ضمیر کا بوجھ
13 مئی 2018 2018-05-13

اسی کی دہائی میں جب سابقہ سامراجی ریاست کے منتخب لارڈ میئر محمد عجیب نے ہماری سرزمین پر قدم رکھا تو انہیں ہیڈآف سٹیٹ کی سطح کا پروٹوکول دیا گیا۔ بھاری بھر شخصیت نے کشمیر کی سرزمین پہ ایک مزدور کے گھر جنم لیا۔کئی شہروں کی خاک چھانی اور بالآخر 19سال کی حیاتی میں برطانیہ سدھار گئے۔ موصوف جب دیار غیر میں قدم رنجہ فرمارہے تھے تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ جس سرزمین پے وہ مزدوری کرنے آئے ہیں وہ انہیں اتنی توقیر عطا کرے گی کہ لارڈ میئر کا عہدہ ان کا مقدر ٹھہرے گا۔ مزدوری کے ہاتھوں اکتائے جس مملکت کو وہ خیرباد کہہ رہے ہیں اس سرزمین پے انہیں ریاست کے سربراہ کے ہم پلہ عزت دی جائے گی، اس کا بھی انہیں یقین نہ تھا لیکن یہ سب اس محنت کا نتیجہ تھا جو عجیب نے کی تھی اور ٹریڈ یونین میں فعال کردا ر ادا کرتے ہوئے وہ بلدیاتی سیاست میں متحرک ہوئے اور بالآخر لارڈ میئر کا عہدہ اپنے نام کرنے میں کامیاب رہے۔ یہ صرف ان کی شبانہ روز محنت کا ہی نتیجہ نہ تھا بلکہ اسی جمہوری نظام کی بھی خوبی تھی کہ جس نے پاکستانی نژاد غیر ملکی کو اپنے سیاسی نظام میں مقام حاصل کرنے کا پورا پورا موقع فراہم کیا۔
برطانوی جمہوری نظام نے بہت سے دیگر پاکستانی سپوتوں کو سیاسی میدان میں کھل کھیلنے کا پورا پورا موقع فراہم کیا اوریہ برطانوی سیاسی افق پر نہ صرف پوری آب و تاب کے ساتھ چمکے بلکہ ہمارے لئے بھی باعث افتخار ٹھہرے۔ ان میں اک نام چوہدری سرور کا بھی ہے۔
حالیہ سینٹ کے انتخاب میں ان کی کامیابی پر تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے نہ صرف ان کو بلکہ انکی جماعت او ر قیادت کو بھی تنقید کا سامنا ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ یہاں بھی ’’ چمک ‘‘ اپنا کا م دکھاگئی اور کامیابی موصوف کے نام ہوگئی۔ برطانوی جمہوری نظا م اور ہمارے پارلیمانی نظام میں کیا فرق ہے اس کا مشاہدہ ہمارے سینٹ کے انتخابات سے پوری طرح عیاں ہے۔ برطانوی سیاسی عمل میں شریک رہنے والے چوہدری سرور بھی اسی گنگا میں نہا گئے ہیں جس میں دیگر بے اصول اراکین اشنان کررہے تھے۔ ہماری توقع تھی کہ وہ کم از کم اس بھونڈی سیاست کا حصہ نہیں بنیں گے اور ہماری سیاست کی کل سیدھی کرنے میں فعال کردار ادا کریں گے لیکن انہوں نے خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ کے رنگ پکڑنے کی مثال کو حقیقت بنادیا۔ اس کار گزاری پر وہ کیا دلیل پیش کرتے ہیں اور اپنے برطانوی ہم منصب کو کس طرح مطمئن کریں گے۔ اس کا بار چوہدری صاحب پر ہے۔ چوہدری سرور کے علاوہ لارڈ نذیر احمد، صادق خان اور حال ہی میں سیکرٹری داخلہ کے طور پر منتخب ہونے والے ساجد جاوید ہمارا وہ مان ہیں جن پر ہمیں فخر ہے۔
کہا جاتا ہے کہ محمد عجیب لارڈ میئر بننے کے بعد پاکستان تشریف لائے تو انہیں پروٹوکول دینے والی شخصیات میں اک نام جنرل ضیاء الحق کا بھی تھا کیونکہ وہ اس وقت باوردی صدر کے طور پر کرسئ صدارت پے براجمان تھے اور پارلیمانی نظام کی جھلک عالمی برادری کو دکھانے کیلئے وزیراعظم محمد خاں جونیجو جمہوری نظام کے نمائندہ کے طور پر موجود تھے۔
