شام میں بسنے والے بھی انسان ہیں۔۔
13 مارچ 2018 (21:36) 2018-03-13

شازیہ حور: شام میں نسل کُشی کی انتہا دیکھ کر دل دہلا جا رہا ہے ۔ دنیا بھر میں معصوم بچوں کی زندگیاں ختم کی جا رہی ہیں ۔ شام میں ہتھیاروں سے انسانیت کو جھلسا نے میں ایک سے بڑھ کر ایک بارود استعمال کیا جا تا ہے ۔ معصوم بچوں کو جلایا اور رُلایا جا رہا ہے جن پھولوں سے خوشبو آتی ہے ان کو مسل دیا جا ر ہا ہے ۔ پھول جیسے بچے سرخ رنگ میں لت پت کئے جا رہے ہیں ۔مائیں بہنیں بلک کر دہائی سنا رہی ہیں مگر سن کر خاموش رہتے ہیں انسان اور پھر مسلمان ؟اسلام دشمن قوتیں تو اپنی جگہ وار کرنے میں مصروف عمل ہیں اس کے ساتھ انسانیت دشمن قوتوں نے سر اٹھا لیا اور پے درپے انسانیت پر وار کیا جارہا ہے۔ شام میں انسانیت سوز حالات پر مسلم ممالک کا خاموش رہنا اور انسانیت مسلم کُش قوتوں کا ساتھ دینا خوش اسلوبی سے ہاتھ ملانا حیران کن بات ہی نہیں ایک مسلمان کیلئے باعث شرم ہے مسلم ممالک نے انسانی حقو ق کا علمبردار بھی بنایا تو کس کو جو انسانیت کی تذلیل پر خاموش رہتا ہے یا پھر بیان بازی کر کے تماشہ دیکھتا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی ہاتھ گرم کرنے کیلئے آگے آگے ہوتیں ہیں جب انسانیت کو ذبح کیا جا رہا ہو تو لفظی مار دیتے ہیں مظلوموں کے جذبات سے کھیلتے ہیں اسلام دشمن ایک ایک پل تعاقب میں رہتے ہیں کوئی لمحہ خالی نہیں جس میں اسلام اور انسان کو ضرب لگانے میں کمی محسوس کی جا رہی ہو میں کسی ایک عرب ملک کو ذمہ دار نہیں ٹھہراتی پاکستان سمیت دنیا بھر میں مسلم امہ مرتکب ہیں ذمہ دار ہیں انسانیت کو کچلنے پر خاموش رہنے اور بے حسی کا مظاہرہ کرنے پر مسلم ممالک کو چاہئے جہاں انسانیت کی تذلیل ہو رہی ہو وہاں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر ثابت کریں کہ مسلمان کا مقصد کیا ہے مسلمان اور اسلام کی طاقت کیا کر سکتی ہے مگر افسوس ہوتا ہے مہنگے لباسوں میں مفلس سوچ رکھنے والے انسانوں حکمرانوں اور ایوانوں پر دنیا میں عدالتیں لگاتے ہو سزائیں دیتے ہو جھوٹی سچی جب قدرت کی عدالت لگے کی تو کیا امید رکھتے ہو کیا انصاف چاہو گے۔ انسانیت کے نام پر دھبہ لوگو اسلام نے ایک دوسرے پر رحم کھانے کی تلقین کی ہے تو کیا رحم کھاتے ہو دولت کے پجاری بن گئے ضمیر اور انسانیت فروش مسلمان ممالک حکمران کیا دشمن کے سامنے اسلام ا ور انسانیت کی کوئی اہمیت نہیں رہی مسلمان کا جذبہ اتنا سچا ہوتا ہے کہ وہ اپنی ذات کو بھول کر انسانیت اور اسلام کیلئے قربان ہو جانے کیلئے تیار ہوتا ہے انسان اور مسلمان کسی کو دکھ اور دھوکہ دینا گوارہ نہیں کرتا اگر غلطی ہو بھی جائے تو معافی مانگنے میں اپنے غلط ہونے کا اعتراف کرنے میں شرم محسوس نہیں کرتا ۔ آخر انسانیت نے کی جانب رُ خ کر لیا ۔ صبر ہمت اور احساس رہا ہی نہیں۔


