جیتے رہو بلاول بھٹو زرداری
13 مارچ 2019 2019-03-13

بلاول بھٹو زرداری ، سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی عیادت کرنے کے لئے کوٹ لکھپت جیل پہنچے تو یہ سیاسی پختگی، جمہوری روایات اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کی پاسداری کے سوا کیا ہے، یہ وہی رویہ ہے جس کی تعلیم ہمیں کائنات کے سب سے دانا اور عقل مند شخص کی طرف سے ملتی ہے، جی ہاں، وہی شخصیت جسے رب ذوالجلال کی طرف سے رحمت اللعالمین بنا کے بھیجا گیا تاکہ اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کی جا سکے، وہ ہادی برحق صلی اللہ علیہ وسلم اس عورت کی خبرگیری اورعیادت کے لئے تشریف لے گئے جو ان پر کوڑا پھینکا کرتی تھی، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ نواز شریف، پیپلزپارٹی پر کوڑا پھینکا کرتے تھے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ سب ہی ایک دوسرے پر کوڑا پھینکتے رہے ہیں مگریہ پورا سچ نہیں ہے، پورا سچ یہ ہے کہ سبق سیکھنے کے بعد پھول بھی پھینکے ہیں، ہاں ، کبھی پھینکے گئے کچھ پھول دھول، مٹی اور کیچڑ میں ضائع بھی ہوئے او رکچھ ایسے تھے جو مہکے، ان کی قلموں سے مزید پھولوں نے جنم لیا، یاد کیجئے جب محترمہ بے نظیر بھٹو شہید ہوئیں تو میاں نواز شریف نے اعلیٰ ترین سیاسی اور اخلاقی روئیے کا مظاہرہ کیا، آپ ہسپتال مری روڈ پر ڈسٹرکٹ ہسپتال خود پہنچے ، یہاں تک کہ انتخابات تک کے التوا کا مطالبہ کر دیا۔ سخت بیانی میں جناب عمران خان نے بطور چئیرمین پی ٹی آئی کون سی کسر چھوڑی مگر جب وہ سٹیج پر چڑھتے ہوئے لفٹر سے گرے تو میاں نواز شریف نے فوری طور پر شہباز شریف کو ان کی عیادت کے لئے بھیجا اگرچہ عمران خان نے عیادت کی اجازت نہیں دی مگر اس کے باوجود میاں نواز شریف نے اپنی انتخابی مہم معطل کر دی۔

سیاسی اور نظریاتی اختلاف ذاتی، خاندانی اور قبائلی دشمنی نہیں ہے بلکہ میں تو اسے مذہبی اختلاف تک لے جاتا ہوں کہ ہر کسی کو اپنا مذہبی اور سیاسی نظریہ رکھنے کا حق ہے مگر ، افسوس، پاکستان میں غیر سیاسی قوتوں نے سیاست کو انتہا پسندی عطا کی ہے اور مزید افسوس کہ ا س انتہا پسندی کو اپنی انتہا تک لے جانے میںہر دور کے سیاسی مہروں نے بھی کردارادا کیا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ بلاول بھٹو زرداری کی نواز شریف سے ملاقات کے بعد کسی گرینڈ اپوزیشن کے قیام میں کتنی پیش رفت ہو گی اور نہ ہی مجھے اس میں کوئی دلچسپی ہے کہ پاکستان کی سیاست میں سیاسی جماعتوں سے زیادہ اہم کئی دوسرے عناصر ہیں، میری دلچسپی ان روایات سے کہیں زیادہ ہے جو ہمارے سیاسی رہنما قائم کررہے ہیں۔ مجھے افسوس ہوا جب میں نے وفاقی وزیر اطلاعات جناب فواد چودھری کا اس ملاقات پر ردعمل دیکھا جس میں انہوں نے بھٹو کے نواسے کی ضیاءالحق کے منہ بولے بیٹے سے ملاقا ت کو صدی کا سب سے بڑا یوٹرن قرار دیا۔عیادت کویوٹرن وہ سیاسی شخصیت کہہ رہی ہے جو پرویز مشرف کی ترجما ن تھی، اس کے بعد اس نے پیپلزپارٹی کی ترجمانی کی اوراس کے بعد اب پاکستان تحریک انصاف کی ترجمانی کا فریضہ سرانجام دے رہی ہے۔ مجھے نواز شریف کی وضاحتیں دینے کی ضرورت نہیں مگر تاریخ کی گواہی ضروری ہے کہ نواز شریف نے ضیاءالحق کا منہ بولا بیٹا ہونے کا اعزازآج سے ربع صدی پہلے اس وقت واپس کر دیا تھا جب انیس صد ترانوے میں ڈکٹیشن نہ لینے کا اعلان کیا تھا اوراس کے نتیجے میں وہ حکومت سے الگ کر دئیے گئے تھے۔ مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ جناب فواد چودھری کے پالیسی بیان جیسے ٹوئیٹ نے سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے پیجز اور فالوررز کو شتر بے مہار کر دیا کیونکہ انہوں نے اس میں پالیٹیکس آن ہیلتھ پراجیکٹ اور کرپشن اتحاد کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا۔ فواد چودھری اگر یوٹرن کی حالیہ سیاسی تاریخ ہی دیکھ لیتے تو انہیں اندازہ ہوتا کہ یہ جماعتیں تو میثاق جمہوریت میں بھی اکٹھی ہوچکیں اور اس کے بعد ایک حکومت میں بھی جس طرح چودھری ظہور الٰہی شہید کے سیاسی وارث چودھری پرویز الٰہی بھی پیپلزپارٹی کی حکومت میں ڈپٹی پرائم منسٹر بن گئے تھے۔اس سے بڑا یوٹرن تو پی ٹی آئی کا بلوچستان کے قوم پرستوں اور اس سے بھی کہیں زیادہ ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد قرار دیا جا سکتا ہے جو کسی اعلیٰ سیاسی، انسانی اور اخلاقی اصول نہیں بلکہ صرف اور صرف حکومت کے حصول کے لئے ہے اور کیا فواد چودھری سینٹ الیکشن کا اتحاد بھول گئے ہیں؟

