عارفہ صبح اور خواتین کے حقوق کی ’’الم‘‘ بردار کشورناہید خان؟؟
13 مارچ 2019 2019-03-13

اُس نے بھاگ کر جس لڑکے سے شادی کی (خُفیہ) اُس کو خارش کی بیماری تھی ۔۔۔ ؟؟ لڑکی کے والد نے افسردگی سے پنچایت میں کہا تو میرے چہرے پر اِک اذیت ناک ہنسی نمودار ہوئی ۔۔۔ ’’یہ بڈھا اب رنگ میں بھنگ ڈالے گا‘‘ ۔۔۔ میں نے سنجیدگی سے غور کیا اور پریشان ہوگیا ۔۔۔ الزام تراشیاں تو اب ہوں گی ۔۔۔؟!!

اُدھرخواتین کے حقوق کی تحریک ۔۔۔

اک بار پھر سے جوبن پر ہے ۔۔۔ یہ لفظ ’’جوبن‘‘ بھی اردو لغت میں اپنی وسعت کے باعث خاصہ گھمبیر ہے۔ ہمیں پروفیسر حمید کوثر نے عالم شباب میں اِس پر اِک تفصیلی لیکچردیا تھا ۔۔۔ لیڈر شپ نہ ہو تو بڑی بڑی تحریکیں فلاپ اور بڑے بڑے پہلوان استاد کے بغیراپنے سے کمزور بلکہ لاغر کے ہاتھوں میدان میں چت ہو جاتے ہیں۔۔۔!! منہ کے بل گر جاتے ہیں۔۔۔

پچھلے دنوں فیس بُک پر ہمارے دوست نجومی المعروف پامسٹ محمد معظم خاں نے اک پوسٹ لگائی ۔۔۔ ’’اس وقت پاکستان پر ’’خاں‘‘ چھائے ہوئے ہیں حکومت بھی ’’خان‘‘ کی پامسٹری میں محمد معظم خان ۔۔۔ مزاح میں عارفہ صبح خان ۔۔۔ ؟؟ مجھے ڈر تھا کہیں بات کو پھیر پھا ر کے پھر سے اُس طرف نہ لے جائیں کہ ہنسنے ہنسانے میں امان اللہ خان ۔۔۔ بیکار گفتگو کرنے میں فیاض الحسن چوہان خان وغیرہ وغیرہ اور ۔۔۔ وغیرہ ۔۔۔

ہمارے بچپن میں ہی ’’ خواتین کے حقوق ‘‘ کی تحریک اِک بار اپنے عروج پر پہنچ کر زوال پذیر ہوئی تھی۔ اُس وقت ہم سکول Going بھی اس تحریک کے پوری مستعدی کے ساتھ رواں دواں تھے کیونکہ اُس دور میں یہ تحریک ریڈیو تک محدود تھی ۔۔۔ ریڈیو پرمحترم کشور ناہید ’’خان‘‘ اپنی نہایت سریلی آواز میں جب لکھنوی انداز میں اِس تحریک کے حوالے سے گفتگو فرما تے تو ہم سب بے حد متاثر ہوتے‘‘ کاش اس وقت تصویر والا ریڈیو ہوتا اور یہ تحریک شروع میں ہی فلاپ ہو جاتی کیونکہ جب ہم نے کشور ناہید خان کو تیس سال بعد اک مشاعرے میں دیکھا تو ہم نے بندوق اٹھائی اور ویرانے میں نکل گئے ۔۔۔؟؟! ’’کیوں‘‘ یہ آپ کو پھر کبھی بتائیں گے؟!! کیونکہ اُس وقت ہم بھی اپنے نام کے ساتھ ’’ خان ‘‘ لکھا کرتے تھے؟! خود کو ’’خان‘‘ سمجھا کرتے تھے اور ’’خان‘‘ جیسی حرکتیں بھی ہم سے ہو جاتی تھیں۔ کاش یہ کالم ہمارے کراچی میں مقّید اوہ سوری کراچی میں مقیم دوست محمد مجاہد خان نہ پڑھیں ورنہ وہ اس کے جواب میں کوئی کہانی لکھ دیں گے اور ہم پھر سے صرف ’’شرمندہ‘‘ ہونے پر ہی اکتفاء کریں گے ۔۔۔؟!!

