال لیں تو اسرائیل کا وجود صفحۂ ہستی سے مٹ جائے۔ آج مسلمان بھی امریکہ کے غلام ہیں اور اسرائیل بھی اسی کی سرپرستی میں پھل پھول رہا ہے۔ خوشی ہوئی کہ نوجوان ڈاکٹر دینی علوم میں بھی بڑی دلچسپی لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے علم و عمل میں مزید ترقی عطا فرمائے۔

مجلس جاری تھی کہ فون کی گھنٹی بجی ، دوسری طرف سے ایک خاتون کی آواز آرہی تھی۔ اس نے کہا ’’انکل میں امریکہ سے بول رہی ہوں، آپ حافظ محمد ادریس ہیں نا؟‘‘ میں نے اثبات میں جواب دیا تو خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگیں ’’میں آپ کے دوست اور بھائی ڈاکٹر محمد سعید مرحوم کی بہو بیگم نجیب ہوں‘‘۔ یہ سن کر میں نے کہا بیٹی آپ کی آواز میرے لیے باعث صد مسرت ہے۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم واقعی عظیم انسان تھے اور ان کے خاندان سے نیروبی میں قیام کے دوران انتہائی قریبی اور گہرا تعلق رہا۔ میں پہلی بار کینیا آیا تو ڈاکٹر صاحب اسلامک فاؤنڈیشن کے سیکرٹری جنرل تھے۔ بعد میں وہ چیئرمین بھی رہے۔ کینیا میں قیام کے دوران شاید ہی کوئی دن ایسا گزرا ہو کہ ہم دونوں نیروبی میں ہوں اور باہمی ملاقات نہ ہوئی ہو۔ ان کی سوانح پر ہم نے اپنی کتاب ’’عزیمت کے راہی‘‘ جلد دوئم میں تفصیلاًلکھا ہے۔

ڈاکٹر صاحب کے چار بیٹے ہیں، جن میں سب سے بڑے محمد شعیب اور سب سے چھوٹے بیٹے فاروق دونوں برطانیہ میں مقیم ہیں۔ ان کی والدہ محترمہ بھی آج کل ان کے ساتھ برطانیہ میں ہیں۔ دوسرے نمبر پر نجیب ہیں جو امریکی شہری ہیں اور تیسرے نمبر پر ڈاکٹر محمود ہیں، وہ بھی کافی عرصہ پہلے امریکہ چلے گئے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کی زندگی میں اللہ تعالیٰ نے نجیب ہی کو بچے عطا فرمائے تھے، جن سے ڈاکٹر صاحب بے پناہ محبت کرتے تھے۔ بیگم نجیب نے بتایا کہ منیب افضل کی فیس بک پر آج آپ کے پروگرام کی تصویریں دیکھیں تو اس سے رابطہ کرکے آپ کا نمبر لیا۔ ہمیں بڑی خوشی ہے کہ بڑے عرصے کے بعد آپ سے گفتگو ہو رہی ہے۔ عزیزم نجیب سے بھی بات چیت ہوئی اور یہ معلوم کرکے بڑی خوشی ہوئی کہ خاندانِ سعید کے سب لوگ بخیریت اور خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ اللہ ان کو سلامت رکھے کہ یہ اس عظیم شخص کی اولاد ہیں، جو اللہ کے دین کا مخلص مجاہد اور خلقِ خدا کا بے لوث خادم تھا۔

دورِ جدید کے کمالات میں یہ بھی ایک بڑا عجوبہ ہے کہ چند لمحات میں پوری دنیا کو پتا چل جاتا ہے کہ کوئی شخص کہاں ہے۔ برطانیہ، سعودی عرب اور دیگر ملکوں سے بھی اس سفر کے دوران مختلف ایام میں دوست احباب رابطے کرکے پوچھتے رہے کہ میں پاکستان سے باہر نکلا ہوں تو کہاں کہاں کا ارادہ ہے۔ ان سب دوستوں سے کہاکہ فی الحال سفر بلالی دنیا تک ہی محدود ہے، آپ کے ہاں آنے کا ارادہ نہیں ہے۔ ہمارے میزبان فرما رہے تھے کہ کھانا تیار ہے۔ نماز اور کھانے کے بارے میں عمومی اصول تو یہی ہے کہ کھانا تیار ہو تو نماز سے پہلے کھالیا جائے مگر آج کل کھانے اتنے لذیذ اور متنوع ہوتے ہیں کہ کھانے کے بعد بعض لوگوں کے لیے نماز زیادہ پُر مشقت ہوجاتی ہے۔ چنانچہ صفیں بچھ گئیں اور سب لوگوں نے باجماعت نماز عشا ادا کی۔ نماز کے بعد پُرتکلف عشائیے سے لطف اندوز ہوئے۔ سلیم اللہ خان نیازی کی اہلیہ محترمہ اور گھر کی خادماؤں نے بڑے مزے دار کھانے اور پکوان تیار کیے تھے۔ سلیم اللہ خان نیازی کو اللہ نے دو خوب صورت پھول عطا فرمائے ہیں، سبحان اور عمر۔ اللہ ان کو سلامت رکھے۔

مجلس برخاست ہوئی ، ہمارے میزبان عزیزم سلیم خاں نیازی صاحب نے ہمیں الوداع کہا اور ساتھ ہی یاددہانی کروائی کہ کل صبح سفارت خانے میں آنا ہے۔ ہم نے کہا کہ ہمیں بالکل یاد ہے، آپ کوئی فکر نہ کریں۔ اب ثاقب بٹ ہمیں ہماری رہائش گاہ پر چھوڑ گئے۔ ہم اللہ کی رحمت سے میٹھی نیند سوگئے۔ آج کینیا میں قیام کی آخری رات ہے۔ اس کے بعد ساؤتھ افریقہ کا سفر ہوگا۔ وہاں کے احباب بالخصوص حافظ ندیم احمد صاحب پوچھتے رہتے ہیں کہ نیلسن منڈیلا کی سرزمین قوسِ قزح کا تذکرہ کب ہوگا۔ ہم ہر مرتبہ عرض کرتے ہیں کہ ابھی تو جوموکینیاٹا کی سرزمین ماؤنٹ کینیا کی سرگزشت چل رہی ہے، جوں ہی ہم ساؤتھ افریقہ پہنچیں گے، باقاعدگی سے اپنی ڈائری لکھتے رہیں گے۔


ای پیپر