تاپی منصوبہ۔۔ خطے کے ممالک میں باہمی تعلقات کے لیے اہم قدم
13 مارچ 2018 (21:29) 2018-03-13

امتیاز کاظم:ایندھن کی افادیت اور اس کی بڑھتی ہوئی مانگ سے انکار ممکن نہیں۔ پتھر کے دور سے چقماق پتھر سے آگ جلانے سے لے کر دورِحاضر اور مستقبل کے ایندھن کے ذرائع سے مانگ پوری کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ لکڑی اور پتھر کے کوئلے سے سٹیم انجن کے چلانے سے لے کر جہازوں کے گیسولین تک قدرتی گیس سے لے کر مائع گیس، پٹرول، ڈیزل سے لے کر شمسی توانائی اور وِنڈپاور تک سب ایندھن کے زمرے میں آتے ہیں۔ دُنیا کے بڑے ممالک سے لے لے کر چھوٹے ممالک تک جو کہ ایٹمی ایندھن بھی استعمال کرتے ہیں، سستے ایندھن کی تلاش میں رہتے ہیں اور سستے ایندھنوں میں ایک ایندھن گیس / قدرتی گیس بھی ہے جس سے چین، روس، امریکہ ہی نہیں بلکہ پاکستان، افغانستان بھی استفادہ کرنے کے لےے کوشاں ہیں۔ ایسی ہی ایک کوشش ” تاپی “ (TAPI) منصوبہ بھی ہے یعنی ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، انڈیا پائپ لائن منصوبہ ۔ آیئے اس منصوبے کا مختلف پہلوﺅں سے جائزہ لیتے ہیں جو کہ اب موجودہ 10 بلین ڈالرز کا منصوبہ ہے۔

تاپی (TAPI) کیا ہے؟

یہ مذکورہ بالا 4 ممالک کے درمیان گیس پائپ لائن کا منصوبہ ہے اور اس پائپ لائن کی کُل لمبائی ایک ہزار آٹھ سو چودہ (1,814) کلومیٹر ہے۔ یہ ترکمانستان کے ”Galkynysh Gas Field“ (ترکمانستان) سے چلتی ہوئی افغانستان، پاکستان سے ہوتی ہوئی انڈیا تک جائے گی۔ افغانستان میں یہ مغربی سمت سے قندھار ہرات ہائی وے کے ساتھ چلتی ہوئی پاکستان میں کوئٹہ کے مقام سے داخل ہو کر ملتان سے ہوتی ہوئی انڈیا میں ”فاضلکا“ کے مقام سے داخل ہو گی۔ فاضلکا پاکستان اور انڈیا کے درمیان بارڈر کا علاقہ ہے۔ انڈیا کے اخبار ”دی ہندو“ میں دیورا لکھتے ہیں کہ تاپی منصوبہ دراصل نیا سِلک روٹ (شاہراہ ریشم) ہے کیونکہ ماضی میں خچروں، اُونٹوں اور پیدل تجارت کا روٹ وسطی ایشیا سے افغانستان اور پاکستان کا موجودہ درّہ خیبر ہی تھا، اُونٹوں کے تجارتی قافلے درّہ خیبر سے ہی گزرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ ترکمانستان کے مضمون نگار عبدالجلیل رسولوف اسے ترکمانستان کی گیس پائپ لائن کا خواب قرار دیتے ہیں، اس کی سمت شمال سے جنوب کی طرف ہے۔ انڈیا اور امریکہ سے اُمیدیں وابستہ کرنا سُراب / سراسر دھوکہ ہے تاہم پاکستان، انڈیا اور افغانستان کے درمیان اس پائپ لائن تعاون کا ایک در کھلنے کی توقع ضرور رکھی گئی ہے، خدا کرے یہ تعاون امن وسلامتی کا ضامن ہو۔