لاہور میں بیس تیس سال پہلے ’’کالے خاں مستانہ‘‘ لاہور کے شاہی قلعہ کی دیوار کے ساتھ ’’مجمع‘‘ لگایا کرتے تھے ۔۔۔ ’’مردانہ ‘‘ قسم کی کوئی دوا بیچا کرتے تھے ۔۔۔ جہاں چوہدری علی احمد اور ہم سب جب ’’ تماشہ‘‘ دیکھ کر منٹو پارک کی طرف چل پڑے اور کالے خاں مستانہ سے احتیاط کے ساتھ کہا ۔۔۔؟!!‘‘ سرکار دوا کا ایک پیکٹ ہمیں بھی عنایت فرما دیں ہمارا دوست ابراہیم خان مردم خیز ایسی ہی کسی بیماری میں مبتلا ہے جس کا آپ نے ذکر فرمایا ہے اور جس کے علاج کے لئے آپ یہ دوا بیچتے ہیں ۔۔۔ ویسے ہم خیر سے ٹھیک ہیں ہمیں ’’ابھی‘‘ ایسی کسی دوا کی ضرورت نہیں۔ ویسے آپ اپنے دوا خانے کا نمبر عنایت فرما دیں تو آپ کی بڑی مہربانی ہوگی ۔۔۔ شکریہ ۔۔۔؟!!! (احتیاطاً ایسے کام کے نمبر میں نے سوچے ہیں)

ایسے ’’ تماشے‘‘ اور ’’ مجمع‘‘ لاہور کے اندرون شہر میں اکثر لگا کرتے تھے جہاں کالے خان مستانہ ٹائپ فنکار ایک بڑا سا سریا گردن میں لگا کے دیوار کے ساتھ لگاتا اور اس کو گردن کے زور پر ٹیڑھا کر ڈالتا اور ہم جیسے ’’سمجھدار‘‘ حیران ہو جاتے کہ یہ سریا گردن کو زخمی کیوں نہیں کرتا حالانکہ ۔۔۔ ’’کالے خان مستانہ‘‘ کایہ تماشہ دکھانے کا مقصد سریا ٹیڑھا کرنا یا اپنی ذو معنی گفتگو یا پھر سے گندے لطیفوں سے ۔۔۔ ’’مردانہ‘‘ قسم کی تیزدھار گفتگوسے ہر گز ہر گز اپنی دھاک بٹھانا نہیں ہوتا تھا بلکہ ’’دوا‘‘ بیچنااس کا مقصد ہوا کرتا تھا ۔۔۔ جو ہاتھوں ہاتھوں بک جاتی اور ’’بھائی چارے‘‘ کا دور تھا لوگ وہ ’’دوا‘‘ اپنے لئے نہیں خریدتے تھے ۔۔۔ اپنے دوستوں کے لئے لیکر جاتے کہ انہیں ’’ابھی‘‘ اس دوا کی ضرورت نہ ہوتی تھی ۔۔۔؟؟ دوست کے لئے درکار ہوتی ہے ۔۔۔؟

ویسے بعد میں پتہ چلا کہ ’’ دوستوں ‘‘ کے لیے ’’دوا‘‘ لے جانے والوں میں سے اکثر کے گردے فیل ہو گئے ۔۔۔ یا تو ان کا معدہ پھٹ گیا یا پھراس کو ’’بیویوں سے جوتے‘‘ پڑے ۔۔۔ ؟؟!! وجہ ہمیں معلوم نہیں اگر معلوم بھی ہوتی تو ہم نہ بتاتے ۔۔۔؟!

