منصوبہ بندی اور نظم و ضبط سے کامیابی کا رُخ اپنی طرف کریں
13 مارچ 2018 (21:58)

منصوبہ بندی سے روز مرّہ کے کام انجام دیں
 ہدف سے آغازکریں اوراس کام کوکرنے کا خود کو پابند کر لیں
 اپنے اندر مثبت عادتیں پیداکریں
 اچھی کتب کا مطالعہ اورکامیابی سے متعلقہ ورکشاپس میں شمولیت کریں


نعیم سلہری:فطرت کے تمام مظاہرمیں قدرت کی نشانیاں ہیں اور ان میں پایا جانے والا نظم وضبط اور ڈسپلن دیکھنے کے قابل ہے۔اللہ تعالیٰ نے دن کام کاج اور رات آرام کرنے کے لئے بنائی ہے، دن کی ضروریات کے لئے الگ اور رات گزرانے کے لئے الگ اسباب مہیا کیے ہیں۔ دن کو روشن کرنے کے لئے سورج اور رات کو پُرسکون بنانے کے لئے چاند تارے پیدا کئے ہیں۔ سورج ہر دن معینہ وقت پر، مشرق سے طلوع ہوکر مغرب میں غروب ہوتا ہے اور اسی طرح چاند اور تارے بھی اپنے معمول کے مطابق محوِ گردش ہیں۔ پہاڑ زمین کو اپنی جگہ پر قائم رکھنے کے لئے ایک خاص اندازاور ہیبت سے کھڑے ہیں۔ ندی، نالے، دریا اور نہریں فطرت کے طے کردہ معمول کے مطابق بہتے ہیں۔ پہاڑ ندی نالے بننے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ ندی نالے پہاڑوں کی جگہ لینے کی جسارت۔ سورج کبھی رات کو نکالا ہے اور نہ کبھی چاند نے سورج کی جگہ لی ہے۔ یہ منصوبہ بندی صرف ماحول میں ہی نہیں بلکہ عالم حیوانات پر نظر ڈالی جائے تو چرندو پرند ، وحوش وطیور بھی اپنے اپنے طور پر منصوبے رکھتے ہیں ، بعض جانور موسمی تبدیلی کے لحاظ سے رہائش کے لئے نقل مقام کرتے ہیں اور دوسرے جنگل کا رخ کرتے ہیں ، پرندے موسم کے اعتبار سے اپنے مقام کو تبدیل کرتے ہیں ، یہاں تک کہ چیونٹیاں موسم گرما میں موسم سرما کے لئے ذخیرہ اندوزی کرتی ہیں۔
ان فطرتی مظاہر میں پایا جانے والا نظم وضبط اور ڈسپلن اس بات کا غماز ہے کہ انسان کو بھی اپنی زندگی احسن طریقے سے گزرانے کے لئے نظم وضبط اورمنصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ یہ دوایسے عناصرہیں جو انسان کی زندگی کو منظم، پُرسکون اورکامیاب بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ انسانی زندگی میں منصوبہ بندی اور پلاننگ کی بڑی اہمیت ہے ، ہر صاحب سمجھ اور باشعور انسان منصوبہ بندی سے کام کرتاہے ، سکولوں اورکالجوں کے لئے جو نصاب تیارکیا جاتاہے، دراصل وہ طالب علموں کی تعلیمی زندگی کے لئے منصوبہ بندی ہے، والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے منصوبہ بندی کرتے ہیں، ایک تاجر اپنی تجارت کو فروغ دینے کے لئے اپنے ذہن میں متعدد منصوبے رکھتا ہے، تجارتی منصوبوں پرعمل کرتے ہوئے تاجر اپنی مصنوعات کی تشہیرکرتے ہیں، اپنی مصنوعات کی ایڈورٹایزنگ کرتے ہیں، مسلح افواج ہتھیار اور عددی طاقت رکھنے کے ساتھ ساتھ نہایت چابک دستی سے منصوبہ بندی کرتی ہیں تاکہ بر وقت کارروائی کرکے دشمن کا مقابلہ کیا جاسکے۔


منصوبہ بندی کے متعدد معنی اورتعریفیں بیان کی گئی ہیں۔ اس کا مطلب بامقصد سرگرمیوں میں ایک تناسب سے ترجیحات کی بنیاد پرلائحہ عمل کا تعین کرنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ منصوبہ بندی ، تدبیر اورکام کی تقسیم اور مستقبل میں اسے انجام دینے کے لئے فیصلہ کرنے سے عبارت ہے۔ یعنی کام کو منظم اور مربوط طریقے سے سر انجام دینے کو اصطلاح میں ”مینجمنٹ“ یا منصوبہ بندی کہا جاتا ہے۔


منصوبہ بندی اور پلاننگ کے، انسان کی زندگی پر انتہائی اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ منصوبہ بندی ہوتی ہے تو سارے کام، ذمہ داریاں اور سرگرمیاں بہت منظم طریقے سے ثمر آور ثابت ہوتی ہیں۔ جدید ٹکنالوجیزکی اس دنیا میں علم کے حصول، فکری و سماجی اور معاشی ترقی اورذاتی کامیابی کے لئے انسان کو منصوبہ بندی کرنے اور نظام الاوقات کی ضرورت ہے۔


