اگر کوئی چیزشوق بن جائے تو کوئی مشکل ‘مشکل نہیں لگتی:منظور وٹو
13 مارچ 2018 (22:02) 2018-03-13

انٹرویو: مہک عظیم:پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما اور سابق سپیکر پنجاب اسمبلی میاں منظور وٹو کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔ آپ کا شمار پاکستان پیپلزپارٹی کے پنجاب کے سینئر سیاستدانوں میں ہوتا ہے۔ آپ نے 1964ءمیں پہلی بار یونین کونسل ساہیوال سے الیکشن لڑا اور کامیاب رہے۔ 1985ءمیں سپیکر پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے۔ مئی 2008ءمیں منظور وٹو نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پاکستان مسلم لیگ کو چھوڑ دیا اور پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ آپ نے دُور دراز اور سرحدی علاقوں میں بھی خدمات سرانجام دیں۔ آپ محترمہ بےنظیر بھٹو کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔ آپ نے پیپلزپارٹی کے لےے گراں قدر خدمات ہیں۔ آپ نے اپنے دورِحکومت میں لوگوں کے بے شمار مسائل حل کےے۔


نئی بات: آپ نے سیاسی کیریئر کا آغاز کب کیا؟
میاں منظور وٹو : یونین کونسل کے ممبر سے اپنا کیریئر شروع کیا اور اپنے گاﺅں سے 1964ءمیں یونین کونسل کا الیکشن لڑا اور میں یونین کونسل کا چیئرمین منتخب ہوا اور ضلع کونسل ساہیوال کا ممبر منتخب ہوا۔ اس وقت اوکاڑہ ہمارا ڈسٹرکٹ نہیں تھا، ساہیوال ڈسٹرکٹ تھا اور ساہیوال میں بطورِممبر ضلع کونسل ساہیوال‘ڈسٹرکٹ کا آغاز کیا۔


نئی بات: سیاسی طور پر ہر کسی کو کسی نہ کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، آپ کو کون سی مشکلات درپیش آئیں؟
میاں منظور وٹو : سیاسی دور میں ایک ”Self made“ سیاست دان تھا اور شروع سے ہی لوگوں کی مدد کرنا، ان کے مسائل کو حل کرنا اور لوگوں کے ہر قسم کے مسائل کا حل تلاش کرنا میرا مشغلہ تھا تو ایسی کوئی مشکلات پیش نہیں آئیں کیونکہ اگر کوئی چیزشوق بن جائے تو کوئی مشکل مشکل نہیں لگتی ، اس لےے مجھے اتنی دِقت محسوس نہیں ہوئی، میں کام کرتا چلا گیا اور آگے بڑھتا چلا گیا۔


نئی بات: آپ بطورِ وزیراعلیٰ سپیکر پنجاب اسمبلی اور وفاقی عہدوں پر فائز رہے، آپ کا ایسا کون سا کام ہے جس پر آپ کو فخر ہے؟
میاں منظور وٹو : میں یونین کونسل کے چیئرمین کے بعد اپنے مرکز کا چیئرمین رہا اور اس کے بعد 1983ءمیں، میں ضلع اوکاڑہ چیئرمین منتخب ہو گیا۔ جب اوکاڑہ نیا ضلع بنا تو میں چیئرمین منتخب ہوا اور اس کے بعد 1985ءکے الیکشن کے بعد میں سپیکر منتخب ہو گیا اور میں تین دفعہ سپیکر رہا۔ 5سال کا میرا سپیکر کا دورانیہ ہے جو کہ میرا اب تک کا بڑا دورانیہ ہے اور مجھے اس بات کا بہت فخر ہے کہ ہم نے اس عرصے میں بہت سا کام کروایا اور لوگوں کے مسائل کو دُور کیا۔ ہم نے پنجاب اسمبلی کے ڈیپارٹمنٹ کو آزاد کروایا جو کہ پہلے ڈیپارٹمنٹ کا ایک حصہ تھا اور اس انداز سے ہم نے پنجاب اسمبلی کا نظام چلایا اور اس میں ہم نے گولڈن جوبلی بھی منائی جس میں چاروں صوبوں کے گورنرز اور چاروں اسمبلیوں کے سپیکرز اور آزادکشمیر کے سپیکر بھی شامل تھے اور یہ ایک بہت بڑا ایونٹ تھا جو پنجاب اسمبلی میں منعقد ہوا۔ اس میں لوگوں نے بھی حصہ لیا، پورے پاکستان سے لوگ یہاں آئے اور مجھے اس بات کی بہت خوشی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بھی اور اسمبلی گولڈن جوبلی نہیں مناسکی چاہے اُن کو 50، 50 سال ہی کیوں نہ ہو گئے ہوں۔ اس کے ساتھ جو کام میں سمجھتا ہوں میں کرسکا وہ تعلیم کا فروغ اور دیہاتوں میں رہنے والے لوگوں کو ان کے حقوق فراہم کرنا تھے۔ ہم نے پروموشن آف ایجوکیشن کا ایکٹ پاس کیا، پرائمری تعلیم کو لازمی قرار دیا جو کہ 1994ءکا ایکٹ تھا، جس کی رُو سے ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ جو والدین اپنے چھوٹے بچوں کو سکول داخل نہیں کروا سکتے، اُن بچوں کے لےے سکول کی مفت تعلیم کولازمی قرار دیا جائے ۔ جن بچوں کے ہاتھوں میں کتابیں ہونی چاہئیں اور ان کو پاکستان کا مستقبل ہونا ہے، ان کے والدین اگر ان کو محنت مزدوری کرنے بھیجیں گے تو نظام میں تبدیلی تو نہیں آسکے گی اور پاکستان ترقی نہیں کرسکتا۔اس کے لیے یہ طے کیا کہ کمیٹی کے مجسٹریٹ ان کے والدین کو بلا کر بچوں کو سکول نہ بھیجنے کی وجہ سے طلب کریں گے اور اگر وہ نہ بھیجیں گے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔


