نوے ویں آسکر ایوارڈز 2018ء۔۔۔ دی شیپ آف واٹر کی زبردست کامیابی
13 مارچ 2018 (21:48) 2018-03-13

حرارحمن:فلمی دُنیا کا سب سے بڑا اعزاز ”آسکرز“ (اکیڈمی ایوارڈز )، جس کی کوئی بھی فنکار، تکنیک کار، ڈائریکٹر، پروڈیوسر، میوزک ڈائریکٹر وکمپوزر، گلوکار، سکرپٹ رائٹر، فلم ایڈیٹر سمیت تمام شعبوں سے وابستہ ہنرمندوں اپنے دل میں اسے حاصل کی خواہش رکھتے ہیں اور ہالی وڈ، بالی وڈ سمیت دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے فلم میکر اپنی فلموں کو آسکرایوارڈز میں نامزدگی اور ایوارڈز حاصل کرنے کیلئے بھرپور محنت کرتے ہیں لیکن یہ ایوارڈ اُسی کو ملتا ہے جس کا کام سب سے معیاری، خوبصورت، انوکھا، دلکش، دلفریب، پُرمزاح اور منفرد ہو۔یقینا آسکرز کو فلمی انٹرٹینمنٹ میں ایک معتبر حیثیت حاصل ہے، اس میں نہ صرف ایوارڈ بلکہ نامزدگی حاصل کرنا بھی بہت بڑی کامیابی ہے لیکن اس کے لےے بہت زیادہ محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اکیڈمی ایوارڈز کی تقریب کے انعقاد کا وقت جیسے جیسے قریب آتا ہے، شوبز انڈسٹری سے وابستہ لوگ اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دینا شروع کردیتے ہیں۔ ایوارڈ چاہے نہ ملے مگر اس میں شامل ہونا ہی اپنے لےے اعزاز سمجھتے ہیں۔

آسکرکا90واں میلہ

حال ہی میںدنیاکے سب سے بڑے اور معتبر ترین ایوارڈزآسکرکا90واں میلہ کیلیفورنیا میں منعقد کیا گیا۔ اس تقریب میںہالی وڈ کے معروف فلمی ستاروں کے علاوہ دُنیا بھر کی معروف شخصیات نے بھی شرکت کی ۔ اپنے پسندیدہ اداکاروں، گلوکاروں، فلم ڈائریکٹرزومشہور شخصیات کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے مداحوں کی کثیرتعداد اپنے ہاتھوں میں خوبصورت قلم اور کاغذ پکڑے آٹوگراف کی اُمید لےے تھیٹر کے باہر موجود تھی جہاں فلمی ستارے باری باری اس تقریب میں شرکت کیلئے خوبصورت اور دیدہ زیب ملبوسات کے ساتھ ریڈکارپٹ پر اتر رہے تھے۔جہاں ایک طرف فلمی ستارے ایوارڈ شو میں شرکت کیلئے پہنچ رہے تھے تو دوسری طرف اس شاندار تقریب کی کوریج کیلئے پوری دُنیا سے آیا میڈیا بھی اپنے فرائض منصبی انجام دے رہا تھا۔جونہی کوئی سٹار (سلیبریٹی) ریڈکارپٹ پر پہنچتا تو تمام کیمروں کا رُخ اس کی طرف ہو جاتا جبکہ پرستار بھی اپنے من پسند اداکاروں کے ساتھ سیلفیاں بنانے اور ان سے آٹوگراف لینے کیلئے بے چین تھے اور کئی لوگ بعض اداکاروں کے ہمراہ مجسّمے کے ساتھ تصاویر بھی بنا رہے تھے۔ آسکر ایوارڈز کی انتظامیہ نے تقریب کو خوبصورت، منفرد ویادگار بنانے کیلئے سخت ترین سکیورٹی سمیت تمام انتظامات کر رکھے تھے۔حسب روایت ایوارڈ شو کے لےے سیٹ معروف ڈیزائنر سے تیار کروایا گیا تھا۔ آسکرایوارڈ میں نامزدگی حاصل کرنے والے فنکار، تکنیک کار، پروڈیوسر، ہدایتکار، رائٹر، گلوکار، موسیقار کے علاوہ فیشن انڈسٹری سے ماڈلز سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات بھی شریک تھیں۔

