عورت آزادی مارچ: مغرب کی تقلید میں اپنے محور سے ہٹتی عورت
13 مارچ 2019 2019-03-13

8مارچ کو پوری دنیا میں خواتین کا عالمی دن منایا گیا، ملک بھر کے شہروں میں خواتین کی پریڈیں ہوئیں، ریلیاں ہوئیں، تقریریں ہوئیں اور ہر طرف پلے کارڈز ہی پلے کارڈز تھے۔ جس کی تیاریاں گزشتہ کئی دنوں سے پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں جاری تھیں۔ ہم نے دیکھا کہ جسے صنفِ نازک کہہ کہہ کر زمانے کی نازک سی شاخ پر بٹھا دیا گیا تھا وہ اپنی تمام تر توانائی کے ساتھ میدانِ عمل میں اتری اور اپنے ہونے کا سکہ منوایا۔ اس موقع پر ہونے والے سیمینارز، تقاریب اور پروگراموں میں جہاں خواتین کے حقوق، ان کو درپیش مسائل، معاشرے میں ان کے کردار اور ان کی ترقی کے حوالے سے گفت و شنید ہوئی وہاں عورت آزادی مارچ کے نام پر اسلام آباد، کراچی اور لاہور میں ریلیاں نکالی گئیں جن میں مغرب زدہ خواتین نے انتہائی نا مناسب سلوگنز والے پمفلٹ اٹھائے ہوئے تھے ۔ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ہونے والے عورت آزادی مارچ سے1960ء سے 1980ء کی دہائی کی یاد تازہ ہو گئی جب ہم جنس پرستوں اور لباس سے ماورا خواتین نے لمبے مارچ کر کے اپنے حقوق کے لئے دنیا پر دباؤ ڈال کر اپنے مطالبات منوا ئے تھے۔ ایسے ہی ہمارے ہاں عورت آزادی مارچ کے نام پر انتہائی ناموزوں پمفلٹ اٹھا کے عورتوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی این جی اوز نے مارچ کئے۔ بیرونی قوتوں اور ان کے مقامی آلہ کاروں کا اس آزادی سے عورت کو بازاری شے بنانے اور حقوقِ نسواں کے نام پر اپنی شیطانی ہوس کو پورا کرنے کی راہ ہموار کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ مگر صنفِ نازک کم فہمی کے باعث حقوقِ نسواں کے لئے آواز بلند کرنے والی این جی اوز کو اپنا محسن سمجھتی ہیں۔ حالانکہ یہ این جی اوز خواتین کے حقوق کے نام پر درپردہ مغربی ممالک کے مذموم عزائم کے لئے سرگرمیاں سر انجام دیتی ہیں۔ ان کا سب سے اہم مقصد خواتین خصوصاً مسلم معاشرے کی خواتین کو خاندانی روایات اور مذہبی پابندیوں سے آزاد

کرنا ہوتا ہے۔نسائی حقوق کی تحریک عورتوں کے مقام کو تسلیم کرانے کی کوشش میں کچھ نا مطلوب نتائج بھی حاصل کر چکی ہے۔ مغرب میں عورت کا مقام جو آج ہے وہ سب جانتے ہیں مگر کچھ لوگ اس بے مہار آزادی کو ستائش کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور جو اس مصنوعی چکا چوند کے اس پار دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ اس سب کے پیچھے اصل میں معاملہ کیا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ مغرب نے ہمیشہ عورتوں کا استحصال کیا۔ امریکہ کی سوشلسٹ پارٹی ڈیکلریشن کے بعد پہلا انٹرنیشنل وومنز ڈے پورے امریکہ میں 28 فروری کو منایا گیا اور 1913ء تک ہر فروری کے آخری اتوار کو یہ دن منایا جاتا رہا۔ چارٹرڈ آف یونائیٹڈ نیشن 1945ء میں سان فرانسسکو میں سائن ہوا۔ بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے مرد اور عورت کے مساویانہ حقوق کے لئے یہ پہلا معاہدہ تھا، تو یہ ثابت ہوا کہ 1909ء میں پہلی بار مغرب کی عورت نے آواز اٹھائی۔ جب کہ تاریخ اس بات کی بھی گواہ ہے کہ اسلام وہ آفاقی دین ہے جس نے عورت کو ایک اعلیٰ مقام دیا تمام معاملات میں مرد و عورت کو یکساں درجات عطا کئے۔ ایک نظر اس ضابطۂ حیات پر اگر ڈالی جائے جو 1400 سال پہلے عطا کیا گیا ہے تو یقیناً سمجھ آ جائے گا کہ اسلام نے عورت کو جو تحفظ، عزت اور مقام عطا کیا ہے وہ کہیں اور ہے ہی نہیں۔ جس چادر اور چار دیواری کو آج بوجھ سمجھا جا رہا ہے اس سے آزادی حاصل کرنے والی خواتین یہ نہیں جانتیں کہ آزادی کے نام پر کون کون سے طوق گلے میں ڈالے گھوم رہی ہیں۔ آزادی نسواں کے نام پر عورتوں کے حقوق کے بارے میں جو کاوش اہل مغرب نے کی ہے اس میں عورت خود مظلومیت اور استحصال کا شکار ہو کررہ گئی ہے۔ مغربی معاشرے میں آ ج مردوں اور عورتوں میں مساوات کا جو ڈھنڈورہ پیٹا جا رہا ہے وہ محض کھوکھلا نعرہ ہے نئی نسل پر اس کے بہت برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔حقوق نسواں کے نام پر جو سرگرمیاں یورپ اور امریکہ میں جاری ہیں وہ خواتین کے احترام میں اضافے کی بجائے ان کی مسلسل تحقیر کا باعث بن رہی ہیں۔

