مشتہری ہوشیار باش
13 مارچ 2018

ہر خاص وعام کو مطلع کیا جاتاہے کہ چند بہروپیے جنہوں نے گزشتہ الیکشن میں عوام کے مسائل کے حل ،انہیں روٹی کپڑا ،مکان ،پینے کا صاف پانی ،گیس وبجلی ،روزگار ،صحت ،تعلیم،آمد ورفت کے بہتروسائل ،امن ودیگر سہولیات فراہم کرنے کے بلند بانگ دعوے کرکے ووٹ حاصل کیے اب دوبارہ الیکشن قریب آنے کے باعث نئے وعدے وعید، ولولوں اور سہانے خواب دکھا کر نمودار ہوچکے ہیں ۔یہ بہروپیے جنہوں نے گزشتہ چار سالہ دور میں عوام کے ٹیکسوں سے حاصل شدہ سرمایہ کو بھوکے بھیڑیے کی طرح لوٹا ،انہوں نے عوام کو میرٹ پر ملازمت دینے کے بجائے نوکریوں کو فروخت کیا اور اپنے منظور نظر رشتہ داروں ،چہیتوں ،خوشامدیوں اور چاپلوسوں کو نوازا ،ان مداریوں نے فرضی سکیموں اور منصوبوں کے ذریعے سرکاری کاغذوں کا پیٹ بھر کر عوام کو دھوکا دیا اور اپنی تجوریوں کو مال سے اور پیٹ کو جہنم کی آگ سے بھرا ۔یہ بہروپیے سیلاب زدگان، زکوٰۃ وعشر ،تعلیم وصحت ،این جی اوز کا مال کرپٹ افسران وانتظامیہ کی ملی بھگت سے ہڑپ کرتے رہے ۔یہ کرپٹ،مفاد پرست عوامی نمائندے جو اسلام آباد ،پشاور اس لئے بھیجے گئے تا کہ اپنے عوام کے مسائل کو ایوانوں میں پیش کرکے انہیں حل کروائیں لیکن یہ لوگ وزارتوں ،ٹھیکوں ،عہدوں کے چکر میں لگ کر عوام کو بھول بیٹھے ۔عوام چار سال تک ان کی راہ تکتے رہے ،اپنے مسائل لے کر کبھی اسلام آباد اور کبھی پشاور کا طواف کرتے رہے لیکن اکادکا لوگوں کے سوا انہوںنے اپنے ووٹروںکو صرف وعدوں اور سہانے خوابوں پر ٹرخایا ۔اب جب کہ ان کے اقتدار کی شمع بجھنے کو ہے ان کے چل چلائو کا وقت آگیا ہے تو اچانک دوبارہ انہیں عوام کی یاد آگئی ہے ۔اب یہ بہروپیے سرکاری فنڈز کو استعمال کرکے دوٹروں کو خریدنے میں مصروف ہوگئے ہیں ۔یہ بہروپیے ٹرانسفارمر ،گیس کے پائپ ،میٹرز،نوکریوں ،ضیافتوں ،ظہرانوں، عشائیوں کا لولی پاپ دے کر عوا م کی ہمدردیاں بٹورنے میں مصروف ہوگئے ہیں ۔پاکستان میں یہ کھیل کئی دہائیوں سے جاری ہے ۔عوام ہر مرتبہ دھوکہ کھاتے ہیں لیکن سبق حاصل نہیں کرتے ۔ہمارے موجودہ سیاسی سسٹم میں کروڑوں روپے کے بغیر الیکشن لڑنا ناممکن ہے۔ہمارے جاگیر دار ،وڈیرے ومخدوم ،پیر ،سرمایہ دار،سیاسی شعبدہ بازکروڑوں کی سرمایہ کاری الیکشن میں خرچ کرکے حصہ لیتے ہیں، اس بناء پر کہ وہ جیت کر کئی گنا زائد کمالیں گے۔ہماری سیاسی جماعتیں بھی ایسے امیدوار کو ٹکٹ دیتی ہیں جو جماعت کو بھاری چندہ بھی دے اور الیکشن میں خطیر رقم لگانے کا اہل بھی ہو ۔اس ابتدائی غلطی کے باعث ہمارے ایوانوں میں ایسے لوگ براجمان ہوجاتے ہیں جنہیں پہلے پہل تو اپنے لگائے گئے سرمائے کی واپسی درکارہوتی ہے ۔اسی فکر میں چند سال لگا دیتے ہیں۔ بعدازاں وہ اس فکر میں لگ جاتے ہیں کہ آئندہ آنے والے الیکشن کی تیاری بھی ایڈوانس میں کرلی جائے جس کے لئے عوام کو کھڈے لائن لگا کر لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ ہمارے عوام بھی اس جرم میں برابر کی شریک ہیں ۔