ایوانِ بالا
13 مارچ 2018 2018-03-13

12 مارچ2018 ء کو چیئرمین سینٹ منتخب ہونے والے صادق سنجرانی بلوچستان سے پہلے اور مجموعی طور پر سینٹ کے آٹھویں چیئر مین ہیں ۔ پہلے چیئر مین حبیب اللہ خان کا تعلق خیبر پختونخوا سے تھا ۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے انہیں چیئر مین بنایا گیا تھا۔ وہ چھ اگست1973ء سے 1975 ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ دوسری مرتبہ چھ اگست1977 ء سے چار جولائی 1977 ء تک چیئر مین رہے۔ چار اور پانچ جولائی کی شب جنرل ضیاء الحق نے جمہوری نظام کی بساط لپیٹے ہوئے سینٹ جیسے مستقل ادارے کو بھی تحلیل کر دیا تھا۔ جنرل ضیاء الحق نے 1985 ء میں غیر جماعتی انتخابات منعقد کروائے تو سینٹ دوبارہ قائم ہوا۔ غلام اسحاق خان 21 مارچ1985 ء سے لے کر 20 مارچ1988 ء تک پہلی ٹرم کے لیے چیئرمین بنے بعد میں دوسری مرتبہ 21 مارچ 1988 ء سے لے کر 12

دسمبر1988 ء تک وہ چیئرمین رہے ۔ اس دوران صدر جنرل محمد ضیاء الحق کے ایک فضائی سانحہ میں جاںبحق ہونے کے بعد قائم مقام صدر مملکت کے منصب پر بھی فائز رہے۔ بعد ازاں انہیں محترمہ بے نظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں صدر پاکستان منتخب کر لیا گیا تھا۔ اُن کے بعد یہ منصب وسیم سجاد کو سونپا گیا ۔ وہ 24 مارچ 1988 ء سے 20 مارچ 1991 ء تک اور پھر اُس کے بعد 21 مارچ1991 ء سے 20 مارچ 1994 ء تک ، تیسری مرتبہ 21 مارچ 1994 ء سے 20 مارچ 1997 ء تک اور چوتھی مرتبہ 21 مارچ 1997 ء سے 12 اکتوبر 1999 ء تک مسلم لیگ کی جانب سے اس منصب پر فائز رہے۔ جنرل پرویز مشرف نے جب نواز حکومت اور قومی اسمبلی کو برطرف کیا تو سینٹ کو بھی چلتا کر دیا گیا تھا۔

جمہوری عمل کی دوبارہ بحالی کے بعد پاکستان مسلم لیگ ق کی طرف سے میاں محمد سومرو پہلی بار 23 مارچ 2003 ء سے 22 مارچ2006 ء تک ، دوسری مرتبہ 23 مارچ 2006 ء سے 11 مارچ 2009 ء تک اس عہدے پر کام کرتے رہے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے تیسرے دور حکومت میں فاروق ایچ نائیک کو سینٹ کا چیئر مین بنایا گیا۔ وہ 12 مارچ 2009 ء سے 11 مارچ2012ء تک اس منصب پر رہے۔ 12 مارچ2012 ء کو پیپلز پارٹی ہی کے سید نیّر حُسین بخاری نے 12 مارچ2015 ء تک کے لیے یہ عہدہ سنبھالا۔ اُس کے بعد پیپلز پارٹی کے میاں رضا ربانی 12 مارچ2015 ء سے 11 مارچ2018 ء تک چیئر مین سینٹ رہے۔

1970 ء میں منتخب ہونے والی قومی اسمبلی نے پاکستان کو 1973 ء میں ایک متفقہ آئین دیا ۔ اس آئین میں پارلیمنٹ کے دو ایوان بنائے گئے ۔ ایوانِ زیریں کو قومی اسمبلی کا نام دیا گیا جبکہ ایوان بالا کو سینٹ کہا گیا ۔قومی اسمبلی میں صوبوں کو آبادی کے تناسب سے نمائندگی دی گئی ہے جبکہ سینٹ میں وفاق کی تمام اکائیوں کو یکساں نمائندگی دی گئی ۔ اس کے قیام کے وقت قانون سازی میں سینٹ کو زیادہ حصہ نہیں دیا گیا تھا۔ جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میںمنظور کی جانے والی آٹھویں آئینی ترمیم کے ذریعے سینٹ کو قانون سازی میں قومی اسمبلی کی طرح متحرک کردار سونپا گیا ۔ جس کی وجہ سے اس ادارے کی فعالیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔

