طبی فضلہ بیماریوں کا ”ضامن“

13 مارچ 2018 (22:34)

مقبول خان:کراچی میں شہری کچرے کے ساتھ طبی کچرا یا طبی فضلہ بھی شہریوں کےلئے عذاب بنا ہوا ہے۔ شہری کچرے کے مقابلے میں طبی کچرا اگرچہ بہ مقدار میں شہری کچرے سے کم ہوتا ہے لیکن یہ اپنی کم مقدار کے باوجود انسانی صحت کےلئے انتہائی خطرناک بن چکا ہے، اس کچرے سے شہریوں میں مختلف اقسام کے انفیکشن سمیت دیگر مہلک امراض پھیل رہے ہیں، کراچی میں کم و بیش ایک درجن سرکاری ہسپتال،میٹرنٹی ہوم وغیرہ ہیں،جبکہ چھوٹے بڑے نجی ہسپتالوں کی تعداد سیکڑوں میں ہے لیکن کراچی میں صرف ایک ہسپتال کے علاوہ کسی بھی سرکاری یا نجی ہسپتال میں طبی فضلہ کو عالمی معیار کے مطابق ٹھکانے لگانے کا کوئی معقول انتظام نہیں ہے۔کراچی کے ہسپتالوں میں احاطے کے اندر ہی ایک مخصوص جگہ پر طبی کچرا ڈالنے کی منفی روایت عام ہے، یہاں یہ کچرا کئی کئی دن تک کھلا پڑا رہتا ہے، افغان بچے اس میں سے کارآمد اشیاءتلاش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، جبکہ کتے بلیاں،کوے اور چیلیں اس میں سے اپنا رزق تلاش کرتے ہیں۔اس کے ساتھ وہ کچرے کو مزید پھیلا بھی دیتے ہیں۔اس کچرے سے نہ صرف ہسپتال کا ماحول آلودہ ہورہا ہے،بلکہ قرب و جوار کے علاقوں میں ماحولیاتی آلودگی بھی بڑھ رہی ہے۔ جس کی وجہ سے شہری مختلف بیماریوں کا بھی شکار ہورہے ہیں۔ جناح پوسٹ گرایجویٹ میڈیکل سینٹر کراچی ،اس شہر کا سب سے بڑا سرکاری ہسپتال ہے لیکن کراچی کے اس سب سے بڑے ہسپتال میں بھی انتظامیہ نے طبی کچرے کو محفوظ انداز میں ٹھکانے لگانے کا کوئی خاص انتظام نہیں کیاہے۔ہسپتال کے عقب میں طبی کچرے کا ڈھیرہمیشہ لگا رہتا ہے۔ جس کے قریب قدیم رہائشی علاقہ بزرٹا لائن واقع ہے۔اس کچرے کے ڈھیر میں بڑی تعداد میں استعمال شدہ خون کے بیگ ،سرنج اور آلودہ روئی کے ٹکڑے واضح طور پر نظر آتے ہیں۔کچرے کے اس ڈھیر کو دیکھتے ہوئے یہ سوال خودبخود ذہن میں آجاتا ہے کہ جب کراچی کے اس سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں طبی کچرے کو ٹھکانے لگانے کا معقول انتظام نہیں ہے،تو شہر کے سیکڑوں چھوٹے بڑے ہسپتالوں میں کچرے کو ٹھکانے لگانے کا انتظام کیسا ہوگا، جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔اس حوالے سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی میں صرف ایک ہی ہسپتال ایسا ہے جہاں طبی کچرے کو معقول حفاظتی انتظامات کے ساتھ ٹھکانے لگانے کا انتظام ہے۔اس ضمن میں محکمہ صحت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام سرکاری اور نجی ہسپتالوں کی انتظامیہ کو پابند کرے کہ وہ اپنے ہسپتال کے طبی کچرے کو محفوظ انداز میںٹھکانے لگانے کا انتظام یقینی بنائیں۔


