انتشار پھیلانے کی بھارتی کوشش
13 مئی 2018 2018-05-13

حکومت پاکستان نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کی ریلیوں میں افغان مہاجرین کی شرکت روکنے کیلئے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے ساتھ معاملہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں افغان مہاجرین پی ٹی ایم کی ریلیوں میں شرکت کرتے ہیں۔پی ٹی ایم کو ملک کے اندر 13 لاکھ افغان مہاجرین کی حمایت حاصل ہے۔
ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ منظور پشتین کی ڈور کون ہلا رہا ہے؟ کوئی پاکستانی سرزمین پر کسی کو سبز ہلالی پرچم لہرانے سے کیسے روک سکتا ہے۔ اس سارے عمل سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا پشتون تحفظ موومنٹ کا ایجنڈا ملک دشمنی پر مبنی ہے۔مخالف قبائل یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ بھارت پاکستان میں انتشار پھیلانے کے لئے بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ ملک کو لسانیت نہیں پاکستانیت کی ضرورت ہے۔ پختونوں کے حقوق کے نام پر پاک فوج کے خلاف نعرے لگانے والے بھارتی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ پاک فوج نے قبائلیوں اور پختونوں کو دہشت گردی سے نجات دلانے کے لئے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ بھارت پاک فوج کی کردار کشی کے لئے پیسہ تقسیم کر رہا ہے۔اس سے قبل دشمن اپنی چالوں میں ناکام ہوا اور اب پھر سے ویسی ہی چالوں کے ساتھ پی ٹی ایم کے ذریعے پشتون بیلٹ کو تباہ کرنا چاہ رہا ہے۔
پی ٹی ایم کی اصطلاح سے ہی پاکستان دشمنی اور شرانگیزی کی بو آتی ہے۔ جن لوگوں نے یہ تنظیم بنائی ہے وہ نہ پاکستان اور نہ افغان مہاجرین کے دوست ہیں بلکہ وہ دشمن کے ہاتھ میں کھیل رہے ہیں۔ پشتون تحفظ موومنٹ کا نام اختیار کرنا دنیا کو یہ پیغام دینے کے مترادف ہے کہ پاکستان میں پشتونوں کے حقوق پامال کئے جا رہے ہیں۔
حالانکہ پاکستان گزشتہ 40، 45 سال سے نصف کروڑ کے لگ بھگ مہاجرین کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ اگرچہ ان کا سٹیٹس مہاجرین کا ہے لیکن انہیں پاکستان کے دوسرے شہریوں کے برابر سہولتیں اور مراعات میسر ہیں۔ ان کے بچے سرکاری و غیر سرکاری درسگاہوں میں بغیر فیسوں کے پڑھ رہے ہیں۔ ان میں جو قابل ہیں وہ ڈاکٹر اور انجینئر تک بن رہے ہیں ان کے مریضوں کا سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج ہو رہا ہے۔ انکے کاروبار کرنے پر بھی کوئی پابندی نہیں۔ اگرچہ ان مہاجرین کی وجہ سے قومی معیشت شدید دباؤ میں ہے لیکن پاکستان نے انہیں کبھی زبردستی افغانستان دھکیلنے کی کوشش نہیں کی ۔
دنیا بھر میں سب سے زیادہ مہاجرین کو پناہ دینے اور سب سے بڑی تعداد میں مہاجرین کو کھپانے کا جو ریکارڈ پاکستان رکھتا ہے اس کی نظیرنہیں ملتی۔وفاقی وزیر داخلہ کے بیان سے قبل بھی پاکستان بار بار اس طرف توجہ دلاتا رہا ہے لیکن امریکی صدر ٹرمپ کی متنازع ٹویٹ کے بعد پاکستان افغان مہاجرین کی مکمل طور پر وطن واپسی میں جس قدر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہا ہے اگر اس طرح کی سعی پہلے کی جا چکی ہوتی تو آج نہ صرف افغان مہاجرین کی وطن واپسی ہوچکی ہوتی بلکہ پاکستان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے اور حقانی نیٹ ورک کی پاکستان میں موجودگی جیسے لغو الزامات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