گزشتہ ہفتے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو اس وقت انتہائی دلگداز مناظردیکھنے کوملے جب سرکاری فوج کے فضائی حملے میں 20 بچوں سمیت 100 سے زیادہ افراد مارے گئے۔بعدازاں یہ تعداد بڑھ کر560تک جا پہنچی۔ اس حادثے میں ہزاروں افراد شدید زخمی بھی ہوئے تھے ۔ سیریئن اوبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق کیے جانے والے فضائی اور راکٹ حملوں میں درجنوں بچوں سمیت سینکڑوں عام شہری مارے گئے۔ خیال رہے کہ مشرقی غوطہ کا علاقہ2013ءسے محاصرے میں ہے اور یہاں تقریباً 4لاکھ افراد مقیم ہیں ۔ یہ دارالحکومت دمشق کے قریب حکومت مخالف باغیوں کے زیرانتظام آخری محصور علاقہ ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں شامی افواج نے اس علاقے کا انتظام دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کارروائیوں میں تیزی کی تھی جس میں سینکڑوں جاں بحق اور زخمی ہوئے تھے۔ اس کے باعث اس علاقے میں عام شہریوں کو سامان پہنچانے کے لیے جنگ بندی بھی ہوئی تھی۔ غوطہ میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعدادکے بارے میں برطانیہ میں قائم تنظیم سیریئن اوبزرویٹری نے مطلع کیا ہے اوراس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ محصورعلاقے کے ایک قصبے حموریہ سے موصول ہونے والی ایک ویڈیومیں لوگوں کوتباہ شدہ عمارتوں سے نکلتے دیکھا جاسکتا ہے۔کہا جا رہا ہے کہ اس قصبے میں درجنوںافراد جاں بحق ہوئے ہیں ۔ دسمبر 2017ءمیں بین الاقوامی امدادی اداروں نے باغیوں کے زیرانتظام اس علاقے کے بارے میں خبردارکیا تھاکہ یہاں خوراک، ایندھن اورادویات کی کمی کی وجہ سے شہریوں کے حالات انتہائی نازک ہیں ۔ اقوام متحدہ کے علاقائی کوارڈینیٹر پنوس مومٹزس کا کہنا تھا کہ مشرقی غوطہ میں انسانی تکالیف کو ختم کرنا ناگزیرہے۔ تاہم روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف کے مطابق محصور علاقے کے حالات کو بین الاقوامی عناصر بڑھا چڑھاکر پیش کر رہے ہیں ۔ آزاد زرائع کے مطابق مشرقی غوطہ پر روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی بمباری میں درجنوں افراد مارے گئے ہیں ۔ شامی حکومت فضائی کارروائی میں بھاری اسلحہ استعمال کر رہی ہے۔ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نامی ادارے کاکہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے دوران صرف ایک دن میں46 مزید افراد شہید ہوئے جبکہ 23 فروری تک مارے جانے والے افرادکی تعداد بڑھ کر403 تک پہنچ گئی ۔ بیرل بموں اور شیلوں سے اس علاقے کو نشانہ بنایا گیا جسے اقوام متحدہ نے زمین پر جہنم قراردیا ہے جہاں تقریباًچار لاکھ افراد پھنسے ہوئے ہیں ۔ اقوام متحدہ کے شام میں انسانی حقوق کے کوآرڈینیٹر پینوز مومتز نے بھی جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے مشرقی غوطہ کی دل دہلا دینے والی تصاویرکا حوالہ دیا اورکہا کہ اگر یہ بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کو جنگ بندی کے لیے قائل نہیں کر سکتی تو پھر ہم نہیں جانتے کہ کیا چیز انھیں قائل کر سکتی ہے۔


