جھوٹ بول کر کسی کا دل دکھا نہیں سکتی،ماڈل و اداکارہ سحرش فاطمہ
13 مارچ 2018 (22:31)

ثاقب اسلم دہلوی:حُسن،فنکارانہ صلاحیتیں اور بہترین مزاج کسی انسان کے پاس ہو تو یہ تینوں چیزیں اسے نکھاردیتی ہیں اور یہ اللہ رب العزت کی طرف سے عطا کردہ ایک انمول نعمت بھی ہے جسے حاصل کرنے کی تمنا ہر کوئی کرتاہے مگر یہ نصیب والوں کا مقدر بنتی ہیں،ٹی وی ڈراموں میں گزشتہ کئی سالوں میں بہت سے نئے چہرے منظر عام پر آئے اور ان میں سے بہت سے غائب بھی ہوگئے اور کچھ آج اپنا منفرد مقام اپنی قابلیت اور فنکارانہ صلاحیتوں کہ زریعے حاصل کیے ہوئے ہیں،ان نامور فنکاراﺅں میں ایک سحرش فاطمہ کانام بھی شامل ہے، جنہیں انڈسٹری میں” گڑیا“ کہہ کر بھی مخاطب کیاجاتا ہے، سیٹ پر اُن کا رویہ سب ہی کہ ساتھ ملنسار ہے جس کی وجہ سے مدِمقابل کے دل میں اپنے اچھے اخلاق کہذریعے فوراً ہی جگہ بنالیتی ہیں ۔اِن کو فلموں سے بھی لیڈ کریکٹرز کی بہت سی آفرز آئیں،مگر گھر والوں کے انکار کی وجہ سے انہوں نے اپنا نقصان قبول کیا کیونکہ اُن کا کہنا ہے میرے گھر والے ہی میرا سب کچھ ہیں ۔ان سے نئی بات کیلئے خصوصی ملاقات ایک مارننگ شو کے دوران ہوئی ۔


نئی بات:شوبز میں کتنے سال مکمل کرچکی ہیں؟
سحرش فاطمہ :مجھے اب تک تین سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے ان سالوں میں بہت اچھے لوگ بھی ملے اور مخالفتوں کا بھی خوب ڈٹ کر سامنا کیا ۔
نئی بات:سب سے زیادہ سپورٹ کس نے کی؟
سحرش فاطمہ : مجھے میری ماں کی سپورٹ بہت ملی،والد صاحب تھوڑے سے خلاف تھے۔
نئی بات:اپنے بارے میں کچھ بتائیں؟
سحرش فاطمہ :بچپن سے بہت پڑھاکو تھی، اچھے نمبروں سے پاس ہونا میرا شوق تھا۔
نئی بات:شوبز سفر کیسے شروع ہوا؟
سحرش فاطمہ :میرے کالج میں شوٹنگ چل رہی تھی جہاں مجھے کام کی آفر انجم صاحب نے دی جو اس شوٹ کو ڈائریکٹ کررہے تھے۔میں نے جب گھر میں آکر سب کو بتایا تو میرے والد صاحب نے نفی میں سر ہلا دیا مگر ماں کا دل نرم ہوتا ہے اور اللہ کے کرم سے مَیں اپنی ماں کو منانے میں کامیاب ہوگئی اور یوں میں نے اپنے پہلے ہی ڈرامے پانی میں میں رول کیا۔
نئی بات:پہلی بار کیمرے کا سامنا کرتے ہوئے نروس نہیں ہوئیں؟
سحرش فاطمہ :میں نے پہلا ڈرامہ کرکے سوچا کہ اب کام نہیں کروںگی کیونکہ میں پہلے ڈرامے میں کچھ کچھ نروس ہوتی تھی ۔
نئی بات:جب کام نہ کرنے کا فیصلہ کیا تو اُس کے بعددوبارہ کام کیسے کیا؟
سحرش فاطمہ :جب ”پانی“ ڈرامہ ریلیز ہوا تو چاروں طرف سے لاتعداد کالز نے میری سوئی ہوئی اداکاری کے شوق کو بیدار کردیا اور پھر مَیں نے کام کرتے ہی رہنے کو ترجیح دی کیونکہ مجھے کام کرنے کا جنون سر پر سوار ہوگیا تھا ۔
نئی بات:کن لوگوں سے سیکھنے کے مواقع ملتے رہے؟
سحرش فاطمہ : مجھے شروعات ہی سے اتنے اچھے لوگوں کہ ساتھ کام کرنے کے مواقع ملتے رہے ہیں،جنہوں نے مجھے بہت کچھ سکھایا پیار دیا اور میری قدم قدم پر رہنمائی بھی کی ،سیٹ پر لوگوں نے مجھے ایزا کڈ بھی لیا ۔
