درد ِدل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
13 مئی 2018 2018-05-13

آج کے دور میں ذرا ذرا سی بات پر ہم آپے سے باہر ہوجاتے ہیں ، ہم سمجھتے ہیں ہم سے اچھا مسلمان اور کوئی نہیں ، دوسروں کے عقائد پر بھی تنقید سے نہیں چوکتے ، میں سوچتا ہوں کہ بابا بلھے شاہ ؒ جیسا صوفی شاعر اگر آج زندہ ہوتا تو اپنے کئی اشعار پر کب کا مارد یا گیا ہوتا ، بلھے شاہ ؒ کے اشعار میں معاشرتی رویوں کے ساتھ ساتھ ملاپر بھی سخت تنقید ملتی ہے ، ان کا سچ اس دور میں تو ہضم ہو گیا کہ اس وقت لوگوں میں سچی بات سننے کا حوصلہ بھی تھا اور برداشت بھی زیادہ تھی ؛کچھ اشعار مع ترجمہ پیش خدمت ہیں:
علموں بس کریں او یار
پڑھ پڑھ نفل نماز گزاریں
اُچیاں بانگاں چانگاں ماریں
منبر تے چڑھ وعظ پکاریں
کیتا تینوں حرص خوار
علموں بس کریں او یار
پڑھ پڑھ ملاں ہوئے قاضی
اللہ علماں باہجوں راضی
ہووے حرص دنوں دن تازی
نفع نیت وچ گزار
ترجمہ :دوستا! علم کا قصہ مختصر کر
( فرائض کے علاوہ طول عبادت کے لئے نفل بہت پڑھتے ہو،بلند آواز میں اذانیں دیتے ہو اور گلا پھاڑ پھاڑ کر آواز نکالتے ہو،منبر مسجد پر لمبے چوڑے وعظ کرتے ہو ،یہ سب دھندے دنیوی حرص اور لالچ میں تمہیں ذلیل و خوارکئے رکھتے ہیں
بس دوستا علم کا قصہ مختصر کر
علم پڑھ پڑھ کر پہلے ملاں کا مرتبہ حاصل کیا پھر قاضی اور مفتی کے درجے پر پہنچے،اور فتوے بیچنے لگے،اللہ تعالیٰ ایسے عوام دشمن علوم کے بغیر ہی راضی ہے ،کیونکہ ایسے علوم سے حرص و ہوس بڑھتی جاتی ہے اور نیت میں نفع اندوزی کی لت گھرکر جاتی ہے)
یا پھر بھٹھ نمازاں تے چکڑ روزے
کلمے تے پھر گئی سیاہی
بلھے شاہ شوہ اندروں ملیا
بھلی پھرے لکائی
یعنی( بھاڑ میں گئیں نمازیں ،اور روزے بھی کیچڑ میں لت پت جانو،کلمہ پڑھنا بھی کسی کام کا نہیں ،بلھے شاہ مرشد تو من کے اندر سے ملتا ہے۔یہ ساری خدائی (خلقت)بھول بھلیوں میں پڑی ہے) (ترجمہ اسیر عابد۔ پبلشرمحکمہ اطلاعات و ثقافت حکومت پنجاب)
عزیز قارئین ! آپ خود فیصلہ کریں کہ آج کے دور میں کسی مولوی یامولانا کی شان میں ایسے گستاخی کی جاسکتی ہے ؟ نہیں ہر گز نہیں،ایسی تنقید برداشت کرنا آج بہت مشکل ہے۔ اگلے روز ٹی وی پروگرام ”حسب حال “ میں ایک سروے کے مطابق بتایا جا رہا تھا کہ ۹۲ءکے بعدمساجد میں جمعہ کی نماز پڑھنے والوں میں بتدریج کمی واقع ہوئی ہے، اب لوگ عین نماز کے وقت مسجد پہنچتے ہیں ،وہ مولانا صاحب کی تقریر نہیں سننا چاہتے ۔وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں بیشتر امام مسجد اپنی تقریر وں میں سیاسی یا فرقہ وارانہ موضوعات پر گفتگو کرتے ہیں،یوں لوگوں میں نفرت اور فساد کے جذبوں کو ہوا ملتی ہے۔ہر فرقے کی الگ مساجد ہیں ،اپنے اپنے فرقے کے مقررین ہیں ،یہی نہیں غیر مسلموں کو تو بعض انتہا پسند مسلمان ، انسان ماننے کو بھی تیار نہیں۔ حالانکہ اسلام انسانیت سکھاتا ہے ۔کسی ایک انسان کے قتل کو ساری انسانیت کا قتل قرار دیا جاتا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت ہم سب کے ایمان کی اولین شرط ہے ۔ ہمیں اپنے پیغمبر کی اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہونا چاہئے۔انہوں نے غیر مسلموں کے حقوق کاخیال رکھنے کی بھی تلقین کی۔ دل آزاری تو کسی کی بھی نہیں ہونی چاہئے۔ غیر مسلموں میں بھی ایسے افراد ہوئے جنہوں نے انسانیت کے لئے کا ر ہائے نمایاں سر انجام دئےے۔ ہمارے ہاں گنگا رام ہسپتال،گلاب دیوی ہسپتال،دیال سنگھ کالج اور لائبریری کس نے تعمیر کئے، کیا ان کے بنانے والوں سے نفرت کرنی چاہیے،اگر ہم اپنے میڈیا کے ذریعے لوگوں میں نفرت کو فروغ دیں گے تو پھرعوام میں خاص طور پرانتہاپسند مسلمان ، نان مسلم کے تعمیر شدہ اِن رفاہی اداروں کو بھی ملیا میٹ کرنے پر تُل جائیں گے۔ بھارت میں تو علی گڑھ یونیورسٹی میں قائد اعظم کی تصویر برداشت نہیں ہورہی ۔وہاں کے انتہا پسند ہندو مسلمانوں کے آثار تک ختم کرنے کے درپے ہیں ۔ سوچیے اگر یہ کلچر یہاں بھی شروع ہوگیا تو کیا بنے گا؟ ہر ملک میں اقلیتوں کے حقوق کا خیال رکھا جانا چاہئے اوراگر کسی نے انسانیت کی فلاح کے لئے کوئی کارنامہ سر انجام دیا ہے ،کوئی ادارہ بنایا گیا ہے ،کسی کی کوئی نشانی، یادگار ہے ، مذہبی عمارات ہیں ان کا احترام ضروری ہے۔اس سلسلے میں ہمارے دانشوروں ، اینکروںاورلکھاریوں کو امن ، محبت اور بھائی چارے کے فروغ کے لئے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا چاہئے،لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ ہمارے اینکرحضرات اپنی اپنی سیاسی جماعت، فرقے کے ترجمان بن جاتے ہیں اور اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے اپنی آواز خود سننے کی زحمت گوارا نہیں کرتے ،اور اپنے سیاسی ،فرقے اور نظرئےے کے لئے دوسروں کی کوئی دلیل سننے پر آمادہ نہیں ہوتے ۔ شام کے اوقات میں آپ کوئی ٹی وی چینل لگالیں بیشتر ٹی وی چینل پر آپ کو ایسے اینکر اور دانشور بیٹھے نظر آئیں گے جو صر ف اپنی ڈفلی بجائے جاتے ہیں ۔کوئی طالبان کے حق میں بات کر رہا ہے تو کوئی ان کے خلاف دلائل دیتا نظر آتا ہے۔ ان دنوں تو مسلم لیگ نون کے حمایتی اینکر،کالم نگار،کھل کر عدلیہ اور فوج کے خلاف بات کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔بعض پی ٹی آئی کی شان میں قصیدے پڑھتے پائے جاتے ہیں ۔ انسان اور انسانیت، کے لئے بولنے والے کتنے ہیں ؟ محبت ، اخوت ، وطنیت اورامن کے علاوہ عام آدمی کے حقوق کے لئے آواز اٹھانے والے بہت کم ہیں ۔دلوں کو توڑنے والے زیادہ ہیں ،جوڑنے والے کم کم ہیں، حرص و ہوس، کدورت ، حسد ، غصہ کینہ بغض، انتقام ،یہ سب دلوں کی بیماریاں ہیں ،ان سے دل صاف کئے بغیر اللہ آپ سے راضی نہیں ہوتا،بھلے آپ رمضان المبارک کا سارا مہینہ مکہ مدینہ میں جا کر عبادات میں گزار دیں ۔ اگر ہمارے ہاتھ اور زبان سے لوگ محفوظ نہیں تو پھر ہم کہاں کے مسلمان ہیں ۔ہم خوراک سے لے کر دواﺅں تک میں ملاوٹ کرتے ہیں ،ہم پھر بھی مسلمان ہیں ۔ہم بڑی بڑی محافل میلاد کراتے ہیں کس لئے، اپنے اللہ اور اس کے رسول کے ذکر اور خوشنودی کے لئے ،مگر ہمارا رزق حلا ل نہیں تو اس کا کیا فائدہ؟ محض دنیاوی فائدے کے لئے ہم اپنی عاقبت خراب کر رہے ہیں ۔ہم میں دوسروں کو برداشت کرنے کی قوت کیوں کم ہورہی ہے؟ یہ غور طلب بات ہے۔ وہ بلھے شاہ ؒ ،شاہ حسین والے دور کی برداشت کہاں چلی گئی ہے ۔آﺅ آج سے انسانوں سے محبت کرنا شروع کریں ، دل آزاری کی بجائے کسی کی بھلائی کے لئے کسی کام کا آغاز کریں ۔ کیوں کہ بقول علامہ محمد اقبالؒ:
درد ِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کرو بیاں


ای پیپر