یہ تو ہمیں معلوم نہیں کہ جنرل ضیا ء الحق کے اس وقت کیا احساسات اور جذبات تھے جب وہ اک مزدور کے بیٹے کو ہیڈ آف سٹیٹ کا پروٹوکول دے رہے تھے۔ اس وقت جمہوریت کی فیوض و برکات ان پے نازل ہورہی تھیں یا نہیں۔وہ جمہوری نظام کی افادیت اور اہمیت سے متاثر ہورہے تھے یا نہیں لیکن دنیا کیلئے یہ بھی انوکھا تجربہ تھا کہ اک باوردی صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایسی شخصیت کو ’’ جی آیاں نو ں ‘‘ کہہ رہا تھا جس نے بلدیاتی سیاست کے زینہ پے قدم رکھتے ہوئے جمہوری انداز میں لارڈ میئر کی کرسی پے براجمان ہونے کا سفر انتہائی ایمانداری سے طے کیا تھا۔
ہمارا گمان ہے خود ساختہ امیرالمومنین دل ہی دل میں اس جمہوری نظام کو داد دیئے بغیر نہ رہ سکے ہوں گے کہ برطانیہ میں صابن کی فیکٹری میں کام کرنے والا اک مزدور آج وہاں کا لارڈ میئر ہے۔ ہمارے ہاں جس کا تصور بھی عنقاء ہے۔ناقدین کا خیال ہے کہ جمہوری نظام میں بدعنوانی کی طرح بھی خود ساختہ امیر المومنین کی شبانہ روز کا وش کا نتیجہ ہے جس کا دروازہ غیر جماعتی انتخابات کے انعقاد سے کھولا گیا اور پارلیمانی سیاست میں ایسی ’’کچی بھرتی ‘‘ کی گئی جس نے وہ گل کھلائے کہ اس کی باز گشت تاحال سنی جارہی ہے۔مرحوم کو نہ صرف جمہوری نظام کو سبوتاژ کرنے کا اعزاز حاصل ہے بلکہ روشنیوں کے شہر کراچی کو اندھیروں میں دھکیلنے کا سہرا بھی ان کے سر ہے۔ اک قومی سیاسی پارٹی کو دیوار کے ساتھ لگانے کی سزا اس قوم نے اس انداز میں بھگتی ہے کہ بڑے قومی ادارے پارٹی کی بدعنوانی کی نذر ہو گئے۔ اگر موصوف پارٹی ختم کرنے کی خوش فہمی میں مبتلانہ ہوتے تو ایوان صدر میں ’ لیبل زدہ ‘ شخصیت براجمان نہ ہوتی اور پانچ سال تک قوم سے اس صورت خراج نہ لیا جاتا۔
تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ جمہوریت کاراگ الاپنے والے اب تلک مفاداتی سیاست سے باہر ہی نہیں آسکے۔ اس کا ہی فیض ہے کہ قومی ادارے کمزور سے کمزور تر ہوتے جارہے ہیں۔ انہیں وہ مرتبہ حاصل نہیں جو کسی بھی مضبوط پارلیمانی نظام کا خاصہ ہوا کرتا ہے۔ صدافسوس ! وہ جمہوری جنگ جو پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم پے لڑی جانی چاہیے وہ شاہراہوں پر جاری ہے ۔کسی بھی سیاسی جماعت کے اوصاف حمیدہ میں اس کی آرگنائزیشن اس کا فعا ل کردار ہے۔ اگر قائدین نے اپنی صلاحیتیں سیاسی جماعتوں کو مضبوط کرنے میں صرف کی ہوتیں تو ہمارے ہاں کبھی بھی ’ لوٹا کریسی ‘کی صنعت فروغ نہ پاتی۔
غیر سیاسی تنظیم پلڈاٹ کی رپورٹ کے آئینہ میں انہیں اپنا چہرہ ضرور دیکھنا چاہیے کہ پارلیمانی مدت کے دوران انہوں نے سیاسی نظام کی مضبوطی، عوامی مفاد کے حقوق کیلئے کتنی آواز اٹھائی ۔قانون سازی میں کتنا حصہ لیا اور کتنے بل پیش کیے او ر کتنی مراعات وصول کیں؟ یہ میزانیہ ان کے ضمیر پر بوجھ ہوگا ۔ہمارا پارلیمانی نظام کسی مزدور بس ڈرائیور کے بیٹے کو میئر ، وزیر، اوررکن بنانے میں اس لئے ناکام رہا کہ یہاں اداروں کی مضبوطی کی بجائے شخصیات کو پوجنے کی دوڑ لگی رہی جس میں محمد عجیب جیسے مزدور کی کوئی جگہ نہیں ہے جو برطانوی جمہوری نظام کا خاصہ ہے۔


ای پیپر