قیامِ پاکستان کا عزم کیوں کیا گیا… قائداعظمؒ کا نقطہ نظر

13 مارچ 2018

ڈاکٹر زاہد منیر عامر

قائداعظمؒ اور قیام پاکستان کا جوازکے موضوع پر گزشتہ ہفتے ہماراکالم شائع ہواتو غیرمعمولی طور پر ملک بھر اور بیرون ملک سے بہت سے قارئین نے اپنی آراء کا اظہارکیا۔ تعریفی آراء نقل کرنا تو ضروری نہیں البتہ قائداعظم اور اس موضوع کے حوالے سے اندرون و بیرون ملک پسندیدگی کا اظہاربھی ہمارے لیے اہمیت رکھتاہے ۔شیخ زاید اسلامک سنٹر پنجاب یونیورسٹی کی سابق ڈائریکٹر اورعلوم اسلامیہ کی ممتاز سکالر پروفیسر ڈاکٹر جمیلہ شوکت نے لکھا :’’سفر مصر کے حوالے سے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی گفتگوکتنی پرمغز اور اس بات پر شاہد ہے کہ قائد،مسلم امہ کے لیے کتنے فکر مند تھے۔ آج ہم صرف مفادات کے اسیر اور اپنے اسلاف کی محنت و مشقت کو ملیامیٹ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اللہ کریم تو ان کی مدد فرماتے ہیں جو نیک نیت اور اس سے مدد کے طالب ہوں۔ ہم اس اپنے رب سے بے خوف ہو گئے ہیں اور باوجود تنبیہات کے اندھے ہو گئے ہیں ۔اس کالم کے ذریعے قیمتی معلومات فراہم کرنے پر ممنون ہوں۔ جامعہ الازہر قاہرہ میں اردو کے مصری استاد ڈاکٹر اسامہ محمد ابراہیم شلبی نے اس کالم کے بارے میں رائے دیتے ہوئے لکھا :’’افسوس ہے کہ میں ان کم لوگوں میں سے ہوں جن کے لیے یہ معلومات بالکل تازہ اور نئی ہیں۔ میں نے آپ کے اس کالم سے بے حد فائدہ اٹھایا ۔ ان شاء اللہ میں پر عزم ہوں کہ جامعہ الازہر میں اس کالم کوعربی میں منتقل کرکے ترجمے کے پرچے میں پڑھائوں گا تا کہ اس سے دوہرافائدہ حاصل ہوسکے ‘‘آسٹریلیا سے زاہد مسعود احمد صاحب نے اس کالم کو عظیم لیڈر کے بارے میں پراز معلومات قرار دیا ۔ ایران سے تہران یونیورسٹی کی استاد ڈاکٹر وفایزدان منش نے کالم نگار کو اس تحقیق کی داد دی۔سعودی عرب سے ممتازبینکار اور مختار مسعود صاحب کے صاحبزادے سہیل مسعودصاحب نے اس کالم کو بہت زیادہ معلوماتی اور اس کے ساتھ ساتھ دلچسپ بھی قرار دیا۔
قائداعظم کے قیام قاہرہ کا بیت الغزل یا گل سرسبد قائداعظم کی ایک تقریرہے جو انھوں نے ریڈیو قاہرہ سے کی ۔قاہرہ کے تین سالہ قیام میں راقم نے محسوس کیا کہ برادران مصرالّا ماشاء اللہ آج بھی قیامِ پاکستان کے اسباب و جواز سے بے خبر ہیں اور اس مسلمان ملک کے اصحاب فکر و نظرتک ہنوز پاکستان کے جواز کا پیغام نہیں پہنچ سکاہے ۔یہاں نظریہ پاکستان بھی ایک اجنبی تصور ہے۔ راقم نے مختلف فورمز پر گفتگو کرتے ہوئے عام مصریوں ہی نہیں یہاں کے عالم فاضل لوگوں کے سوالات سے بھی اس بات کو محسوس کیا اورمقدور بھر قیامِ پاکستان کے اغراض و اسباب سے آگاہ کرنے کی کوشش کی۔