پاکستانی سیاستدانوں کی مقبولیت اور جملہ بازی
13 مارچ 2018 (22:19)

عبدالرحمن محمود خان:ایک دور میں ہمارے بزرگ کہا کرتے تھے ”پہلے تولو پھر بولو“ لیکن پاکستانی سیاستدان اپنے جوش جذبات اور خطابت کی روانی میں ایسے جملے ادا کر جاتے ہیں جو اکثر اوقات عوام میں نہ صرف بے حد مقبول ہو جاتے ہیں بلکہ ایک استعارے کی شکل اختیار کر جاتے ہیں۔اکثر جوشِ خطابت میں گالیاں بھی منہ سے پھولوں کی طرح جھڑجاتی ہیں۔اگر سیاستدانوں کے بیانات کی فہرست بنائی بات کی جائے تو سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سمیت کئی سیاستدانوں کے جملے اور جذباتی بیانات بہت مشہور ہوئے۔جولائی 2017ءمیں نواز شریف کو پاناما کیس کے فیصلے کے بعد وزارتِ عظمیٰ کے منصب سے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس کے بعد نواز شریف نے مری سے لاہور اپنے گھر واپس جاتے ہوئے مختلف شہروں میں جلسے کئے۔ ہر جلسے میں وہ یہ سوال بار بار پوچھتے رہے۔ مجھے کیوں نکالا؟ مجھے کیوں نکالا؟ ان کا یہ سوال سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا،اسی طرح نوجوانوں میں مقبول لیڈر عمران خان کے بھی کئی جملے زبان زدعام ہیں،جیسے،” تبدیلی آ نہیں رہی ،آگئی ہے“۔آئیے پاکستان کے سیاستدانوں کے چند مشہور جملوں کا ذکر کرتے ہیں۔


نواز شریف
نواز شریف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور اس وقت ملک کے وزیراعظم ہیں۔سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی حالیہ معزولی کے بعد جس طرح ان کا یہ جملہ ” مجھے کیوں نکالا“ بے پناہ مقبول ہوا ہے ،اسی طرح90کی دہائی میں بھی ان کاایک جملہ ایسا مقبول ہوا کہ وہ سیاستدانوں کو بری طرح گراں گزرا تھا۔نوازشریف نے ایک تقریرکے دوران ایوان صدر میں سازشوں کا الزام عائد کرتے ہوئے یہ مشہور زمانہ جملہ بولا” میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا “ بھی کافی عرصہ زبان زدعام رہا۔اس کے علاوہ وہ اپنی تقاریر میں اکثر و بیشتر ”اللہ کے فضل و کرم سے“ کا جملہ استعمال کرتے ہیں۔گزشتہ دنوں اسلام آباد میں احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھاکہ پہلے وزارتِ عظمیٰ چھین لی اور بعد میں پارٹی کی صدارت۔ اب ”میرا نام ہی باقی بچا ہے محمد نواز شریف، اس کو بھی چھیننا ہے تو چھین لیں۔“ اس کے علاوہ احتساب عدالت کی ایک پیشی کے دوران انھوں نے کہا تھا کہ پہلے دن سے کہہ رہا ہوں، نیب کیس میں کچھ نہیں۔ انھوں نے ماضی کی ایک فلم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیس بالکل اس طرح ہے کہ،”فلم پہلے ہفتے بہت زبردست چلی ، پھر اگلے ہفتے زبردستی چلائی گئی“۔ویسے ایک ویب سائٹ نے میاں صاحب پر تجزیہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ میاں نواز شریف جن حالات سے گزر رہے ہیں، اُنہیں دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ سنی دیول نے اُن ہی کے لیے یہ ڈائیلاگ بولا تھا،”تاریخ پہ تاریخ، تاریخ پہ تاریخ، تاریخ پہ تاریخ“۔ جو دوسرا مکالمہ اُن کی تصویر کشی کرتا ہے وہ پرانی فلموں کے جذباتی مناظر میں بولا جاتا تھا۔ پوری طرح دکھ کا مارا ہیرو، ہیروئن کے بچھڑنے پر روتے ہوئے سبب پوچھنے پر کہتا تھا،”’نہیں نہیں، مَیں رو تو نہیں رہا“۔