عورت کو صرف اسلام نے تحفظ، عزت، برابری کا درجہ دیا اور اسلامی معاشرت نے اسے ثابت کیا۔ مگر جوں جوں مغرب سے آشنائی بڑھنے لگی اور میڈیا کا دائرہ عمل بتدریج وسیع ہوتا گیا۔ تب سے مشرقی خواتین کا ایک مخصوص طبقہ اس بظاہر پرکشش زندگی سے متاثر ہونا شروع ہوا اور اسلامی تاریخ ہمیشہ اس بات کو برداشت کرتی آئی ہے کہ اسلام مخالف قوتوں نے کبھی بھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا کہ جس سے اس دین کے ماننے والوں کو تکلیف یا ذلت پہنچائی جا سکے۔ جس کا نتیجہ خواتین کے حوالے سے تو یہی ہوا کہ مغرب کی چمک دمک اور طرزِ زندگی نے خواتین کے اس گروہ کو جو دین سے دوری کی وجہ سے پہلے ہی اپنے مقام سے نا آشنا تھیں اور چند لوگوں کی نا مناسب پابندیوں کے باعث مغرب سے متاثر ہوتی چلی گئیں۔ یہ صدی اس حوالے سے بڑی اہم رہی اور عاقبت نااندیش اپنے محور سے ہٹتے چلے گئے۔ آج مغربی معاشرہ گھریلو زندگی کے حوالے سے جس حالت میں ہے اس سے بے شمار نفسیاتی ، ذہنی اور جسمانی مسائل نے جنم لیا ہیں۔ ایک صنفِ نازک یہ حق رکھتی ہے کہ اس پر عزت کی نگاہ ڈالی جائے، اسے مساوی حقوق دئیے جائیں، تعلیم کے حوالے سے تو ہماری خواتین ہی آگے ہیں اور پھر اگر وہ علم کے بل پر کوئی کارہائے نمایاں کرنا چاہیں تو اس پر قدغن نہ لگائی جائے۔ مغربی معاشروں کی تقلید میں ہمارے معاشرے میں جو انحطاط کی ایک لہر پیدا ہوئی ہے اس کو اجاگر کرنے میں بیرونی امداد حاصل کرنے والی نام نہاد این جی اوز پیش پیش ہیں۔ جہاں عورتوں نے نام نہاد ترقی، روشن خیالی اور مردوں کی برابری کے جنون میں مبتلا ہو کر آزادی کی شاہراہ پر سرپٹ دوڑنا شروع کر دیا ہے اور ان فرائض سے بھی غافل ہوگئی ہیں جو کہ معاشرتی حوالے سے ان پر لاگو ہوتے ہیں۔ جہاں تک تعلق ہے عالمی یومِ خواتین کا اسے ضرور منائیے کہ اظہارِ یکجہتی تو یقیناً ضروری ہے مگر خیال رہے کہ اپنے محور سے ہٹے تو قیامت ہی برپا ہو گی۔


ای پیپر