منصوبہ کی جزئیات

قدرتی گیس کا بڑا ذخیرہ دُنیا میں ترکمانستان میں پایا جاتا ہے جس کے پاس اپنی ضروریات سے کہیں بڑھ کر گیس موجود ہے۔ تاپی منصوبہ میں 33 بلین کیوبک میٹر گیس سپلائی کی جائے گی اور اس 33 بلین میں صرف 5بلین کیوبک میٹر افغانستان استعمال کرے گا، باقی 28 بلین میں 14بلین کیوبک میٹر پاکستان اور 14 ہی انڈیا استعمال کرے گا۔ اس سے پاکستان کی قدرتی گیس کی 20فیصد ضروریات پوری ہوں گی جس سے سرد موسم میں گیس کے بحران کو کافی سہارا ملے گا اور نئے کنکشن کی فراہمی بھی یقینی ہو گی۔ اس منصوبے پر 10بلین ڈالر کی خطیر رقم خرچ ہو رہی، جس کے لےے ایشین ڈویلپمنٹ بنک بھی سرمایہ کاری کررہا ہے۔ تاپی منصوبہ سے بھی بڑا ذخیرہ چین کو مہیا کیا جارہا ہے۔ ترکمانستان چین کو 35بلین کیوبک میٹر گیس فراہم کررہا ہے چنانچہ چین اس وقت ترکمانستان کا سب سے بڑا گیس کا خریدار ہے جبکہ روس اور یورپ بھی ترکمانستان کے ساتھ گیس کے معاہدے کرنے میں بڑی دلچسپی رکھتے ہیں۔

کیا یہ مستقبل کا صرف گیس کا ہی منصوبہ ہے؟

جنوبی اور وسطی ایشیا کے4 ممالک کو افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی بھارتی وزیر مملکت برائے خارجہ امور ”ایم جے اکبر“ اور پاکستانی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے منصوبے کا افتتاح کر کے خطے کو ایک لڑی میں پرو دیا ہے۔ ایسے مواقع پر کچھ اُمیدیں وابستہ کی جاتی ہیں، کچھ تعاون اور فوائد کی باتیں کی جاتی ہیں، چنانچہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اس موقع پر اپنی تقریر میں کہا کہ ” تاپی صرف ایک گیس پائپ لائن کا نام نہیں ہے بلکہ دُنیا کے دو بڑے خطوں یعنی وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کو معاشی، سیاسی اور ثقافتی شعبوں میں باہم جوڑنے کا نام ہے اور آگے چل کر یہ منصوبہ اس کا پیغام ثابت ہو گا۔ ترکمانستان کے صدر نے اسے سیاسی اہمیت کا قدم قرار دیا لیکن وزیراعظم عباسی کی تقریر کا یہ حصہ اہم تھا جس میں انہوں نے کہا کہ ”گیس پائپ لائن کی تکمیل سے خطے کے ممالک جو فائدہ اُٹھائیں گے وہ صرف توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے تک ہی محدود نہیں رہے گا بلکہ اس منصوبے کے ساتھ فائبر آپٹک کیبل سڑکوں کا جال بجلی کی ٹرانسمیشن لائن اور ریلوے لائنوں کا جو سلسلہ تعمیر ہو گا اس سے یہ تاپی منصوبہ ایک انرجی اور کمیونیکیشن کوریڈور میں تبدیل ہو جائے گا“ خدا کرے یہ منصوبہ ایشیا میں ایک خوشگوار تبدیلی کا ضامن بنے۔

پس منظر

ٹرانس افغانستان پائپ لائن بھی تاپی منصوبے کا ہی ایک نام ہے۔ ترکمانستان میں یہ منصوبہ 13 دسمبر 2015ءمیں شروع ہوا اور توقع کی جارہی ہے کہ یہ منصوبہ 2019ءمیں آپریشنل ہو جائے گا، دراصل تاپی کی بنیاد رکھنے میں قازقستان اور ترکمانستان کی دو انٹرنیشنل کمپنیوں نے 1990ءمیں اہم کردار ادا کیا۔ اس کی بڑی وجہ روس کا عدم تعاون تھا چونکہ بطورِ متحدہ روس ہی تمام ایکسپورٹ پائپ لائنز کی سپلائی کو کنٹرول کرتا تھا۔ اس نے اس پائپ لائن کے نیٹ ورک کے استعمال سے اجتناب کرنا شروع کردیا جس سے ان کمپنیوں کو ایک آزاد ایکسپورٹ روٹ کی ضرورت شدت سے محسوس ہونا شروع ہوئی۔ عالمی کمپنیوں نے بھی اس میں دلچسپی لینا شروع کردی جن میں ارجنٹائن کی ”بریڈاس کمپنی“ بھی شامل تھی۔ ترکمانستان اور پاکستان میں بات چیت کا آغاز بھی ہوچکا تھا چنانچہ باضابطہ طور پر اس منصوبے کا آغاز 15مارچ 1995ءمیں ہوا۔