قائداعظم کے قیام ِ قاہرہ کے دوران قاہرہ ریڈیو سے ان کا ایک خطاب بھی نشر کیا گیا۔اس تقریر کوان کے سفرِ قاہر کا حاصل بھی کہا جاسکتا ہے ۔راقم کی رائے میں قائداعظم کی یہ تقریر عربوں بلکہ دوسری قوموں کو بھی قیامِ پاکستان کے اسباب و جواز سے آگاہ کرنے کے لیے ایک بنیادی مآخذ کا کام دے سکتی ہے۔آج جب کہ پاکستان کے جواز ہی کو معرض بحث میں لایا جارہا ہے یہ تقریر الجھے ذہنوں کو سلجھانے میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے ۔ اس لیے اسے زیادہ سے زیادہ نشر کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک تاریخی دستاویز کے طور پر ذیل میںیہ تقریر درج کی جارہی ہے( ہم نے قائداعظم کی اس تقریر کے مسودے کا عکس بھی حاصل کرلیا ہے جو ہمارے پاس محفوظ ہے) یہ ٹائپ شدہ مسودہ تین صفحات پر مشتمل ہے پہلے صفحے کی پیشانی پر ہاتھ سے From the Egyptian state broadcastکے الفاظ درج ہیںاور اس کے متن میں قائد نے اپنے قلم سے اصلاحات بھی کر ر کھی ہیں۔ لفظ مسلم کا املاہر جگہ Moslemکیا گیاہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اس میں عام مصری بلکہ عربی لہجے کے مطابق پاکستان کو ہر جگہ باکستان ( Bakistan)لکھا گیا ہے تاکہ عرب سامعین اس لفظ کو اپنی سماعتوں کے قریب تر محسوس کریں۔ یہ تقریر 19 دسمبر 1946ء کو ریڈیو قاہرہ سے نشر ہوئی :
’’ہم حصول پاکستان کی غرض سے لڑ رہے ہیں۔ بلاشبہہ آپ مجھ سے پوچھیں گے کہ پاکستان ( کا مطلب) کیا ہے اور ہم نے اس کے قیام کا کیوں عزم کررکھا ہے ؟ ہند ایک وسیع و عریض براعظم ہے اور اس کی ساری تاریخ شاہد ہے کہ اس میں کبھی بھی ایک حکومت نہیں تھی یہ ایک ملک ہے جو بہت سی قوموں پر
مشتمل ہے، یہ کبھی متحد نہیں ہوسکتا۔نہ ہی اس کے لوگ ایک قوم تشکیل دے سکتے ہیں ۔انگریز ہند کے لوگوں کو اختیاراتِ حکمرانی منتقل کرنے پر آمادگی ظاہر کر چکا ہے، اس پر مسلمان سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے اور یہ سوچنے لگے کہ ان کاکیا بنے گا۔ وہاں مسلمانواں کی تعداد دس کروڑکے قریب ہے ۔ پاکستان سے ہمارا مطلب ہے ہند کے شمال مغربی اور مشرقی منطقے،ہمارے اوطان ،جہاں ہماری تعداد سات کروڑ کے لگ بھگ ہے اور غیر مسلموں کی تعداد تقریباً تین کروڑ اور جہاں ہم صدیوں سے آباد ہیں…ہم چاہتے ہیں کہ ان دو منطقوں کو جہاں جہاں ممکن ہو علیحدہ کردیا جائے ،جہاں ایک مسلم حکومت اپنے علاقوں پر فرمانروائی کرے ۔ہم چاہتے ہیں کہ ایک آزاد اور خود مختار قوم کی حیثیت سے ہم اپنی زندگی بسر کریں اور ان تمام اقدار کا تحفظ کریں جن کا اسلام علمبردار ہے۔ اس کے معنی ہیں ملک کا ایک چوتھائی حصہ مسلمانوں کو اور تین چوتھائی ہندوئوں کو مل جائے گاجہاں وہ بھی ایک آزاد اور خود مختار قوم کی حیثیت سے ہندوستانی رسم و رواج پر مبنی فلسفے ،اپنے تمدن اور معاشرت نظم کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں ۔