نئی بات:کون کون سے ڈراموں میں کام کرچُکی ہیں؟
سحرش فاطمہ :میرے ڈراموں میں شہزادی روٹھ گئی،بے اعتبار،یاد تری آنے لگی، دل ایک کھلونا تھا اوربھروسہ کے ساتھ ساتھ اور بھی نام سرفہرست ہیں ۔
نئی بات:کن سینئرز فنکاروں کے ساتھ کام کرکے اچھالگا؟
سحرش فاطمہ :مَیں اب تک اپنے بہت سارے لیجنڈز کے ساتھ کام کرچکی ہوں،جن میں بہروزسبزواری، جاوید شیخ سرفہرست ہیں میں نے شیخ صاحب کی بیٹی کا رول ڈرامہ سیریل بے اعتبار میں بھی کیا۔
نئی بات:جاوید شیخ کو کیسا پایا؟
سحرش فاطمہ : مَیں اگر آپ کو جاوید شیخ صاحب کی شخصیت کے بارے میں بتانے لگوں توشاید آپ کے پاس اتنے صفحات موجود نہیں ہوں گے کیونکہ جاوید شیخ لاجواب اداکار تو ہیں لیکن اِس کے ساتھ ایک بہترین اچھے اور سچے انسان بھی ہیں۔ میری نظر میں جاوید شیخ ایسے ہیرے کانام ہے جسے اللہ نے ایک ہی بنایا ہو۔
نئی بات:فلموں میں کام نہ کرنے کی وجہ کیا ہے؟
سحرش فاطمہ :میری فیملی کی خواہش ہے کہ میں ڈراموں تک ہی اپنے فن کا مظاہرہ کرتے رہوں اور جتنی بھی بڑے آفرز کیوں نہ ہو اگر میری فیملی مجھے منع کردے تو میں اسے فوراً رد کردیتی ہوں کیونکہ اللہ اور رسولﷺ کے بعد میرے لیے میری فیملی اہمیت کی حامل ہے۔ میرے ماں باپ نے مجھے ہر قدم پر سپورٹ کیا ہے، میرے پاپا ایک بینکر بھی ہیں اور ایک بہترین باپ بھی۔
نئی بات:کن ڈائریکٹرز کے ساتھ کام کرکے اچھا لگا؟
سحرش فاطمہ : میں اب تک بہت سارے ڈائریکٹرز کے ساتھ اللہ کہ فضل و کرم سے کام کرچکی ہوں ان میں سے علی اکبر پٹھان،اشعر،امتیاز حسین،زین زیدی،شاہ حسین،سرمد کھوسٹ کے ساتھ عمران قریشی کا نام سرفہرست ہے۔ سب ہی نے بہت اچھے سے مجھے ٹریٹ کیا اور اِن سے سیکھنے کا موقع بھی مجھے حاصل ہوا ۔
نئی بات:آفر سے پہلے اداکاری کی خواہش تھی؟
سحرش فاطمہ :جی ہاں۔خواہش تھی لیکن کبھی سوچا نہیں تھا کہ یہ سب اچانک ہوجائے گا۔
نئی بات:کبھی سوچا تھا کہ ایک مشہور اداکارہ و ماڈل بن جائیں گی؟
سحرش فاطمہ :میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں ایک اداکارہ بن جا¶ںگی۔شوق تو سب کو ہی ہوتا ہے،مجھے بھی تھامگر یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ شوق بنا مانگے ہی پورا ہوجائے گا۔ چند ماہ پہلے لاہور سے عذاب رشتے آن ایئر ہوا تھا ۔
نئی بات:کردار جو ملتا ہے کرلیتی ہیں؟یا کوئی ڈیمانڈ ہوتی ہے؟
سحرش فاطمہ :میں نے کردار کیلئے کوئی ڈیمانڈ نہیں کی بس شروع ہی سے مجھے بنا ڈیمانڈ کے مین رول مل رہے ہیں جو میری خوش قسمتی ہے۔میں اپنے ہر اسکرپٹ میں کھو کر کام کرنے کی بھر پور کوششیں کرتی ہوں تاکہ اس میں حقیقت کا عکس مکمل دکھائی دے جب ہمارے کردارو ں کو معاشرے میں پسند کیا جارہا ہوتا ہے تو ڈائریکٹرز اور رائٹرز کی محنت وصول ہوجاتی ہے،لوگ کہتے ہیں یہ فیلڈ اچھی نہیں ہے مگر مجھے اس فیلڈ میں ان تین سالوں میں کچھ غلط نہیں دیکھنے کو ملا ۔مَیں نے جہاں بھی کام کیا ایک فیملی کی طرح کیا گھر جیسا ماحول مجھے ہر جانب ملا۔