جب حکومتِ پاکستان اور ترکمانستان کے درمیان سمجھوتے کی ایک یادداشت ”MOU“ پر دستخط ہوئے لیکن جلد ہی اس میں امریکہ نے مداخلت کی اور ایک امریکی کمپنی ”یونوکال“ نے سعودی عرب کی ایک تیل کمپنی ”ڈیلٹا“ کے تعاون سے ایک متبادل منصوبہ پیش کیا، چنانچہ 21اکتوبر 1995ءمیں ان دونوں کمپنیوں نے ترکمانستان کے صدر نیازوف کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کےے جس کے بعد پائپ لائن کی تعمیر کا کام امریکی کمپنی ”سنٹرل ایشیا گیس پائپ لائن لمیٹڈ“ یا ”سینٹ گیس“ کو مل گیا۔ اس معاہدے پر دستخط 27اکتوبر 1997ءکو ہوئے تاہم عالمی سطح پر اس کے ساتھ اور بھی کمپنیاں شامل تھیں چونکہ اس پائپ لائن نے افغانستان سے گزر کر پاکستان اور انڈیا میں داخل ہونا تھا اس لےے طالبان سے مذاکرات ضروری تھے اور یہ اس لےے بھی کہ قندھار اور ہرات طالبان کے گڑھ تھے جبکہ پائن لائن نے ان ہی علاقوں سے گزرا تھا، اس وقت پاکستان میں امریکہ کا سفیر رابرٹ اوکلے تھا۔ اوکلے نے طالبان سے مذاکراتی عمل شروع کر کے طالبان کو سینٹ گیس منصوبے پر راضی کیا۔ جنوری 1998ءمیں طالبان کی طرف سے گرین سگنل مل گیا لیکن نیروبی اور دارالسلام میں امریکی سفارتخانوں میں 7اگست 1998ءکے بم دھماکے اس سارے منصوبے کی راہ میں رکاوٹ بن گئے کیونکہ امریکہ نے الزام عائد کیا کہ ان بم دھماکوں کے پیچھے اُسامہ بن لادن کا ہاتھ ہے اور اس وقت طالبان لیڈر مُلاعمر نے بھی بیان جاری کردیا کہ اُسامہ طالبان کی اعانت کررہے ہیں چنانچہ 8دسمبر 1998ءمیں یونوکال ”UnoCal“ (سینٹ گیس) اس منصوبے سے دستبردار ہو گئی اور پاکستان افغانستان میں اپنے دفاتر بند کر کے عملے کو واپس بلالیا گیا۔

نائن الیون کے بعد جب صورتحال کو کچھ سنبھالا ملا تو 27دسمبر 2002ءمیں افغانستان، پاکستان اور ترکمانستان کی حکومتوں کے درمیان2بارہ معاہدہ ہوا۔ امریکہ نے اس میں پھر سرگرم کردار اس لےے ادا کیا کہ یہ معاہدہ مغربی مارکیٹ کو توانائی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دینا تھا، چنانچہ ترکمانستان میں اُس وقت کے امریکی سفیر جیکسن نے بھی بیان دیا تھا کہ ”ہم بڑی سنجیدگی سے اس منصوبے کا جائزہ لے رہے ہیں اور بہت ممکن ہے کہ امریکی کمپنیاں بھی اس میں حصہ لیں“ لیکن افغانستان کی اس کے بعد بگڑتی ہوئی صورتحال نے اس منصوبے کو پھر پیچھے دھکیل دیا کیونکہ افغانستان کے شمالی حصہ خصوصاً قندھار اور ہرات کے حالات منصوبے کو جاری رکھنے کے لےے سازگار نہ تھے اور ان ہی حصوں سے پائپ لائن کو گزرنا تھا، اب جبکہ جنگ بندی اور مذاکراتی عمل شروع کرنے پر غور کیا جارہا ہے تو ایک دفعہ پھر چاروں ممالک نے ہمت کی ہے اور فروری کے آخیر میں اس منصوبے کا پھر سے افتتاح کردیا ہے جس کے بارے میں بھارتی امور خارجہ کے وزیر مملکت ایم جے اکبر نے افتتاح پر کہا کہ یہ منصوبہ اس خطے کے ملکوں کے درمیان تعاون کا سمبل ہے۔

