ماں کوعزت دو
13 مئی 2018

لاہورکے ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے لڑکے کی شادی ایک دولت مند گھرانے میں ہوگئی ،لڑکے کی ماں جہیززیادہ ملنے پرخوش تھی،باراتی رنگ برنگے کھانے ملنے پرخوش تھے جب کہ لڑکا خوب صورت اوردولت مند دُ لہن کے ملنے پرخوش تھا،شادی کے تیسرے ہی مہینے ایک چھوٹی سی بات پر دُلہن اورساس میں تکرار ہوگئی،ناک چڑھی دُ لہن نے اپنے شوہرسے کہا کچھ بھی ہوجائے میں اس گھرمیں ایک منٹ بھی نہیں رہوں گی ،عزیزرشتے داروں کی ہمدردیاں امیر زادی دُلہن کے ساتھ تھیں جودُلہن کی طرف داری کرتے ہوئے پیچھے کھڑے کھڑے ہلکاہلکابیک گراؤنڈ میوزک دے رہے تھے،آہو ،نی آہو۔ بھابھی ٹھیک کہتی ہے، آخرکارفیصلہ یہ طے پایا کہ دُ لہن کوالگ سے گھر دے دیا جائے ،اس فیصلے کو دُ لہن ا ور شوہرنے پلک جھپکتے ہی قبول کرلیا لیکن لڑکے کی ماں اس فیصلے سے ناخوش تھی،لڑکے کی ماں کو نہ چاہتے ہوئے بھی بیٹے کی خوشی کی خاطراس صدمے کوبرداشت کرنا پڑا،دوسال بعدبیٹے کے گردے میں درد اُٹھا ،ڈاکٹرنے گردوں کی ٹیسٹ رپورٹ دیکھ کرافسوس ناک خبر سنا دی کہ دایاں گردہ بالکل ناکارہ ہوچکا ہے لہٰذا اس گردے کو نکالے بغیر گزارہ ممکن نہیں ،گردہ نکال کر نیا گردہ لگانا اشد ضروری ہے ۔رشتے داروں،بھائیوں اوربہنوں تک نے گردہ دینے سے انکار کردیا،گردے کے لئے بہونے پانچ لاکھ روپے تک کی آفر کی لیکن کسی نے بھی اس آفر کوقبول نہیں کیا،لڑکے کی حالت دن بدن خراب ہونے لگی جس سے زندگی اورموت کا مسئلہ پیدا ہوگیاآخرکارپچپن سالہ بوڑھی ماں نے اپنا گردہ بیٹے کو دینے کا اعلان کردیا،کچھ دنوں کے بعد ماں کا گردہ نکال کر بیٹے کولگا دیا گیا،بیٹا صحت یاب ہوکرماں کے گھرآنے کے بجائے اپنی بیوی کے ہمراہ دوسرے گھرمیں شفٹ ہو گیا، بیٹے کی اس بے حسی سے ماں کا دل غم سے مزید ٹوٹ گیا اب ماں کی طبیعت خراب رہنے لگی کوئی چھ ماہ کے بعدماں کو ہارٹ اٹیک ہوا جوجان لیوا ثابت ہوا، ماں کو دفنا دیا گیا کوئی دوسال کے عرصے کے بعدبیٹے کو پھر گردے میں درداُٹھا،ڈاکٹرنے گردے کی ٹیسٹ رپورٹ دیکھ کر کہا دائیں گردے میں انفیکشن ہوگئی ہے لہٰذا اس انفیکشن زدہ گردے کو نکال کرنیا گردہ لگوانا ہوگا ،نئے گردے کے لئے کافی کوشش کی گئی لیکن کسی نے بھی گردہ نہ دیا ،لڑکا پھر زندگی اورموت کی سٹیج پر آگیا آخر ایک رات دردکی شدت اس قدربڑھی کہ جو اس کے لئے برداشت سے باہر تھی ،زبان پر ماں ماں ماں کے الفاظ تھے آخر کار آخری لفظوں میں یہ کہہ کر’’میرا جنازہ ماں کی چار پائی پر ماں کے گھر سے اُٹھایا جائے‘‘اور’’مجھے پیاری ماں کے پہلومیں دفن کیاجائے‘‘ کی وصیت کر کے اللہ کو پیارا ہوگیا۔عزیزقارئین!اس دنیا میں ماں کا کوئی نعم البدل نہیں ہوسکتا میرے ذاتی مشاہدے کے مطابق 90فیصدمریض لوگوں کو بحالت تکلیف کی شدت اور مرتے وقت آخری الفاظ’’ہائے ماں جی ‘‘کے سنتے دیکھا ہے،آج کے موجوہ دورمیں 80فیصد سے زائد بیٹے ماں کے خادم اعلیٰ ہونے کے بجائے بیویوں کے خادم اعلیٰ بنے ہوئے ہیں۔ جب تک بیٹا کنوارہ ہوتا ہے توبیٹے کی 99 فیصد ہمدردیاں ماں کے ساتھ ہوتی ہیں اورشادی کے فوری بعدیہی99 فیصد ہمدردیاں بیوی کے ساتھ منسلک ہوجاتی ہیں۔ حدیث پاک کامفہوم ہے کہ عورت پرسب سے زیادہ حق شوہرکااورمردپرسب سے زیادہ حق ماں کا ہے، دوسری حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔ میرا ایک دوست ہے وہ اپنی بیوی کا علاج تولاہور کے ایک مہنگے ہسپتا ل میں کرواتا ہے لیکن اپنی ماں کا علاج ایک نیم حکیم سے کرواتا ہے۔ میں نے ایک باراس سے اس بات کا شکوہ کیا تھا اورمجھے یہ شکوہ تھوڑا سامہنگا پڑ گیا۔آج دوسال سے زائد کا عرصہ ہوگیا ہے مجھ سے خفا ہے بس کسی شادی اورغمی میں علیک سلیک ہوجاتی ہے۔ ہمارے آج کے معاشرے میں ایک گھر سے دوسرے گھرتک ایک عجیب رواج چل نکلاہے۔ جب ہم اپنی بیٹی یا بہن کا رشتہ دیکھنے جاتے ہیں تو واپسی پر گھر والے پہلا سوال یہی پوچھتے ہیں کیا لڑکے کی ماں زندہ ہے؟میرے پیارے احساس پسند فیس بک فرینڈزتلخ حقیقت کی مختصر سی تفسیر یہی ہے کہ ’’ ماں ‘ ‘ کوعزت دووہی عزت جوہم شادی سے پہلے اپنی احساس پسند ’ ماں جی‘کودیاکرتے تھے ، یقین فرمائیں ہماری آج کی ممی ڈیڈی موبائل جنریشن دس منٹ کے لیے ماں کا سردبانے سے تھک جاتی ہے لیکن۔۔۔دوگھنٹے موبائل فون کے بٹن دبانے اورچارگھنٹے تک فیس بک دیکھتے ہوئے نہ تو ان کے ہاتھ تھکتے ہیں اورنہ ہی آنکھیں تھکتی ہیں۔ ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے موبائل فونز اورفیس بک ہی ہمارے ماں باپ ہیں ،یقین فرمائیں مائیں آج بھی اپنے بچوں کی بے حسی اوربے رُخی پر چوری چوری چپکے چپکے آٹھ آٹھ آنسو بہاتی ہیں۔ہمارے لئے تو سال کے 365دن ہی ’’مدرڈیز‘‘ کا درجہ رکھتے ہیں جب کہ اولڈہومز والوں کو’’مدرڈے ‘‘مبارک ہو، عزیزقارئین یہ بھی آج کی تلخ حقائق میں سے ایک تلخ ترین حقیقت ہے کہ جب ہم چھوٹے ہوتے تھے تو آپس میں لڑتے تھے کہ ماں میری ہے۔۔۔ ماں میری ہے۔۔۔اورآج بڑے ہوکر لڑتے ہیں، ماں تیری ہے۔۔۔ ماں تیری ہے۔یہ بھی تلخ حقیقت کی مختصر سی تفسیرہے کہ آج ہم بیمار ماں کی دوائی کے لئے جوپیسے دے کراحسان جتاتے ہیں یقین فرمائیں بچپن میں مائیں اتنے پیسوں کا توہماراصدقہ دے دیاکرتی تھیں ماں کا لاڈپیارخالص ترین ہوتا ہے۔ آپ سوباربھی ماں کوچائے بنانے کا کہیں توماں خوشی سے چائے بنادیتی ہے لیکن جب پیاری ماں اللہ کوپیاری ہوجاتی ہے تب ماں کی محبت کااحساس ہوتا ہے ۔۔۔
ویکھ نی ماں میں بدل گیا واں
روٹی ٹھنڈی کھا لینا واں
گندے کپڑے پالینا واں
غصہ ساراپی جانا واں
ہردُکھ تے لب سی جاناں واں
ساریاں گلاں جر لینا واں
ٹھنڈا ہوکا بھر لینا واں
پر کسے نوں کجھ نئیں دسدا
ہر ویلے میں ریندا ہسدا
اندر جھاتی کوئی ناپاوے
دُکھ تیرامنوں کھائی جاوے
تیرے باجھ منوں کوئی نا پُچھدا
ہن تے میں کسے نال نئیں رُسدا
ویکھ نی ماں میں بدل گیا واں


ای پیپر