ہند میں مسلمان اور ہندو دو بڑی قومیں ہیں ۔وہ ان ناگزیر عناصر کے تعلق سے ہر اس شے پر اثر انداز ہوتے ہیں جو زندگی میں ذرا بھی اہمیت رکھتی ہے ۔کلی طور پر ایک دوسرے سے مختلف اور نمایاں ہیں۔ نہ صرف یہ کہ ہم ایک دوسرے سے مختلف اور نمایاں ہیں بلکہ بعض اوقات ہم ایک دوسرے کی ضد بھی ہیں۔ ہم مسلمانوں کی اپنی تاریخ، ثقافت ،زبان، قوانین، اصول وقوانین موسیقی ،فن تعمیر، معاشرتی اور تعلیمی زندگی ہے جو ہندوئوں سے بالکل مختلف ہے۔ ایک ہند یا متحدہ ہند کے معنی ہیں ایک بہت بڑے ہند کا قیام جہاں ہندوئوں کی مرضی ومنشا ہو، جنہیں ایک کے مقابلے میں تین کی اکثریت حاصل ہوگی، غلبہ حاصل ہوگا اور وہ مسلم قوم پر حکومت کریں گے۔ اس کا مطلب ہوگا کہ جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا ہند میں مسلمانوں کے وجود کاگلا گھٹتا جائے گا۔بحیثیت ایک قوم، فنا ہماری تقدیر ہوگی، لہٰذا یہ دس کروڑ مسلمانوں کی موت اور حیات کا معاملہ ہے۔ ہم اپنی بقا کی خاطر جدوجہد کررہے ہیں اور ان دو منطقوں میں جہاں مسلمانوں کی ٹھوس اکثریت ہے آزاد اور علیحدہ مملکت کے خواہاں ہیں۔ ہندوئوں کے فلسفۂ زندگی ان کی ثقافت اور معاشرتی زندگی کی ساری اساس ذات پات کے نظام پر استوار ہے۔ ایک شخص جس ذات میں پیدا ہوتا ہے اسی ذ ات میں مر جاتا ہے۔ یہ بے حد منفرد قسم کے لوگ ہیں۔ کوئی شخص نیچی ذات سے اونچی ذات میں داخل نہیں ہوسکتا یا معاشرتی اور معیشی مساوات کا سلوک روا نہیں رکھا جاتا۔اونچی ذات کے ہندو مسلمانوں کو ملیچھ ( ناپاک) تصور کرتے ہیں، پھر چھ کروڑ اچھوت ہیں جو ہندو ہونے کے دعوے دار ہیں لیکن ہندوئوں کی اعلیٰ ذات کے معاشرے میں ان کا داخلہ ممنوع ہے ۔ان کے ساتھ معیشی اور معاشرتی شعبوں میں غلاموں کا ساسلوک کیا جاتا ہے۔ جمہوریت ہندو معاشرے کے لیے بالکل اجنبی ہے۔ یہ اچھوت ذات پات کے نظام کا شکار ہیں اور کسی اور ذات میں نہ وہ داخل ہوسکتے ہیں نہ انہیں شامل کیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کا معاملہ اس سے بھی بد تر ہے چونکہ انہیں تاریخ ،ثقافت اور اقتصادیات کے اعتبار سے عجیب و غریب مخلوق سمجھاجاتا ہے، جیسا کہ مسلمان بنی نوع انسان کی مساوات، اخوت اور حریت کے ناگزیر اصولوں کے قائل ہیں اور انہی پر عمل پیرا ہیں چونکہ وہ بنیادی طور پر جمہوری قوم ہیں اس لیے ایسا کوئی مشترکہ میدان نہیں جس میں زندگی کی اہم قدروں کے حوالے سے ہندو اور مسلمان مل بیٹھ سکیں۔ یہ دونوں بالکل مختلف قومیں ہیں اور مستقبل بعید میں بھی اس امرکا کوئی امکان نہیں کہ یہ دونوں یک رنگ یا متحد ہو سکیں ۔ہم وہاں ہزار برس سے رہ رہے ہیں اور یہ نام نہاد’ ایک ہند‘ صرف برطانوی تسلط اور برطانوی حکمرانی کا ایک ذریعہ ہے جو امن و امان اور معاشرتی نظم کو برقرار رکھنے کی تلقین کرتا ہے ۔یہ ناقابل فہم بات ہے کہ یہ دنووقومیں جو ہر اعتبار سے ایک دوسری سے مختلف ہیں، ایک حکومتی نظم و نسق میں شمولیت اختیار کرسکیں، جس میں مسلمانوں کے ایک ووٹ کے مقابلے میں ہندوئوں کے تین ووٹ ہوں گے۔حکومت کے مقبول عام اور جمہوری نظریے کا مطلب یہ ہے کہ عوم الناس کی حمایت اس کی پشت پر ہے۔ ایسی حکومت جو ہندوئوں اور مسلمانوں پر مشتمل ہو ،مصنوعی اور غیر فطری ہوگی اور جسے نہ کبھی عوام کااحترام اور اعتمادحاصل ہوسکے گا اور نہ ان کی تسلیم ورضا یا عزت حاصل ہوپائے گی۔اگر قانون سازی اور نظم و نسق چلانے کے ضمن میں ووٹوں سے فیصلہ ہونا ہے تو یہ تباہ کن ہوگا چونکہ یہ (مخلوط حکومت) آزمائش اور امتحان کی الجھن کا سامنا نہ کرسکے گی ،دوقوموں کی منوں اختلافی آراء انہیں تقسیم کردیں گی کیونکہ انھیں مصنوعی طریقے سے ایسی حکومت میں یکجا کردیا گیا تھا جس کا پورے بر عظیم پر غلبہ تھا لہٰذا واحد حل یہ ہے کہ مسلم ہند کو ہندو ہند سے الگ کردیا جائے اور ہر ایک کے لیے الگ الگ حکومت قائم کردی جائے تاکہ یہ اچھے ہمسایوں کی طرح زندگی بسر کرسکیں۔ لہٰذا ہند کے اس سوال کو حل کرنے کا سیدھا طریقہ پاکستان اور ہندوستان قائم کرنا ہے۔ ہماری سکیم ہندوئوں اور مسلمانوں دونوں کو آزادی عطا کرتی ہے۔ یہ ایک ایسی سکیم ہے جو ہند پر انگریز کے تسلط کو بسرعت ختم کردے گی جب کہ ہندوئوں کا متحد ہ ہند کی خواہش اور خواب کا مطلب جہاں تک ہمارا تعلق ہے، یہ ہے کہ انگریزی استعمار کی غلامی سے ہندو سامراج کی غلامی میں چلے جائیں ۔ یہ ایسی کیفیت ہے جسے مسلمان نہ قبول کرسکتے ہیں اور نہ ہی کریں گے۔دوسرے لفظوں میں یوں کہاجاسکتا ہے کہ ہندو دو تہائی ہند کی بجائے سارے کا سارا اور پورا ہند چاہتے ہیں۔ دوتہائی ہند بھی ایک طاقت ور ملک ہوگا جس کی آبادی بیس کروڑ نفوس پر مشتمل ہوگی اور جس میں ہندوئوں کو پچاسی سے نوے فیصد تک اکثریت حاصل ہوگی۔ اتنی بڑی آبادی اور رقبہ شاید چین کے سوا کسی اور آزاد ملک میں نہ ہو جب کہ مسلم ہند کی کل آبادی ایک چوتھائی کے لگ بھگ ہوگی جس میں مسلمانوں کی اکثریت صرف ستر فیصد ہوگی لہٰذا ہماری سکیم دونوں کے لیے زیادہ منصفانہ ہے جب کہ ہندو سکیم کا مطلب ہے دس کروڑ مسلمانوں کا سیاسی، معاشرتی اور معیشتی اعتبار سے فنا کے گھاٹ اترنااور ہر اس معاملے کے لحاظ سے جو زندگی میں کچھ بھی اہمیت رکھتا ہے اور ان جملہ اقدار کے لحاظ سے جن کا اسلام علمبردار ہے‘‘ ۔

مزیدخبریں