یہ ’’کرپشن‘‘۔۔۔ یہ کارکردگی
13 مارچ 2019 2019-03-13

پچھلے دور میں ملک کے اندر جو ’بے پناہ‘ کرپشن ہوئی اور قومی خزانے کو ’جھولیاں بھربھر‘ کر لوٹا گیا، نام نہاد ترقیاتی منصوبے یا میگا پروجیکٹ شروع کر کے بھاری رقوم پر مشتمل کمیشن کھائی گئی اس کے اسرار و رموز سے آہستہ آہستہ پردہ اٹھنا شروع ہو گیا۔۔۔ تازہ ترین خبر کے مطابق شہبا زشریف کو ان کی مشہور زمانہ لیپ ٹاپ سکیم میں بھی کلپن چٹ مل گئی ہے اور اس ضمن میں کرپشن کے الزامات مسترد کر دیے گئے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ان نکات پر مشتمل اپنی رپورٹ پنجاب اسمبلی میں جمع کرا دی ہے۔۔۔ حکومتی خاتون رکن مومنہ وحید کے سوال کے جواب میں ایوان کو بتایا گیا کہ 2011ء سے 2017ء تک سابقہ حکومت نے 4 لاکھ سے زائد لیپ ٹاپ سب سے کم بولی دینے والی فرم سے خریدے جبکہ ان کی تقسیم پنجاب پروکبورمنٹ رولز کے مطابق میرٹ پر کی گئی۔۔۔ ہزاروں کی تعداد میں لیپ ٹاپ غائب ہونے نیز سیاستدان اور بیورو کریٹس پر بدعنوانی کے الزام بھی درست نہیں۔۔۔ اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ کا ایک بنچ آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کے حوالے سے جس کے تحت سابق وزیراعلیٰ پنجاب کو گرفتار کر کے جیل میں رکھا گیا تھا ان کی ضمانت کا حکم جاری کرتے ہوئے غیر مبہم الفاظ میں واضح کر چکا ہے کہ نیب اس کے سامنے کرپشن کو معمولی سا ثبوت پیش نہ کر سکی اور یہ کہ سرکاری رقوم کے ایک روپے کا بھی ناجائز تصرف نہیں ہوا۔۔۔ اگرچہ یہ مقدمہ ابھی تک چل رہا ہے۔۔۔ شہباز حکومت کے دو چوٹی کے بیورو کریٹ احد چیمہ اور فواد احمد فواد کئی مہینوں سے جیل میں پڑے گلے سڑے جا رہے ہیں اور نیب کی ہزار کوششوں کے باوجود جن میں ترغیبات کے علاوہ جسمانی تشدد اور دیگر قسم کی ایزا رسانی بھی شامل ہے۔۔۔ انہوں نے ایک لمحے کے لیے بھی وعدہ معاف گواہ بننا قبول نہیں کیا۔۔۔ پورا مقدمہ یوں کہیے خوار و زبوں حالت میں ہے اور نیب کے لیے پائے ماندن نہ جائے رفتن کی صورت بنا ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے اگر شہباز شریف اپنے بھائی نواز سے علیحدگی حاصل کر لیتا یعنی سیاسی بغاوت کی راہ پر چل نکلتا، دونوں بھائیوں کی قیادت میں چلنے والی مسلم لیگ نواز کے اتحاد میں دراڑیں پڑ جاتیں تو شاید آج چھوٹا بھائی برادر بزرگ کی جگہ پاکستان کا وزیراعظم ہوتا۔۔۔ مگر ایسا نہیں ہوااور شاید نواز شریف نے بھی اپنی جماعت مسلم لیگ (ن) اور حکومت کو، وہ جو خود کو اس ملک کے حقیقی حکمران سمجھتے ہیں اور عرف عام میں اسٹیبلشمنٹ کہلوائے جاتے ہیں ان کا تابع مہمل بنا دیا ہوتا تو شاید اس وقت بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے چوتھے وزیراعظم ہوتے۔