کسی انسان کو قتل کرنا مشکل کام نہیں ، گالی دینا معیوب نہیں سمجھا جاتا باعث فخر ہو گیا ہے ۔کسی کا حق مارنا فرض سمجھا جانے لگا ہے ۔ انسان اللہ کو بھول چکا ہے ۔ ظلم بربریت خون ریزی عام سی بات ہے۔ انسانیت کا قتل دیکھنے اور سننے والوں کیلئے بھی کوئی نئی بات نہیں رہی۔100،50 انسانوں کی ہلاکت پر انسانیت کو کچھ کمی محسوس نہیں ہوتی ۔زُبان سے نکلے بڑے بڑے دعوے جھوٹے اور کھوکھلے نیت صاف نہیں سامنے کچھ اور پیٹھ پیچھے مکمل منافقت شر کو سوسائٹی کا حصہ سمجھا جانے لگا ہے۔ رُوح کو تڑپا دےنے والی حرکات و سکنات انسانیت کے زمرے سے باہر لے جاتی ہیںلیکن میں نے دیکھا جانور بھی اتنے ظالم نہیں ہیں جتنا انسان خطرناک اور خوف ناک حد تک بھیانک ہے ۔ ایک مسلمان جس کو اور کچھ نہیں تو اپنے مذہب میں صبر ،تحمل، بُرد باری، رحم ،ایمان داری اور انصاف کے عمل کا مکمل علم ہونا چاہئے اور اس پر عمل کرنا بھی فرض ہے ۔ جو نہیں کیا جاتا ۔ حکومتیں، عدلیہ اور دیگر ذمہ دار ادارے اپنے مقاصد سے ہٹ کر دوسری راہ چل نکلے ہیں اسلام کے فروغ کیلئے عالم فاضل سب باتوں کی حد تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں ۔ جب انسان کا عمل درست نہیں ہوگا تو بہتری کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔یہ بات برحق ہے کہ انسان غلط عمل کر کے اللہ سے ندامت محسوس کرے معافی مانگے سچے دل سے تو بہتری 100 فیصد ممکن ہو جاتی ہے کیوں کہ اللہ سچے دل سے مانگی ہوئی دعا یا معافی رد نہیں کرتا ۔قبولیت ضرور ہو تی ہے۔ قرآن کو پڑھ کر مسلمان عمل نہیں کرتا ۔ اولاد والدین کی نا فرمان بزرگ سڑکوں پر بھیک مانگتے نظر آتے ہیں صاحب حیثیت افراد کو احساس نہیں انسانیت کے ناطے ہماری بھی ذمہ داریاں ہیں ۔دولت اور عورت کے پیچھے سب کچھ ختم کر جانے کیلئے ہر پل تیار رہتے ہیں ۔ کسی بے بس کی آنکھوں میں دیکھ کر اس کی سسکتی رُوح کو محسوس نہیں کر سکتا کہ اس انسان کو پوچھ لیا جائے اور خاموشی سے اس کی امداد کی جائے ۔ اگر کوئی امداد کرتا بھی ہے تو میڈیا سے نمائش کر دی جاتی ہے حوس پرستی خود غرضی عنا پرستی بے رحمی بد گمانی نے گھر کر لیا انسانیت میں آخر مٹی سے بنا انسان جو اکڑ کو زمین پر چلتا ہے کپڑوں کو مٹی نہیں لگنے دیتا خود اچھا کھاتا ہے اپنا پیٹ بھر جائے تو سامنے بیٹھے بھوکے آدمی کو پوچھنا گوارہ نہیں کرتا یہ سوچ کر بھی کہ رزق بانٹ کر کھا لیا جائے ۔ برکت ہو گی صحت میں شفا ہوگی ۔کوئی کسی دوسرے کے دل سے نکلی ہوئی دعا نہیں لینا چاہتا ۔