آصف علی زرداری
سابق صدر آصف علی زرداری مفاہمتی سیاست کرنے اور اپنی سیاسی چالوں میں بہت مشہور ہیں۔ وہ پاکستانی سیاست میںداو¿ پیچ آزمانا جانتےہیں، انہوں نے ایک طرف جنوبی پنجاب کو اپنی ہٹ لسٹ پر رکھا ہوا ہے اور دوسری طرف وہ لاہور میں اپنی سیاسی طاقت کو منوا رہے ہیں۔اسی لیے سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں پیپلز پارٹی نے جنوبی پنجاب کو سینٹ کی 3 نشستیں دینے کا فیصلہ بھی کیا اور بلاول بھٹو زرداری کوبھی اس علاقے کا نگران مقرر کیا گیا تھا۔سابق صدر آصف علی زرداری نے 2007ءمیں پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیربھٹو کی شہادت کے بعد”پاکستان کھپے“ کا نعرہ لگایا جو عوام میں آج بھی مقبول ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد ان کے شوہر سابق صدر آصف علی زرداری کا نعرہ”پاکستان کھپے“ نے عوام میں بہت پذیرائی حاصل کی ۔ اس کے علاوہ ان کا جملہ ”شریفوں کو نہیں بھولنا چاہیے کہ مَیں نے مشرف کو دروازہ دکھا کے انھیں شیر بنایا ہے“ بھی بہت مقبول ہوا۔آصف زرداری کا ”اینٹ سے اینٹ بجا دینا “والا فقرہ بھی مشہور ہوا اور اس کے بعد وہ کافی عرصے تک ملک سے باہر بھی رہے۔


یہ بات قابل غور ہے کہ عمران خان کے مقابلے میں آصف علی زرداری کے ساتھ اہم سیاسی لوگوں کو معاملات طے کرنے میں آسانی ہوتی ہے، پھر آصف علی زرداری کے پاس پاورشیئرنگ کا جو انمول کارڈ ہے، وہ اسے بھی استعمال کرتے ہیں، مثلاً انہوں نے خود لاہور کے جلسے میں کہا کہ،” بلوچستان میں صرف ارکانِ اسمبلی کو عزت دینے کی ضرورت تھی۔ ہم نے ان کے سر پر ہاتھ رکھ دیا اور وہ اپنی پارٹی کے خلاف متحد ہوگئے“۔ اپنا یہ کارڈ تو وہ کہیں بھی استعمال کرسکتے ہیں۔


عمران خان
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نوجوانوں میں بے حد مقبول ہیں اور ان کا نعرہ ”تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آ گئی ہے“ بے حد مقبول ہے۔ عمران خان نے الیکشن 2013ءمیں ہوئی دھاندلی کے خلاف دھرنے میں یہ جملہ کئی بار بولا۔ اس کے بعد اس جملے کو ہر جگہ استعمال کیا گیا۔ مشہور سوشل میڈیا ایپ ڈبس میش پر لوگوں نے اس جملے کو استعمال کرتے ہوئے خوب ویڈیوز بنائیں۔ آج بھی اکثر ہی سوشل میڈیا پراس بیان سے متعلقہ مزاحیہ مواد دکھائی دیتا ہے۔اس کے علاوہ ”ایمپائر کی انگلی“ اور ”سونامی آ گئی ہے“بھی کافی مقبول ہوئے۔


