شکریہ سندھ حکومت
13 مئی 2018 2018-05-13

سندھ حکومت کا شکریہ کہ انہوں نے آخر کار ہوم بیسڈ ورکرز کو سرکاری طور پر محنت کش تسلیم کر لیا۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کا شکریہ جنہوں نے اپنا ایک اور وعدہ پورا کر دیا۔ سندھ حکومت نے تاریخی اقدام اٹھاتے ہوئے ہوم بیسڈ ورکرز بل2018ء منظور کر لیا۔ سندھ پاکستان کا پہلا صوبہ بن گیا جہاں اس حوالے سے قانون سازی ہوئی ہے۔ اس سے پہلے سندھ حکومت ایشیاء کی پہلی حکومت تھی جس نے ہوم بیسڈ ورکرز کے حوالے سے سرکاری پالیسی کا اعلان کیا تھا۔ یہ تاریخی اقدام اور قانون سازی ہے جو کہ محنت کشوں کے حقوق کے حوالے سے کی گئی ہے۔ اس کے لئے پیپلز پارٹی کی حکومت بھرپور ستائش اور مبارکباد کی مستحق ہے۔
سندھ حکومت نے یہ قانون سازی کر کے ہوم بیسڈ ورکرز اور مزدور تحریک کا اہم مطالبہ پورا کر دیا ہے۔ آخر کار ان محنت کشوں کو جو کہ سالہا سال سے محنت کر کے ملکی ترقی اورمعیشت میں اپنا اہم کردار ادا کر رہے تھے اب سرکاری طور پر محنت کش تسلیم کر لیا گیا ہے اور ملکی معیشت میں ان کے کردار کو مان لیا گیا ہے۔ اس قانون سازی سے سندھ کے تقریباً 26 لاکھ (2.6 ملین) غیر رسمی محنت کشوں کو فائدہ ہو گا۔ ان محنت کشوں کو بنیادی سہولیات اور خدمات حاصل ہو سکیں گی۔ ان محنت کشوں کو رجسٹرڈ کیا جائے گا۔ ان کو سوشل سکیورٹی ، ورکرز ویلفیئر فنڈ اور EOBI کے تحت بڑھاپا پنشن جیسی سہولیات میسر آئیں گی۔ جہاں اس قانون سازی کے حوال سے پیپلز پارٹی تحسین کی مستحق ہے وہیں پر ہوم بیسڈ ورکرز کی کئی سالوں کی جدوجہد اور مسلسل کاوشوں کو نظر انداز کرنا بھی زیادتی اور ناانصافی ہو گی۔ اس حوالے سے مختلف ٹریڈ یونینوں، مزدور تنظیموں اور این جی اوز نے بھی بہت اہم کردار ادا کیا۔ اگر ہوم بیسڈ ورکرز اپنے حقوق کے لئے جدوجہد نہ کرتے ۔ وہ جلسوں ، جلوسوں ، اجتماعات اور دیگر سرگرمیوں کے ذریعے مسلسل جدوجہد نہ کرتے تو آج یہ قانون نہ بنتا۔ یہ قانون سازی انہی کی مسلسل جدوجہد اور انتھک کوششوں کا نتجیہ ہے۔مگر ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اس قانون سازی سے ایک مرحلہ طے ہوا ہے مگر اس پر عملدر آمد کروانے کے لئے بھی مسلسل جدوجہد اور کوششوں کی ضرورت ہو گی۔ پاکستان میں محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے جو قوانین بنتے ہیں اور جو پہلے سے موجود ہیں ان پر عمل درآمد کروانا بھی ایک مشکل کام ہے۔ حکومتیں محنت کشوں کے دباؤ، عالمی معاہدات اور کنونشنوں کے تحت قانون سازی تو کر دیتے ہیں مگر ان پر عمل درآمد کرنے میں ان کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ اس لئے ہوم بیسڈ ورکرز اور مزدور تحریک کو اس نئے قانون پر عمل درآمد کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھنی ہو گی۔
اس قانون کے مطابق وہ تمام محنت کش جو کہ اپنے گھروں پر یا گلی محلے کے کسی اور گھر میں مختلف نوعیت کے کام کرتے ہیں۔ مصنوعات بناتے ہیں۔ خود چھوٹی موٹی چیزیں بناتے ہیں یا پھر مختلف فیکٹریوں ، کارخانوں اور ٹھیکیداروں کو مختلف نوعیت کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ یہ محنت کش کسی کارخانے ، فیکٹری یا ورکشاپ میں جا کر کام نہیں کرتے بلکہ یہ مختلف نوعیت کا کام اپنے گھروں پر کرتے ہیں۔ مختلف فیکٹریوں کے مالکان یا ٹھیکیدار انہیں کام مہیا کرتے ہیں اور زیادہ کام پیس ریٹ یعنی چیزیں بنانے کے حساب سے معاوضہ کے تحت کام کرتے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی میں آؤٹ سورسنگ کے نام پر یہ کام فیکٹریوں ،کارخانوں اور کام کی جگہوں سے نکل کر گھروں اورگلی محلوں میں پھیلا ہے یہ دراصل ایک پالیسی اور منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔ فیکٹری یا کارخانے میں محنت کش ایک ہی چھت کے تلے اجتماعی طور پر پیداواری عمل میں حصہ لیتے ہیں۔ ان کی اجرت طے شدہ ہوتی ہے۔ ان محنت کشوں کو لیبر قوانین کے تحت تھوڑی بہت مراعات حاصل ہوتی تھیں۔ مگر آؤٹ سورسنگ کے نام پر پیداواری عمل کو انفرادی حیثیت دے دی گئی۔ مثلاً ایک جینز بنانے کے لئے کپڑا کہیں بنتا ہے ۔ سلائی کہیں ہوتی ہیں اور پیکنگ کہیں اور۔ یہ مختلف کام مختلف محنت کش اپنے گھروں پر سر انجام دیتے ہیں۔ اسی طرح یہ محنت کش مالکان یا ٹھیکیداروں کی ذمہ داری نہیں رہتے۔ ان محنت کشوں پر لیبر قوانین کا اطلاق بھی نہیں ہوتا۔ پیداواری عمل میں حصہ لینے اور ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے کے باوجود سرکاری طور پر انہیں محنت کش تسلیم نہیں کیا جاتا۔ ان کو سوشل سکیورٹی بڑھاپے کی پنشن اور ورکرز ویلفیئر فنڈ کے تحت کوئی سہولت بھی دستیاب نہیں۔
اس قانون کے تحت ایک کونسل قائم کی جائے گی جو کہ مختلف شعبوں میں کام کرنے والے ہوم بیسڈ ورکروں کو شناخت کرے گی۔ ان کو رجسٹرڈ کرے گی اور ان کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے اقدامات کرے گی۔ یہ کونسل ہوم بیسڈ ورکروں کا ریکارڈ جمع کرے گی۔ اس کونسل کی علاقائی ، ڈویژنل اور ضلعی سطح پر کمیٹیاں قائم کرے گی۔ یہ کونسل مختلف سرکاری اداروں سوشل ویلفیئر لیبر ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ خزانہ کے علاوہ ہوم بیسڈ یونینوں اور مزدور تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل ہو گی۔
اس قانون کے تحت رجسٹرڈ ہوم بیسڈ ورکرز سماجی ، میڈیکل ، زچگی ، شادی اور وفات کی صورت میں ملنے والی سہولیات اورفوائد سے استفادہ کر سکیں گے۔ سندھ صنعتی تعلقات عامہ ایکٹ 2013ء اور سندھ شرائط ملازمت ایکٹ 2016ء کے تحت بھی تمام قانونی حقوق اور مراعات حاصل کر سکیں گے۔ نئے قانون کے تحت محنت کشوں اور مالکان کے درمیان تنازعات کو حل کرنے کے لئے ایک مصالحتی کونسل بھی قائم کی جائے گی۔ حکومت اس قانون کے تحت ہوم بیسڈ ورکروں کا سروے کرے گی اور فنڈز مہیا کرے گی۔ حکومت ہر ضلع میں ان محنت کشوں کے لئے الگ کاؤنٹرز قائم کرے گی اور موبائل ہیلتھ کاؤنٹرز کے ذریعے ان کو گھر کی دہلیز پر صحت کی سہولیات فراہم کرے گی۔ اس قانون کے تحت بچوں سے مشقت کی حوصلہ شکنی کر کے اس کا خاتمہ کیا جائے گا۔ یہ قانون پاکستان میں غیر رسمی محنت کشوں پر لیبر قوانین کے اطلاق اور انہیں سوشل سکیورٹی کی سہولیات کی فراہمی میں سنگ میل ثابت ہو گا۔ باقی تینوں صوبوں کی حکومتوں کو بھی فوری طور پر اس قانون کو منظور کر کے اس کا اطلاق کرنا چاہئے۔
پیپلز پارٹی نے اپنی تمام تر نظریاتی ابہام، کج روی ، کمزوریوں اور خامیوں کے باوجود ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس کے دل میں اب بھی محنت کش عوام کے لئے جگہ موجود ہے۔ پارٹی میں بائیں بازو کے نظریات رکھنے والے اور ترقی پسند رہنما ہمیشہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی موجودگی اور غلبے کے باوجود محنت کش طبقے اور غربت عوام کے لئے کام کریں۔اس سے پہلے جاگیرداروں اور وڈیروں کی اکثریت والی سندھ اسمبلی ہی واحد اسمبلی ہے جس نے کسانوں ، ہاریوں اور کھیت مزدوروں کو یونین سازی کا حق دیا تھا اور اس حوالے سے قانون سازی کی تھی۔
یہ امر خوش آئند ہے کہ پارٹی بلاول بھٹو کی قیادت میں بتدریج تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے اور ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے مگر ہوم بیسڈ ورکرز کا قانون سخت حبس میں ہوا کے ٹھنڈے اور خوشگوار جھونکے کی مانند ہے۔
ایک بار پھر ترقی پسند قانون سازی کے لئے پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کا شکریہ !


ای پیپر