سینٹ کویہ اعزاز بھی حاصل رہا ہے کہ مختلف اوقات میں مختلف اہم شخصیات اس کا حصہ ہونے کی وجہ سے حکومت میں شامل ہو کر اپنا کر دار ادا کرتی رہی ہیں۔ 1985 ء کے انتخابات کے بعد ملک کے مختلف شعبوں سے ممتاز شخصیات کواس کا حصہ بنایا گیا جنہوں نے حکومت میں شامل ہو کر مختلف شعبوں میں اپنا کردار ادا کیا ۔ ان میں اُس وقت کے ممتاز بیوروکریٹ

غلام اسحاق خان نمایاں ہیں ۔ وہ چیئر مین واپڈا، سیکرٹری دفاع، سیکرٹری خزانہ، وزیر خزانہ و منصوبہ بندی سے ہوتے ہوئے چیئر مین سینٹ بنے اور پھر صدرمملکت کے منصب پر فائز ہوئے۔ انہوں نے اسلامیہ کالج پشاور سے فیس کلرک کی حیثیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ بعد میں آئی سی ایس ایس کا امتحان اعزاز کے ساتھ پاس کرنے کے بعد انڈین سول سروس جوائن کی تھی۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی ۔ انہوں نے وزیر خزانہ کی حیثیت سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے لیے تمام وسائل وقف کر دیئے تھے۔

ڈاکٹر محبوب الحق اور ڈاکٹر اسد محمد خان بھی ٹیکنوکریٹس تھے جنہیں سینٹ میں ایڈجسٹ کرکے حکومت کا حصہ بنایا گیا ۔ ڈاکٹر محبوب الحق نے خزانہ اور منصوبہ بندی کے شعبے میں خدمات سر انجام دیں ۔ ڈاکٹر اسد محمد خان نے پٹرولیم کے شعبے میں پاکستان کو حیرت انگیز ترقی کی راہ پر ڈال دیا تھا۔ 1985 ء کے بعد کے سینٹ میں ایک معروف اور معتبر نام صاحبزادہ یعقوب علی خان کا بھی ہے۔ انہوں نے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے تک پاک فوج میں خدمات سر انجام دیں۔ خارجہ اُمور پر ان کی دسترس کا ایک زمانہ معترف رہا ہے۔ افغانستان پر روسی قبضے کے بعد ایک طویل عرصہ تک خارجہ اُمور کی کمان کی ۔ پیر سید مردان علی شاہ پگارو مرحوم بھی سینٹ کے ممبر رہے۔ اسی طرح مولانا کوثر نیازی مرحوم بھی سینٹ کے رُکن رہے۔سینٹ کے بڑے ناموں میں مولانا عبد الستار خان نیازی مرحوم، مولانا سمیع الحق ، چوہدری شُجاعت حُسین ، چوہدری اعتزاز احسن اور میاں رضا ربانی بھی نمایاں ہیں۔

12 مارچ 2018 ء کو پاکستان کے ایوان بالا نے اپنے نئے سفر کا آغاز کیا ہے۔ اپوزیشن اتحاد نے بلوچستان کو محرومیوں کے احساس سے نکالنے کے عزم کے ساتھ پارلیمنٹ کے اس ایوان کی قیادت سینٹر صادق سنجرانی کو سونپی ہے۔ ہمارے الیکٹرونک میڈیا کے عالی دماغ اپنے اپنے علم و دانش کے مطابق جو مرضی تبصرے کریں لیکن کہا جا رہا ہے بلوچ چیئرمین سینٹ کے انتخاب نے بھارتی میڈیا کو بہت مایوس کیا ہے۔ بلوچستان کی محرومی کا شور مچانے والا بھارتی میڈیا بھی یہ خبر نشر کرنے پر مجبور ہو گیا کہ پاکستان میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بلوچ کو سینٹ کا چیئر مین بنادیا گیا ہے۔ سینٹ کے حالیہ انتخابات کو پسند نا پسند ، سیاسی اور جذباتی وابستگیوں سے ہٹ کر دیکھا جائے تو جمہوری عمل کے تسلسل کو دوام ملا ہے۔ ایک آئینی تقاضا پورا ہونے سے عام انتخابات کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ موجودہ جمہوری نظام کو استحکام کے لیے ایک ’’ہمزاد‘‘ میسر آ گیا ہے۔ اپنے اس جمہوری تشخص کے دوام کے لیے بہت سی خواہشات اور تمنائیں ہیں ہم سب کو اس کے لیے دعاگو ہونے کے ساتھ ساتھ بروئے کار بھی آنا چاہیے ۔لیکن ہماری سیاست میں سرگرم عمل زیادہ تر پارٹیوں پر محمد محمود احمد کے یہ اشعار صادق آتے ہیں کہ

کوئی جا کر بتائے رانجھے کو

زندگی مختصر ہے فانی ہے

ہیر کی فکر تُم سے کیا ہو گی

تُم نے بس بانسری بجانی ہے


ای پیپر