خواجہ آصف
سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والےخواجہ محمد آصف قومی اسمبلی کے کئی بار رکن رہے۔ 2013ءمیں ن لیگ نے انہیں اُس وقت وزیر دفاع مقرر کیا جب عدالت نے وزیر دفاع کو طلب کیا اور وزیراعظم نواز شریف اس وزارت کا قلمدان اپنے پاس رکھے ہوئے تھے۔بعد ازاں 2017ءمیں نواز شریف کی نااہلی سے کابینہ تحلیل ہونے کے بعد خواجہ آصف کو وزیر خارجہ کا قلمدان سونپا گیا۔مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں تقریر کے دوران ان کے کہے جملے ”کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے“ عوام میں بے حد مقبول ہوئے۔شائد ہی ہم میں سے کوئی اس جملے کو بھول پایا ہو۔ خواجہ آصف نے یہ جملہ پارلیمنٹ کے ایک مشترکہ اجلاس میں پاکستان تحریکِ انصاف پر برستے ہوئے بولا تھا۔ ان کے اس جملے کو بولنے کی دیر تھی کہ یہ ہر زبان پر چڑھ گیا۔ اس جملے کو سوشل میڈیا، ٹیکسٹ میسجز کے علاوہ صحافی برادری نے بھی اپنے کالموں میں خوب استعمال کیا۔اس کے علاوہ ٹریکٹر، ٹرالی اور ڈمپر کے الفاظ بھی خواجہ آصف نے پارلیمنٹ فلور پر پاکستان تحریک انصاف کی شیریں رحمن کے لیے ادا کیے تھے۔


چوہدری شجاعت حسین
جاٹ خاندان سے تعلق رکھنے والے چودھری شجاعت حسین کا شمار پاکستان کے چند اہم ترین سیاست دانوں میں ہوتا ہے۔وہ پاکستان کے وزیر داخلہ اور وزیر اعظم رہ چکے ہیں اور اس وقت مسلم لیگ (ق) کے صدر ہیں۔چوہدری شجاعت پاکستان کا جملہ ”مٹی پاﺅ“ بے حد مشہور ہے۔پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ کا”مٹی پاﺅ“ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ایک مرتبہ پرویز مشرف کی وردی کے سوال پر انھوں نے کہا تھاکہ ”کچھ نہ کچھ تو پہننا ہی ہوتا ہے“۔


پرویز مشرف
پاک فوج کے سابق سپہ سالار، صدر پاکستان اور آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ پرویز مشرف کو جملوں کا”آرمی چیف“ کہا جا سکتا ہے۔یادرہے کہ انھوںنے 12 اکتوبر 1999ءکو بطورآرمی چیف ملک میں فوجی قانون نافذ کرنے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف کو معزول کیا اور پھر 20 جون 2001ءکو ایک صدارتی استصوابِ رائے(ریفرنڈم) کے ذریعے صدر کا عہدہ اختیار کیا۔ شاید کسی آرمی چیف کے جملوں کو اتنا زیادہ نہ دہرایا گیا ہو جتنا کہ پرویز مشرف کے۔اُن کا جملہ ’ ’میں ڈرتا ورتا کسی سے نہیں ہوں‘ ‘بہت مشہور ہے۔


اسلم رئیسانی
نواب اسلم رئیسانی جن کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے اوروہ وزیراعلیٰ بلوچستان بھی رہ چکے ہیں۔ نواب رئیسانی اپنے طنزیہ اور مزاحیہ جملوں کی وجہ سے ہمیشہ پرنٹ و الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنتے رہے ہیں۔ اسلم رئیسانی کے ویسے تو بہت سے جملے عوام میں مشہور ہیں لیکن ان کا ”ڈگری ڈگری ہوتی ہے چاہے اصلی ہو یا جعلی“، اِس کے علاوہ وہ اکثر یہ کہتے پائے گئے کہ ””ڈگری ڈگری ہوتی ہے چاہےیونیورسٹی کی ہو یا تھرما میٹر کی “ بہت مقبول ہوا۔کچھ عرصہ قبل جب وہ سعودی عرب میں مدینہ سے مکہ مکرمہ جارہے تھے کہ ایک جگہ پر دو افراد نے ان کی گاڑی کا شیشہ کھٹکھٹایا اور جب انہوں نے شیشہ کھولا تو دونوں افراد نے انہیں کہا کہ ”ڈگری ڈگری ہوتی ہے اصلی ہو یا جعلی“۔اپنے مزاحیہ اور طنزیہ انداز گفتگو سے جانے جانے والے بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ نواب محمد اسلم خان رئیسانی نے 2013ءکے انتخابات سے قبل یہ بھی کہا تھا کہ،”پاکستان کی سیاست سے نسوار فروشی بہتر ہے“۔