نئی بات:پہلے ڈرامے میں آپ کا کیا رول تھا؟
سحرش فاطمہ :میرے پہلے ڈرامے ”پانی“ میں میرا کردار ایک غریب بچی کا تھا ،جو ایک ایسے گا¶ں میں رہتی ہے جہاں پانی کی قلت بہت ہوتی ہے تو ایک امیر بزرگ شخص مجھ سے شادی کے عوض پانی کا مسئلہ حل کرنے کا وعدہ کرتا ہے اور مَیں لوگوں کو پریشان دیکھ کر حامی بھر لیتی ہوں۔
نئی بات:آپ کامزاج کیسا ہے ٹھنڈا یا گرم؟
سحرش فاطمہ :بہت ٹھنڈا مزاج ہوتا ہے جب تک کچھ بری بات نہ سن لوں کیونکہ مجھے غلط بات پر فوراً غصہ آجاتا ہے مگر مَیں فوراً معاف بھی کردیتی ہوں۔میں نے آج تک کبھی کسی کو دوست ہی نہیں بنایا کیونکہ میری ماں ہی میری ایک بہترین دوست ہیں۔ جن سے میں اپنی ہر بات شیئر کرلیتی ہوں۔
نئی بات:آپ نے حال ہی میں عمرے کی ادائیگی کی۔ کیسا لگا؟
سحرش فاطمہ :میری خوش نصیبی ہے کہ۔مجھے اللہ کا گھر دیکھنا نصیب ہوا ۔خواہش ہے کہ اس سال حج بھی کرلوں ۔
نئی بات:محنت پر کتنا یقین ہے؟
سحرش فاطمہ :جتنا ایک محنتی شخص کو ہونا چاہئے،کوئی بھی مقام بنا محنت نہیں بنایا جاسکتا۔ کسی بھی مقام کو حاصل کرنے کیلئے خود کو خود سے الگ کرنا ہوتا ہے۔
نئی بات:شروعات میں کس قسم کے لوگ ملے؟
سحرش فاطمہ :مجھے شروعات ہی سے اچھے لوگوں کا ساتھ ملا اور میں سمجھتی ہوں کہ سب ہی اچھے ہوتے ہیں اگر اُن سے امیدیں نہ لگائیں جائیں۔
نئی بات:کیا آپ کو اندازہ تھا کہ آپ ڈرامہ اسٹار بن جائیں گے؟
سحرش فاطمہ :دراصل بات یہ ہے کہ مَیں تو صرف اپنے کام پر خوب محنت کرتی ہوں برکتیں تو اللہ کی جانب سے شامل ہوجاتی ہیں، جسے سب کامیابیاں کہتے ہیں۔کوئی بھی کردار کتنا ہٹ ہوگا یہ تو کسی کو معلوم نہیں ہوتا بس سلیکشن و لگن سے کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں۔
نئی بات:آپ اپنے کردار میں کس طرح خوبصورتی پیدا کرتی ہیں؟
سحرش فاطمہ :کردار کو اگر سمجھ کر اس کے احساسات خود پر طاری کرلئے جائیں تو کام میں نکھار و خوبصورتی خود بخود پیدا ہوجاتی ہے وہ لوگ کبھی آگے نہیں بڑھ پاتے جو اپنے کام و شخصیت کو سب سے اونچا سمجھنے لگ جاتے ہیں۔
نئی بات:کیا آج کے دور میں آسانی سے کام مل جاتا ہے؟کیسے ڈرامے شائقین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں؟
سحرش فاطمہ :ڈراموں میں حقیقت کے قریب کرداروں کو ہی شائقین کی توجہ حاصل ہوتی ہے اور آج ہمارا ڈرامہ اپنے ملک میں جتنا مقبول ہے۔ اسی طرح بیشتر ممالک میں بھی اسے پسند کیا جارہا ہے کیونکہ آج ہم انٹرنیشنل طریقے سے اپنے کام کو انجام دے رہے ہیں ۔
نئی بات:کس قسم کے لوگوں سے ملنا جلنا پسند ہے؟
سحرش فاطمہ :سچے لوگوں سے ملنا جلنا پسند ہے۔
نئی بات:فالتو لمحوں میں کیا کرتی ہیں؟