اگر کوئی شریف آدمی الیکشن میںکھڑا ہوجائے تو اسے طعنہ دیتے ہیں ۔اسے دیکھو اس سے سیاست کیا مانگتی ہے یہ کوئی شریف آدمی کاکا م ہے ۔یہ کوئی بھوکے ننگوں کا کام ہے ۔الیکشن کے لئے تو سرمایہ چاہئے وغیر ہ وغیر ہ ،ہمارے سسٹم کی ان مذکورہ خرابیوں کے باعث ہم ایوانوں میں ایسے نمائندوں کو منتخب کرکے بھیجتے ہیں جو نااہل،کرپٹ ،مفاد پرست ہونے کے ساتھ ساتھ عوام کے دکھ درد سے ناواقف ہوتے ہیں ۔ہماری سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ ہماری سیاست میں موجود مذہبی جماعتوں کا طریقِ کار بھی یکساں ہے ۔امیدوار کی شرافت ،کردار،قابلیت ،اخلاق کو بالائے طاق رکھ کر کھانے اور کھلانے کی خصوصیت کو مدنظر کھا جاتاہے لیکن ان تمام قباحتوں، برائیوں، نقائص کے ہوتے ہوئے الیکشن کا انعقاد اگرہر پانچ سال کے بعد مسلسل ہوتارہے ،کوئی آمرمداخلت نہ کرے تو نئے چہرے اور جماعتیں جو عوام کا دکھ درد سمجھیں اور ان کے مسائل کو حل کرسکیں سامنے آئیں گی ۔جیسے پہلے پاکستان میں پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی جماعتیں ہی دو بڑی سیاسی قوت تھیں لیکن اب تیسری قوت عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کے روپ میں سامنے آئی ہے جسے خیبر پختونخوا میں خاص کر نوجوانوں کی مقبول ترین جماعت کہا جاسکتا ہے ۔ یہ جماعت اب پختونخوا سے نکل کر پنجاب میں بھی مسلم لیگ (ن) کو کافی ٹف ٹائم دے رہی ہے ۔آئندہ الیکشن میں پیپلز پارٹی کا وجود تو پنجاب میں کہیں نظرآتا نہیں لیکن پی ایم ایل (ن) اور پی ٹی آئی میں ون ٹو ون مقابلہ کی توقع کی جارہی ہے ۔ حالیہ سینٹ الیکشن میں جس طرح کروڑوں روپے استعمال کرکے ووٹ خریدے گئے اس سے ہماری سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے مکروہ چہرے عوام کے سامنے بے نقاب ہوگئے ہیں ۔آئندہ آنے والے الیکشن میں بھی کرپشن سے حاصل کیاہوا سرمایہ استعمال ہوگا اور الیکشن سے پہلے بھی صوبوں اور مرکز میں موجود حکمران جماعتیں سرکاری فنڈ کو عوام کے اجتماعی مسائل میں اس طرح سے خرچ کر رہی ہیں جیسے وہ ان کا ذاتی سرمایہ ہو۔سپریم کورٹ کو اس چیز کا نوٹس لینا چاہئے ۔ہماری مذکورہ سطور میں ووٹروں سے درخواست ہے کہ وہ صرف اپنے ذاتی مفادات کی خاطر ایسے نمائندوں کی دوبارہ حوصلہ افزائی اور معاونت نہ کریں جنہوں نے چار سال تک عوام کا خون چوسا ،اقتدار کے مزے لوٹے ،اپنی تجوریوں کو بھرا لیکن غریب عوام کو فاقوں ،بھوک ،افلاس بے روزگاری ،اقراء پروری کے سوا کچھ نہیں دیا ۔جس طرح ان نااہل نمائندوں نے عوام کو چار سال تک تگنی کا ناچ نچوایا عوام بھی ان کے ساتھ ایسا ہی سلوک کریں کیونکہ اب گرانی ،لوڈشیڈنگ ،بے روزگاری ،بدامنی ،دہشت گردی اور دیگر سماجی برائیوں کی سطح خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے ۔اب ہم اور ہمارا ملک کسی نااہل امیدوار یا حکومت کا متحمل نہیں ہوسکتا۔


ای پیپر