جُوتا کلچر اور سوشل میڈیا
13 مارچ 2018 2018-03-13

چند برس قبل ایک پریس کانفرنس میں ایک عراقی صحافی نے اس وقت کے امریکی صدر بش کی جانب اپنا جوتا پھینکا، جو اسے نہیں لگا لیکن اُس نے اندازہ لگا لیا کہ جوتا دس نمبر کا تھا۔ یوں بات آئی گئی ہوگئی، لیکن بعدازاں اُس عراقی صحافی کو ٹارچر کیا گیا اور وہ زیر حراست بھی رہا۔ پھر اس کے بعد سے دنیا بھر میںیہ کام شروع ہوگیا اور دنیا کے مختلف لیڈران جوتا کلب کے ممبر بنتے گئے۔ پاکستان میں تو اس کی گویا لوٹ سیل لگ گئی اور آئے روز کسی نہ کسی سیاسی شخصیت کو اس کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ جس پر اُس شخصیت کی جماعت سیخ پا ہوجاتی ہے جبکہ اس کی مخالف پارٹیاںبغلیں بجاتی ہیں اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے خوشی کا اظہار کررہے ہوتے ہیں۔ ہر پارٹی کا اپنا ایک سوشل میڈیا سیل ہے جو سارا سارا دن ایک دوسرے گروپ کے خلاف منفی پروپیگنڈے کرنے اور ایک دوسرے کی مختلف انداز سے تذلیل کرنے کی تدابیر پر غورو فکر کرتے ہیں۔ اس میں صرف من گھڑت اور غلط خبریں ہی نہیں بلکہ دوسروں کی کُھل کُھلا کر کردار کشی بھی کی جاتی ہے جو یقینا کسی بھی مہذب معاشرے کا وتیرہ نہیں ہوا کرتا۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اس میں اُنہیں اپنے اپنے پارٹی سربراہان اور بڑوں کی حمایت بھی حاصل ہوتی ہے۔ اگر کسی پارٹی کا سربراہ اپنے لوگوں اور ورکروں کو غیر اخلاقی ہتھکنڈے استعمال کرنے سے منع کردے تو یقینا مذکورہ ورکرز تمیز اور تہذیب کے دائرے میں رہیں گے۔ سوشل میڈیا ایک ایسا ہتھیار ہے جسے استعمال کرنے میں انتہائی احتیاط اور شعور کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا کو آگہی اور معاشرتی مسائل کو اُجاگر کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے معاشرے میں محبت اور اپنائیت پھیلائی جاسکتی ہے جبکہ ہمارے ہاں بدقسمتی سے سوشل میڈیا کا زیادہ تر استعمال منفی ہی ہورہا ہے۔ سوشل میڈیا کی کوئی حدود وقیود اور اخلاقیات مرتب کی جانی چاہیے اور اس کو ریگولیٹ کرنے کے لئے کوئی ادارہ یا اتھارٹی ہونی چاہیے جو صرف ایک مناسب حد تک تنقید کی اجازت دے لیکن جہاں سے کسی فرد، پارٹی یا اداروں کے حوالے سے تضحیک کا عنصر نمایاں ہونے لگے وہاں اُس اتھارٹی کو حرکت میں آنا چاہیے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ سوشل میڈیا ہمارے معاشرے میں نفرت اور تفرقہ بازی پھیلانے کا سبب بن رہا ہے اور شومیِ قسمت سے اسے عام لوگ اپنے لئے کوئی خطرہ نہیں سمجھتے۔ اگر سمجھتے ہوتے تو والدین بھی اپنی اپنی سطح پر اپنے بچوں کی تربیت کی جانب توجہ دیتے اور اُنہیں اخلاقیات سکھاتے۔ میں سمجھتا ہوں ہر شہری کو اس کا ادراک ہوتا بھی ہے اور ہونا بھی چاہیے کہ سوشل میڈیا پر اُسے کس حد تک جانا ہے۔ اگر کوئی شخص سوشل میڈیا پر کوئی ایسی بات، خبر یا تصویر شیئر کرتا ہے کہ جو وہ سمجھتا ہے کہ وہ اُس کے بچے نہ دیکھیں تو وہ دوسروں کے بچوں کے لئے کیوں فارورڈ کرتا ہے۔ کیونکہ اس کی فارورڈ کردہ کوئی پوسٹ گھوم گُھما کر اُس کے گھر کے کسی فرد یا بچے تک بھی پہنچ ہی جاتی ہے۔ لوگ مختلف پارٹیاں بھی تبدیل کرتے رہتے ہیں، ہوسکتا ہے وہ آج جن کے بارے میں گندی اور لغو باتیں شیئر کرکے ایک ’’قومی فریضہ‘‘ سرانجام دے رہے ہوں کل اُنہی کے ساتھ بیٹھے اپنی موجودہ پارٹی کے خلاف اس قسم کی تضحیک آمیز باتیں کررہے ہوں۔ اس سے نہ صرف معاشرے میں بگاڑ پیدا ہورہا ہے بلکہ جو لوگ اس کام کو کارِخیر سمجھ کر سرانجام دیتے ہیں وہ درحقیقت اپنی عاقبت خراب کررہے ہیں۔ جو لوگ اس قسم کے پروپیگنڈے اور دوسروں کے خلاف غیر اخلاقی ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں اُن کی اپنی ایک شخصیت بھی لوگوں کے سامنے اُبھر رہی ہوتی ہے اور کم از کم سمجھدار اور باشعور لوگ اُنہیں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھ رہے ہوتے۔ ہمارا معاشرہ ایک شاندار پس منظر رکھتا ہے جہاں والدین اپنے بچوں کو تہذیب اور اخلاقیات سکھاتے رہے ہیں۔ اب بھی بہت سے والدین ایسا کرتے ہوں گے۔ہمارے ہاں چھوٹے بڑے کا مقام اور ایک دوسرے کی عزت کرنے کی ترغیب دی جاتی رہی ہے۔ لیکن آج کے حالات اور خصوصاً سوشل میڈیا کے استعمال سے یوں محسوس ہوتا ہے لوگ شاید اپنے بچوں اور نوجوان نسل کی بہتر تربیت نہیں کر پا رہے۔ اب اگر کوئی ایک پارٹی کے سربراہ کی جانب کوئی جوتا اُچھالا جاتا ہے تو وہ اس امر کی خوا ہاں ہوتی ہے کہ اس کی مخالف پارٹیوں کے سربراہان کو بھی جوتوں کا نشانہ بنایا جائے تاکہ عزت میں ’’برابری‘‘ آجائے حالانکہ جوتا اُچھالے جانے سے اُس شخصیت کی عزت کم نہیں ہوتی
جس پر اُچھالا جاتا ہے۔ بلکہ اُن کی عزت کم ہوتی ہے جو اس کو Justify کررہے ہوتے ہیں۔ کسی شخص کا مقام کسی بھی معاشرے میں بہت چھوٹا ہو یا بہت بڑا ہو اس سے قطع نظر جوتا اُچھالناکسی بھی تہذیب یافتہ معاشرے کا وصف نہیں ہوا کرتا۔ ہمارے ہاں عدم برداشت کم ہوتی جارہی ہے۔ کوئی بھی آدمی کسی رہنما پر جوتا پھینک کر اُس کو کسی مذہبی ایشو کے ساتھ جوڑ دے تو اُس معاشرے میں اُس کے ہمدرد بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔ یہ معاملہ بھی قانون ہاتھ میں لینے کے مترادف ہے۔ ملک میں اعلیٰ عدالتیں موجود ہیں، اگر کوئی کسی جرم کا ارتکاب کرتا ہے اور عدالتوں میں وہ ثابت ہوجاتا ہے تو اُس کی قانون کے تحت گرفت اور سزا موجود ہے۔ لوگوں کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے وگرنہ اس معاشرے میں مزید بگاڑ پیدا ہوگا جو خدانخواستہ ہمیں تباہی کی جانب لے جائے گا۔ آج وقت ہے سب لوگ جہاں جہاں موجود ہیں اپنی اپنی جگہ پر معاملات کو سنبھالنے اور بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کریں وگرنہ بہت دیر ہوجائے گی اور ہم بطور قوم خدانخواستہ اُن چیلنجز سے بھی نبرد آزما نہیں ہوپائیں گے جن کا ہمیں سامنا ہے۔


ای پیپر