سینیٹ الیکشن2018....”بکائو مال“
13 مارچ 2018 (21:42) 2018-03-13

حافظ طارق عزیز:حالیہ سینیٹ انتخابات میں وسیع پیمانے پر جہاںہارس ٹریڈنگ ہوئی،وہاںاب حالات یہ ہیں کہسینیٹ چیئرمین کے انتخاب میں ایک بار پھر گھوڑوں کی دوڑ جاری ہے اور خوب پیسہ لگایا جا رہا ہے اور اس غیر یقینی کی صورتحال میں تمام سیاسی جماعتیں ہی ملوث ہیں اور المیہ تو یہ ہے کہ یہی جماعتیںبکاﺅ مال کی بات بھی کررہی ہیں۔قبل ازیںگزشتہ انتخابات کے بعد جب مسلم لیگ(ن)نے عنانِ حکومت سنبھالا تھاتو دھاندلی کے خلاف ایک مہم کا آغاز کیا گیا تھا۔ جس کے لیے عمران خان میدان عمل میں تھے،دھاندلی کے خلاف تحریک دھرنوں میں تبدیل ہوئی، 4 حلقے کھولنے کے لیے پورے ملک کو بند کرنا پڑا، سپریم کورٹ کو مداخلت کرنا پڑی، ملک کی معیشت کو نقصان پہنچا، پوری دنیا میں سب کو علم ہوگیا کہ یہاں دھاندلی کے خلاف شور مچا ہوا ہے۔کچھ لوگ اس عمل کے خلاف کھڑے ہوئے اور کچھ لوگوں نے اس پر تنقید کی لیکن جمہوری ملکوں میں الیکشن میں دھاندلی اسی طرح شجر ممنوع ہے، جس طرح تمام مذاہب میں جھوٹ بولنا ، وعدہ خلافی کرنا، قتل کرنا اور اپنے عمل سے انسانیت کو نقصان پہنچانا گناہ ہے۔ PTI کو مخالفین کی طرف سے خاصی مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن ان سب چیزوں کے بعد ہمارے پارلیمنٹرین نے کچھ کیا؟ نہیں کچھ نہیں کیا گیا، ہاں اگر کچھ ہوا تو یہ ہوا کہ انتخابی اصلاحات بل پاس ہوا جس میں سب کا اس بات پر فوکس رہا کہ کس طرح ایک نااہل شخص کو پارٹی کا صدر بنایا جائے اور اس کے لیے کیسے راستے ہموار کیے جائیں۔

بے شمار ملکوں میں ایک ایک ووٹ پر پانچ پانچ سال حکومت رہتی ہے، جبکہ ہمارا کردار ہے کہ ہم ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے کام کرتے ہیں ہماری قومی غیرت حمیت ختم ہوگئی ہے، یہاں ووٹ خریدے جاتے ہیں، وفاداریاں بیچی جاتی ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے،موجودہ سسٹم کرپٹ عناصر کو سپورٹ کر نے کے لیے بنایا گیا ہے۔ہارس ٹریڈنگ کے راستے پیپلز پارٹی پختونخوا سے جہاں اُس کے محض 7 اراکین ہیں، 2 نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی۔ سینیٹ انتخابات کی صورت میں رچائے جانے والے اس مضحکہ خیز تماشے نے آج بہت سے اخلاقی سوالات کو جنم دیا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے ہارس ٹریڈنگ اور ووٹ خریدنے کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ،”یہ کہنا کہ پیپلز پارٹی نے پیسے دیے ہیں، تو یہ غلط اور بے بنیاد الزام ہے“،ان کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت نے بھی دیگر جماعتوں کے اراکین سے بات چیت کی تھی۔فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ”کچھ لین دین تو ہوا اور سب جماعتوں کے درمیان کچھ انڈر سیٹنڈنگ ہوئی ہے۔ جبھی ہمیں بھی کے پی کے میں ووٹ ملے اور تحریک انصاف کو بھی پنجاب میں اضافی ووٹ ملے“۔

