لبوں کی شان… پان…
13 مارچ 2018 2018-03-13

دوستو، ملک بھر میں پان خوروں کے شاید برے دن آگئے ہیں۔ پان میں ڈالی جانے والی سپاری(چھالیہ) جو فروری کے پہلے ہفتے میں ساڑھے تین سوروپے کلو تھی اب چار ہزار روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ پنجاب میں تو فوڈ اتھارٹی نے تیس اپریل تک کی ڈیڈلائن دی ہے جس کے بعد چھالیہ فروخت کرنے والے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع ہوگا۔کراچی سمیت سندھ بھر میں بھی یہی صورت حال ہے۔ لاہور میں چونکہ ہم خود رہتے ہیں اس لئے یہاں پان کی دکانیں تیزی سے بند ہونا شروع ہورہی ہیں۔پان فروشوں کا کہنا ہے کہ چھالیہ اتنی مہنگی ہوگئی ہے کہ پان تیس ، چالیس روپے کا بھی فروخت کریں تب بھی نقصان ہی ہورہا ہے۔ بلاشبہ لاکھوں لوگوں کا روزگار پان کے کیبنوں اور کھوکھوں سے وابستہ ہے، سپریم کورٹ نے بھی گزشتہ دنوں ملک بھر میں تمباکو والے پان کی فروخت پہ پابندی لگادی ہے اور کہا ہے کہ کیس کے فیصلے تک پان فروخت نہ کیا جائے۔ہمیں تو اپنے ’’پپو‘‘ کی فکر ہے ، جو بیچارہ میٹرک کے بعد سے ہی اپنے ابا کے ساتھ کراچی کے ایک مضافاتی علاقے میں پان کا کیبن چلاتا ہے، ہمارے بچپن کے اس دوست نے کئی بار فون کرکے ہمیں کہا ہے کہ اس مسئلے پر بھی بات کی جائے۔ پان خوری اچھی ہے یا بری۔پان کی فروخت ہونی چاہئے یا پان بیچنے پر پابندی لگنی چاہئے، ہم اس بار اسی موضوع کو چھیڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے اس کالم کا مقصد پان فروشوں کی وکالت یا مخالفت ہرگز نہیں۔ جو کچھ پان کے حوالے سے ہمارے پاس معلومات ہیں وہ آپ لوگوں سے شیئر کریں گے اورفیصلہ پھر آپ لوگوں کے ہاتھ میں ہے کہ ہم نے اپنے موضوع سے کتنا انصاف کیا۔

دوستو، پان کی تاریخ ہزاروں برس پرانی ہے۔ ہندو مائتھالوجی میں بتایاجاتا ہے کہ بھگوان کرشنا جی پان کھاتے تھے۔ ہزاروں برس سے ہندو ’’وید‘‘(حکیم) اس کو بطور دوا بھی استعمال کرواتے تھے۔ اصل پان کی تاریخ برصغیر میں مغلیہ دور اقتدار کے دور سے ملتی ہے۔ ملکہ بیگم نورجہاں جو شہنشاہ جہانگیر کی بیوی بھی تھی پان کو بطور علاج استعمال کرتی تھیں۔ ملکہ سیاسی علم و فراست و ذہانت میں اپنی مثال آپ تھیں۔ اکثر جہانگیر بادشاہ اہم ملکی امور خانہ جات میں ملکہ سے ہی مشورہ لیتا تھا۔ لیکن بادشاہ سلامت ، اپنی بیگم کے منہ کی بدبو سے بڑا متنفر تھا۔ اس بیماری کے تدارک کے لئے برصغیر کے نامور حکماء کو دربار عالیہ میں مدعو کیا گیا۔ حکماء نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر ایک نسخہ پیش کیا کیونکہ پان کے پودے کا پتّا بھی اس نسخہ میں شامل تھا جو پان کی شہرت کی وجہ بنا۔ پان کو بنانے کے لئے اس وقت جن خاص اجزاء کا استعمال کیا گیا ان میں چھوٹی الائچی جو پیٹ کو نرم رکھتی ہے، دو عدد، لونگ جو خون کو گرم رکھنے اور منہ سے مضر مادوں کو رفع کرتے ہیں اور حاضر دماغی کے لئے فائدہ مند ہے، ایک عدد، چونا یا کیلشیم ، کتھا جو ہونٹوں کی سرخی کے لئے شامل کی گئی، میٹھی لونگ جو دانتوں اور مسوڑوں کی حفاظت کیلئے مفید ہے شامل کی گئی۔ چھالیا چند دانے جو پیٹ کے کیڑے مارنے کے لئے فائدہ مند ہے کو شامل کیا گیا اور سونف اور ناریل جو دماغی قوت کو دوام دیتا ہے۔الغرض پان ہماری تہذیب سے اس قدر جڑا ہے کہ ہر خاص و عام اس کا دلدادہ ہے۔ ہندو مذہبی روایات میں بھی پان کا بہت دخل ہے۔ رام مندر میں پان بطور تبرک دیا جاتا ہے تو جنوبی ہندوستان کے ایک مندر میں بھگوان کی مورتی کے ماتھے پر لگا مکھن پان کے پتے میں ہی لپیٹ کر زائرین کو ملتا ہے۔ پان کی جڑ پتّے اور رس بھی مختلف طبی نسخوں میں استعمال ہوتے ہیں۔