نئی بات: آپ کی حکومت نے لوگوں کے لےے کیا ایسے کام کےے جو دوسری حکومتیں نہ کرسکیں؟
میاں منظور وٹو : ہماری حکومت نے پنجاب کے دیہاتوں میں رہنے والے لوگوں کو رہائش گاہیں فراہم کیں اور ان کو ان کے قبضے دیئے۔ اس کے علاوہ دوسری حکومتوں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا۔ ہم نے لوگوں کی بھرپور مدد کی اور ان کو ان کے بنیادی حقوق فراہم کےے۔ ہماری پارٹی کا یہی جذبہ ہے کہ ہم ضرورت مند لوگوں کو ان کے حقوق فراہم کریں اور محترمہ بےنظیر بھٹو سے لے کر تمام پارٹی ورکر اس جذبے سے کام کرتے ہیں۔


نئی بات:2008ءسے 2013ءکے دوران آپ کا سیاسی کیرئیر کیسے عروج پر رہا؟
میاں منظور وٹو :دراصل 2008ءکے عام انتخابات میں مَیںنے قومی اسمبلی کے دو حلقوں NA-146(اوکاڑہ۔4) اورNA-147(اوکاڑہ۔5) سے حصہ لیا اور دونوں پرعوامی مقبولیت کے باعث کامیاب ہوگیالیکن مَیںنے NA-146 کی نشست برقرار رکھی ۔اکتوبر 2012ءمیں مجھے پی پی پی وسطی پنجاب کا صدر نامزد کیا گیااور2008ءسے2013ءتک کے دورانمَیں وفاق کی مخلوط حکومت میں، وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر بھی رہا۔


نئی بات: آپ نے تعلیم کو فروغ دینے کے لےے کیا کیا اقدامات کےے؟
میاں منظور وٹو : میں نے اپنے سیاسی کیریئر میں سب سے بہترین کام یہ کیا کہ جو بچے چھوٹی عمر کے ہیں اور ان کے والدین ان سے کام کرواتے اور سکول میں نہیں بھیجتے، میں نے پاکستان پیپلزپارٹی کے ہمراہ مل کر ایک کمیٹی بنائی جس کے تحت وہ تمام بچے جو سکول کی تعلیم سے محروم تھے، ان کو سکول کی سہولت فراہم کی گئی۔ اس کے علاوہ ان کے والدین اگر ان کو سکول نہ بھیجتے تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کروائی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کو وہ تمام سہولتیں فراہم کی گئیں جو ان کے بنیادی حقوق ہیں۔


نئی بات: اپنے فلاحی کاموں کے حوالے سے بھی کچھ بتائیں؟
میاں منظور وٹو : میں نے بہت سے فلاحی کام کےے جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ لوگ جو گاﺅں اور دیہات میں مقیم ہیں اور اپنا حق نہیں لے سکتے ان کو ان کی بنیادی ضروریات کے مطابق حقوق فراہم کےے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو ان کی آباﺅاجداد کی زمینوں کے قبضے بھی دلوائے۔ انہیں وہ تمام کاغذات فراہم کےے جس کی مدد سے ان کو ان کی زمینوں کے مالکان کے حقوق فراہم کےے گئے۔ ہم نے وہ تمام کام کےے جس سے وہ تمام لوگ جو کہ اپنے حقوق حاصل نہیں کرسکتے اور اپنے حق کے لےے آواز نہیں اُٹھا سکتے تھے، ان کی فلاح وبہبود کے لےے کمیٹیاں بنائیں اور ان کو ان کے جائز حقوق دلوائے۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف جگہوں پر غریبوں کی مدد کرتے بھی نظر آئے، بےروزگار لوگوں کو روزگار بھی فراہم کیا۔