افسوسناک بات ہے کہ ہم نے 23کروڑ عوام کے لیے جنرل الیکشن کروانے کی تیاری کیا کرنی ہے ہم تو سینیٹ انتخابات میں اس قدر اُلجھ گئے ہیں کہ ہمیں اپنے آپ پر بھی شک ہونے لگا ہے کہ دنیا ہمیں کس نظر سے دیکھ رہی ہوگی اور ویسے بھی الا ماشاءاللہ پاکستان کا نام دنیا کے ان 10بدترین جمہوری ملکوں میں ہونے لگا ہے جہاں دھاندلی زدہ الیکشن کروا کر مرضی کی حکومتیں بنائی جاتی ہےں۔ خیر سینیٹ کا حالیہ الیکشن ہوا جس میں 52اُمیدواروں کا انتخاب ہونا تھااور 1000کے قریب منتخب رکن قومی و صوبائی اسمبلی نے اپنا ووٹ استعمال کرنا تھا اُس میں اس قدر شدید دھاندلی اور ”ہارس ٹریڈنگ“ کی خبریں سامنے آئیں کہ عوام شرمندہ ہوئے اور اس قدر ہوئے کہ ماضی کی تمام ہارس ٹریڈنگ، ڈونکی ٹریڈنگ ، مانکی ٹریڈنگ اور نہ جانے کون کون سی ٹریڈنگ کو پیچھے چھوڑ دیا۔ ہمارا حال تو یہ ہے کہ جب ہم ان 52اراکین کے انتخاب میں اس قدر دھاندلی اور روپے پیسے کا استعمال دیکھ اور سن رہے ہیں تو عام جنرل الیکشن کا کیا حال ہوگا۔ اور میرے خیال میں یہ بات تو طے ہوئی کہ سینیٹ کے اس الیکشن میں مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی میں کوئی فرق نہیں رہ گیا۔ تینوں بڑی جماعتوں نے پاور پالیٹکس کی اور تینوں ایک دوسرے پر لعنت بھیج رہی ہیں۔ تحریک انصاف کو ان کی توقعات سے 2 نشستیں کم ملیں۔پیپلز پارٹی کو زیادہ نشستیں ملیں، جبکہ ن لیگ کو پنجاب میں وائٹ واش نہ کرنے کا دکھ لے بیٹھا ہے۔ عمران خان خیبر پختونخوا سے تحریک انصاف کے 7 امیدواروں کی کامیابی کے بارے میں پراعتماد تھے اور دو اتحادی امیدواروں کو بھی کامیاب کرانا چاہتے تھے لیکن انہیں صرف پانچ نشستیں ملیں اور دونوں اتحادی امیدوار بھی ہار گئے۔جبکہ کپتان کی طرف سے یہ سوال اُٹھایا گیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس خیبر پختونخوا اسمبلی میں 7ارکان تھے لیکن یہ پارٹی دو سینیٹر بنوانے میں کیسے کامیاب ہوئی؟ پنجاب والے یہ سوال کر رہے ہیں کہ پنجاب سے تحریک انصاف کے کامیاب ہونے والے امیدوار چوہدری سرور کے پاس صوبائی اسمبلی میں صرف 30ووٹ تھے لیکن انہیں 44ووٹ ملے ،کیا چوہدری سرور کو 14اضافی ووٹ مفت میں مل گئے؟ اس بات کا جواب تو پی ٹی آئی ہی دے سکتی ہے لیکن میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ پی ٹی آئی نے پنجاب میں ن لیگ کا کوئی ووٹ نہیں توڑا کیوں کہ پی ٹی آئی کے پاس پنجاب میں اپنے 42,43ووٹ تھے، اور جن میں 3، 4آزاد امیدوار تھے اور دو تین ایسی چھوٹی جماعتیں بھی تھیں جنہوں نے چوہدری سرور کو ذاتی حیثیت میں ووٹ ڈالا ہے لیکن پی ایم ایل این اور پی پی پی نے خیبر پختونخوا میں جو کیا اس سے