90ویں آسکرز میں طلائی مجسمہ جیتنے والے

فلم ” دی شیپ آف واٹر “ کو آسکر کے لیے سب سے زیادہ یعنی 9 نامزدگیاں ملی تھیں، جن میں سے وہ 4 کیٹیگریز میں ایوارڈ لینے میں کامیاب گئی۔دوسرے نمبر پر فلم ”ڈنکرنک“ رہی، جس نے 3ایوارڈ حاصل کیے، جب کہ”تھری بلبورڈزآو¿ٹ سائڈ ایبنگ مسوری“ اور’ ’ڈارکیسٹ اور“ کے حصے میں 2، 2ایوارڈ آئے۔بہترین فلم، ہدایت کار، اداکار و اداکارہ کا ایوارڈ انہوں نے ہی حاصل کیا ہے، جن سے متعلق فلمی ناقدین نے پہلے ہی خیال ظاہر کیا تھا۔ دی شیپ آف واٹر نے نہ صرف بہترین فلم بلکہ بہترین ڈائریکٹر سمیت بہترین پروڈکشن ڈیزائن اور اوریجنل سین کی کیٹیگری میں ایوارڈ جیتے۔مجموعی طور پر آسکر میں 24 کیٹیگریز میں ایوارڈز دیے گئے، بہترین غیر ملکی زبان کی فلم کا ایوارڈ چلی کی فلم ”فانٹیسٹک ویمن“نے حاصل کیا۔

بہترین فلم:( دی شیپ آف واٹر )

بہترین ڈائریکٹر:گلیرمو ڈیل ٹورو ( دی شیپ آف واٹر )

بہترین اداکار:گیری اولڈ مین (ڈارکیسٹ اور)

بہترین اداکارہ:فرانسز میکڈورمنڈ ( تھری بلبورڈز آو¿ٹ سائڈ ایبنگ مسوری)

بہترین معاون اداکار:سام راک ویل ( تھری بلبورڈز آو¿ٹ سائڈ ایبنگ مسوری)

بہترین معاون اداکارہ:ایلسن جینی (آئی ٹونیا)

بہترین ایٹاپٹڈ اسکرین پلے:(کال می بائے یوئر نیم)

بہترین اوریجنل اسکرین پلے:(گیٹ آو¿ٹ)

بہترین اینیمیٹڈ فیچر فلم:(کو کو)

بہترین غیر ملکی زبان کی فلم:(فانٹیسٹک ویمن) چلی

بہترین ڈاکیومینٹری فیچر:اکارس

بہترین سائنمٹاگرافی:بلیڈ رنر 2049

بہترین فلم ایڈیٹنگ:ڈنکرنک

بہترین پروڈکشن ڈیزائن: دی شیپ آف واٹر

بہترین کاسٹیوم ڈیزائن:فانٹوم تھریڈ

بہترین میک اپ اینڈ ہیئر اسٹائلسٹ:ڈارکیسٹ اور

بہترین اوریجنل اسکور: دی شیپ آف واٹر

بہترین اوریجنل سانگ:ریمیمبر می(کو کو)

بہترین ساو¿نڈ ایڈیٹنگ:ڈنکرنک

بہترین ساو¿نڈ مکسنگ:ڈنکرنک

بہترین وڑوئل افیکٹس:بلیڈ رنر 2049

بہترین اینیمیٹڈ شارٹ فلم:ڈیئر باسکٹ بال

بہترین لائیو ایکشن شارٹ فلم: دی سائلنٹ چائلڈ

بہترین ڈاکیومینٹری شارٹ سبجیکٹ:ہیون از دی ٹریفک جام آن دی 405

نامور ستاروں کی یاد میں۔۔

ہالی ووڈ کے سب سے بڑے اور معتبر ایوارڈآسکرکا90واں میلا منعقد کیا گیا جس میں تقریب کے آغاز پر دنیا سے رخصت ہوجانے والے نامور ستاروں کویاد کیا گیا۔ آسکر ایوارڈ تقریب میںبالی ووڈفلم انڈسٹری کی پہلی خاتون سپرسٹاراداکارہ و سری دیوی اوراور پر تھوی راج کپور کے بیٹے اداکارششی کپور کو خراج تحسین پیش کیا ۔گلوکارایڈی ویڈرنے اپنی سٹیج پرفارمنس کے دوران لاکھوں کروڑوں دِلوں پر راج کرنے والی سلیبیریٹیز کو خراجِ تحسین پیش کیا اور گیت”دکھ کے بِنا کوئی خوشی نہیں ہے“سے شروع کیا اور پھر دنیا کو چھوڑ کر رخصت ہو جانے والے فنکاروں کو یاد کرنا شروع کیا۔اس پرفارمنس کے دوران ایڈی نے ان فنکاروں کے علاوہ چک بیری،جیری لیوئس،راجر مور،میری گولڈ برگ ،جوناتھن ڈیمی،جان ہرڈ،مارٹن لینڈو،جان مولو،جارج اے رومورو اور برنی کیسے سمیت دنیا بھر کے کئی ستاروں کے نام لئے اور ان کی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔

ایوارڈ چوری اور گرفتاری

آسکرز 2018 کی تقریب میںفرانسیس میکڈورمینڈ نے فلم”تھری بل بورڈز آو¿ٹ سائڈ ایبنگ، میسوری“ کے لیے بہترین اداکارہ کا ایوارڈ حاصل کیالیکن تقریب کے کچھ دیر بعد ہی بہترین اداکارہ کا اعزاز حاصل کرنے والی فرانسیس میکڈورمینڈ کا ایوارڈ سرکاری عشائیے کے دوران چوری ہوگیا لیکن ایوارڈ چرانے کے شبے میں ایک شخص کو گرفتار کیا گیا۔لاس اینجلس کی پولیس نے تصدیق کی کہ ایوارڈ کے کھو جانے کے بعد ٹیری برائنٹ نامی شخص کو گرفتار کیا گیا ۔47 سالہ شخص کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا اور 20000 ڈالر کے عوض ضمانت دی گئی ہے۔ انہیں اب عدالت میں پیش ہونا ہوگا۔بعدازاںایوارڈ بہترین اداکارہ کا اعزاز حاصل کرنے والی اداکارہ کو لوٹا دیا گیا ۔اداکارہ کے ترجمان نے او ایس اے ٹوڈے کو بتایا،”فرانسیس میکڈورمینڈ اور ان کا ایوارڈ پھر سے مل گئے ہیں اور خوش ہیں“۔آسکرز کے بعد سرکاری عشائیے کے دوران ایوارڈ چوری کرنے والے برائنٹ کے پاس شرکت کا دعوت نامہ موجود تھا۔خوش قسمتی سے ایوارڈ کھونے سے قبل اس پر اداکارہ کا نام کنندہ کیا جا چکا تھا۔اس موقع پر اداکارہ فرانسیس میکڈورمینڈ کو اپنی تقریر پر کافی پر جوش انداز میں سراہا گیا کیونکہ انھوں نے خواتین کی تعریف کرتے ہوئے آسکرز کے لیے نامزد ہونے والی تمام خواتین کو کھڑے ہونے کے لیے بولا۔انھوں نے اپنی تقریر کے اختتام پر کہا،”مَیں آپ کو آج کی رات دو الفاظ دے رہی ہوں، انکلوژن رائڈر (برابر کی شریک)“۔انھیں یہ ایوارڈلا اپنے اُس کردار کے لیے ملا جس میں انھوں نے انصاف کی متلاشی ایک ایسی ماں کا کردار ادا کیا جس کی بیٹی کے ساتھ ریپ ہوتا ہے اور حکام ان کی تذلیل کرتے ہیں۔یہ ان کا دوسرا آسکر ایوارڈ ہے، انھوں نے 21 سال پہلے ”فارگو “کے لیے بھی آسکر جیتا تھا۔

آسکر کی تاریخ

اکیڈمی ایوارڈ ( آسکر ایوارڈ) کی پہلی تقریب ہالی ووڈ روزویلٹ ہوٹل لاس اینجلس میں 1929ءمیں منعقد ہوئی۔ یہ ایک پرائیویٹ ڈنر تھا جس میں صرف 270 افراد شریک تھے اور داخلہ ٹکٹ کی قیمت صرف پانچ ڈالر تھی۔ صرف15 منٹ جاری رہنے والی اس تقریب میں 12 اقسام کے ایوارڈ دیئے گئے۔ سب سے زیادہ ایوارڈ 3فلموں ساتویں بہشت، صبح سویرے، اور 2 انسانوں کا ایک گیت کو ملے۔ ایوارڈز کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ بہترین فلم ونگز، بہترین کہانی انڈر ورلڈ، بہترین سکرین پلے (ساتویں بہشت)، بہترین پروڈکشن ڈیزائن ولیم کیمرون، بہترین ڈائریکٹر فرینک بورزاگ (ساتویں بہشت)، بہترین اداکار عمل جنننگس ( دی لاسٹ کمانڈ)، اور بہترین اداکارہ گنٹ گینار۔ چارلی چپلن اور وارنر برادرز کو اعزازی اکیڈمی ایوارڈ ملے۔

