سرخیاں ان کی …؟
13 مارچ 2018 2018-03-13

٭… سینیٹ کا نیا چیئرمین منتخب، نئی تاریخ رقم
0… بلا شبہ ملکی سیاسی تاریخ میں نئی تاریخ رقم ہو گئی ہے اور اپوزیشن اتحاد کے غیر معروف امیدوار جناب صادق سنجرانی 57 ووٹ لے کر پہلی مرتبہ بلوچستان سے چیئرمین منتخب ہو گئے ہیں۔ درحقیقت جس طرح محبت تمام انسانی جذبات کی خالق ٹھہرتی ہے اس سے روحانی خوشی، جسمانی سکون، آواز میں لوچ ، لہجے میں مٹھاس، چہرے پے شادابی اور کردار میں وسعت آتی ہے دوسری طرف غصہ، نفرت ، انتقام، اور حسد زندگی کو ویران، چہروں کو بے نور اور خوفناک بنا دیتے ہیں۔ بلکہ میں تو سمجھتا ہوں کہ ایسے میں دماغ سے ایسی لہریں پیدا ہوتی ہیں جو خوف، نا امیدی، بے ہمتی ، اور بے چینی میں تبدیل ہو جاتی ہیں اور طبی لحاظ سے کتنے ہی ایسے امراض ہیں جو محض بے چینی سے پیدا ہوتے ہیں۔ ویسے بھی ترک محبت موت ہوتی ہے اور نفرت کبھی نفرت سے ختم نہیں ہو سکی اس پر محبت سے غلبہ حاصل کرنا ضروری ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ ہمارے محروم بلکہ ہماری محبت سے محروم بلوچ بھائیوں کو کچھ نہ کچھ مسرت نصیب ہوئی کیونکہ قومی تاریخ
میں یہ پہلا موقع ہے کہ بلوچستان سے کسی نمائندے کو چیئرمین سینیٹ منتخب کیا گیا جس سے پورے ملک خصوصاً پورے بلوچستان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ خوشی کے اس موقع پر میں پی ٹی آئی اور پی پی پی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ دونوں جماعتوں کے سربراہان بالخصوص جناب عمران خان نے نہایت سیاسی پختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس قومی خوشی کو دوبالا کیا۔ کیونکہ کون نہیں جانتا کہ ہمارے ہاں آئینی ضرورتوں اور حالات کو مدنظر رکھنے کی بجائے مفادات کے مطابق فیصلے کیے جاتے ہیں۔ آج یہ حقیقت بھی کون نہیں جانتا کہ بلوچستان میں نہ صرف دشمن بلکہ بعض گروپ بھی اپنی ریاست کے خلاف صف آراء ہیں اور بلوچ نوجوانوں کو کیسے بہکایا جا رہا ہے کہ آنکھیں کھولو دوسرے صوبے تمہارے وسائل کھا رہے ہیں۔
مگر وفاق میں بلوچستان کی کوئی خاص نمائندگی نہیں ہے۔ اس لیے ان نازک حالات میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے نئے چیئرمین کے انتخاب سے نہ صرف بلوچستان کی نمائندگی قومی یکجہتی کے لیے ایک بڑا قدم ثابت ہو گی بلکہ بلوچستان کے نیم وا زخموں پے بھی مرہم کا کام دے گی۔ یہ سچ ہے کہ بلوچستان پاکستان کے چالیس فیصد حصے پر مشتمل ہے مگر بلوچ عوام کو زندگی کی بنیادی سہولتیں پتھر کے زمانے کی میسر ہیں۔ مقام افسوس ہے کہ یہاں حکومتیں بنتی اور بدلتی ہیں مگر صوبے کی حالت نہیں۔ اس کی تازہ مثال صوبے میں مسلم لیگ ن کی گزشتہ حکومت ہے لیکن اس کی بیڈ گورننس کی بدولت خود ارکان پارلیمنٹ نے توبہ کر لی اور اپنی ہی جماعت سے آزادی حاصل کر لی۔ پھر انہی آزاد ارکان کے گروپ نے وہ کر دکھایا جس کی مغربی جمہوریت میں مثال مل سکتی ہے ہماری جمہوریت میں نہیں۔ اب جبکہ امریکی کیمپ سے باہر جھانک رہے ہیں اور اپنے حالات کا از سر نو جائزہ لے رہے ہیں اور اپنی خود مختاری کا سوچنے لگے ہیں بے حد ضروری ہے کہ سینیٹ کی اہمیت کو سمجھیں۔ ویسے بھی آئینی ترامیم اور قانون سازی کے ضمن میں سینیٹ کا کردار اہم ترین ہوتا ہے جہاں پر ایک اکائی کو مساوی نمائندگی حاصل ہوتی ہے۔ بلاشبہ آج تک ہم نے سینیٹ کو محض کسی آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے ہی استعمال کیا ہے اب نئے چیئرمین جناب صادق سنجرانی کا بھی اولین فرض ہے کہ وہ نہ صرف وفاق کو مضبوط بنانے بلکہ جمہوری روایات کو پروان چڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں بلکہ حکمران اتحاد سے بھی قوم توقع رکھتی ہے کہ وہ انتخابی کشیدگی اور ناگوار واقعات کو فراموش کرکے اپنا بھر پور کردار ادا کریں جو پارلیمانی کردار کے تمام تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔ کیونکہ عدم برداشت تیزی سے اپنے پر پرزے نکال رہی ہے۔ گزشتہ دنوں وزیر داخلہ جناب خواجہ آصف کے چہرے پر سیاہی پھینکی گئی اور پھر جامعہ نعیمیہ لاہور کی ایک روح پرور مذہبی تقریب میں سابق وزیر اعظم جناب نواز شریف کی طرف جوتا اچھال دیا گیا بے حد افسوس ہوا کہ ہم آخری حدوں کو چھونے لگے ہیں۔ خدارا، تیزی سے بدلتے حالات کا حقیقت افروز تجزیہ کریں۔ ورنہ نفرتوں کے یہ لپکتے ہوئے شعلے کسی آگ کی صورت اختیار نہ کر لیں جبکہ قر آن کا اعلان ہے کہ بد کار اپنے چہروں ہی سے پہچانے جائیں گے۔
…………………
٭…کوشش کریں گے 1970 ء کے بعد اس مرتبہ شفاف الیکشن ہوں: چیف جسٹس
0…سپریم کورٹ نے سیاسی شخصیات کی تصویر والے اشتہارات پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سیاسی مہم کی اجازت نہیں دیں گے۔ اس لیے وزیر اعلیٰ کے پی کے اور عمران خان کی تصاویر لگانا بند کریں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل جناب شہباز شریف کو بھی یہ حکم صادر فرمایا جا چکا ہے اور اشتہارات کی مد میں لگنے والا سرمایہ قومی خزانے میں جمع کروانے کا کہا جس پر عمل ہو چکا ہے ۔ جناب چیف جسٹس نے کہاکہ ہمیں اشتہارات سے کوئی غرض نہیں ذاتی تشہیر نہیں ہونے دیں گے۔ مگر میں سوچ رہا ہوں کہ ہمارے سیاست دانوں سے اگر ذاتی تشہیر چھین لی گئی تو وہ کیا کریں گے، انہیں تو کوئی اور کام بھی نہیں آتا۔ پھر سوچتا ہوں کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے، وہ کون سا کسی قانون کے تحت قائم ہونے والی عدالت کو مانتے ہیں۔ وہ تو صرف عوامی عدالت کو جانتے ہیں۔ لہٰذا عوامی عدالت کے وہ خود جج ہیں۔جسے چاہے الزام لگائیں۔ مال بنائیں۔بقول ان کے قانونی عدالت کو کوئی حق نہیں کہ وہ عوامی عدالتوں کے ان سیاسی ججز کا کوئی قانونی فیصلہ کریں۔ مگر میں یہ بھی سوچتا ہون کہ خدا نخواستہ اگر کبھی عوامی عدالت نے بھی ان کے خلاف کوئی فیصلہ سنا دیا تو پھر یہ معصوم کہاں جائیں گے کیونکہ کسی شاعر نے کہا تھا کہ
کیا کروں گا اگر ہو گیا محبت میں ناکام
مجھے تو کو ئی اور کام بھی نہیں آتا
…………………
٭… شہباز شریف کا ایک اور قیمتی مشورہ
0…میرے بعض ذرائع کے مطابق جناب شہباز شریف نے جناب نواز شریف اور محترمہ مریم نواز کو سنہری مشورہ دیا ہے کہ وہ کچھ عرصہ آرام فرما لیں اور لندن یاترا کر آئیں۔ ویسے آپس کی بات ہے جس طرح نواز شریف سینیٹ کے انتخاب سے قبل ہی جاتی امرا پہنچ گئے تھے انہوں نے اپنی شکست کو محسوس کر لیا تھا۔ ایسے ہی عدالتی فیصلوں سے قبل جناب شہباز شریف کا مشورہ برا نہیں ہے۔ میری رائے میں ایسے سنگین حالات کا ادراک کرنا چاہیے اور اپنے مقدمات کو آئینی اور قانونی سطح پر لڑنے کی بجائے سیاسی جلسوں میں نہیں لڑنا چاہیے۔ یہ ان کے لیے فائدہ مند نہیں۔ ویسے بھی ہر کسی سے لڑ کر وہ کیسے جیت سکتے ہیں۔


ای پیپر