پیپلز پارٹی کا مسئلہ کیا ہے؟
13 مارچ 2018

پیپلز پارٹی کا مسئلہ کیا ہے؟ شایدیہ سوال ہی غلط ہے۔سوال تو بنتا ہے کہ آصف زرداری کا مسئلہ کیا ہے؟ آخر میں وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر آصف علی زرداری نے پلیٹ میں رکھ کر پیش کی گئی چیئر مین شپ کی آفر ٹھکرا دی۔تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اس پیش کش کو قبول کر لیا جاتا تو سینیٹ کی ساکھ میں اضافہ ہو تا۔ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کا مورال ہائی ہوتا۔لیکن آصف زرداری جو اس وقت اصل فیصلہ ساز ہے ان کی ترجیح کچھ اور ہے۔ یہ ترجیح کیا ہے آئیے جائزہ لیتے ہیں۔
2013 ء تک پاکستان پیپلز پارٹی عوامی سطح پر ایک مقبول پارٹی تھی۔صدر مملکت جیسے اعلیٰ ترین ریاستی منصب پر آصف زرداری فائز تھے۔پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرنے سے پہلے وزیر اعظم کے عہدے پر راجہ پرویز اشرف فائز تھے۔وہ کے پی کے میں اے این پی کے ساتھ اتحادی تھے۔بلوچستان کی صوبائی حکومت سے ان کی ساجھے داری تھی۔سندھ میں تو خیران کے پاس واضح اکثریت تھی۔اگر چہ ایم کیو ایم بھی ان کی صوبائی پارٹنر تھی۔ پیپلز پارٹی تن تنہا بھی حکومت بنا اور چلا سکتی تھی۔لیکن سیاسی انتشار اور مخالفت سے بچنے کیلئے یہ اہم فیصلہ تھا۔لہٰذا ایم کیو ایم وقتاً فوقتاًناراضگیوں کے باوجود حکومت سازی میں شریک رہی۔سب سے بڑے صوبے پنجاب میں پیپلز پارٹی ’’جما جنج نال‘‘کی عملی تفسیربن کر شریک اقتدار رہی۔بالا دست پارٹنر مسلم لیگ (ن) اس کو دھکے مار کر نکالتی رہی۔لیکن پیپلز پارٹی اقتدار سے چمٹی رہی۔ اس کے صوبائی وزراء کے پاس اختیار تو نہیں تھا البتہ سرکاری گاڑیاں،جھنڈے ضرور تھے۔اسی دوران ایک عدالتی فیصلے کے تحت یوسف رضا گیلانی کو وزیر اعظم ہاؤس خالی کرنا پڑا۔ان کی جگہ نہایت آسانی سے گوجر خان کے راجہ پرویز اشرف وزیر اعظم بن گئے۔انہوں نے بھی اپنے پیش رو کی طرح بڑی تعداد میں ووٹ حاصل کیے۔ پیپلز پارٹی کے پاس صرف یہی کچھ نہ تھا۔بلکہ اس کے پاس آزاد کشمیر کی بھی حکومت تھی۔نئے آئینی پیکج کے تحت خصوصی صوبائی درجہ پانے والے خطہ گلگت بلتستان میں مہدی شاہ کی وزارت اعلیٰ کی شکل میں پیپلز پارٹی بر سر اقتدار تھی۔آزاد کشمیر کے صدر، چاروں صوبوں کے گورنر وفاق کے نامزد کردہ تھے۔چیئر مین اور ڈپٹی چیئر مین کے عہدوں پر بھی مفاہمت کا راج تھا۔2013 ء کے عام انتخابات سے پہلے منعقدہ ضمنی انتخاب بھی پیپلز پارٹی ہی جیت رہی تھی۔غرض راوی ہر طرف چین ہی چین لکھ رہا تھا۔ 2013ء کے انتخابات میں راجہ پرویز اشرف لیڈر
آف دی اپوزیشن چوہدری نثار علی خان نے باہمی مشاورت سے نگران حکومت کا تقرر کیا ۔اور سیاسی جماعتیں انتخابی اکھاڑے میں اتر گئیں۔ پیپلز پارٹی کی انتخابی تھیوری تھی کہ نئے سیاسی عنصر پی ٹی آئی کی موجودگی کا نقصان مسلم لیگ(ن) کو ہو گا۔سے فریقی مقابلہ میں وہ صاف بچ نکلے گی۔لیکن اس کے برعکس ہوا۔پی ٹی آئی کا سونامی مسلم لیگ (ن) کے حلقے میں تو کوئی شگاف نہ ڈال سکا البتہ یہ سونامی پیپلز پارٹی کی عام فصیلیں توڑ گیا۔ پیپلز پارٹی تین صوبوں سے فارغ ہو گئی۔پنجاب سے دو،تین نشستیں ملیں۔صرف سندھ باقی بچا۔سندھ سے حاصل ہونے والی نشستوں کی بنیاد پر پیپلز پارٹی کو اپوزیشن لیڈری ملی۔