مسلم لیگ (ن)نے حکمران جماعت تحریک انصاف کی بڑی وکٹ گرا دی
13 مارچ 2020 (18:27) 2020-03-13

اسلام آباد: مسلم لیگ ( ن )نے حکمران جماعت تحریک انصاف کی بڑی وکٹ گرا دی۔

تلہ گنگ سے سینئر سیاستدان اورسابق رکن قومی اسمبلی منصور حیات ٹمن نے تحریک انصاف چھوڑ کر باضابطہ مسلم لیگ ( ن )میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔ مسلم لیگ ( ن ) نے سینئر رہنمائوں شاہد خاقان، احسن اقبال اور راناثناء اللہ نے منصور حیات ٹمن کو پارٹی میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا ہے کہ برے وقت میں ساتھ چھوڑجانے والا مردہ ضمیرہونے کی نشانی ہے،سردارمنصورحیات ٹمن نے مشکل وقت میں ہمارے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا ،چیلنج کرتے ہیں ٹی وی کیمرے لگاکر عوام کو دکھائیں کہ نواز شریف حکومت نے کونسی کرپشن کی ،موجودہ حکمرانوں کا اناڑی پن ملک کو بہت مہنگا پڑرہا ہے،پولیو ملک سے ختم ہوگیا تھا لیکن انہوں نے دوبارہ اس کو جگا دیا ،پاکستان میں مخصوص ایجنڈے کے تحت پراپیگنڈہ کیا گیا،یہ پراپیگنڈہ کنٹینر سے شروع کیا اور الیکشن تک چلایا گیا،اداروں کی عزت کرتے ہیں ہماری صرف ایک ڈیمانڈ ہے کہ آئین کے مطابق ملک چلایا جائے، حکومت نے موجودہ پالیسیاں 6 ماہ مزید جاری رکھیں تو ملک کا خدا بخواستہ سنبھالنا بھی مشکل ہوجائے گا۔

جمعہ کو مسلم لیگ ( ن )کے سینئر رہنمائوںشاہد خاقان عباسی ،احسن اقبال ،مریم اورنگزیب ،رانا ثناء اللہ ،مرتضیٰ جاوید عباسی ،ملک ابرار ،طارق فضل چوہدری ، سینیٹر جنرل(ر)عبدالقیوم ، رکن قومی اسمبلی ملک سہیل کمیڑیال ،آفتاب شیخ ودیگر نے تلہ گنگ سے سینئر سیاستدان اورسابق رکن قومی اسمبلی منصور حیات ٹمن کی رہائش گاہ پر گئے ،اس موقع پر منصور حیات ٹمن نے تحریک انصاف چھوڑ کر باضابطہ مسلم لیگ ( ن )میں شمولیت کا اعلان کیا اور کہا کہ شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال کو بھائی سمجھتا ہوں، پہلے دوست تھے پھر بھائی بنے اور اب لیڈر بھی ہیں،شہباز شریف صاحب سے ملاقات ہوچکی تھی،آج سے مسلم لیگ ن کا ایک کارکن بن کر کام کروں گا، نواز شریف اور شہباز شریف کا سپاہی بن کر پارٹی کے لیے کام کروں گا، مسلم لیگ ن نے رہنماؤں نے جواں مردی سے جیل کاٹی۔

اس موقع پر مسلم لیگ ( ن )کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال نے کہا کہسردار منصور ٹمن کو اپنے گھر میں واپس آنے پر خوش آمدید کہتا ہوں، کرونا وائرس کے حوالے سے بھی موجودہ حکمرانوں نے سستی دکھائی ہے،یہ واحد حکومت ہے جو اقدامات نہیں کرتی اور ٹویٹس پر حکومت چلاتے ہیں،قوم دیگر تمام جماعتوں کو جان چکی ہے ،موجودہ حکمران پارٹی نے اعلان کیا تھا کہ ان کے پاس پاکستان کو بنانے کا پلان ہے،حکمران جماعت کوعدلیہ ، اسٹیبلشمنٹ سے ٹھنڈی ہوائیں آیی ہیں ،انہوں نے اپوزیشن کو بند کردیا،مگراس کے باوجود ان سے جہاز ٹیک آف بھی نہیں ہورہا،موجودہ حکمرانوں کا اناڑی پن ملک کو بہت مہنگا پڑرہا ہے،ہرسال ٹڈی آتی تھی اور اسے تلف کردیا جاتا تھا لیکن آج ٹڈی دل تلف کرنے کا فنڈ کھایا گیا۔پولیو ملک سے ختم ہوگیا تھا لیکن انہوں نے دوبارہ اس کو جگا دیا ہے،آج ہم اوئی آئی سی کا اجلاس بھی نہیں بلاسکتے،ہمیں اس ملک کی معیشت کو دوبارہ پیروں پر کھڑا کرنا ہے،دوبارہ اس ملک کو آئین کی بالادستی والا ملک بنانا ہے،اس کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ مسلم لیگ ن ہے۔