زندگی میں آگے بڑھنے کے لئے مقصد اور ارادہ انتہائی اہم عناصر ہیں۔ ان کے بغیر زندگی اوراس میں کی جانے والی جدو جید ، دونوں بے معنی ہوکررہ جاتی ہیں لیکن مقصد کے حصول اور ارادوں کی تکمیل کے لئے منصوبہ بندی اورنظم ونسق ان سے بھی کہیں بڑھ کراہم ہیں۔ اس مرحلے پر نوبت آتی ہے ہدف کے آغازکی سمت قدم بڑھانے کی، یعنی کس وقت ہدف کی سمت قدم اٹھایا جائے چنانچہ اگر ہم مقصدکے آغاز سے متعلق کوئی ٹھوس فیصلہ نہ کرسکیں تو ہمارے اہداف ومقاصد اور ارادے صرف خواب اورآرزو ہی بن کر رہ جائیں گے۔ اسی لئے عقل و بصیرت سے فیصلہ کرتے ہوئے اور منظم طریقے سے دستیاب وسائل وذرائع کو مد نظر رکھتے ہوئے، صحیح منصوبہ بندی کے ساتھ اپنے ہدف کی جانب قدم بڑھانا چاہئے۔کیونکہ کوئی بھی چیزکام کی تکمیل اور ہدف تک رسائی میں درست طریقے سے منصوبہ بندی سے زیادہ موثر نہیں ہے۔ اس ضمن حضرت علی ؓ کا قول مبارک ہے ” مقصد تک رسائی کے لئے وسائل وذرائع ہونے سے زیادہ منصوبہ بندی میں دقت اور باریکی کو اہمیت حاصل ہے“۔


انسان کی عمر اور وقت تیزی سے گزر جانے والی چیزیں ہیں لیکن انسان اس بات کو محسوس نہیں کر پاتا کہ جو وقت ہاتھ سے چلاجائے وہ پلٹ کر نہیں آتا۔ وقت ایسی چیزہے جس کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ اگر کوئی دوسرا سرمایہ یا قیمتی چیزانسان کے ہاتھ سے نکل جائے تو اس کی تلافی توکسی نہ کسی صورت کی جا سکتی ہے مگر عمر اور وقت وہ سرمایہ ہے جو قابل تلافی نہیں ہے۔ دوسری جانب اس بات کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے کہ ہرکام کو اس کے مقرروقت پر انجام دیا جائے۔ایسا اسی وقت ہوسکتا ہے جب منصوبہ بندی ہو۔


منصوبہ بندی کے ساتھ ہی تمام دستیاب مواقع اور وسائل سے زیادہ سے زیادہ اور بروقت فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے ۔ منصوبہ بندی کا سب سے اہم فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کے اندرسے بہت سی مفید اورکارآمد عادتیں پیدا ہوجاتی ہیں جن کی بدولت وہ ہرکام بآسانی اور سہولت کے ساتھ احسن طریقے سے سر انجام دے سکتا ہے۔اس طرح صحیح منصوبہ بندی انسان کی زندگی میں اس کی پسندیدہ روش کو چار چاند لگا دیتی ہے اور وہ زندگی کی ڈور میں ان لوگوں پر سبقت حاصل کر لیتا ہے جوکام کرنے میں منصوبہ بندی اور نظم وضبط کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ یہاں ہم کہہ سکتے ہیں ہماری زندگی میں پائی جانے والی پریشانیاں، محرومیاں، ناکامیاں اور نامرادیاں منصوبہ بندی کے فقدان کا ہی نتیجہ ہوتی ہیں۔ کسی داناکا قول ہے کہ ” ہرکام انجام دینے سے پہلے تدبیر اور منصوبہ بندی انسان کو پشیمانی سے محفوظ رکھتی ہے“۔