دنیا کا کوئی ملک بھی تارکین وطن، مہاجرین یا پناہ گزینوں کو اتنی سہولتیں نہیں دیتا اور نہ ہی انہیں سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت ہوتی ہے۔ دو دن پہلے جرمنی نے ایک شامی پناہ گزین کو کسی جرم کی پاداش میں ڈی پورٹ کرنا چاہا جس کی مزاحمت کیلئے 200 تارکین اٹھ کھڑے ہوئے۔ جرمنی کی حکومت نے سب احتجاج کرنے والوں کو نکال باہر کیا۔ یہ اس ملک کا حال ہے جو انسانی حقوق کی پاسداری کے حوالے سے بڑی شہرت رکھتا ہے۔
افغان مہاجرین تک تو بات پھر بھی قابل قبول تھی مگر زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ان مہاجرین کے پردے میں دہشت گرد بھی آنے لگے ہیں۔پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے طویل اور جان لیوا آپریشنوں کے بعد بہت سے علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کردیا اور ان علاقوں میں زندگی معمول پر آنے لگی تو دہشت گردوں نے افغان مہاجروں میں چھپ کر پناہ ڈھونڈلی۔ اب ایسے دہشت گردوں کو جب بھی موقع ملتا ہے وہ کسی نہ کسی طرح واردات کردیتے ہیں۔ ایسے میں اگر مہاجر کیمپوں میں کوئی سرچ آپریشن وغیرہ کیا جاتا ہے تو افغان حکومت اس پر شور مچا دیتی ہے۔
اس بات سے انکار کی گنجائش نہیں کہ پاکستان میں افغان مہاجرین ہی کے بھیس میں دہشت گردوں سے لے کر حقانی نیٹ ورک کے کارندوں تک بلکہ سی آئی اے' را اور موساد کے ایجنٹ بھی موجود ہوسکتے ہیں۔ بلاشبہ افغان مہاجرین کی غالب ترین اکثریت کا مقصد محض ترک وطن کرنے کے بعد روز گار اور کاروبار کرکے یہیں سکونت ہے اتنی بڑی تعداد میں افغان مہاجرین میں یہ امتیاز کرنا مشکل ہے کہ حقیقی مہاجرین کون ہیں اور ان کے بھیس میں گھس بیٹھئے کون ہیں؟ افغان مہاجرین کے جرائم میں ملوث ہونے کے معاملات کوئی افسانوی بات نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ اغواء برائے تاوان کی وارداتیں اور افغانستان کے علاقے سے بھتے کی کالیں اور رقوم کی وصولی جیسے مسائل میں گوکہ کمی آئی ہے لیکن ہنوز ان مسائل سے مکمل طور پر چھٹکارا ممکن نہیں ہوسکاہے۔ ان تمام مشکلات و مسائل سے قطع نظر بھی دنیا میں کہیں بھی کسی دوسرے ملک کے شہریوں کو اس قدر پر سہولت مواقع نہیں دئیے گئے جو پاکستان میں افغان مہاجرین کو اب تک حاصل ہیں۔ انہی عناصر کے بھیس میں ہونے والے اقدامات و واقعات کو بنیاد بنا کر اگر پاکستان ہی کو مطعون کیا جانے لگے تو پاکستان کے پاس ان عناصر کی واپسی کے علاوہ کوئی اور صورت کیا باقی رہ جاتی ہے۔
پاکستان نہ صرف اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین سے رابطہ کرکے انہیں اصل صورتحال سے آگاہ کرے بلکہ پشتون حقوق کے نام نہاد محافظوں پر بھی واضح کر دے کہ انکی یہ کوششیں پاکستان کو بدنام کرنے اور نیکی کو کنویں میں ڈالنے کے مترادف ہیں بلکہ انہیں یہ بھی بتا دیا جائے کہ انکا احسان فراموشی کا رویہ مزید برداشت نہیں کیا جائیگا۔


ای پیپر