کچھ دلچسپ عقائد بھی پان سے جڑے ہیں۔ بہار میں دولہا دلہن کے ایک ہونے کی علامت کے طور پر وہ اپنے خون کا قطرہ پان پر ٹپکا کر ایک دوسرے کو دیتے ہیں گویا جب ایک دوسرے کا خون آپس میں مل گیا تو بس ایک ہوگئے۔ہندوستان آنے والے غیر ملکی سیاحوں نے بھی پان کا ذکر بہت دلچسپی سے کیا ہے۔البیرونی اپنی کتاب ’’کتاب الہند‘ میں لکھتے ہیں کہ۔ہندوستانیوں کے دانت سرخ ہوتے ہیں۔ امیر خسرو نے کہا کہ پان منہ کو خوشبودار بناتا ہے۔ چینی سیاح آئی چنگ نے پان کو ہاضم قرار دیا۔عبدالرزاق جو کالی کٹ کے بادشاہ زمورن کے دربار میں سمرقند سے سفیر بن کر آئے تھے، پان کی خوبیوں کو سراہتے دکھائی دیے۔ کہتے ہیں،پان کھانے سے چہرہ چمک اٹھتا ہے۔ دانت مضبوط اور سانس کی بدبو دور ہو جاتی ہے۔فارسی میں کہیں کہیں اسے ’’برگ سبز‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا گیا ۔ فارسی کا ایک محاورہ ہے ۔ ’’برگ سبز است تحفہ درویش‘‘ یعنی سبز پتّا (پان) فقیر کا ہدیہ ہے۔

ہندوستان کے مختلف علاقوں میں مختلف اقسام اور مختلف سائز کے پان پیدا ہوتے ہیں ، جو لذت کے اعتبار سے ایک دوسرے سے بالکل الگ ہوتے ہیں۔ مگدھی ، بنگلہ پان ، مہوبا (وسط ہند) بلہری ، کانپوری ، سانچی۔ لیکن ان پانچوں اقسام کے علاوہ اور بھی کئی طرح کے پان ہیں ، جو نہایت شوق سے کھائے جاتے ہیں مثلاً مدراسی ، بنارسی اور جیسوار وغیرہ۔ حیدرآباد میں بورم پہاڑ (کھم ضلع کا پان) بہت مشہور ہے۔ یہ پان نرم اور خوش ذائقہ ہوتا ہے۔ شمالی ہند کی طرح یہاں کے پان تیز اور خوشبودار نہیں ہوتے۔ ہاں بھونگیر (ضلع نلگنڈہ) کے پان مائل بہ سیاہی اور تیز ہوتے ہیں ، جسے حیدرآباد کے لوگ ’’لونگ کا پان‘‘ کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ آسام سے لاکر یہ بیل جنوبی ہند میں لگائی گئی، جس کی آسام میں کاشت ہوتی ہے۔ اس کی کچھ پیداوار، کڑپہ ضلع میں بھی ہوتی ہے۔جب سے ہندوستان میں نوابوں، مہاراجوں اور راج واڑوں کا دورشروع ہوا غالباً اسی وقت سے یہاں پان کھانے کا رواج ملتاہے۔ لکھنؤ کے تہذیبی پس منظررکھنے والی فلموں میں کنیزوں کے ہاتھوں پان کی گلوری پیش کرنے کا تذکرہ بھی موجود ہے، جبکہ کوٹھوں پر طوائفوں کو نائیکاؤں کے ہاتھوں گلوریاں پروسنے کے سین بھی کئی پرانی بھارتی فلموں میں ملتے ہیں۔ 1943ء کی بھارتی فلم آبرو میں گانا ’’پونے سے لائے پان رے‘‘ بڑا مشہور ہوا تھا، جسے اس زمانے کی ایک گلوکارہ ستارہ دیوی نے گایا تھا۔اسی طرح بھارتی فلم ’’تیسری قسم ‘‘ میں راج کپور اور وحیدہ رحمن پر پکچرائز کیا جانے والااپنے دور کا ہٹ گانا ’’پان کھائے سیاں ہمارو‘‘ کی شہرت نے تو ا ن لوگوں میں بھی پان کھانے کا شوق جگا دیا جن لوگوں نے کبھی اس کا ذائقہ بھی نہیں چکھا تھا۔

پان کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی… پان کی مزید تہذیب و ثقافت، پان کے لوازمات اور دیگر معاملات پر مزید بات اگلے کالم میں کریں گے۔ اور چلتے چلتے آخری بات ۔جس چیز کی آپ کو طلب ہو، اْسے بانٹنا شروع کردو۔ پھرچاہے وہ رزق ہو، سکون ہو، عزت ہو، محبت ہو یا پھر آسانیاں۔یقین مانیں، وہ واپس پلٹ کے آپ کے پاس آجائیں گی۔


ای پیپر