تاپی اور ایرانی آئی پی آئی (IPI) کا سرسری موازنہ

آئی پی آئی یعنی ایران، پاکستان، انڈیا گیس پائپ لائن منصوبہ ۔ یہ ایران سے گیس خریدنے کا منصوبہ پاکستان پیپلزپارٹی کے سابقہ دورِحکومت میں دستخط ہوا، جس پر تیزی سے عمل کرتے ہوئے ایران نے اپنے حصے کی پائپ لائن تعمیر کردی ہے جبکہ پاکستان ابھی تک تذبذب کا شکار ہے۔ ”صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں “والی صورتحال ہے۔ نہ صرف انکاری ہے نہ مکمل ہاں ہے جس کی وجہ امریکی مداخلت اور امریکی تحفظات بنائے جارہے ہیں اور غالباً امریکی دباﺅ پر ہی انڈیا اس منصوبے سے نکل چکا ہے اور پاکستان کی صورتحال بھی سامنے ہے۔ رکاوٹوں میں اوّل پاک امریکہ تعلقات ، دوم پاک بھارت کشیدگی، سوئم مشرق وسطیٰ کے موجودہ حالات اور چہارم ایرانی گیس کی قیمت ہے لیکن ایران کے لےے مایوسی کی بات نہیں کیونکہ گیس کی افادیت اور اس کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اس کی بڑھتی ہوئی مانگ سے انکار ممکن نہیں، جونہی مذکورہ بالا کشیدگیاں کم ہوئیں اور گیس کی قیمت پر نظرثانی ہوئی، یہ منصوبہ پھر سے شروع ہو جائے گا جبکہ تاپی پر عمل شروع ہوچکا ہے کہ یہ پاکستان کی صرف 20فیصد ضروریات پوری کرے گا کیونکہ 14بلین کیوبک میٹر گیس کا اندازہ یہی لگایا گیا ہے۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ انڈیا کے نکل جانے سے کچھ خاص فرق نہیں پڑے گا کیونکہ ایران پاکستان کی طرف آنے والی پائپ لائن تعمیر کرچکا ہے، صرف پاکستان کو ہی پائپ لائن تعمیر کرنا ہے۔ دوسری طرف انڈیا ایران کے ساتھ چاہ بہار منصوبے کا اتحادی ہے جیسے ہی امریکی دباﺅ کم ہوا اور قیمت کا ازسرنو تعین ہوا انڈیا پھر سے اس منصوبے میں شامل ہو جائے گا۔

پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت

تاپی منصوبہ ، آئی پی آئی منصوبہ افغانستان کا امن عمل مذاکراتی منصوبہ ، روس، چین، ایران اور ترکمانستان کے پاکستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات اور امریکہ کی پاکستان مخالف سرگرمیاں پاکستان کو مغرب اور خصوصاً امریکہ کے چنگل سے نکالنے کے معاون ثابت ہورہی ہیں۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا یہ بیان کہ ” تاپی منصوبہ چونکہ افغانستان کے مفاد میں ہے اس لےے طالبان اسے سکیورٹی فراہم کرنے کے لےے تیار ہیں“ حوصلہ افزا بیان ہے یعنی امریکی اتنی لمبی اور مہنگی جنگ لڑ کر بھی آج اسی نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ امن عمل کے لےے مذاکرات طالبان سے ہی کرنا پڑیں گے جنہوں نے افغانستان میں ٹیکس بھی وصول کرنا شروع کر دیا ہے۔ مذکورہ بالا تمام منصوبے پاکستان کی اہمیت کو اُجاگر کررہے ہیں، یہ منصوبے ملکوں کے سیاسی تجارتی مواصلاتی معاشی ثقافتی فنی سیاحتی علمی شعبوں کو تعلقات کو فروغ دینے کا ایک ذریعہ بھی اور ہماری توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کا ایک سہارا بھی ہیں۔


ای پیپر