سروے رپورٹ
طبی کچرے کے حوالے سے کراچی کے ہسپتالوں کے ایک سروے کے مطابق اس شہر کے 2 سرکاری ہسپتالوں میں کچرے کےلئے مخصوص جگہ ہے، جبکہ 5ہسپتالوں میں طبی کچراپھینکنے کی جگہ تو ہے لیکن یہاں غیر محفوظ طریقے سے جمع کیا جاتا ہے۔2 ہسپتالوں کا طبی کچرا بلدیہ کراچی کا عملہ اٹھاتا ہے، جسے وہ شہری کچرے کے ساتھ ہی ٹھکانے لگاتا ہے۔ ایک ہسپتال میں طبی کچرا جلایا جاتا ہے‘جس سے علاقے میں خطرناک ماحولیاتی آلودگی اور بیماریاں پھیلتی ہےں۔اس سروے رپورٹ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ کراچی کے بیشتر ہسپتالوں میں کچرے کو ٹھکانے لگانے کا کوئی معقول انتظام اور اس کا ریکارڈ نہیں ہے، صرف 2 ہسپتالوں میں طبی کچرے کا تحریری ریکارڈ رکھا جاتا ہے اور یہ اپنے عملہ کو طبی کچرے کو محفوظ انداز میں ٹھکانے لگانے کی تربیت بھی دیتے ہیں۔اقتصادی سروے 2011ءمیں سرکاری اعدادو شمار کے مطابق اس وقت پاکستان میں 970 سے زائد ہسپتال موجود ہیں جبکہ غیر سرکاری اعدادوشمار کے مطابق صرف کراچی میں سینکڑوں ہسپتال کام کر رہے ہیں ۔ذرائع کے مطابق کراچی کے سرکاری ہسپتال طبی فضلے کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کے بجائے بیچنے کا انکشاف ہوا ہے ۔ سرکاری ہسپتالوں میں انسنی ریٹر کی موجودگی کے باوجود طبی فضلے کو بیچ دیا جاتا ہے ۔کراچی کے مضافاتی علاقوں میں قائم غیر قانونی کارخانے اس کچرے کو دوبارہ قابل استعمال بنا کر مارکیٹ میں فروخت کے لیے بھیج دیتے ہیں جوکراچی سمیت ملک بھر میں ہیپاٹائٹس اور ایڈز جیسے موذی امراض سمیت دیگر بیماریوں کا باعث بن رہے ہیں۔ اس حوالے سے سرکاری ہسپتالوں کے دورے کے موقع پر دیکھنے میں آیا کہ وارڈز ،شعبہ ایمرجنسی ، ہسپتال کی راہداریوں اور احاطے میں استعمال شدہ ٹیکے ، روئی ، سواب ، دستانے اور دیگر چیزیں شامل ہیں ۔ ذرائع کے مطابق سول ہسپتال کا انسینی ریٹر) INCENIRATOR ( خراب ہے جبکہ دیگر سرکاری اور نجی ہسپتالوں میںیا تو انسینی ریٹر موجود ہی نہیں ہے یا اگرہیں بھی تو صحیح حالت میں موجود نہیں ہیں ۔ذرائع نے بتایاکہ جناح ہسپتال کا انسینی ریٹر چلایا ہی نہیں جاتا جبکہ ہسپتال میں پیدا ہونے والا طبی فضلہ محفوظ طریقے سے تلف کرنے کے بجائے فروخت کیا جا رہا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ استعمال شدہ سرنجوں کوری سائیکل کرکے دوبارہ استعمال کرنے کا رجحان آج کل تیزی سے فروغ پارہا ہے جس سے متعدد بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ ہیپاٹائٹس اور ایڈزجن میں سرفہرست ہیں۔ کچرے میں پھینکی ہوئی سرنجوں کو جمع کرکے کباڑیوں کو فروخت کردیا جاتا ہے جن کو ری سائیکل کرکے دوبارہ قابل استعمال بنایا جاتا ہے لیکن ایسی سرنجیں خطرناک بیماریوں کا موجب بن رہی ہیں اور پاکستان کا ہر نواں شہری ہیپاٹائٹس کا شکارہے۔ اس ضمن میں متعلقہ اداروں کی خاموشی حیرت انگیزاور سمجھ سے بالا تر ہے۔تمام نجی وسرکاری ہسپتالوں کو اس بات کا پابند بنائے کہ وہ استعمال شدہ سرنجوں سمیت تمام طبی فضلے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگائیں۔ حکومت اور متعلقہ محکمے کو اس جانب بھر پور توجہ دینی چاہیے تاکہ وبائی اور مہلک بیماریوں کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔


طبی فضلہ کی فروخت
جناح، سول، عباسی شہید،سروسزہسپتالوں سمیت شہر کے ہزاروں نجی ہسپتالوں ، ڈسپنسریوں اور گلی محلوں میں قائم کلینکس میں استعمال شدہ سرنجیں،بلڈ اور یورین بیگ سمیت انتہائی آلودہ فضلے کو محفوظ طریقے سے تلف کرنے کے بجائے صنعتی استعمال میں لیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق شہر کراچی میں 343فیکٹریاں غیرقانونی طور پر ہسپتالوں میں استعمال شدہ سرنجوںبلڈ و ریورین بیگ گلوکوز ڈرپ بیگ سے پلاسٹک بنانے کا خام مال تیار کرنے میں ملوث ہیں انوائرمینٹل ڈپارٹمنٹ ایجنسی کے فیکٹریاں ان وائر مینٹل ڈیپارٹمنٹ سے بغیرکسی NOC کے پلاسٹک بنانے کا خام مال تیار کرنے کی صنعت چلا رہی ہیں اور قانونی طور پر ہسپتال کے استعمال شدہ پلاسٹک فضلہ کسی بھی صورت میں دوبارہ قابل استعمال نہیں بنایا جاسکتا تاہم زیادہ منافع حاصل کرنے کی غرض سے غیرقانونی پلاسٹک خام تیار کرنے کا کام تیزی سے جاری ہے جس میں ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ افسران بھی ملوث ہیں۔ ہسپتال کے استعمال شدہ سرنج، پیشاب کی تھیلیاں، ڈرپ کسی بھی صورت میں دوبارہ استعمال کرنے کے لیے کسی ادارے کو نہیں بیچی جاتیں، بلکہ اس استعمال شدہ سامان کو مخصوص طریقے سے ٹھکانے لگانا چاہیے تاہم ہسپتالوں کے افسران جو کہ استعمال شدہ پلاسٹک فضلہ کے معاملات طے کرتے ہیں وہ سرنج،یورین بیگ، گلوکوز ڈرپ بیگ 110 روپے فی کلوکے حساب سے ان فیکٹریوں کو فروخت کرتے ہیں جس کو دوبارہ استعمال کے قابل بناکر لاکھوں روپے کمائے جاتے ہیں ۔ نیوکراچی، شیرشاہ ،گودھرا، ایف بی انڈسٹریل ایریا، لانڈھی، بولٹن مارکیٹ، کورنگی انڈسٹریل ایریا میں غیر قانونی فیکٹریاں قائم ہیں جو کہ اس گھنا¶نے کاروبار میں ملوث ہیں، بہارکالونی میں اس کاروبار سے جڑی 57 فیکٹریاں چل رہی ہیں جواستعمال شدہ سرنج کو خام مال بنانے میں استعمال کررہی ہیں۔ فیکٹری ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ ان استعمال شدہ سرنجوں اور ڈرپ بیگز سے اچھی کوالٹی کا پلاسٹک خام مال سستے داموں تیار ہوجاتا ہے۔ان فیکٹریز سے کچن میں استعمال میں ہونے والا سامان بنانے والے،ہاٹ پاٹ،کولر،برنیاں و دیگر سامان اور بچوں کے کھلونے بنانے والی فیکٹریز کے مالک خریدتے ہیں، ذرائع نے مزید بتایا کہ 250 سے 300 روپے فی کلو کے حساب سے یہ ری سائیکل پلاسٹک دانہ خریدتے ہیں۔ ہاٹ پاٹ اور کولر بنانے والی فیکٹری کے مالک محمد امین نے بتایا کہ سرنج اور دیگر پلاسٹک طبی فضلہ سے تیار کیے جانے والے خام مال سے کچن میں استعمال ہونے والی اشیاءنہیں بنائی جاسکتیں لیکن شہر میں 60 فیصد پلاسٹک انڈسٹری مضرصحت پلاسٹک خام مال استعمال کرتی ہے جو کہ انتہائی خطرناک ہے ۔


