پیرصاحبان کا کمال
13 مارچ 2018 2018-03-13

عمران خان نے گیند وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کو دی ، انہوں نے پاس جناب زرداری کو دیا اور یہ گول۔جناب کامران خان کا سینیٹ کے بارے میں یہ تبصرہ ہزاروں تجزیوں اور مباحث پر بھاری ہے۔ سینیٹ کے انتخابات میں بلوچستان کے جناب صادق سنجرانی چیئرمین اور پی پی پی کے جناب سلیم مانڈوی والا نائب چیئر مین منتخب قرار پائے ہیں۔حسب معمول جناب آصف زرداری سب پر بھاری ثابت ہوئے ہیں۔تاہم سب سے زیادہ وہ پی پی پی کے لیے بھاری نکلے ہیں۔جس سیاسی جماعت کا ایک رکن چیئر مین منتخب کیا جانا ممکن ہو ، وہ دو نمبر نشست کو اپنی پہلی ترجیح قرار دے! یہ ذہانت کا وہ مقام ہے جو خود کش دھماکے کی سرحد کے خطرناک حد تک قریب ہے۔ویسے جس دن زرداری صاحب نے مسلم لیگ ن کے مجوزہ اور ممکنہ مشترکہ نام جناب رضا ربانی کی بابت فرمایا تھا کہ میری مرضی نہیں ہے۔ یاروں نے اُسی

وقت کہہ دیا تھا کہ اس کا مطلب ہے بیعانہ اور سودا کہیں اور طے پا چکا ہے۔ویسے سینیٹ کے اس ٹوپی ڈرامے نے صرف زرداری صاحب کو ہی ننگا نہیں کیا۔دیکھنے والوں کے لیے اس میں کئی نشانیا ں ہیں۔ پی پی پی والے خوشیاں منا رہے ہیں کہ ہم نے نمبر ایک سیٹ چھوڑ دی۔ پی ٹی آئی والے بھی مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں ۔غالباً آندھی کے ساتھ ہونے کی وجہ سے۔ یا شاید دونوں خوش ہیں کہ باس سے شاباشی ملے گی۔ اسلام آباد تو ایک نیا، مصنوعی سا شہر ہے۔لیکن راولپنڈی تو ایک پُرانی بستی ہے۔ جس کے قریب صدیوں سے صاحب ِ کمال و جلال بزرگوں کاسایہ ہے۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ سب پیروں کا روحانی تصرف ہے۔تاہم اگر کسی کو پنڈی والوں کے روحانی و جسمانی کمالات میں کوئی شک تھا یا ہے۔ تو اس دفعہ بارہ من کی دھوبن مت دیکھو، پی پی پی اور پی ٹی آئی کی قلا بازیاں اور چھلانگیں دیکھو۔مولانا فضل الرحمٰن کی سمارٹ نیس دیکھو۔سب چانن ہو جائے گا۔

اشفاق احمد اور بابا رحما

پاکستان کیا دُنیا میں بھی شاید ہی اتنے باصلاحیت لکھاری پید ا ہوئے ہوں جیسے اپنے اشفاق احمد خان صاحب تھے۔تلقین شاہ کے روپ میں ، تہیں ترقی نہیں کر سکدا ، ہدیت اللہ، کہہ کر فوجی و سول آمریت کے دور میں بھی شاہ جی وہ کچھ کہہ جاتے تھے کہ شہر زاد کا وجود ہوتا تو وہ خود شاگرد ہونے پر اصرار کرتی۔تلقین شاہ لوگوں کے دل کی بات کرتا تھا۔پھر ’ اُچے برُج لہور دے ‘ سے شروع کر کے خان صاحب نے پی ٹی وی پر جس معیار کے کھیل پیش کئے ہیں۔ہم سب لوگ خوش قسمت ہیں جنہیں وہ ڈرامے دیکھنے کا موقع ملا۔ایک محبت سو افسانے ، اور افسانے ، من چلے کا سودا؛گویا کہ ایک نئی دنیا کی خان صاحب نے اس نسل کو سیر کروا دی۔ایک ڈرامے میں تو عارفہ صدیقی نے جناب اشفاق احمد کی تحریر کے اعجاز سے فیض پا کر معصوم،نوخیز ملازمہ کے روپ میں ایسا کردار نبھایا کہ اس کا سحر دیکھنے والوں پر اب تک طاری ہے۔(حالانکہ اس خاص کھیل کا مرکزی خیال خاصا کمزور بلکہ مضحکہ خیز تھا)۔ کردار تخلیق کرنے میں خان صاحب باکمال تھے۔پھر آہستہ آہستہ جنرل ضیا کے دورمیں خان صاحب پر شہابی حملہ ہوا۔یہ حملہ اتنا مہلک تھا کہ جب موصوف کا انتقال ہوا تو دانشورانہ سطح پر وہ علم مخالف، مغرب مخالف اور ان سماجی قدروں کے مخالف تھے جو کام کرنے پر زور دیتی ہیں۔تاہم ہر سمجھدار ، دور اندیش ، عملی انسان کی طرح آپ نے بھی اپنے بچوں کو مزید علم حاصل کرنے کے لیے اسی دیار پر بھیجا۔اپنی تلقین کے برعکس کہ بیٹا ، بکریاں چرایا کرو: یہ پیغمبری پیشہ ہے۔