کرپشن کے الزامات ان بھائیوں کے خلاف گھوڑے کے آگے گاڑی نہ باندھنے یعنی آئینی لحاظ سے ماتحت لیکن طاقتور نظر آنے والے ادارے کی حکمرانی تسلیم نہ کرنے کی بنا پر لگائے گئے۔۔۔ اب انہیں ہٹا دینے کے بعد الزامات کو ثابت کرنا اچھا خاصا مشکل کام ثابت ہو رہا ہے۔۔۔ عمران خان اپنی انتخابی مہم کے دوران ببانگ دہل کہا کرتے تھے کہ نواز شریف منی لانڈرنگ کے ذریعے قومی خزانے کا 300 ارب روپیہ ملک سے باہر لے گئے اور میں اسے واپس لا کر دم لوں گا۔۔۔ اب اقتدار سنبھالے 7 ماہ سے زائد کاعرصہ گزر چکا ہے، لوٹے ہوئے 300 ارب روپے کا ذکر ان کی زبان پر کم کم آتا ہے ۔۔۔ اس لیے کہ بیرون ملک خاص طور برطانیہ میں تمام تر روابط قائم کرنے کے باوجود ایک پیسے کا سراغ تک نہیں مل سکا، اسے کب قومی خزانے سے نکالا گیا، کیسے بھیجا گیا اور اگر جیسا کہ دعویٰ کیا جاتا ہے اور مقدمات بھی قائم کیے گئے ہیں یہاں تک کہ نواز شریف کو انہی الزام کے تحت جیل میں ڈال دیا گیا ہے کہ العزیزیہ ملز اور لندن کے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس جیسے کاروبار ارو جائیدادیں خریدی گئیں۔۔۔ ان کے حوالے سے لمحہ موجود کی صورت حال یہ ہے کہ عمران حکومت کے آج کے سعودی حکمرانوں کے ساتھ بہترین تعلقات استوار ہو جانے کے باوجود ان کی جانب سے جلاوطنی کے دوران اس ملک میں قائم ہونے والی العزیزیہ سٹیل ملز کے بارے میں ایک ڈالر یا ریال کے غیر قانونی تبادلے یا مصرف کے بارے میں کوئی اشارہ نہیں کیا گیا جبکہ برطانوی دارالحکومت لندن میں وہاں کے قوانین اور سخت چھان بین کے نظام کے تحت ایون فیلڈ جائیداد کا منی لانڈرنگ کی غیر قانونی رقم سے حصول سرے سے ممکن نہیں تھا۔۔۔ اگر اس کے بارے میں برطانوی حکومت کو رتی بھر شبہ ہو جاتا کہ اس کی خریداری میں ناجائز یا غیر قانونی رقم استعمال کی گئی ہے تو وہ اسی وقت حرکت میں آجاتی۔۔۔ شاید یہی وجہ تھی کہ پاکستان میں احتساب عدالت نمبر 1 کے جج محمد بشیر نے ایون فیلڈ ریفرنس کے مقدمے کا فیصلہ دیتے ہوئے واضح الفاظ میں لکھا کہ کرپشن کا تو کوئی ثبوت

نہیں ملا البتہ اثاثے ملزم کی آمدنی سے زیادہ مالیت کے ہیں۔۔۔ اثاثوں کی مالیت کیا ہے اور آمدنی کا ان کے ساتھ کیا تناسب ہے یہ بتانے میں نیب کا وکیل استغاثہ ناکام رہا اور عدالت بھی ان کا تعین نہ کر سکی۔۔۔ وکیل استغاثہ نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ عام اثاثوں کی مالیت کا تعین گوگل سے کیا جا سکتا ہے۔۔۔ فیصلے کے اجراء کے بعد نواز شریف اس کی بیٹی اور داماد کو حوالۂ زندان کر دیاگیا مگر ملک کے کئی ایک قابل ذکر ماہرین قانون اس پر تنقید اور تشنیع کے تیروں کی بارش کر دی۔۔۔ فیصلے کے اسی کھوکھلے پن کی بنا پر اسلام آباد ہائی کورٹ کو نواز شریف کو ضمانت پر رہا کرنے میں دیر نہ لگی۔۔۔ موصوف العزیزیہ ریفرنس کے تحت احتساب عدالت نمبر 2 کے فیصلہ کی پاداش میں کوٹ لکھپت جیل کے اندر دل اور دوسرے عوارض کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں اور سر توڑ قانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔۔۔ رہا ہو بھی گئے تو یہ بات طے سمجھئے کہ ہماری اصل حکمران طاقت جو اپنے آپ کو اس ملک کے سیاہ و سفید کا مالک سمجھتی ہے ان کے باغیانہ رویوں کی وجہ سے آئندہ انہیں اقتدار کے سائے کے قریب نہیں پھٹکنے دے گی۔