کسی کام کو ٹھیک سے انجام دینے اورسے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لئے نظم وضبط کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے منصوبہ بندی کے بعد امور میں نظم وترتیب کی پابندی کرنا لازمی ہے۔ زندگی کے امور میں بہت سی مشکلات کا سبب نظم وضبط کا نہ ہونا بھی ہوتا ہے۔ نظم جیسی پسندیدہ صفت، معجزاتی طور پرطرز زندگی میں مثبت تبدیلیاں پیداکردیتی ہے۔کام میں نظم وضبط، فرد اور معاشرے یعنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں بہت مثبت اثرات ونتائج کا حامل ہے۔ اس سے وقت اور سرمایہ ضائع ہونے سے محفوظ رہتا ہے ۔ اسی لئے کامیاب انسان ان کاموں کو جو اہمیت رکھتے ہیں، پہلے سر انجام دیتے ہیں۔ وہ ہر ایک کام کی انجام دہی کے لئے وقت اور زمانے کا تعین کرتے ہیں تاکہ رفتہ رفتہ دیگر اوقات میں اپنے تمام امور انجام دیتے رہیں ۔ اس طرح وہ اپنے کاموں اور زندگی میں انتشار سے بچ کر اپنے وقت جیسے اہم ترین سرمایہ سے بہترین فائدہ حاصل کرتے ہیں ۔ جو انسان اپنے روزو شب کے اوقات کی منصوبہ بندی کرتا اور اپنے انفرادی و اجتماعی کاموں کے لئے وقت کو مد نظر رکھتا ہے ، اور ایک وقت میں ایک ہی کام پر پوری توجہ مرکوز رکھتا ہے، وہی وقت کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاتا اورکامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے۔ ایک وقت میں ایک کام کے حوالے سے معروف امریکی شخصیت ساز اور موٹیویشنل سپیکر برائن ٹریسی اپنی کتاب ” مسائل حل کرنے کے 21 اصول “ میں لکھتے ہیں: ” ہدف سے آغازکریں اوراس کام کوکرنے کا خود کو پابند کر لیں۔ مصمم ارادہ کر لیں کہ آپ کام کو پوری قوت اور سو فیصد توجہ سے کریں گے کیونکہ یہ ہدف دوسرے کاموں کی نسبت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اگر آپ کی توجہ ہٹ جاتی ہے تو اس کام کی طرف جتنی جلد ممکن ہو لوٹ آئیں۔ اپنی فہرست میں موجود تمام کام مکمل یکسوئی کے ساتھ نمٹائیں۔”ایک وقت میں ایک کام“ یہی وہ اصول ہے جو آپ کی زندگی کو سادہ اور آرام دہ اور آپ کی سرگرمیوں کو نتائج خیز بنا سکتا ہے“۔


دوسروں کو منظم کرنا:انسان تن تنہا ایک عام سطح کی خوشحال زندگی توگزار سکتا ہے مگر اس معیارکی کامیابی حاصل نہیں کرسکتا جو دوسروں کے لئے مثال بن جائے اور اس سے معاشرہ بھی مستفید ہو سکے۔ اس سطح کی کامیابی حاصل کرنے کے لئے اسے اپنی ذات سے باہر نکل کر سوچنے اور عمل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ ضرورت پوری کرنے کے لئے ٹیم ورک کی درکار ہوتا ہے اور اس کے لئے اسے اپنے ساتھ ساتھ اپنے ٹیم ممبرزکو بھی منظم کرنا پڑتا ہے۔ لوگوں کو منظم کرنا دراصل اپنے مقاصد کے یقینی حصول کے لیے انفرادی طور پر دوسروں کوآمادہ اور قائل کرکے اجتماعی کام لینا ہوتا ہے۔ یہ مقصد حاصل کرنے کے لئے ایک منتظمین کو لازمی طور پر لوگوں کی ضروریات اور ان کے رویوں کو سمجھنا ہوگا تب کہیں جاکر وہ ایسے رہنما بنیں گے جو اپنی ٹیم کے لوگوں کو متاثرکن اور ترقی یافتہ بنا سکتے ہیں۔ یہاں پہنچ کر ایک انسان کو ایک بہترین مقرر اور اچھا نفسیات دان بننا پڑتا ہے۔ اس کو اپنے اندر ایسی مثبت عادتیں پیداکرنا ہوتی ہیں جن کی وجہ سے وہ دوسروں کو اپنی طرف ایسے کھینچ سکے جیسے مقناطیس لوہے کو کھینچتا ہے۔ یہ خوبیاں پیدا کرنے کے لئے اچھی کتب کا مطالعہ اور موضوع سے متعلق ورکشاپس میں شمولیت انتہائی کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔


انسان کو زندگی میں بہت سے مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اگر انسان منصوبہ بندی سے روز مرّہ کے تمام کام انجام دے تو اس کی پریشانیاں کافی حد تک کم ہو جاتی ہیں۔ جب آپ خود منظم نہ ہوں تو کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ ہم ایک اچھی زندگی بسر کر سکیں۔ کوشش کریں کہ گھر اور دفتر میں ایک منظم طریقے سے سارے کام انجام دیں۔ ایسے افراد جو اپنی زندگی میں منظم نہیں ہوتے ہیں ، ان کے متعلق معاشرے کی رائے اچھی نہیں ہوتی، وہ دوسروں کی تنقید کا نشانہ بنتے اور غیر سنجیدہ ہونے کے طعنے ہی سنتے رہتے ہیں۔ اورآخرکار لوگوں کے اس رویے سے تنگ آکر۔۔۔ جو دراصل ان کا اپنا ہی کیا دھرا ہوتا ہے۔۔۔ کبھی کبھارکوئی ایسا انتہائی قدم اٹھا لیتے ہیں جو ان کے کئے، ان کے اہل خانہ، دوست احباب اور یہاں تک کہ معاشرے کے لئے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ لہذا ایسی صورت حال سے بچنے کے لئے ہرانسان کو چاہئے کہ وہ اپنے وقت، وسائل اور صلاحیتوں کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے زندگی میں منصوبہ بندی اور نظم وضبط جیسے اوصاف کی مدد سے کامیابی حاصل کرکے دوسروں کے لئے عمدہ اور مثبت مثال قائم کرے۔


ای پیپر