پاکستان کو عدالتی فعالیت کی ضرورت ہے۔اس حقیقت سے کوئی سنگ دل اندھا ہی انکار کر سکتا ہے۔امن و امان ، صحت ، پانی ، خوراک اور کسی بھی پاکستانی کا غائب ہو جانا۔یہ سب مسائل جو وفاقی و صوبائی حکومتوں کی بے توجہی اور عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھنے والے اداروں کے پیدہ کردہ ہیں۔حکومتی اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے، سرکاری عہدوں سے فائدہ اُٹھا کر اپنی جیبیں بھرنے والے۔طالع آزمائوں کا ہماری فوج میں اپنے عہدے کی بنا پر اقتدار سے چمٹ جانا۔کراچی میں پانی کی عدم دستیابی اور سارے ملک میں صاف پانی اور خوراک کا نہ ہونا۔حکومتی افراد ایسے چھوٹے موٹے امور کی پروا نہیں کرتے کہ وہ تو اپنے کتے کی خوراک و علاج بھی بیرونِ ملک پسند کرتے ہیں۔ کچھ افراد کے بارے میں شبہے کا اظہار کیا جاتا ہے کہ پاکستان کے ہی چند ادارے ان کی گمشدگی کا باعث ہیں(ویسے مبینہ طور پر یہ ادارے پاکستانیوں کی سلامتی و تحفظ کی ذمہ داری رکھتے ہیں)۔اور ایک زندہ فوجی آمر کے حوالے سے عدلیہ کا کردار اتنا فعال نہیں ہے ، جتنا کہ ہونا چاہیے تھا۔ خود عدالتوں میں تصفیہ طلب مقدمات کی تعداد مایوس کن حد تک زیادہ اور طوالت کاشکار ہے۔ اس رجحان میں مستقبل قریب میں کوئی کمی ہوتی نظر نہیں آتی۔اس کے باوجود عام آدمی کے لیے ایک ہی جائے پناہ ہے۔عدالتیں ،خصوصاً اعلیٰ عدالتیں۔تاہم عدالت کی طاقت مضمر ہے آئین و قوانین کی پابندی میں۔عدالت

پاکستان میں ہو ، خواہ دُنیا میں کسی بھی جگہ۔اس کے وجود کا جواز ہی انصاف ہے۔لیکن اس کی بھی حدود ہیں۔پانی کی عدم دستیابی پر عدالت متعلقہ محکموں ، محکموں کے سربراہ ، سیکرٹری حتیٰ کہ وزیرِ اعلیٰ کو بھی طلب کر سکتی ہے۔ہسپتالوں، صحت اور تعلیم کے دیگر امور تسلی بخش نہیں ہیں تو عدالت پورے محکمے کو طلب کر سکتی ہے۔لیکن کسی بھی عدالت کے پاس انتظامی اختیارات نہیں ہیں۔یعنی ایک جج ہسپتال میں بطور مریض ہی جا سکتا ہے۔اگر وہاں آپ نے کسی بد انتظامی اور بد نیتی کا مشاہدہ کیا ہے تو بطور گواہ متعلقہ عدالت میں حاضر ہو کر گواہی دے سکتے ہیں۔لیکن خود ایکشن نہیں لے سکتے۔خواہ آپ چیف جسٹس ہی کیوں نہ ہوں۔کیونکہ یہ آپ کے دائرہِ اختیار میں ہی نہیں ہے۔جیسے کہ بنی گالہ کے ناجائز مکانات کو جائز کرنے کا اختیار یا تو سی ڈی اے کو ہے یا پھر حکومتِ وقت کو۔عدالت ناجائز قبضے کو گرانے کا حکم تو دے سکتی ہے جیسے کہ کراچی میں کیا گیا ۔

بابا رحما ، (یہی درست پنجابی تلفظ ہے)، تو بے نیاز ہو کر اشفاق احمد کے علم دشمن کا کردار نبھا سکتا ہے لیکن پاکستان کا چیف جسٹس تو آئین ،قانون،ضوابط و قواعد سے باہر چھینک بھی نہیں سکتا۔اور اسے چھینکنا چاہیے بھی نہیں۔


ای پیپر