شہباز شریف
وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو حال ہی میں مسلم لیگ(ن) کاقائم مقام صدر منتخب کیا گیا ۔وہ اپنے مخصوص جوش خطابت میں ”مائیک گرانے“ کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔انھیںسعودی عرب میں قیام کے دوران میں 3 اگست 2002ءکو پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ کا صدر چنا گیا۔ 2 اگست 2006ءکو انہیں دوبارہ اگلی مدت کے لیے چنا گیا۔کہا جاتا ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آیاجب شہباز شریف کو اپنے بھائی نواز شریف سے متنفر کرنے کی کوشش بھی کی مگر ناکامی ہوئی۔نواز شریف کو اپنے والد کی جگہ سمجھنے والے شہباز شریف شاعر حبیب جالب کی شاعری سے خاصے متاثر ہیں اور اکثر اپنی تقاریر میں ان کا مشہور شعر ” اس دستور کو صبح بے نور کو،مَیں نہیں مانتا، مَیں نہیں مانتا“ پڑھتے نظر آتے ہیں۔


فاروق ستار
حال ہی میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی جانب سے انٹرا پارٹی انتخابات میں فاروق ستار سب سے زیادہ ووٹ لے کرکنوینر منتخب ہوئے۔فاروق بھائی اپنے استعفوں کے حوالے اور دیگر جملہ بازی کی وجہ سے بھی مشہور ہیں۔گزشتہ ماہ ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کے خطاب کے دوران اس وقت مضحکہ خیز صورتحال پیدا ہو گئی جب انہوں نے اردو کے غلط محاورے بولے اور اس کے ساتھ ساتھ چٹکلے چھوڑنے کی بھی کوشش کی ۔ فاروق ستار نے پریس کانفرنس کے دوران اردو محاورا” سر پھٹول“ کو غلط انداز میں بولا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کامران ٹیسوری پر بھی پھبتی کسی کہ ”منی“ کے بعد اب ”منا“ بھی بدنام ہو گیا ہے۔۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جب وہ خبر کے افشا ہونے کی روداد سنا رہے تھے تو انہوں کے کہا کہ ”گھر میں جتنی ” سر پھٹوول“ کر لو“ اور غلط جملے کی ادائیگی کے فوری بعد انہیں اپنی غلطی کا اندازہ ہو گیا تو انہوں نے میڈیا سے سوال کیا ”مطلب سمجھ آتا ہے ”سرپھٹوول“ کا ؟۔ کسی سے انہیں لقمہ دیا ” سر پھٹول “ فاروق ستار نے تسلیم کرنے کی کوشش کی کہ انہیں یہ لفظ درست ادا نہیں کرنا آتا ہے مگر پھر پتہ نہیں کیوں جملہ درمیان میں ہی چھوڑ دیا اور پریس کانفرنس جاری رکھتے ہوئے درست جملہ ادا کرتے ہوئے ” سر پھٹول “ کہا۔اس کے علاوہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کچھ عرصہ پہلے کہا تھا کہ،”میرے پاس ماں ہے“۔ کوئی سال بھر پہلے تک اُنہیں”سردار“ کے اِس استفسار کا جواب دینا پڑتا تھا کہ جلسے میں’ ’کتنے آدمی تھے“ اِن دنوں وہ شاہ رخ خان کا یہ مشہور ڈائیلاگ سوچ کر دل دکھاتے اور جلاتے ہوں گے، ”ہم شریف کیا ہوئے، پوری دنیا ہی بدمعاش ہوگئی“۔


مولانا فضل الرحمن
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے اتحادی اور بطور رکن قومی اسمبلی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہنے والے مولانا فضل الرحمان کی جما عت جمعیت علمائے اسلام (ف) پاکستان کے صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بہت اثر ورسوخ رکھتی ہے۔ بلوچستان میں ہمیشہ انکی جماعت کے بغیر کوئی پارٹی حکومت نہیں بنا سکی ہے۔مولانا نے ماضی کی مشہور تحریک ایم آر ڈی میں قائدانہ کردار ادا کیا جو جنرل ضیاءالحق کے خلاف تھی ،جس پر انھیں 2 سال تک جیل بھی کاٹنا پڑی۔مولانا فضل الرحمن جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ ہیں اور ان کا شمار ملک کے حاضر جواب سیاستدانوں میں ہوتا ہے۔ ان کا جملہ ” 1973ءکے آئین کے تناظر میں“ بہت مقبول ہے۔اِس کے علاوہ JUI کے امیر مولانا فضل الرحمن نے لکی مروت میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے یہ فتویٰ جاری کیا تھا کہ”ہمارے امیدواروں کے مقابلے میں امیدوار کھڑے کرنا گناہ ہوگا“۔