ہم سب کے سر شرم سے جھکے ہوئے ہیں اور ایم کیو ایم اس حوالے سے اپنے آپ کو بری الذمہ نہ سمجھے اور نہ ہی معصوم بننے کی کوشش کرے انہوں نے ثابت کیا کہ اُن کے ایم این اے ، ایم پی اے عوام میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے، اور وہ ایم کیو ایم کے سلوگن کو استعمال کرتے ہوئے منتخب ہوتے تھے اور آج اگر انہیں ایک کونسلر کی سیٹ پر بھی کھڑا کر دیا جائے تو وہ جیت نہیں سکیں گے لیکن اس سسٹم میں ایک امید کی کرن جماعت اسلامی بھی ہے جس نے اراکین بیچنے یا خریدنے کے بجائے اے این پی کے ساتھ اتحاد کو ترجیح دی۔ جماعت اسلامی کے مشتاق احمد خان کے پاس سات ووٹ تھے۔ انہیں پانچ ووٹوں کی ضرورت تھی۔ یہ پانچ ووٹ انہیں اے این پی سے ملے۔ جماعت اسلامی اور اے این پی ایک دوسرے کی نظریاتی مخالف ہیں لیکن اس الیکشن میں دونوں نے ایک دوسرے کو ووٹ دیا۔ جماعت اسلامی کو کامیابی مل گئی اے این پی کو نہیں ملی لیکن دونوں کا ایک دوسرے کے ساتھ بے لوث تعاون ہارس ٹریڈنگ کے اندھیرے میں روشنی کی ایک کرن ہے۔ جس سے کم از کم ضمیر بیچنے کی نوبت نہیں آتی ۔حالیہ سینیٹ الیکشن میں ہر جماعت نے جہاں چند اچھے لوگوں کو ٹکٹ دیا وہیں زیادہ تر ایسے افراد کو ٹکٹ دیے گئے جن کا شمار امیر ترین افراد میں ہوتا ہے۔

خیبر پختوخوا میں حکمران جماعت پی ٹی آئی اور سندھ میں متحدہ قومی موومنٹ نے پیپلز پارٹی کی اس کامیابی کو ”ہارس ٹریڈنگ“ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما عمران خان نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے پیپلز پارٹی نے خیر پختوانخوا سے دو نشستیں جیتیں ہیں۔انھوں نے لکھا کہ” سینیٹ انتخابات میں مال و زر کی آمیزش نے صرف ایوان بالا ہی نہیں بلکہ سیاست کی ساکھ بھی مجروح کی ہے“۔دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار نے بھی پیپلز پارٹی پر ہارس ٹریڈنگ کا الزام عائد کیا ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ پنجاب میں تحریکِ انصاف کے رہنما چوہدری سرور بھی کامیابی کے لیے جماعت کے اراکین کی مطلوبہ تعداد پوری نہ ہونے کے باوجود صوبے سے سینیٹ کی نشست کے لیے سب سے زیادہ 44 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں۔خیال رہے کہ پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ارکان کی تعداد 30 ہے۔

خیر سینیٹ کے حالیہ انتخابات کے بعد عوام یہ اخذ کر رہے ہیں کہ سیاستدانوں نے دھاندلی پر قابو پانے کے لیے، ملک سے کرپشن کے خاتمے کے لیے، ملک کے اداروں کو مضبوط کرنے کے لیے، ملک میں منصفانہ طرز زندگی کے لیے کوئی کام نہیں کیا اور اگر کچھ نہیں کیا تو ہم پھر یہ کیوں نہ کہیں کہ یہ اسمبلیاں عوام کے لیے نہیں بلکہ ذاتی مفادات کے لیے بنائی جاتی ہیں جہاں اپنے اپنے حقوق کی جنگ لڑتے یہ پارلیمنٹیرین اپنا مفاد سمیٹ کر واپس چلے جاتے ہیں، اگر ہم حق سچ پر ہوتے تو جیسے 2013ءمیں یہ الزام لگا تھا کہ دھاندلی ہوئی ہے تو ہم اسے ثابت کرتے کہ دھاندلی نہیں ہوئی اوراگر ہوئی بھی ہے تو آئندہ نہیں ہونے دیں گے۔ پھر ہم نے ثابت کیا کہ ہم اس قابل ہی نہیں ہیں کہ ہم 5 سال پہلے جن غلطیوں کی نشاندہی کر رہے تھے آج بھی وہیں کھڑے ہیں۔ اسی لیے ہمیں شرم سے ڈوب مرنا چاہیے کہ ہم کتنے گھٹیا لوگ ہیں جو اپنی غلطیاں جانتے ہوئے بھی اسے دور کرنا تو درکنار اس بارے میں سوچنا بھی گناہ سمجھتے ہیں۔قارئین کو یاد ہوگا کہ 2013ءمیں الیکشن دھاندلی کی نشاندہی کو تو برا سمجھتے تھے لیکن آج ہم سب نے ملکر اپنے آپ کو اس میں ملوث کر کے ننگا کر لیا ہے۔ سینیٹ چیئرمین کے انتخاب میں ایک بار پھر گھوڑوں کی دوڑ جاری ہے اور خوب پیسہ لگایا جا رہا ہے اور اس غیر یقینی کی صورتحال میں جہاں ہم بکاﺅ مال کی بات کرتے رہے ہیں وہاں اس الیکشن کے کچھ مثبت پہلو بھی ہیںکہ ان تمام حالات میں جب ہر جانب بے چینی کا عالم ہو، غیر یقینی کی صورتحال ہو، تو پیپلز پارٹی کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے کرشنا کماری کے حوالے سے اچھا اور عوام دوست فیصلہ کیا ہے اورہارس ٹریڈنگ کے اس شور میں سندھ سے پہلی دلت خاتون کرشنا کماری کو منتخب کروا کر آصف زرداری نے اچھا کارڈ کھیلا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ پاکستان میں ٹیلنٹ نہیں ہے، قیادت نہیں ہے۔ یہاں پاکستان میں تیل کے کنویں بھلے نہ ہوں، سونے کی کانیں بھی نہ ملیں لیکن قدرت نے اتنا کچھ ضرور عطا کر رکھا ہے کہ اگر وسائل کی تقسیم زیادہ نہ سہی ،تھوڑی سی منصفانہ بھی ہو تو یہاں بھوکا بیروزگار کوئی نہ رہے۔یہاں چیک اینڈ بیلنس ہو تو سسٹم ٹھیک ہوجائے۔ یہ سسٹم خراب ہم نے ہی کیا ہے ہمیں ہی ٹھیک کرنا ہے۔لیکن اس کے برعکس یہی بکاﺅ مال اور کھوٹے سکے اس ملک کو چلائیں گے تو ملک کا اللہ ہی حافظ ہوگا اور جو سیاسی جماعت مستقبل میں ان کھوٹے سکوں سے جان چھڑانے کے لیے اقدام کرے گی وہی کامیاب و کامران ہوگی۔ اگر نہیں کریں گے تو ہم انہی لوٹے کھوٹے اور بکاﺅ مال کے ساتھ آگے چلتے رہیں گے۔ 30سال قبل غیر جماعتی الیکشن میںجوڑ توڑ کی سیاست اپنے عروج پر پہنچی تھی اور وہ لوگ جنہوں نے ووٹ خریدے تھے آج اُن سے بڑے خریدار آکر اُن کے ووٹ بھی خرید کر لے جا رہے ہیں۔اُس الیکشن میں پہلی دفعہ ملک کی مالدار لوگوں نے الیکشن میں اپنا اثر ور سوخ اور پیسہ استعمال کرکے یہ ثابت کیا تھا کہ اس ملک میں پیسہ پھینک تماشہ دیکھ والا معاملہ چلتا رہے گا۔ آج بھی ہمیں سیاست میں وہی چہرے نظر آرہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم آج تک قوم نہیں بن سکے ، کیوں کہ ہم بکاﺅ مل ہیں اور جو قوم بکاﺅ ہو وہ کبھی آگے نہیں نکل سکتی۔


ای پیپر