ایوارڈ کا نام آسکر کیسے پڑا؟

اس بارے میں بہت سے قصے مشہور ہیں۔ لیکن سب سے مصدقہ کہانی یہ ہے کہ اکیڈمی کی لائبریرین مارگریٹ نے پہلی دفعہ ایوارڈ کی ٹرافی دیکھی تو اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا،”اس کی شکل تو میرے چچا آسکر سے ملتی جلتی ہے“۔ اس دن سے لوگوں نے اکیڈمی ایوارڈ کی ٹرافی کو آسکر کہنا شروع کر دیا۔ اکیڈمی نے بھی یہ عرفی نام 1939ءمیں اپنا لیا۔شروع میں آسکر ٹرافی یا مجسمہ ٹھوس کانسی سے بنا کر اس پر سونے کا ملمع چڑھا دیا جاتا تھا۔ بعد میں کانسی کی بجائے برٹانیا، جو کہ پیتل، نکل اور چاندی کا مرکب ہے‘ کا استعمال شروع ہو گیا۔ آخر میں مجسمے پر 24 قیراط سونے کا ملمع یا غلاف چڑھا دیا جاتا ہے۔ یوں دیکھنے میں آسکر خالص سونے کا بنا ہوا نظر آتا ہے۔ مجسمے کا قد ایک فٹ ڈیڑھ انچ اور وزن ساڑھے آٹھ پونڈ ہے۔دوسری جنگ عظیم کے دوران دھاتوں کی قلت کے سبب3 سال تک جو آسکر مجسمے تقسیم کیے گئے وہ دھاتوں کی بجائے روغن شدہ پلاسٹر سے بنائے گئے تھے۔ جنگ عظیم کے خاتمہ کے بعد اکیڈمی نے انعام یا فتگان سے روغنی پلاسٹر والے آسکر واپس لے کر انھیں سونے کے غلاف والے دھاتی آسکر دے دئیے۔اکیڈمی ایوارڈز دینے والوں کے فرشتوں کی بھی علم نہیں ہوتا کہ امسال کتنے آسکر تقسیم ہوں گے۔ انھیں ایوارڈز کی اقسام کا تو پہلے سے علم ہوتا ہے لیکن جب لفافے کھلتے ہیں تو اکثر ایک ہی قسم کے ایوارڈ میں دو یا دو سے زیادہ افراد برابر کے حصہ دار نکل آتے ہیں۔ لہٰذا اکیڈمی ہر سال ضرورت سے کچھ زیادہ ہی آسکر مجسمے بنوا لیتی ہے۔ جو مجسمے بچ جاتے ہیں انہیں اگلے سال کی تقریب کے لئے محفوظ کر لیتے ہیں۔اکیڈمی ایوارڈ کے اجرا سے اب تک کل 3001 آسکر تقسیم کئے جا چکے ہیں۔ آسکر ایوارڈ کی تقریب کو ٹی وی پر نشر کرنے کا آغاز 1953 ءمیں ہوا۔

گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی پرستار اپنے پسندیدہ ستاروں کو دیکھنے کے لےے جمع تھے اور گزشتہ سال آسکر جیتنے والے سٹارز اداکار لیناروڈ ڈی کیپریو، بری لارسن، کیٹ ونسلیٹ، مارک ریلانس، ایلیسیا ویکاندر، ٹام میکارتھی سمیت بہت ساروں کو دیکھنے کی آس لےے بھی جمع تھے۔

گزشتہ ہفتے بالی ووڈ فلموں کا بزنس کیسا رہا؟

پری 17.48کروڑ

سونو کی ٹیٹو کی ٹویٹی 68.05 کروڑ

ویلکم ٹو نیو یارک 3کروڑ

عیارے 17.79 کروڑ

پیڈ مین 80 کروڑ

پدما وتی 288.43 کروڑ

1921 15.67 کروڑ

کالا کاندی 5.77 کروڑ

مکا باز 8.87 کروڑ

ٹائیگر زندہ ہے 339.16 کروڑ

فکرے ریٹرنز 80.13 کروڑ

فرنگی 9.50 کروڑ


ای پیپر