سحرش فاطمہ :مَیں اپنے کام کو مزید خوبصورت کرنے کی کوشش کرتی ہوں،اسکرپٹ کے مقصد کو سمجھنا بہت ضروری ہوتا ہے کچھ لوگ اداکاری کو سیریس نہیں لیتے۔
نئی بات:فلموں میں سب سے زیادہ کس چیز کی ضرورت ہے؟
سحرش فاطمہ :ہمیں فلم کے اسکرپٹ میں اپنی ثقافت اور تہزیب کو مدنظر رکھنا بھی بہت ضروری ہے،فلم ہمیشہ اچھی کہانی سے کامیابیاں سمیٹتی ہے، مہنگا بجٹ ضروری نہیں ہوتا۔
نئی بات:لوگوں کا کہنا ہے کہ ماڈلز کو نام کمانے کیلئے زیادہ محنت نہیں کرنا پڑتی؟
سحرش فاطمہ :حالانکہ میں بھی ایک ماڈل ہوں مگر مجھے کبھی ایسا دیکھنے کو نہیں ملا ہر فیلڈ سخت محنت مانگتی ہے اگر کوئی سفارش پرآتا ہے تو وہ بھی ایک دو بار کام حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے لیکن اُس میں ٹیلنٹ نہ ہو تو وہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔
نئی بات:ہم نے دیکھا ہے کہ آپ کا ہرکام مختلف ہوتا ہے اس کی خاص وجہ؟
سحرش فاطمہ :بات دراصل یہ ہے کہ میری کوشش ہوتی ہے کہ ایک وقت میں ایک ہی کام کرنے کو ترجیح دوں لالچ میں آکر ہر پروجیکٹ کو قبول نہیں کرتی ایک وقت میں تین چار آفرز ہوتی ہیں مگر ایک ہی کرتی ہوں کوشش ہتی ہے ایسے لوگوں کہ ساتھ کام کروں جن سے سیکھنے کو بھی ملے یہی وجہ کہ ہدایتکار پروڈکشن اور اسکرپٹ ان تینوں چیزوں کا خیال ضرور رکھتی ہوں جو بہت ضروری ہی ہے اسلئے ہمیشہ مختلف اور سب سے ہٹ کر میرا ہر ایک کریکٹر ہوتا ہے جو ایک فنکار کیلئے بہت ضروری ہے پروڈکشن ماحول کے لحاظ سے دیکھنا ضروری ہے۔
نئی بات:کیا ہدایتکار سے مشورہ کرتی ہیں؟
سحرش فاطمہ :جی !میں اپنے ہدایتکار سے شیئر کرتی ہوں تاکہ وہ بھی اپنے ذہن کے مطابق مجھے گائیڈ کرے تاکہ کام خوب سے خوب تر ہو اور جو لوگ مجھے چاہتے ہیں میرے کام کو پسند کرتے ہیں مجھے اُن کےذہن کو بھی مدنظر رکھنا ہوتا ہے۔ اُن کی ڈیمانڈ کے مطابق کام کرنا ہوتا ہے تاکہ اُ ن کی پسندیدگی کا باعث بنے۔
نئی بات:ماڈلنگ کیسی چل رہی ہے،کیانئے دور کے ساتھ اس شعبے میں کوئی تبدیلی آئی؟
سحرش فاطمہ :لوگ سمجھتے ہیں کہ ماڈلنگ ایک آسان شعبہ ہے مگر یہ ایک بہت ہی مشکل شعبہ ہے یہاں بہت باریک طریقے سے ہر ایک ایکشن کو پلے کرنا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ بھی بہت سی چیزیں ہیں جس کے بروئے کار لاتے ہوئے ماڈلز اپنا نام بنا رہے ہیں۔
نئی بات:موسیقی سے کتنا لگاو¿ ہے؟
سحرش فاطمہ :اچھی موسیقی سننا پسند ہے۔
نئی بات:ڈراموں میں نئے چہروں سے کچھ تبدیلی آئی ہے؟
سحرش فاطمہ :جی ہاں ڈراموں میں نئے چہروں کی آمد سے بھی بہت تبدیلی آئی ہے اور عوام چینجگ دیکھنا چاہتے ہیں اور نیو ٹیلنٹ کی وجہ سے بھی ڈرامہ انڈسٹری کو کچھ حد تک مزید سپورٹ ملا اور نئے لوگوں کی آمد سے کام بھی بڑھا پروڈکشن والوں کو نئی ٹیلنٹڈ کاسٹ ملی اور اسی لئے ہی ڈرامہ انڈسٹری کی کامیابی کا دائرہ کار دنیا بھر میں پھیل رہا ہے ،جو انشااللہ ایک دن اپنی ساکھ دنیا میں قائم کرلے گا۔


ای پیپر