سورج کو ”گرہن “ بھی تو لگ جاتا ہے!
13 مئی 2018 2018-05-13

پاکستان کے آزادی حاصل کرنے کے بعد حالات میں بجائے بہتری آتی، ہم دن بدن لاقانونیت کی ”رو میں بہتے ہوئے“ انصاف کا خون کرتے نظر آتے ہیں، صبح سویرے چاہے منہ اندھیرے آپ ملکی اخبارات میں اُن کالم نگاروں کو پڑھتے ہیں کہ جن کو باقاعدہ حفاظت کے لیے حکومت کی طرف سے سکیورٹی گارڈ پولیس والے ملے ہوئے تھے، یہ تو اللہ بھلا کرے، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب کا، جنہوں نے کالم نگاروں اور قلم کاروں کا پول کھول کررکھ دیا، اور ان پولیس والوں کو واپس اپنے محکمے میں بھیج دینے کا حکم جاری کردیا۔ میں بات کررہا تھا، ان لکھاریوں اور پیسے کے پجاریوں کی، جو جس من پسند شخصیت کو ” آئیڈیل“ بنالیتے ہیں، قسم ہے خدا کی جو مرضی ہو جائے، وہ اس کے خلاف کبھی بھی ایک لفظ نہ منہ سے نکالتے ہیں، نہ قلم سے ایک لفظ اُس کے خلاف لکھتے ہیں، نہ تو اُسے اچھے کام کی بنا پر (صلہ تو خدادیتا ہے ) مگر یہ صاحبانِ عقل ودانش ، اُس کے حق میں لکھنا حرام سمجھتے ہیں۔ اور ان کی پسندیدہ شخصیت کے ہاتھوں ناپسندیدہ کام ہو جائے، تو پھر ایسی چپ سادھ لیتے ہیں کہ جیسے ان کے منہ میں معاذ اللہ، اللہ تعالیٰ نے زبان ہی نہیں رکھی ۔یہ تو اللہ بھلا کرے، نیب کے چیئرمین (ر) جسٹس جاوید اقبال صاحب کا جنہوں نے کروڑوں عوام کے جذبات کا احساس کرتے ہوئے، آتے ہی نہ آﺅ دیکھا نہ تاﺅ چونکہ اُس وقت بھی پورے ملک میں نیب کاسورج چمک رہا تھا، میں یہ تو نہیں کہتا، کہ اس وقت سورج نصف النہار پہ تھا، جس کا سادہ الفاظ میں، جو ہمارے پڑوسی ملک میں بھی بولا جاتا ہے ، بارہ بجے ہوئے تھے، اُس چمکتے ، دمکتے، اور لُو کے تھپیڑوں میں نیب نے، بادنسیم کا ایک ایسا جھونکا دیا کہ وہ جیالالوں اور متوالوں پہ ”بنی گالوی ٹھنڈ“ ڈال گیا، اور آصف زرداری نیب سے بری قرار دے دیئے گئے، ادھر اُدھر سے پتا چلا ہے کہ ”زرداری“ نام رکھ لینے کے باوجود اُن کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا، اپنی مدت حکومت کے آخری روز، انہوں نے چھٹی والے دن بینک کس لیے کھلوا لیے تھے، اِس سے زیادہ اور کیا ثبوت جسٹس (ر) جاوید اقبال صاحب کو چاہیے، بس ہماری تو صرف یہی دعا ہے ، کہ اللہ اُن کا اقبال بلند رکھے، اور سندھ اسمبلی کے ممبران کا بھی ، جن کی عقل ودانش کی گونج سکھوں تک بھی پہنچ جائے گی .... اور اس کی بازگشت ٹرمپ تک بھی پہنچنے کی اُمید ہے ، ہوسکتا ہے ، کہ بالآخر اسمبلی کے اس بل پاس کرنے کا، فائدہ امریکی سفارتخانے کے اُس کرنل کو پہنچے ، جس نے پاکستانیوں کو کچل ڈالا تھا، اور بجائے محتاط ہو جانے کے، امریکی سفارتکاروں نے دو اور پاکستانی نوجوانوں کو کچل ڈالا۔ میں امریکہ پہ الزام تو نہیں لگا سکتا، مگر سوچ پہ تو کوئی قدغن نہیں لگا سکتا کہ کہیں پاکستانیوں کو مارنے کی یہ امریکہ کی کوئی سوچی سمجھی سازش تو نہیں، سورج اور چاند کو کبھی کبھی ”گرہن“ بھی تو لگ جاتا ہے ، ہوسکتا ہے ، گرہن کے وقت جنوب مشرقی سندھ کا علاقہ تاریکی میں ڈوبا ہوا ہو،سندھ کے ممبران اسمبلی کی عقلوں پہ بھی پردہ پڑاہوا تھا، اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن چیختے چلاتے رہ گئے مگر سندھ اسمبلی میں بدھ کو ایک بل منظور ہوا ہے ، کہ سکیورٹی اداروںکے ڈرائیور اگر کسی کو بھی گولی مار دیں، تو ان پر نہ تو مقدمہ چلے گا اور نہ ہی ان کے خلاف پرچہ درج ہوگا، آج میں نے پورے اخبارات کھنگال مارے مگر مجال ہے ، کسی اخبار نے ایک فقرہ بھی اس کے بارے میں لکھا ہو۔چیف جسٹس سپریم کورٹ جناب ثاقب نثار نے کہا ہے کہ جج کے فیصلے کے خلاف تنقید کرنے کا حق ہرشہری کو ہے ۔ میرے جیسا قانون سے نابلد شخص، اس معزز ومعتبر شخص، جس کے کچھ بال قانونی میدان عمل میں سفید ہوچکے ہیں، سفید بالوں کے بارے میں تو اللہ سبحانہ‘ وتعالیٰ کا فرمان ہے ، کہ مجھے انسان کے سفید بال دیکھ کر شرم آتی ہے ۔ شاید اس لیے موصوف کچھ بال سفید رہنے دیتے ہیں، اور اسی عادت کی بنا پر انہوں نے سندھ کو بھی چھوڑ دیا۔ مجھ جیسا بے شرم یہ کیسے مشورہ دے سکتا ہے ، کہ گو” قانون اندھا“ ہوتا ہے ۔ مگر یہ بالکل کہنے کی ضرورت نہیں تھی، کہ نیب کی ڈوریاں ہلانے والا پیدا نہیں ہوا مگر زنجیر عدل ، تو بادشاہ ِوقت کی بھی ہلائی جاسکتی ہے ۔ایسا ہوا تو بریف کیس اُٹھا کر گھر چلا جاﺅں گا .... صدیوں پہلے عوام حضرت عمرؓ کا کرتا پکڑکر پوچھ سکتے تھے، کہ یہ کرتے کا کپڑا کہاں سے آیا، مگر ہم جمہوری دور میں بچے جمہورے، یہ تونہیں پوچھ سکتے کہ کس کا بریف کیس ؟ کیونکہ بریف کیس اُٹھانے کا الزام تو ایک اور جسٹس (ر) رفیق احمد تارڑ پر بھی لگ چکا ہے ، تحقیقات اور دعوت تفتیش وہاں سے شروع کریں، تو غیر جانبداری مستند ہو جائے گی نواز شریف جیسا سچا آدمی اور کون ہوگا ؟ وہ تو صحیح کہہ رہے ہیں، کہ ہردفعہ انتخابات میں خلائی مخلوق یعنی فوج حکمران وقت کی الیکشن کی بجائے Selectionکرتی ہے ، ”سچ تو یہ ہے “ کہ میاں صاحب کو اقتدارکے سنگھاسن میں فوج ہی لائی تھی۔ اور جنرل ضیاءالحق مرحوم نے کہا تھا کہ اے اللہ میری عمر ،نواز شریف کو لگادے ۔یہ بات تو کروڑوں عوام کو بھی یاد ہوگی، اور اعجاز الحق صاحب کو بھی یاد ہوگی۔ اخترعبدالرحمن، اور ہمایوں عبدالرحمن صاحب کو بھی ۔ مجھے یاد آیا، کہ پہلی دفعہ پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چودھری معمول کے خلاف قدرے دھیمے اور معصومانہ لہجے میں میاں نواز شریف کے نیب کے چیئرمین کے خلاف بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہہ رہے تھے، کہ میاں نواز شریف ہی نے تو اُنہیں چیئرمین نیب لگایا تھا، حالانکہ اس وقت ، چیئرمین نیب کے نام پہ مشاورت ہوئی تھی۔ اور سب بڑی جماعتوں سے چیئرمین کا نام مانگا گیا تھا، جسٹس (ر)جاوید اقبال کے نام پہ تحریک انصاف نے بھی رضامندی کا اظہار کیا تھا، تھوڑے دن پہلے چیئرمین نیب کا بیان آیا تھا، کہ ملک 84ارب ڈالر کا مقروض ہوگیا ہے ، مگر عوام پہ پیسہ لگایا ہوا کہیں نظر نہیں آتا، قرضے کا فکر آرمی چیف قمر جاوید باجوہ صاحب کو بھی ہے ، اور ہم کو بھی ، اسی دوران پاکستان کی تاریخ کے نکھٹو وزیر خزانہ نے بیان داغ دیا ہے کہ حکومت تجارتی خسارے پہ ناکامی کی وجہ سے آئی ایم ایف جانے پر مجبور ہو جائے گی مگر میں ملک کو بہتر حالت میں چھوڑ کر جارہا ہوں، مجھے یاد آیا کہ آج کل تو میاں نواز شریف اور وزیراعظم چیئرمین نیب کو پارلیمنٹ میں بلانے کے چکر میں ہیں، مگر وہ قمر جاوید باجوہ نہیں، کہ وہ اظہار یکجہتی کے لیے پارلیمان چلے جائیں، وہ تو یہ کہتے ہیں کہ میں یہ جرم بار بار کرتا رہوں گا، میں میاں نواز شریف کی طرح سیانا تو نہیں، مگر اس کا مطلب تو یہ ہے کہ چیئرمین ابھی (کچھ اور بھی کُروہیں) یعنی کچھ اور بھی کرنے لگے ہیں، کھربوں روپے کی بات ہے ، میں قسم کھاکر کہتا ہوں، کھربوں روپے نقد، چیئرمین نیب نے زندگی میں نہیں دیکھے ہوں گے میری طرح ، اور نہ ہی لاڈلے بچے نے، اور نہ ہی کروڑوں پاکستانیوں نے جبکہ میاں صاحب تو سونے کا چمچ لیے ہوئے پیدا ہوئے تھے، اس لیے ان کے لیے اربوں کھربوں میں کھیلنا، شاید معمولی بات ہے ، بقول نواز اختر
یہ عشق کوئی کھیل مری جان نہیں ہے
جس راہ پہ چل نکلے ہو آسان نہیں ہے !
میرے خیال کے مطابق ملکی تاریخ کا اتنا بڑا یہ الزام ، اور یکسر انکار، اس بات کا متقاضی ہے کہ جناب جسٹس ثاقب نثار اس بات کا فیصلہ کریں، اور ملک کو مزید فتنے اور فساد سے بچائیں۔ لفظ ”احتساب“ پاکستانیوں کو بے حد پسند ہے ، چیئرمین نیب ہماری بات کا برا بالکل نہ منائیں۔ کیونکہ احتساب کے نام پر آمروقت کمانڈو مشرف پورے بارہ سال کروڑوں پاکستانیوں کو یرغمال بناکر بیوقوف بناتا رہا۔ .... ہماری خوش قسمتی ہے کہ اس دفعہ تو صرف ہفتوں اور مہینوں کی بات ہے ، مگر قوم ہمیشہ سے ”انصاف “ کے ساتھ ہے ، ....مگر یا خدا.... باخدا، چیئرمین نیب کو کیوں کہنا پڑا ؟ ہم نے تو بزرگوں سے یہ سنا ہوا ہے کہ ”رہے نام اللہ کا اور
باخدا دیوانہ باشد
بامحمد ہوشیار !
یعنی اللہ تعالیٰ سے بے شک دیوانگی میں شکوہ شکایت کرلیں، مگر خبردار رسول اللہ کے لیے ہمیشہ عقل وخرد کو قائم رکھنا ۔


ای پیپر