کالی روح کی محرم ناگن
13 مئی 2018 2018-05-13

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کی جانب سے 2017ء میں پاکستان میں انسانی حقوق سے متعلق جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ برس خواتین کے خلاف جرائم کے 5 ہزار 660 کیسز درج کیے گئے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2017ء میں خواتین پر جنسی حملوں کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھا گیا جبکہ اس طرح کے کیسز کی رجسٹریشن میں بڑی حد تک اضافہ ہوا۔

پاکستانی معاشرے میں وقت گرزنے کے ساتھ ساتھ خواتین کے خلاف ہر قسم کے منفی رجحانات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔پنجاب پولیس کے انوسٹی گیشن سیل کے مطابق صرف پنجاب میں روزانہ پچا س کے لگ بھگ خواتین مختلف قسم کے جرائم کا شکار ہو رہی ہیں جس میں اغوا، جنسی زیادتی، قتل ، خوف و ہراس اورتشدد شامل ہے جبکہ باقی صوبوں کی صورت حال بھی کچھ ایسی ہی ہے۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے ’’عورت فاؤنڈیشن‘‘ کے حاصل کیے گئے اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ سال پاکستان کے دوسرے صوبوں کے مقابلے میں پنجاب بھر میں خواتین پر تشدد کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے جن کی تعداد بارہ ہزار سے بھی زیادہ تھی۔ اور یہ تو وہ شکایات تھیں جو درج ہوئیں جبکہ سامنے نہ آنے والے کیسز کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

تصویر زن سے ہے کائنات میں رنگ کے مترادف انسانی معاشرہ عورت کے بغیر نامکمل، ادھورا اور بے رنگ ہے۔ ایک گھر کی تعمیر و تکمیل میں عورت ہی اہم ستون ہے ۔آج کی عورت اپنے خاندان کے معاشی تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے ۔ معاشرے میں عورت کے بدلتے اور بڑھتے ہوئے کردار کے پیش نظر ہی بہت سارے قوانین بھی سامنے آئے۔وطن عزیز میں ایسے سارے قوانین تنازعات کا شکار ہو کر رہ گئے ۔

تو کیا معاشرہ عورت کے لیے غیر محفوظ ہے ؟ مذہبی احکامات، قوانین اور اخلاقیات اسے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہیں یا آج کا مرد انسانیت کے چولے سے باہر آچکا ہے، عورت کو انسان سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہے۔یہ تربیت کی کمی ہے، دین سے دوری ہے، نفسیاتی مسائل ہیں یا انسان اپنی معراج پر پہنچنے کے بعدواپس غارکے دور کی جانب پلٹ رہا ہے؟کیا ہے یہ سب؟ ملک بھر میں گزشتہ دنوں غیرت کے نام پر قتل اور شادی سے انکار پر تیزاب گردی کی وارداتوں میں ایک بار پھر سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔کیا ہمیں عورتوں کے حوالے سے ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے؟۔

عورت جو اپنوں ہی کے ظلم کا شکار ہو رہی ہے اور مسلسل ہو رہی ہے۔ کہیں شک کی بنیاد پر اسے گھریلو تشدد کا بد ترین نشانہ بنایا جاتا ہے تو کہیں منحوس قرار دے کر جعلی پیری فقیری کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔کہیں باپ دادا کی دولت ہڑپ کرنے کے لیے محرم رشتے ہی ناگ بن کر ڈس لیتے ہیں۔

میلے تن پر اجلے کپڑے

کالی روح کی محرم ناگن

ڈس جاتی ہے رشتے کتنے

تاریخ بتاتی ہے کہ تہذیب کے کسی بھی دور میں عورت نہ تو محفوظ تھی اور نہ اس کی عزت کی جاتی تھی۔ صرف آمد اسلام نے عورت کو اس کا حقیقی مرتبہ اور مقام دیا ۔زندگی اور اس کی بقاء، جائیداد میں حصہ ، طلاق اور دوسری شادی کا حق صرف اور صرف اسلام نے دیا۔ تب صرف مذہبی احکامات اور سماجی اقدار تھیں جو عورت کو تحفظ فراہم کرتی تھیں۔ نہ تعلیم عام تھی اور نہ ہی اس حوالے سے ریاستی قوانین۔یعنی عورتوں کے مذہبی، سماجی، سیاسی اور معاشی حقوق کے تحفظ کی پہلی باضابطہ تحریر ی دستاویز ہمیں قرآن مجید فرقان حمید نے فراہم کی ، جس کا عملی مظاہرہ مدینہ کی اسلامی ریاست میں کیا گیا۔