سندھ میں بھاری اکثریت کی بنیاد پر ایک مرتبہ پھر حکومت سازی کا موقع ملا۔البتہ سینیٹ میں اکثریت ابھی باقی تھی۔اس وقت یہ تجزیہ تو ممکن نہیں کہ پیپلز پارٹی کو عبرت ناک شکست کے کیا اسباب تھے۔بہت سی وجوہات تھیں بعض چیزوں کی ذمہ دار پیپلز پارٹی خود تھی۔کئی ایکسٹرنل عوامل بھی تھے۔ پرفامنس بھی مثالی نہ تھی۔سیاسی سطح پر مثبت اقدامات کیے گئے۔لیکن عوام کے ہاتھ عملی طور پر کچھ نہ آیا۔کوئی میگا پراجیکٹ پیپلز پارٹی کے کریڈٹ میں نہیں۔ سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس مقبول عام لیڈر شپ نہ تھی۔آصف زرداری سیاسی انجینئرنگ، جوڑ توڑ، بارگین، ٹیبل ٹاک کے ماہر ضرور تھے لیکن وہ عوامی سطح پر کبھی پاپولر رہے ہیں نہ ہو سکتے ہیں۔وہ سیاست کو کاروبار کی طرح ڈیل کرتے ہیں۔کاروباری ڈیلوں میں ایسے ہی ہوتا ہے۔کبھی منافع،کبھی خسارہ۔2008ء کا انتخاب پیپلزپارٹی نے بے نظیر بھٹو کی شہادت کی بنیاد پر لڑا۔وہ بھی پوری دل جمعی سے نہیں۔ بہرحال منو مٹی کے نیچے ابدی نیند سوئی مہران کی رانی پیپلز پارٹی کو آخر ی الیکشن میں جتوا گئیں۔2013 ء میں پیپلز پارٹی کے پاس لیڈر شپ نہ تھی۔لہٰذا اب وہ الیکشن ہار گئی۔اب 2018 ء کے موسم گرما میں ایک مرتبہ پھر انتخابی معرکہ در پیش ہے۔پنجاب کے سیاسی میدانوں میں فی الحال پیپلز پارٹی کے لئے بہت کم باقی بچا ہے۔اپنے بازوں کے بل پر الیکشن لڑنا پڑا تو شایدکوئی جیت نہ ملے۔قلمکار کو تو فی الحال کوئی محفوظ نشست نہیں آتی۔ پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو کو میدان میں اتارا ہے۔لیکن فی الحال وہ نان سٹار ٹر ہیں۔ابھی تک وہ عوامی پذیرائی حاصل نہیں کر سکے۔اگلے الیکشن میں پیپلز پارٹی آصفہ بھٹو کو بھی میدان میں اتار رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے بڑوں کا خیا ل ہے کہ 2023 ء کاالیکشن ان دونوں جوانوں کا ہو گا۔اس سے پہلے نہیں، تب تک کیلئے پیپلز پارٹی کے پاس سندھ ہی واحد سیاسی اثاثہ ہے جو باقی بچتا ہے۔اس اثاثے کو ہر حال میں بچانا لازم ہے۔سندھ میں پیپلز پارٹی کی کارکردگی ملی جلی رہی۔سندھ میں پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) کو جگہ بنانے دی نہ پی ٹی آئی کے پاؤں جمنے دیے۔ایم کیو ایم اپنی فاش غلطیوں کے سبب ٹوٹ پھوٹ کر کئی حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔لیکن اس کے باوجود پیپلز پارٹی کو خدشات لاحق ہیں۔ان کا تجزیہ ہے کہ اگر بالادست قوتوں نے ایم کیو ایم کے دھڑوں کو متحد کر دیااگر سندھ میں گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس تشکیل پا گیا۔اگر سندھ کے تین بڑے سادات گھرانے اکٹھے ہو گئے، اگر ممتاز بھٹو،ارباب غلام رحیم متحد ہو گئے۔شیرازی مہر گروپ بھی اسی پلیٹ فارم پر آگیا تو اندرون سندھ 35 تا چالیس نشستیں مخالفین کی جھولی میں جا سکتی ہیں۔آصف زرداری ایسی صورت حال سے بچنا چاہتے ہیں۔لہٰذا وہ سب سے بنا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ ان کا مسئلہ سینیٹ کی چیئر مین شپ ہے نہ مرکز۔ان کی ترجیح سندھ ہے۔اس کے علاوہ ان کے پاس فی الحال کچھ باقی نہیں۔سندھ کا اقتدار بچانے کیلئے وہ ہر کمپرومائزکر سکتے ہیں۔


ای پیپر