مجھے یہاں نواز شریف کے مخالف دو، تین سیاستدانوں کے ردعمل کا حوالہ بھی دینا چاہیے کہ سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ اگر ایک یا دو اپوزیشن جماعتیں اکٹھے بیٹھتی ہیں تو اس سے کسی کا کچھ لینا دینا نہیں اور کسی کو فرق نہیں پڑتا، سیاسی جماعتوں کو ذاتی مفادات نہیں بلکہ عوام کے ایشوز پر اکٹھے ہونا چاہئے۔ یہ کسی بھی حکومتی رہنما کا مناسب ترین ردعمل ہو سکتا ہے مگر میری نظر میں پی ٹی آئی پنجاب کے صدر اور سابق سینئر وزیر عبدالعلیم خان کا ردعمل کہیں زیادہ بہتر، جامع اور سیاسی بلوغت کا مظہر ہے۔ عبدالعلیم خان نے کہا، میاں نواز شریف کی طبیعت خراب ہے اور بلاول ملاقات کے لئے گئے تو اچھی بات ہے۔ سیاست میں ایک دوسرے سے اختلاف ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہئے، نظریات مختلف ہوتے ہیں لیکن انسانی تعلق قائم رہنا چاہئے۔ دونو ں سیاسی پارٹیاں اگروہ مل کے کام کرنا چاہتی ہیں تو کوئی اعتراض نہیں، عمران خان اور تحریک انصاف پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ دونوں جماعتیں ایک ہیں، تحریک انصاف کو ملاقات سے کوئی خوف نہیں کہ پہلے بھی دونوں جماعتوں کے خلاف الیکشن لڑا ہے، ہم عوام میں عمران خان کا ایجنڈا لے کر گئے اور اس کو پذیرائی ملی اور اب دونو ں پارٹیوں کے پاس اگلا الیکشن موجود ہے، وہ اپنے ایجنڈے کو مضبوط کریں۔جب بلاول بھٹو زرداری ، نواز شریف کی عیادت کے لئے جا رہے تھے تو اس وقت ان ہی کی پارٹی کے سینئر رہنما اعتزا ز احسن بھی اظہار خیال کر رہے تھے، انہوں نے نواز شریف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’ بیمار ہوں مگر ہسپتال نہیں جاﺅں گا کا مطلب لندن میں علاج ہے‘۔ یہ وہی اعتزاز احسن ہیں جو اس سے قبل بیگم کلثوم نواز کی بیماری پر بھی یاوہ گوئی کا مظاہرہ کر چکے اور معافی بھی مانگ چکے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کی بحالی کے بعد سے یہ صاحب کس کی سیاست کر رہے اور کس کے مفادات کی پاسبانی کررہے ہیں مگر ایس ایم ظفر ہوں یا اعتزاز احسن، یہ وکلا رہنما قبر میں ٹانگیں لٹکی ہونے کے باوجود آئین اور جمہوریت کے ساتھ کمٹ منٹ نبھانے کے موڈ میں نظر میں نہیں آتے۔ اعتزاز احسن نے جتنی عزت کمائی کہ ایک وقت میں وہ لاہور جیسے شہر سے مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کے مشترکا امیدوار ٹھہرے اور انہوں نے پھر وہی عزت اتنی ہی تیزی سے لٹا بھی دی حالانکہ اگر وہ اسی راہ پر چلتے رہتے تو اس وقت ایک عام سیاسی رہنما سے آگے بڑھتے ہوئے ایک مدبرکا درجہ حاصل کر چکے ہوتے۔

یہ بات سو فیصد درست ہے کہ آپ کی زندگی ، جدوجہد او رمقام پر تعین آپ کے عمل سے کہیں زیادہ آپ کا ردعمل کرتا ہے۔ آپ اپنے ردعمل کو قابو کر لیں تو آپ اپنی ہی نہیں بلکہ اپنے ارد گرد پوری دنیا کو بدل سکتے ہیں۔ نواز شریف کی علالت کی خبروں کے بعدہر رہنما کا ردعمل اس کے ظرف کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ نواز شریف کی بیماری کی خبروں پر بلاول بھٹو زرداری کا ردعمل قابل تعریف ہے اور میاں نواز شریف نے تسلیم کیا ہے کہ آئینی شقوں باسٹھ تریسٹھ کے خاتمے کے لئے پیپلزپارٹی کی پیش کش پر ان کا ردعمل غلط تھا اور اسی باسٹھ تریسٹھ کی سزا وہ آج بھگت رہے ہیں۔ اسی سے اندازہ لگا لیجئے کہ اخلاقی، عقلی اورمنطقی ردعمل کتنے زیادہ اہم اورمفید ہوتے ہیں، اپنے ردعمل کو کنٹرول کرنے میں بلاول بھٹو زرداری نوجوان ہونے کے باوجود سب سے بہتر اور منجھے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔


ای پیپر