اعتزاز احسن
معروف سیاستدان اور پیپلز پارٹی کے رہنمااعتزاز احسن اپنی تقاریر کے دوران اکثروبیشترغالب اور افتخار عارف کے اشعار کا استعمال کرتے پائے جاتے ہیں۔اُن کا مشہور جملہ ”وہ ابھی بھی مجھے گھور رہے ہیں“بھی کافی مشہور رہا۔دراصل اعتزاز احسن کویہ جملہ اس وقت بولنا پڑا جب وہ پارلیمنٹ کے ایک مشترکہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے اور اُس وقت کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار انھیں گھور کر دیکھ رہے تھے۔


چوہدری نثار
چودھری نثار علی خان جنھوں نے نے 1988ءسے مختلف عہدوں پر وفاقی کابینہ کے ایک رکن کے طور پر کام کیا،بعدازاں انھوں نے 1988ءمیںپاکستان کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر کے طور پر مختصر عرصہ خدمات سر انجام دیں۔ پہلی و دوسری نوازشریف کابینہ کے دوران میں وزیر پٹرولیم اور قدرتی وسائل رہے اور پیپلز پارٹی کے دور میں وووزیر برائے خوراک، زراعت اور مویشی/لائیو سٹاک رہے، جب کہ اسی دوران میں وزیر مواصلات بھی تھے اور گزشتہ نواز شریف کابینہ میں وزیر داخلہ پاکستان بنائے گئے۔چودھری صاحب کے مسلم لیگ سے اختلافات ہونے کے باعث اپنی ایک تقریر میں انھوں نے کہا تھا اور واضح اشارہ دیا تھا کہ،”بچے صرف بچے ہوتے ہیں، وہ رہنماو¿ں کے طور پر قبول نہیں کیے جا سکتے“۔


فرید پراچہ
اسلامی جمعیت کے نائب امیر فرید پراچہ نے پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر مجاہد کامران کے لبرل خیالات سے متعلق یہ جملہ کہا تھا۔ اب پتہ نہیں فرید پراچہ کا اس بیان کے پیچھے کیا مقصد تھا مگر اس کی وجہ سے ان پر بہت تنقید کی گئی تھی۔ جملہ تھا،”پنجاب یونیورسٹی کا وائس چانسلر پلے بوائے ٹائپ انسان ہے“


ذوالفقار مرزا
ذوالفقار مرزا نے نجی ٹیلی وژن چینل کے ایک ٹاک شو میں اینکر پرسن کے کسی سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا،”ایان علی کو گرفتار نہ کیا جاتا تو وہ فریال تالپور کی بھابھی بن جاتی“۔ ایان علی فریال تاپور کی بھابھی؟ مگر کیسے۔ مرزا صاحب کا اشارہ سابق صدر آصف علی ذرداری کی طرف تھا۔


طاہرالقادری
پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ اور تحریک منہاج القرآن کے بانی ڈاکٹر طاہر القادری نے 2014ءمیں اسلام آباد دھرنے کے دوران اُن کا ایک جملہ ”مچھر بھی کاٹے تو بولو ،گو نواز گو“ بہت مشہور ہوا۔روحانی پیشوا اور سابق ایم این اے ڈاکٹر طاہرالقادری اپنی جذباتی تقاریر اور اُن میں ادا کیے جانے والے جملوں کے باعث خاصی مقبولیت رکھتے ہیں۔2014ءمیں تو انھوں نے جذبات میں آکر اپنے کارکنان کو قبریں کھودنے اور کفن پہننے کا حکم دے دیا تھا۔


