جذبات کے مظاہرے کا وقت
13 مئی 2018 2018-05-13

ہمارے ہاں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو پاکستان کے امریکہ سے ٹکراؤ کے متمنی ہیں۔ ایسے جذباتی لوگ نعرے لگاتے ہوئے ملک کی کمزور معیشت اورسلامتی کو لاحق خطرات یکسر فراموش کر جاتے ہیں۔ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ جذباتی نعرے لگانے والوں کو محب الوطن تصور کیا جاتا ہے۔ جو حقائق بتانے کی کوشش کریں اُنہیں امریکن نواز کہہ کر حب الوطنی سوالیہ نشان بنا دی جاتی ہے۔ اب جذباتی نعرے لگانے والے خوش ہو جائیں پاکستان اور امریکہ ٹکراؤ کی طرف بڑھنے لگے ہیں۔ ایک اسلامی ملک کا ایٹمی طاقت حاصل کرنا ہی واشنگٹن کے پالیسی سازوں کے لیے ناقابلِ برداشت تھا چہ جائے کہ قرضوں میں ڈوبا ملک علاقے میں امریکہ مخالف اتحاد کی راہ ہموار کرے۔ چین سے ہماری شہد سے میٹھی اور سمندر سے گہری دوستی مصائب سے نکالنے میں ہماری کہاں تک مددگار ہوتی ہے؟ نیز روس سے تازہ ترین عشق ہماری کمزور معیشت کی بحالی اورسلامتی کو لاحق خارجی خطرات سے محفوظ رکھنے میں کیا کردار ادا کرتا ہے ؟روس کے بارے میں بات کرتے ہوئے یہ پہلو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ آج بھی روسی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار بھارت ہے۔ اسی لیے امریکی کیمپ میں جانے کے باجو داُسے ماسکو نے ناراض کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی اور پاکستان سے تجارت اور دفاعی قربت میں محتاط روی پر گامزن ہے۔پیرس اجلاس میں امریکہ نے دہشت گرد تنظیموں کو فنڈنگ کی آڑ میں پاکستان کو واچ لسٹ میں شامل کرا دیا ہے اور پاکستانی سفارتی عملے پر گیارہ مئی سے کچھ سفری پابندیاں لگا دیں۔پاکستان نے بھی جواب میں امریکی سفارتی عملے پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اسلام آباد میں امریکی سفارتی عملہ ایئرپورٹس پر سامان کی تلاشی دیے بغیر نہیں جا سکے گالیکن پاکستان ٹیکسٹائل مصنوعات کے بڑے خریدار سے ہاتھ دھو بیٹھے گا جو زوال پزیر برآمدات کے لیے بڑا دھچکہ ہو سکتا ہے۔ اب جذباتی لوگ خوش ہو جائیں بپھرے سانڈکو عرصہ سے ہم اپنی طرف متوجہ کر رہے تھے لیکن وہ عراق،افغانستان،لیبیا اور شام کو آگ و خون میں نہلاتا رہا۔ لیکن ٹرمپ کو آخر کار ہمارا خیال آ ہی گیا ہے۔ اب جذباتی تیار ہو جائیں ہم سے کسی وقت کچھ غیر متوقع ہو سکتا ہے۔ جہاں شکیل آفریدی جیسے غدارموجود ہوں اور منظورپشتین جیسے ملت مخالف لوگ تنظیمیں بنا کر فوج اور ملکی اِداروں پر تنقید کے نشتر چلا نے میں مگن ہوں وہاں مقابلے کے بارے خوش فہمی ہو سکتی ہے ؟
خیر ہم اِتنے ترنوالا تو نہیں کہ کوئی آئے اور ہمیں دبوچ لے۔ وطن دشمن عناصر کی بیخ کنی میں پاک آرمی نے کمال مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔ سوات اور فاٹا سے دہشت گردوں کا خاتمہ کرتے ہوئے بھی سُرعت دکھائی ہے لیکن ذہن میں رکھنے والی بات یہ ہے کہ کچھ عرصہ سے عوام اور فوج میں دوریاں پیدا کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں جن سے محتاط رہنے اور تدارک کرنے پر دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ منظو رپشتین اور اُن کے ہمنواؤں کو غیر ضروری ڈھیل نقصان کا باعث بن سکتی ہے اِس لیے نرمی کی بجائے سختی کی پالیسی اپنائی جائے۔ تخریب کاروں سے چوکنا رہنا ہو گا۔ آئی ایس آئی اور دیگر ایجنسیوں کو پہلے سے زیادہ محنت کرنا ہوگی۔ اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل سے چار مئی کو کالعدم جماعت الا حرار کے سربراہ عمر خالد خراسانی پر پابندی لگانے کی پاکستانی قرارداد مسترد کی جا چکی ہے حالانکہ یہ جماعت عالمی سطح پر تسلیم شدہ دہشت گرد ہے جو پاکستان میں دہشت گردی کی کئی وارداتوں میں ملوث ہے۔ جن میں عام شہری اور پولیس کے اہم عہدیدار ہلاک ہوئے مگر سکیورٹی کونسل نے عمرخالد خراسانی عرف عبدالولی پر پابندی لگانا مناسب تصور نہیں کیا۔ واقفان حلقے فیصلے کے پسِ پردہ امریکی ہاتھ قرار دیتے ہیں کیونکہ الاحرار امریکہ وغیرہ کی بجائے صرف پاکستان کے خلاف تخریبی کارروائیاں کرتی ہے۔ اِ س لیے خراسانی جیسا دہشت گرد پابندی سے بچ گیا ہے۔ یہ عالمی برادری کے دہرے معیار کا عکاس فیصلہ ہے۔ مزید سمجھنے والی بات یہ ہے کہ پاکستان کو سبق سکھانے کے لیے امریکہ الاحرار کی پشت بانی کر سکتا ہے۔ ظاہر ہے را کے علاوہ افغان ایجنسیاں بھی سہولت کار ہوں گی جن کا توڑ ہماری صلاحیتوں کا امتحان ہے۔ اگر یہ توقع رکھی کہ دوست ممالک ہماری مشکلات کو اپنی سمجھ کر لڑائی لڑیں گے تو یہ ہماری بھول ہوگی۔ سقوطِ ڈھاکہ میں تجربہ ہو چکا مزید کی گنجائش نہیں۔ جذبات کے مظاہرے کے ساتھ عمل کاوقت آگیا ہے۔ گفتار سے پانسہ پلٹنے پر یقین رکھنے والے تیارہو جائیں۔
ناتا توڑتے اور فریفتہ ہوتے ہوئے ہم جنونی بن جاتے ہیں، یہ حکمت و تدبر کے منافی طریقہ ہے۔ پاک چین اکنامک کویڈور پر بات کرتے ہوئے گیم چینجر کی باتیں ہوتی ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بھارت اور امریکہ خم ٹھونک کر مخالفت پر اُتر آئے ہیں حالانکہ اسی طرح کے منصوبے چین نے دیگر ممالک میں بھی شروع کر رکھے ہیں۔ جنوبی ایشیا پر نگاہ ڈالیں سری لنکا،نیپال اور بھوٹان میں چین بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ مالدیپ جیسے چھوٹے اور غیر اہم ملک میں ایئرپورٹ و بندرگاہیں بنا رہا ہے لیکن کسی ملک نے ہماری طرح تشہیر نہیں کی اسی لیے کسی ملک کی طرف سے رکاوٹ پیدا نہیں کی گئی۔
میانمار میں بدترین مسلم کشی کے باوجودچین نے پابندیاں لگانے کے ہر منصوبے کو ناکام بنایا ہے حالانکہ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ چین دیگر عالمی طاقتوں کی طرح مسلم امہ سے نفرت نہیں کرتا۔ لیکن میانمار میں ہزاروں اموات اور لاکھوں مسلمانوں کو جبری نکالنے کی بیجنگ مذمت کرنے پر تیار نہیں پس ثابت یہ ہوا ملکوں کے باہمی تعلقات مفادات کے تابع ہوتے ہیں بے لوث اخلاص کا عمل دخل نہیں ہوتا۔ اب ذرا یہ پیشِ نظر رکھیں پاکستان نے ایئرپورٹ،بندرگاہیں،اہم عمارات گروی رکھ کر اربوں کے قرضے لے رکھے ہیں جن کی اقساط اور سود کی ادائیگی کے لیے مزید قرضے لیے جارہے ہیں چین ہماری کیا اعانت کرے گا؟وہ چین جو پاک چائینہ اکنامک کوریڈور کے لیے چھپن ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا دعویدار ہے لیکن پیسہ دینے کی بجائے بینک گارنٹی کی صورت میں منصوبے مکمل کر رہا ہے۔ ملازمتوں میں پاکستانیوں کا حصہ چوکیدار یا پھر نچلے درجے کے غیر اہم شعبوں تک محدود ہے لیکن ہم نے چین سے آئے کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوجیوں اور دیگر اداروں پر مشتمل باقاعدہ فورس قائم کر رکھی ہے۔ چین اپنی ضرورت اور دوستی کے باوجود قرضوں پر دو فیصدسکیورٹی رسک کے طور پر وصول کررہا ہے۔ پاک چائینہ اکنامک کوریڈور کا تشویشناک پہلو یہ ہے کہ تجارتی حجم بارہ ارب ڈالر میں پاکستان کی برآمدات دو ارب ڈالر اور درآمدات دس ارب ڈالر کے ہندسے کو چھونے لگی ہیں پھر بھی ہم شہد سے میٹھی اور سمندر سے گہری دوستی کے راگ الاپ رہے ہیں۔ کیسا یک طرفہ عشق ہے؟۔
خنجراب تک چینی افواج گشت کرنے لگی ہیں۔ راہداری منصوبے پر بھارتی اعتراض کی بنا پر ہی کشمیر میں چینی منصوبوں پر کام کی رفتار سُست ہوئی ہے۔ اگر کسی وقت گُفتار سے قلعے فتح کرنے والوں کو فرصت ملے تو گردوپیش پر طائرانہ نگاہ ڈال لیں کیونکہ دانش مندی یہ ہے لاحق خطرات کو نقصان کے بغیر ٹال دیا جائے۔ آگ میں چھلانگ لگاکر محفوظ رہنے کا کوئی طریقہ۔۔۔؟


ای پیپر