تاہم جب اسلام عرب سے نکل کر دوسرے خطوں میں پہنچا ،خاص کر جنوبی ایشیا کے اس خطے میں جہاں آج پاکستان بھی واقع ہے تو وہاں عورت ایک طرف انسانوں کے ساتھ بھی ناروا سلوک روا تھا۔ انسان اعلیٰ و برتراور کمتر کے فلسفے کا شکار تھے۔ یہی وجہ تھی کہ یہاں اسلام بہت تیزی سے پھیلا مگر عورت کے حوالے سے معاشرتی سوچ اور رویوں میں اس حدتک تبدیلی پیدا نہیں کی جا سکی جو عربوں میں ہوئی یاجسے عرب معاشرے نے کھلے دل سے قبول کیا۔

جنوبی ایشیا میں ایسا نہ ہو سکا،اس کی وجہ وہ روایات تھیں جو صدیوں سے اس زمین میں اپنی جڑیں مضبوطی سے قائم رکھے ہوئے تھیں۔ کہتے ہیں جو روایات صدیوں میں پروان چڑھیں ان کو سالوں میں ختم نہیں کیا جا سکتا چاہے مذہبی احکامات جتنے بھی واضح کیوں نہ ہوں اور یہی سب کچھ جنوبی ایشیا کی عورت کے ساتھ ہوا۔ عورت کے حوالے سے مردانہ سوچ میں مثبت تبدیلیاں کم دیکھنے میں آئیں۔مشرقی عورت نے وفاداری سے لے کر ذمہ داری نبھانے تک ، خود کو منوانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر بہت کم کے حصے میں یہ سر خروی آئی کہ اسے اس کی کامیوبیوں سمیت قبول کیا گیا۔ورنہ توہمارے خطے کی عورت اپنی ساری کامیابیوں کے باوجود جبر کا شکار ہے، کئی مقامات پر اسے نا پسندیدہ حالات سے گزرنا پڑتا ہے۔ بعض خواتین زندگی کی جنگ تا دم مرگ لڑتی ہیں ، بہادری اور جواں مردی کے ساتھ۔ کہیں معاشرہ انہیں قبول کر لیتا ہے تو یہی بہادری کہیں ان کا جرم بن جاتی ہے۔ ایک بات تو واضح ہے، معاشرہ جب کسی کو مجرم سمجھ لے تو پھر اس کے لیے عزت کی زندگی جینا مشکل ہو جاتا ہے اور اگر وہ عورت ہو تو پھر اوربھی مشکل۔

پاکستانی عورت بہادر اور محنتی ہے مگر معاشرہ ترقی کے باوجود بھی اس کی ذات کے اعتماد کو قبول نہیں کر پارہا۔ اس کی اہم ترین وجوہات میں ایسے ایسے عناصر کا ر فرما ہیں کہ عقل دنگ رہ جائے۔ اہم ترین تو ملاازم ہے ،جو دین کی من چاہی تشریح کر کے عورت کی حیثیت کو کم کرتا دکھائی دیتا ہے۔ دوسرے جدیدیت کی اندھی تقلید بھی آج کی حقیقی ذہین عورت کی مخالف ہے اورجو اسے قبول نہیں کرتے یا کرتیں وہ اپنی ہی ہم جنس کے خطرہ بن جاتی ہیں ،اسی بنیادوں پر یہ کہا جاتا ہے کہ عورت ہی عورت کی دشمن ہے۔بات شروع ہوئی تھی عورتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم کے حوالے سے اور کہاں تک پہنچ رہی ہے۔ یہ مستقل موضوع ہے جس پر جتنا لکھا جائے کم ہے۔وجہ جرائم میں اضافہ اور معاشرے اور ریاست کا گھٹتا ہوا کردار۔ عورتوں کے تحفظ کے نام پر بننے والے قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اس لیے حالات سنگین سے سنگین تر ہوتے جا رہے ہیں۔ واضح رہے ،جب تک ریاست قوانین مستحکم بنیادوں پرلاگو کر کے ان پر عمل درآمدنہیں کراتی ،عورت غیر محفوظ ہی رہے گی، اپنوں اور غیروں کے درمیاں۔


ای پیپر