2013 سے 2018 تک پاکستان نے جتنی ترقی کی وہ 72 سال میں نہیں کی،سی پیک کا منصوبہ نہ روکا جاتا تو پاکستان میں ایک نئے صنعتی انقلاب نے قدم رکھنا تھا،جس ملک میں سیاست اور معیشت کمزور ہوجائے تو ایٹمی ہتھیاروں کا ذخیرہ بھی اس ملک کو نہیں بچا سکتا،یہی سوویت یونین کا حال ہوا،72 سال میں بھارت کو کشمیر کو ہڑپ کرنے کی جرات نہیں ہوئی،عمران نیازی کی حکومت میں پاکستان بے ہیبت ہوگیا ہے کہ مودی کشمیر کو ہڑپ کرگیا ،جس ملک میں سیاست اور معیشت کمزور ہوجائے تو ایٹمی ہتھیاروں کا ذخیرہ بھی اس ملک کو نہیں بچا سکتا۔انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کے حوالے سے بھی موجودہ حکمرانوں نے سستی دکھائی ہے۔اس موقع پر مسلم لیگ ( ن ) پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مشکل وقت میں ساتھ چھوڑجانے والا مردہ ضمیر ہونے کی نشانی ہے،سردارمنصورحیات ٹمن نے مشکل وقت میں ہمارے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا ،پاکستان میں مخصوص ایجنڈے کے تحت پراپیگنڈہ کیا گیا،یہ پراپیگنڈہ کنٹینر سے شروع کیا اور الیکشن تک چلایا گیا،جھوٹ بولا گیا اور بدزبانی کا کلچر پھیلایا گیا،کہا گیا ہماری حکومت آئے گی اور سو دنوں میں ملک ٹھیک کردے گی،ایک صاحب کہتے تھے.

عمران خان آئے گی اور سب کی فائلیں منگوائے گی اور پھر ملک کا قرضہ اتارے گی،پھر انہوں نے حکومت میں آکر کمیشن بنایا کہ پتہ کیا جائے قرضہ کہاں گیا لیکن اس کمیشن کی ابھی تک رپورٹ نہیں آئی،کہا گیا سو دنوں میں ملک وقوم کے تمام مسئلے حل ہوجائیں گے،جب سو دن مکمل ہوئے تو کہا گیا کہ ہمیں پتہ ہی نہیں تھا اتنے مسائل ہیں پھر کہا گیا ایک سال دیا جائے،یہ پونے دوسالوں میں کوئی منصوبہ نہیں شروع کرسکے اور جو چل رہے تھے اوروہ بھی مکمل نہیں ہوئے،لوگ بیروزگار ہورہے ہیں اور کاروبار تباہ ہورہے ہیں،معیشت کی سوجھ بوجھ رکھنے والے کہتے ہیں اس حکومت نے اگر یہی پالیسیاں چھ ماہ مزید جاری رکھیں تو ملک کا خدا بخواستہ سنبھلنا بھی مشکل ہوجائے گا،ووٹ کو عزت دو کا مطلب یہ نہیں کہ ووٹ ہمیں دو ،اسکا مطلب ہے ووٹ جس کو دیا جائے اس کے فیصلے کو تسلیم کیا جائے،اداروں کی عزت کرتے ہیں ہماری صرف ایک ڈیمانڈ ہے کہ آئین کے مطابق ملک چلایا جائے،سیاسی استحکام کسی صورت نہیں آسکتا جب تک انصاف نہ ہو۔انہوں نے کہا کہسیاسی مخالفین پر ایسے جھوٹے مقدمات بنائے جارہے ہیں جن کو وہ خود بھی ڈیفنڈ نہیں کرسکتے،ہرآواز دبانے کی کوشش کی جارہی ہے،سیاسی مخالفین کو نیب سے دبانے کے بعد اب میڈیا کو دبانے کی کوششیں عروج پر پہنچ چکی ہیں،ہر محب وطن پاکستانی مسلم لیگ ن کا ساتھ دیں ،سیاسی مخالفین کو نیب اور ایف آئی سے دبانے کے بعد اب صحافت کو دبانے کا عمل تیز کر دی گی ۔

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مکمل ناکام ہو چکی ہے ،ہمارے دور میں ترقی ہوئی دہشت گردی ختم ہوئی ،آج ملکی معیشت بد حالی کا شکار ہے،حکمران ثابت کریں اور قوم کو بتائیں کہاں کرپشن ہوئی ہے ،آج میڈیا بھی زیر عتاب ہے ،میڈیا ہاؤس کے مالک کو گرفتار کیا گیا ہے ،کرونا وائرس پر بھی حکومت کچھ نہیں کر پائی،آج ملک کو غیر معمولی چیلنجز کا سامنا ہے،ان حالات کا سامنا بھی غیرمعمولی لوگ ہی کرسکتے ہیں،ترقی پذیر ملک کے حالات آج کہاں پہنچا دئیے گئے ہیں،آج ثابت ہوگیا کہ سیاست کمزور ہوگی تو معیشت بھی کمزور ہوگی ،نواز شریف نے مشکل حالات میں اقتدار سنبھالا اور ملک کو ترقی دی،تمام ملک قرضے لے کرہی ترقی کرتے ہیں،اگر یہ حکومت رہتی ہے تو یہ جتناقرضہ پاکستان نے ستر سال میں لیا وہ اس دورمیں دوگنا ہوجائے گا،جب ریاست خود سیاسی لیڈروں پر خود ہیروئن ڈالنا شروع کردے تو سوچیں کس طرح کی سوچ بنائی جارہی ہے،آج نام نہاد جمہوریت میں ایک وزیراعظم حکم دیتا ہے ایک رکن اسمبلی اور پارٹی کے صوبائی صدر پر ہیروئن ڈالو تاکہ لوگ ڈریں،چیلنج کرتے ہیں ٹی وی کیمرے لگاکر عوام کو دکھائیں کہ نواز شریف حکومت نے کونسی کرپشن کی ۔


ای پیپر