نئی بات:” منظور وٹو اور عوام کی خدمت“کو کیسے بیان کریں گے؟
میاں منظور وٹو : مَیں ہر سال محترمہ بےنظیر بھٹو کی سالگرہ پر خون کا عطیہ دینے والے بلڈکیمپ لگواتا ہوں۔ منظور وٹو کا کہنا ہے کہ وہ اپنی رہنما کی سالگرہ پر جشن منانے سے بہتر ان لوگوں کی مدد کرنا پسند کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اس دن لوگوں کی مالی مدد بھی کرتے ہیں اور ان کے مسائل بھی سنتے ہیں اور انہیں حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مَیں اس موقع پر بہت سے فلاحی کام کرتے ہیں جس سے لوگوں کو بہت زیادہ فائدہ ہوتا ہے اور لوگ مجھے دُعائیں دیتے ہیں۔مجھے عوام کی خدمت کرنے سے ان کو بہت خوشی ملتی ہے۔


نئی بات:آپ خود کو ایک سیاسی کارکن ہونے کی حیثیت سے کیسے دیکھتے ہیں؟
میاں منظور وٹو : مَیں سمجھتا ہوں کہ پاکستان پیپلزپارٹی کا ایک اہم کارکن ہونے کے علاوہ منظور وٹو ایک بہت رحم دل انسان ہے جو کہ اپنا پورا وقت غریبوں، مددگاروں اور عوام الناس کی خدمت میں َصرف کرتا ہے۔مَیں نے بہت سے بے روزگاروں کو نہ صرف روزگار فراہمکروانے میں تعاون کیا۔ جس سے بہت سوں کے گھروں کے چولہے جلے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے دورِحکومت میں ہم نے بیوہ عورتوں کو گھر فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں ماہانہ معاوضہ بھی لگوایا، یہ ہمارے سنہروں کارناموں میں سے ایک ہے۔


تعارف
وہ پہلی بار1983ءمیں اوکاڑہ ضلع کونسل کے چیئرمین منتخب ہوئے، اس کے بعد 1985ءکے عام انتخاب میں پہلی مرتبہ رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے۔ اُس وقت وہ صوبائی اسمبلی کے اسپیکربھی منتخب کیے گئے۔1988ءمیں ایک بارپھر بطور آزاد امیدوار پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے لیکن اس کے فوراً بعد انہوں نے پاکستان مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرلی تھی جو اُس وقت اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) کا حصہ تھی۔ اس مرتبہ بھی وہ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر منتخب کیے گئے۔1993ءمیں وہ اسلامی جمہوری اتحاد کے ٹکٹ پر بیک وقت قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشست پر منتخب ہوئے تاہم انہوں نے صوبے میں رہنے کا فیصلہ کیا اور مسلسل تیسری بار اسپیکر پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے۔1993ءکے انتخابات کے بعد انہوں نے پیپلزپارٹی کی حمایت سے پاکستان مسلم لیگ نون کے غلام حیدر وائیں کی وزارتِ اعلیٰ کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش کرکے اسے کامیابی سے ہمکنار کیا اور بعد ازاں خود کو وزیِر اعلیٰ منتخب کرانے میں کامیاب ہوئے۔ اس وقت ان کے ساتھ لگ بھگ17 ارکانِ اسمبلی تھے۔1995ءمیں اُن کا پی پی پی سے ساتھ چھوٹا اور اُس وقت کی وزیراعظم بینظیر بھٹو کی حمایت سے مسلم لیگ جونیجو سے تعلق رکھنے والی ایک اور سیاسی شخصیت عارف نکئی وزیرِ اعلیٰ پنجاب بنے۔اپنے کزن حامد ناصر چھٹہ جومسلم لیگ جونیجوکے صدر بننے کے خواہشمند تھے، ا±ن سے علیحدگی کے بعد، اسی سال وٹو نے اپنا الگ دھڑا پاکستان مسلم لیگ جناح کے نام سے قائم کیا۔1996ءمیں وہ اپنے قائم کردہ سیاسی دھڑے کے پلیٹ فارم سے رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ اُس وقت انہیں بدعنوانیوں کے الزامات کا سامنا بھی کرنا پڑا اور اس حوالے سے قائم ایک مقدمے میں انہیں سزا بھی ہوئی۔انھوں نے شروع کے چند ماہ جیل میں گزارے اور بعد ازاں، طبّی بنیادوں پر پنجاب اسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل ہوگئے۔ہسپتال میں اُن کے کمرے کو سب جیل قرار دے دیا گیا، جہاں وہ کم و بیش 2 سال قید میں رہے۔جنرل پرویزمشرف کے دور میں رہائی کے بعد، انہوں نے مسلم لیگ ق میں شمولیت اختیار کی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ سابق صدر کے قریبی دوست تھے اور پرویز مشرف کے کہنے پر ہی انہوں نے اپنے سیاسی دھڑے مسلم لیگ جناح کو مسلم لیگ ق میں ضم کیا تھا۔


ای پیپر