سیاستدانوں کے بگاڑے نام
اکثر سیاسی رہنماو¿ں اور سوشل میڈیا حلقوں میںسیاسی رہنماو¿ں کے ناموں کو بھی بگاڑکر پکارا جاتاہے اورسیاسی کارکن اکثر سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کی قیادتوں کے خلاف یہ بگڑے نام استعمال کرتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ دانیال عزیز کا نام ”دانیال غلیظ“ ، عمران خان کا نام ”طالبان خان“، طلال چوہدری کا نام”دلال چوہدری“، شہباز شریف کا نام” شوباز شریف“ ،میاں صاحب کا نام ”میاں سانپ“، مریم نواز بطور”پانامہ رانی“ ،چوہدری نثار کا نام ”چوہی نثار“ یا ”مسٹر بین“ ، حسین نواز کا نام ”ببلو“، مولانا فضل الرحمن کا نام” مولانا ڈیزل“ اور شیخ رشید کو” شیدا ٹلی“ لکھا اور پکارا جاتا ہے۔


پاکستان کی سیاست میں جملے بازی
پاکستان کی سیاست میںجملہ بازی اور اخلاقی اقدار کے منافی زبان کا استعمال کافی پرانا ہے۔ماضی میں لیاقت علی خانؒ ، محترمہ فاطمہ جناحؒ اور اور مولانا مودودیؒ جیسی شخصیات کے خلاف گالم گلوچ اور گندی زبان استعمال کی گئی ۔گورنر جنرل غلام محمد خان، جنرل ایوب خان ، بھٹو، شیخ مجیب الرحمن، گورنر موسیٰ، خان عبد القیوم خان، خان عبدالولی خان، جنرل ضیاءالحق، پرویز مشرف ، شیخ رشید ، شہباز شریف ، حیدر عباس رضوی، شاہی سید ، ذوالفقار مرزا ، عمران خان ، ایوب خان ، مولانا فضل الرحمن، رانا ثناءاللہ ، عابد شیر علی، طلال چوہدری، فواد چوہدری، بشریٰ گوہر اور دانیال عزیز سمیت کئی ایسے سیاستدان ہیں‘ جو اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف نہ صرف نازیبا الفاظ کا استعمال کرتے رہے ہیں اور ایک دوسرے کو مختلف ناموں سے بھی پکارتے رہے ہیں۔ٹریکٹر، ٹرالی اور ڈمپر کے الفاظ چیخ چیخ کر ان قیادتوں سے سوال کر رہے ہیں۔ کہ کیا ہم آپ کو اس لئے اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں۔ کہ آپ تہذیب سے گری ہوئی زبان استعمال کر کے نئی نسل کو یہ سکھائیں کہ سیاست صرف ایک گندگی ہے جس میں شرافت ناپید ہے اور سیاست کے میدان میں وہی آئے جو بازاری زبان استعمال کرنا جانتا ہو۔


عمران خان کے جملوں کی کاپی
بالی ووڈاداکار سلمان خان کی بلاک بسٹر فلم ”سلطان“ پراگرچہ ایک دوسری فلم کی کہانی چوری کرنے کا الزام عائد کیا گیا وہیں پاکستان کی عالمی شہرت یافتہ مقبول شخصیت عمران خان کے مشہور الفاظ کو کاپی کیا گیا جسے سلمان خان نے ”رِنگ“ میں دوران ریسلنگ ادا کیا۔ سلمان خان نے فلم سلطان میں ایک موقع پر ڈائیلاگ ادا کیا تھاکہ ”کوئی شخص اس وقت تک ہار نہیں سکتا جب تک وہ ہار نہ مان لے“۔ فلم سلطان میں سلمان خان نے جو ڈائیلاگ ادا کیا وہ عمران خان کا NA-122 کے ضمنی انتخابات کے موقع پر مشہور جملہ تھا۔ عمران خان نے تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایک دوسرے ڈائیلاگ میں کہا تھا کہ ”تمہیں تب تک کوئی نہیں ہرا سکتا‘ جب تک تم اپنے آپ سے نہ ہار جاو¿“۔عمران خان کے دوسرے ڈائیلاگ کو سلمان خان نے ”رنگ“ میں فائنل فائٹ کے موقع پر ادا کیاتھا۔


ای پیپر