بنیادی سوال مگر یہ ہے کہ نوا ز اور شہباز دشمنی میں ان ترقیاتی منصوبوں یا میگا پروجیکٹس کا کیا حشر کیا جا رہا ہے، جو ان کے دور میں شروع ہوئے تھے اور زبردست پروپیگنڈے کے باوجود ان کی بنیادوں، دیواروں یا چھتوں کے اندر کرپشن کی ایک اینٹ کا بھی پتا نہ لگایا جا سکا مگر یہ وہ میگا یا چھوٹے بڑے پروجیکٹس ہیں جو پاکستان کو پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن کر دینے کی علامت اور ضمانت بن کر سامنے آئے۔۔۔ میں یہاں پر ’سی پیک‘ جیسے وقت کے ایشیا کے سب سے بڑے ترقیاتی منصوبے اور پاکستان پر راہداری کا بڑا مرکز بن جانے اور بیرونی سرمایہ کاری کے دروازے کھول دینے کے روشن امکانات رکھنے والے منصوبے کا ذکر نہیں کروں گا جس کی امریکی خواہشات کے مطابق کتر بیونت کی جا رہی ہے ۔۔۔ اور اب اس کی آخری شکل کیا ہو گی اس کا کسی کو اندازہ نہیں۔۔۔ البتہ چین جیسے دوست کا ہم نے 50 سالہ دوستی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ دل کھٹا کر کے رکھ دیا ہے۔۔۔ اس کے ہم پر اعتماد کو ضعف پہنچا ہے۔۔۔ اس سے قطع نظر اندرون ملک شروع کیے جانے والے منصوبوں کی حالت زار پر نگاہ ڈالیے۔۔۔ لاہور ملتان موٹر وے کی تعمیر کا کام بحسن و خوبی مکمل ہو چکا ہے لیکن اس سڑک کا افتتاح کیا جا رہا ہے نہ اسے ٹریفک کے لیے کھولا جا رہا ہے۔۔۔ مبادا لوگ نوا زشریف کا نام لینا شروع کر دیں۔۔۔ حالانکہ لاہور تا کراچی تعمیر کیے جانے والے اس غیر معمولی زمینی مواصلاتی رابطے کے اتنے حصے کو گاڑیوں اور عام آدمی کی آمد و رفت کھول دینے کے بعد صرف لاہور تا ملتان نہیں پشاور تا اسلام آباد سے لے کر لاہور تا ملتان مسافت کا وقت اتنا کم ہو جائے گا کہ عام آدمی کے لیے سفر کی آسانیوں کے علاوہ ان شہروں کے درمیان کئی گناہ تجارت میں اضافہ اور سرعت آ سکتی ہے۔۔۔ مگر ہمارے اصل حکمرانوں جمع عمرانی فرنٹ نے اسی پر اکتفا نہیں کیا ۔۔۔ ملتان یا سکھر اور سکھر تا حیدر آباد موٹر وے کے منصوبے بھی نامکمل حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔۔۔ ان کی لاگت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔۔۔وہ قومی خزانے پر کتنا بڑا بوجھ بن سکتے ہیں اس کی کسی کو پرواہ نہیں۔۔۔ ذرا پیچھے مڑ کر دیکھیے 90ء کی دہائی کے آغاز پر جب اسی نواز شریف نے اپنے پہلے دور میں اسلام آباد لاہور موٹر وے کی تعمیر کا آغاز کیا تھا تو کرپشن یا کمیشن کھا جانے کے کیسے کیسے الزامات کی گندگی نہیں اچھالی گئی تھی۔۔۔ ثابت ان میں سے ایک نہ ہوا۔۔۔ اپریل 1993ء میں 58(2-B) کے صدارتی اختیارات کے تحت اس کی حکومت ختم کر دی گئی تو یہ منصوبہ بھی التواء کا شکار ہو گیا۔۔۔ 1997ء میں اس نے دوبارہ منتخب ہو کر اس کی تعمیر مکمل کی مگر لاگت میں کئی گنا اضافہ ہو گیا۔۔۔ اس سب کے باوجود اسلام آباد لاہور موٹروے نہ صرف پاکستان میں عوامی آمد و رفت کا بہترین زریعہ ہے بلکہ ہماری قابل فخر ائر فورس کے لیے بھی جس نے 7 ستمبر 1965ء کی طرح اب فروری 2019ء میں بھی بھارتی جارحیت کے چھکے چھڑا کر رکھ دیئے ہیں، ایک نوعیت کی سٹریٹجک گہرائی کا کام دیتا ہے کہ وہ اس پر اپنی ضروری مشقیں کرتی ہے۔۔۔ تو کیا اگر نواز شریف کے ساتھ بغض کو آڑے نہ آنے دے کر لاہور کراچی موٹروے کا منصوبہ بھی عین اپنے وقت پر مکمل کر لیا جائے تو یہ بھی ہمارے لیے ٹرانسپورٹ کی غیر معمولی سہولت فراہم کرنے کے علاوہ قابل ذکر دفاعی اثاثے کا کام نہیں دے گا۔۔۔ اسے بھی چھوڑیے لاہور کے اورنج لائن ٹرین منصوبے کو پہلے یادش بخیر سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے 8 مہینے تک اپنی عدالت میں روکھے رکھا حالانکہ اگر وہ یہ نہ کرتے اور جو شرائط انہوں نے بعد میں عائد کیں ابتداء میں ہی اعلان کر دیتے تو یہ ٹرین آج سے کئی ماہ پہلے رواں دواں ہو کر پورے ملک کے لیے ایک مثال بن گئی ہوتی۔۔۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ کے منظور نظر انہی جج صاحب نے لاہور میں جگر کی پیوند کاری کے عالمی معیار پر تعمیر ہونے والے ہسپتال کے ساتھ جو سلوک کیا اس داستان بچے بچے کی زبان پر آ چکی ہے۔۔۔ اورنج ٹرین سے پہلے شہباز شریف نے لاہور اسلام آباد اور ملتان میں میٹرو بسز بھی چلائی تھیں جن کے منصوبے عین وقت پر مکمل ہوئے۔۔۔ وقت پر ہی طے شدہ لاگت کے ساتھ ان کا اجراء ہوا۔۔۔ اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے عمران خان نے پہلے ان کا مذاق اڑایا پھر بھونڈی نقل کرتے ہوئے ان کی خیبر پختونخوا حکومت نے بی آر پی کے نام سے پشاور میٹرو بس چلانے کا اعلان کیا۔۔۔ پانچ مرتبہ مدت تکمیل تبدیل ہوئی۔۔۔ لاگت تقریباً دگنی ہو چکی ہے۔۔۔ اب بعد از خرابئ بسیار 23 مارچ کو اس کے افتتاح کا اعلان کر دیا گیا ہے لیکن 220کی بجائے صرف 20 بسوں کے ساتھ۔۔۔ اس کے باوجود ماہرین کو شبہ ہے کہ یہ بروقت چل سکے گی یا نہیں۔۔۔ یہ ہے نواز شہباز کے متبادل کے طو رپر بڑے چاؤ کے ساتھ لائی جانے والی اپنی من مرضی کی حکومت کی کارکردگی کی ایک جھلک مگر خان بہادر عمران خان کے ایک وصف کا تو کوئی مقابلہ نہیں۔۔۔ وہ ’احکام‘ کی بجا آوری میں کوئی کسر باقی نہیں رہنے دیتے اور کارکردگی ہی کی بات چل نکلی ہے تو نئے پاکستان کے وزیراعظم کا دو روز پہلے کا ٹویٹ ملاحظہ کر لیجیے۔ فرمایا ہے ڈیم فنڈ میں دس ارب روپے جمع ہو گئے ہیں۔ قوم کو مبارک ہو۔ 1400 ارب کی لاگت کے اس ڈیم کے لیے دس ارب کی ’’خطیر‘‘ رقم کا ایک عشاریہ پانچ ارب روپے بیرون ملک پاکستانیوں نے خان بہادر پر غیر معمولی اعتماد کا مظاہرہ کرتے ہوئے عطا فرمائے ہیں جبکہ ان سے توقع دو سو ارب ڈالر کی تھی۔ رہ گئے دس میں نو ارب ان میں سے دو ارب افواج پاکستان اور بقیہ سول سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے زبردستی کاٹے گئے ہیں۔ اس کے برعکس نواز شریف نے اپنے عہد میں اسی ڈیم کے لیے سرکاری خزانے سے ایک سو بیس ارب روپے کی زمین خریدی چندے کا ایک دھیلہ کسی سے نہ مانگا۔


ای پیپر