اِنسانی حقوق کے بارے میںاسلام کاتصوربنیادی طورپربنی نوعِ انسان کے احترام،وقاراورمساوات پرمبنی ہے۔قرآنِ حکیم کی روسے اللہ رب العزت نے نوعِ انسانی کو دیگرتمام مخلوق پر فضیلت عطاکی ہے۔قرآن ِحکیم میںشرف انسانیت وضاحت کے ساتھ بیان کیاگیاہے کہ تخلیق آدم کے وقت ہی اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حضرت آدمؑ کوسجدہ کرنے کاحکم دیا اوراس طرح نسل آدم کوتمام مخلوق پر فضیلت عطاکی گئی۔سورہ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اوربے شک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اورہم نے ان کو خشکی اور تری میں مختلف سواریوں پر سوارکیا اور ہم نے انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق عطا کیا ۔ سورہ لقمان میں حکم باری تعالیٰ ہے کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے سب کو تمہارے ہی کام لگا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین اعتدال اور توازن والی ساخت پر بنایا ہے اس لئے مساوات انسانی کو اسلام میں بے حد اہمیت حاصل ہے ۔کوئی اور مذہب اور نظام اقدار اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا ۔ اسلام نے تمام قسم کے امتیازات پر مبنی تعصبات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور تمام انسانوں کو ایک دوسرے کے ہم پلہ قرار دے دیا خواہ وہ امیر ہوں یا غریب، سفید ہوں یا سیاہ، مشرق میں ہوں یا مغرب میں ، مرد ہوں یا عورت اور چاہے وہ کسی بھی علاقے سے تعلق رکھتے ہوں۔ انسانی مساوات کی اس سے بڑی مثال کیا ہوسکتی ہے کہ دنیا کے مختلف ملکوں، نسلوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے ہر سال مکہ المکرمہ میں ایک ہی لباس میں ملبوس حج ادا کرتے ہیں ۔
دنیا میں انسان اور خاص طور پر مسلمان کی اہم ذمہ داری ہے ۔معصوم بچے بچیاں حوس کا شکار ہو رہی ہیں اور شکاری آزاد گھومتے ہیں پکڑا بھی جائے تو پیسے دے کر چھوڑا لیا جاتا ہے اور چھوڑ بھی دیا جاتا ہے۔ رُوح کو تڑپا دینے والے والے اقدامات اٹھانا ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتے مگر انسان قدم قدم پر دل دہلا دینے والے کھیل کھیلتا ہے اور پھر کہتا ہے یہ ملک میں کیا ہو رہا ہے ۔بات ملک کی نہیں بات انسانیت کی ہے کہ یہ انسان کدھر جا رہا ہے جو راستہ انسانیت کی طرف جاتا ہے اس پر انسان کو چلنا بُرا لگتا ہے ۔ آخر ہم کب انسان بنیں گے اور کب حالات بہتر ہونگے ۔ سوال یہ ہے کہ انسان کب خود کو مٹی سمجھے گا کب مانے گا کہ اللہ جس نے اس کو بنایا وہ کتنا دکھی ہوگا ہو گا جو انسان کا سچے دل سے بہائے جانے وا لے ایک آنسو کے بدلے اسے معاف کر دیتا ہے آخر ظالم جابر انسان کب مانے گا کہ اس کو کئی دیکھ رہا ہے اور سب لکھ رہا ہے وہ دنیا میں بھی حساب لے گا اور آخرت میں بھی کڑی سزا ملے گی ۔ ہمیں سوچنا ہوگا ایک انسان ہونے کی حیثیت سے کیا ہم اپنے کردار اپنے عمل سے دنیا میں ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے وہ فریضہ انجام دے رہے ہیں جو ہم پر فرض ہے ۔


ای پیپر