کہاں کہاں لیے پھرتی ہے جستجو رسول
13 مارچ 2019 2019-03-13

قارئین ِ محترم، میری طرح آپ نے بھی اپنے بزرگوں سے سُنا ، اور کتابوں میں پڑھا ہوگا، کہ حضورﷺ کی اگر کسی خوش نصیب کو زیارت ہوتی ہے ، تو وہ مشرف یاب ہونے والے کی استعداد، ظرف برداشت اور روحانی دسترس کے مطابق ہوتی ہے ۔

اس بات کو میں اِن الفاظ میں سمجھاتا ہوں کہ ایک دفعہ ہماری یعنی مسلمانوں کی ماں عزت مآب عائشہ صدیقہؓ نے حضورﷺ کی خدمت میں حضرت یوسفؑ کی تعریف فرمائی، اور فرمایا کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اُنہیں کس قدر حُسن سے نوازا ہوگا ، کہ ساری عورتوں نے زلیخا سمیت چھریوں سے پھل کاٹنے کی بجائے اپنے ہاتھ اور انگلیاں کاٹ لیں۔

یہ سن کر حضرت محمدمصطفی محبوب خدا ﷺ نے فرمایا، کہ عائشہ اگر وہ عورتیں مجھے دیکھ لیتیں تو اپنی گردنیں کاٹ ڈالتیں۔ قرآن کریم کے سارے سپارے حضورپُرنور ﷺ کی تعریف و توصیف سے بھرے پڑے ہیں حتیٰ کہ خالقِ کل، نے نہ صرف اپنی مخلوقِ کل کو یہ حکم دیا کہ وہ ہمہ وقت اور وضواور بغیر وضو کے آنحضرتﷺ پہ درود وسلام پیش کریں۔ اور اللہ تبارک وتعالیٰ خود بھی آپ پہ درود پڑھتا ہے یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا اتنا بڑا انعام ہے کہ ازل سے لے کر ابدتک یہ سعادت کسی اور کے حصے میں نہ آئی ہے ، اور نہ آئے گی، جیسے کہ میں نے پہلے بھی عرض کی تھی، کہ موسیٰؑ کو موسی کلیم اللہ بنادیا، اور حضرت ابراہیمؑ کو خلیل اللہ بنادیا، یہ اعزازاُن کو اس لیے بخشا گیا، اور اُنہیں خدا کا دوست اِس لیے بنایا گیا کہ وہ جو کام کرتے تھے، وہ کام اللہ تعالیٰ اور اُس کے حبیب ﷺ کو سب سے زیادہ پسند ہے ۔

حتیٰ کہ ایک دفعہ میں نے پڑھاتھا ، کہ بھوکے کو کھانا کھلانے کا ثواب مسجد بنانے سے بھی زیادہ ہے ، اور ایک اور غلط فہمی بھی ہم میں زیادہ ہے ہم سمجھتے ہیں کہ بھوکے سے مراد صرف فقیر اور بھیک مانگنے والے لوگ ہوتے ہیں، جبکہ امیر اور غریب کا اس میں کوئی امتیاز نہیں ہے ۔

میں بات کررہا تھا، حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی، وہ ہمیشہ کھانا اکیلے بالکل نہیں کھاتے تھے، بلکہ ڈھونڈ کر کسی نہ کسی مستحق کو بلا کر لے آتے، اور پھر مل کر کھانا کھاتے، ایک دفعہ معمول کے مطابق وہ کسی بوڑھے کو لے آئے، اور جب کھانا کھانے لگے، تو اُسے کہا کہ بسم اللہ پڑھو، مگر اس نے جواب دیا کہ میں بسم اللہ کیوں پڑھوں، میں تو پارسی ہوں اور آگ پرست ہوں، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اُسے کھانا کھلانے سے انکار کردیا، وہ بادل نخواستہ باہر چلا گیا، تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کو کہا کہ مجھے پتہ تھا، کہ یہ بوڑھا شخص مجھے نہیں مانتا، اور آگ کو پوجتا ہے ، مگر میں سترسال سے اُس کو رزق دے رہا ہوں، تم سے اتنا بھی برداشت نہ ہوسکا، کہ اُسے ایک وقت کا کھانا کھلا دیتے، یہ سن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام تیزی سے باہر نکل کر اُس بوڑھے کو ڈھونڈنے لگے، اور آخر کار اُس کے پاس پہنچ گئے، حضرت ابراہیمؑ نے اُس سے معذرت کی، اور فرمایا کہ مجھ سے غلطی ہوگئی، اور اللہ تعالیٰ نے میری سرزنش فرمائی ہے ، اور بتایا ہے کہ میں ستر سال سے اُسے رزق دے رہا تھا حالانکہ وہ مجھے نہیں مانتا ، اور تم اسے ایک وقت کا کھانا بھی نہ کھلا سکے یہ سن کر وہ آتش پرست اتنا خوش ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اُس کا ذکر فرمایا اور وہ اتنا غفور ورحیم ہے ، اور فوراً کلمہ پڑھ لیا۔

حضورﷺ نے فرمایا کہ بُھوکے کو کھانا کھلایا کرو، بیماروں کی بیمار پرسی یعنی عیادت کرو، اور غلاموں کو آزاد کروایا کرو، ایک دفعہ ایک صحابیؓ نے پوچھا کہ حضورﷺ کون سا اسلام ، اچھا ہے ، حضورﷺ نے فرمایا کہ غریبوں کو کھانا کھلانا، اور جس کو جانتے ہو، یا نہیں جانتے، ان کو سلام کیا کرو، بہترین اعمال میں کھانا کھلانا سرفہرست ہے ۔ اس حوالے سے فرعون کی مثال بہترین ہے ، کہ وہ خدائی دعویٰ کرکے ساٹھ ہزار لوگوں کو کھانا کھلاتاتھا، اور اللہ تعالیٰ نے اس کا شرک محض اس لیے برداشت فرمایا ہوا تھا کہ وہ اللہ کی مخلوق کو کھانا کھلاتا تھا۔ اب آخر میں اتنا عرض ہے کہ ہر حکومت کافرض ہوتا ہے کہ وہ ریاست مدینہ کے حوالے سے اپنی رعایا کے حقوق میں سب سے پہلے وسیلہ رزق بنے اور اس امر کو یقینی بنائے کہ دجلہ کے کنارے کتے مرنے کا تو ذکر کرے مگر زندہ لوگوں کی زندگی کو دوبھر کردے ۔ قارئین کرام یہ موضوع چونکہ خاصا طویل ہے محض امجد اسلام امجد کی نعت پہ میں اکتفا کرتا ہوں، جنہوں نے بڑی خوبصورتی سے کوزے میں دریا کو بند کردیا ہے ۔ فرماتے ہیں:

نبی کی شہر کی صورت

زمین پر ایک جنت ہے

ہم اُن کے بھی ہیں دیوانے

نبی سے جن کو الفت ہے

گزر جائے جو طیبہ میں

وہی لمحہ غنیمت ہے

مرے آقا کرم کیجئے

بہت مشکل میں اُمت ہے

قارئین واضح رہے کہ اُمت مسلمہ میں ہمارا ”نیا پاکستان“ بھی شامل ہے ۔


ای پیپر