ماہرین کی آرا
ہسپتال مینجمنٹ کے ماہر ڈاکٹر عبد المالک نے نئی بات کو بتایا کہ دنیا بھر میں ہاسپٹل ویسٹ مینجمنٹ کا قانون اور ایک طریقہ کار ہوتا ہے لیکن پاکستان میں نہ ہی کوئی قانون ہے اور اگر ہوتا بھی تو اس پر عملدرآمد سب سے بڑا مسئلہ ہوتا۔دنیا بھر میں طبی فضہ کو تلف کرنے کے مختلف طریقے رائج ہیں لیکن پاکستان میں طبی فضلے کو محفوظ طریقے سے تلف کرنے کا کوئی نظام موجود نہیں ہے ماسوائے کوئی ایک آدھ نجی ہسپتال ایسا موجود ہے جس کی ہم مثال پیش کر سکتے ہیں ۔ لیکن مجموعی طور پر سرکاری اور نجی ہسپتال اور گلی محلوں میں موجود کلینکس میں ایسا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ صرف کراچی ہی میں ایک نظر دوڑائیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ کتنے ہسپتالوں میں طبی فضلے کو محفوظ طریقے سے تلف کیا جارہا ہے یا کوئی نظام موجود ہے۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سابق جنرل سیکرٹری ڈاکٹر قیصر سجاد نے نئی بات کوبتایا کہ اس گھنا¶نے کاروبار میں ہسپتالوں کی مینجمنٹ اور متعلقہ ڈیپارٹمنٹس کے افراد ملوث ہیں اور بہت سے ایسے ہسپتال بھی موجود ہیں جن میں انسینی ریٹر(INCENIRATOR)موجود ہی نہیں یا خراب ہے اور اس صورتحال کا فائدہ کرپٹ مینجمنٹ اٹھا رہی ہے مضر صحت خام مال سے بننے والے سامان سے ایڈز، ہیپاٹائٹس بی، سی اور خون کی بیماریاں پیدا کرنے کا موجب بنتا ہے۔حکومت کو چاہیے کہ اس گھنا¶نے جرم کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کرے بصورت دیگر یہ صورت حال مال مستقبل میں کسی بڑے مسئلہ کا سبب بن سکتی ہے۔


سول ہسپتال کراچی کے ایم ایس پروفیسر ڈاکٹر سعید قریشی نے نئی بات کو بتایا کہ سول ہسپتال کا نسینی ریٹر تعمیرات کی وجہ سے بند کر دیا گیا ہے اور پاسپٹل ویسٹ ( طبی فضلہ ) کے ایم سی کے انسینی ریٹر میں جلایا جا رہا ہے جس کا اضافی معاوضہ کے ایم سی کو دیا جاتا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ طبی فضلہ کو محفوظ طریقے سے تلف کیا جائے اور اس کے لیے ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے لیکن بعض اوقات نچلی سطح کے ملازمین ڈرپس اور دیگر چیزیں بیچ دیتے ہیں ۔ ایمرجنسی اور راہداریوں میں بکھرے ہوئے کچرے کے متعلق کیے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مختلف رنگوں کے ڈسبن تما م شعبہ جات میں رکھے ہیں جن میں لال رنگ کے ڈسبن میں طبی فضلہ اکھٹا کیا جاتا ہے جسے بعد ازاں کے ایم سی کے انسینی ریٹر میں تلف کرنے کے لیے بھیج دیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ سچی بات یہ ہے کہ ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ کچرا باہر راہداریوں میں بکھرا پڑا نہ ہو اور اس حوالے سے سختی بھی کی جاتی ہے۔


جناح پوسٹ گریجویٹ کے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن چوہدری محمد اکرم نے نئی بات کو بتایا کہ ہسپتال میں روزانہ8گھنٹے انسینی ریٹر چلایا جاتا ہے جس میں100 کلو طبی فضلہ محفوظ طریقے سے تلف کیا جاتا ہے تاہم جب ان سے انسینی ریٹرکے چلائے جانے کے اوقات میں انسینی ریٹر کے بند ہونے کی وجہ دریافت کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے انسینی ریٹر میں کوئی خرابی ہو لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اسے چلایا نہیں جاتا اور انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ طبی فضلہ بیچ دیا جاتا ہے ۔تاہم انہوں نے اقرار کیا کہ ایسا ضرور ممکن ہو سکتا ہے کہ استعمال شدہ ایک آدھ ڈرپ اور انجیکشن بیچ دی گئی ہو۔

مزیدخبریں