آخری وجہ کے حوالے سے ہم سے مل کر گفتگوکر لیں ۔۔۔ تسلی بھی ہو جائے گی اور افاقہ بھی ۔۔۔؟!! کیونکہ اس سے زیادہ ہم اِس موضوع پر نہیں لکھ سکتے کہ ہمارا یہ کالم آجکل کے بیس پچیس سال کے نو عمر بھی پڑھتے ہیں ۔۔۔ ؟!! جن میں shyness ضرورت سے کہیں زیادہ ہے جن کی محبوبہ بھی کمپیوٹر ہے جن کا دوست بھی اور ’’ساتھی‘‘ بھی کمپیوٹر یا انٹر نیٹ ہے ۔۔۔ ’’سوری‘‘ یہ بھی اک توجہ طلب اور تفصیل طلب موضوع ہے اور آج کے کالم کا مقصد نہ تو ۔۔۔ لاہور میں لگنے والے تماشے یا بپا ہونے والے ’’مجمع جات‘‘ تھے نہ ہی محترمہ عارفہ صبح خان کی لاہور کے گورنر ہاؤس میں ہونے والی تقریب تھی کہ جہاں محترمہ عارفہ صبح خان کی تحریر کے حوالے سے جہاں نامور مقررین نے خطابات سے عوام الناس کو نواز ا ۔۔۔ اہم بات یہ کہ ہمارے ادب دوست گورنر پنجا ب جنا ب چوہدری محمد سرور نے بھی اپنے ’’انداز‘‘ میں محترمہ کے حوالے سے گفتگو کی ۔۔۔ آپ کہیں گے کہ آپ یعنی میں وعدہ کر کے بھی اس خوبصورت اور یادگار تقریب میں شریک کیوں نہ ہوا۔۔۔؟!

تو بتاتا چلوں اس وقت آپ محسوس ہی کر سکتے ہیں کہ میں بھی shyness شکار ہوں یہ بتاتے ہوئے کہ لاہور کے اردو بازار کے سامنے کربلا گامے شاہ کے پاس ایک مجمع باز نے ’’تماشہ‘‘ لگا رکھا تھا اور میں جوانی میں دیکھے ’’تماشوں‘‘ کی یاد تازہ کرنے کے سلسلے میں وہیں رُک گیا ۔۔۔ یہ بھی خاص چسکا ہے جو وہاں موجود ہونے سے ہی انجوائے کیا جا سکتا ہے ۔۔۔؟!

میں سمجھ رہا تھا کہ آپ دل میں کیا سوچ رہے ہیں ۔۔۔ ’’ہر گز نہیں ۔۔۔ میں نہ تو لڑکپن میں ایسے ’’ مجمع باز‘‘ حکیموں سے یا ان کی دوا سے مستفید ہوا نہ ہی میرا آج ایسی حکمت یا ایسے کشتہ جات یا ایسے ’’مجرب نسخوں‘‘ سے استفادہ کرنے کا کوئی ارادہ ۔۔۔ نہ ہی ضرورت یا خواہش ہے ۔۔۔؟؟!

ویسے میرے پاس کالے خاں مستانہ کے پوتے کا موبائل نمبر ہے میرے ایڈیٹر صاحب مجھے اجازت نہیں دیتے ۔۔۔ ورنہ میں ضرور ’’عوام کے وسیع تر مفاد میں‘‘ ضرور وہ نمبر کالم کے آخر میں لکھ دیتا ۔۔۔؟!!!

اطلاعاً عرض کرتا چلوں کہ کالے خاں مستانہ نے خود ہی اپنا ہی بنایا ہوا ’’کشتہ یاقوت‘‘ کھانے سے پھڑک کر مرا تھا لیکن کاروبار کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی اولاد نے عوام تک یہ بات نہ پہنچنے دی ۔۔۔ یہ ’’سچائی‘‘ چھپا ئی گئی ۔۔۔ کہ آج بھی ہمارے پچاس سال سے زیادہ عمر کے لوگ ایسے ہی ’’مجمع بازوں‘‘ کے چکر میں رہتے ہیں اور ’’اکثریت‘‘ گردے فیل ہوجانے کا ذمہ دار بھی ’’نام نہاد‘‘ حکیموں کو ہی سمجھتے ہیں ۔۔۔؟!!

رانا ابوبکر ۔۔۔ کا تازہ ارشاد ملاحظہ کریں ۔۔۔

’’میرا بس چلے تو میں تمغہء ۔۔۔ بندے کو دوں

جس نے اپنے ابو کو بھی فیس بک پر اپنے ساتھ ایڈ کیا ہوا ہے؟؟


ای پیپر