بداخلاق معاشرہ اور بے عزتی پروف حکمران!
13 مارچ 2018 2018-03-13

گزشتہ روز بداخلاقی کے دوتازہ ترین واقعات پیش آئے۔ لاہور میں جامعہ نعیمیہ کی ایک تقریب میں جیسے ہی سابق وزیراعظم نواز شریف تقریر کرنے روسٹرم پر آئے ، عین اُسی لمحے ایک شخص نے اُنہیں جوتا دے مارا ۔ اِس سے ایک روز قبل سیالکوٹ میں وفاقی وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے جب سیاسی اخلاقیات کا درس دے رہے تھے، اور فرمارہے تھے”نئی سیاسی روایات جنم لے رہی ہیں، نئی تاریخ رقم ہورہی ہے، نیا اسلوب لکھا جارہا ہے ....وغیرہ وغیرہ توعین اُسی لمحے ایک شخص نے اُن کے چہرے پر سیاہی پھینک کر ، اُن کا منہ کالا کرکے ایک ”نئی تاریخ“ رقم کردی۔ ایک نیا ”اسلوب “لکھ دیا ،نئی ”سیاسی روایات “ کو جنم دے دیا۔ ....یہ یقیناً بہت افسوس کا مقام ہے۔....خصوصاً اس حوالے سے کہ جب اُن کی حکومت اور وزارت آخری دموں پر ہے اور اپنے پانچ سالہ اقتدار میں وہ کوئی کارکردگی نہیں دکھا سکے تو اُن کا منہ کالا کرنے یا اُن پر سیاہی پھینکنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔ اُن کے لیے سب سے بڑی سیاہی اُن کی وہ نااہلی ہے جو پہلے وہ وزیر برائے پانی و بجلی کی حیثیت سے دکھاتے رہے اور اب وزیر خارجہ کی حیثیت سے دکھا رہے ہیں۔ .... یہ درست ہے یہ واقعہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ مگر معاشرہ بداخلاقی کے جس مقام پر آن کھڑا ہوا ہے اُس میں بنیادی کردار ہمارے حکمرانوں کا ہی ہے اُن کی ساری توجہ لُوٹ مار کی طرف ہی رہی ، معاشرے کا اخلاقی کردار بلند کرنے کے لیے کوئی کام کرنا تو درکنار اِس کا تصورتک اُنہوں نے نہیں کیا۔ اُن کے نزدیک یہ ایک انتہائی فضول اور غیراہم کام تھا۔ اب اِس کا شکار وہ خود ہونے لگے ہیں تو اُنہیں ہرگز اس کا بُرا نہیں منانا چاہیے ۔ بلکہ معاشرے کی اخلاقیات بگاڑنے میں جوکردار اُنہوں نے ادا کیا اس کی بنیاد پر تو انہیں شکر کرنا چاہیے اُن کے صرف منہ ہی کالے کیے جارہے ہیں،یااُنہیں صرف جوتے ہی مارے جارہے ہیں۔ حالانکہ مستحق وہ اِس سے کہیں زیادہ کے ہیں۔ جوظلم اور زیادتیاں لوگوں کے ساتھ انہوں نے

کیں۔ اللہ سب کو محفوظ رکھے۔ مگر اُن لوگوں کا کیا کیا جائے جو روز کسی نہ کسی ادارے کی عزت سے کھیل رہے ہوتے ہیں؟ ۔ حتیٰ کہ خود اپنی عزت کی اُنہیں کوئی پروا نہیں رہی۔ خود پر جوتا پھینکے جانے یا اپنا منہ کالا ہونے کو بھی بہت معمولی واقعہ اُنہوں نے سمجھاہوگا۔ اُنہیں پورا یقین ہوگا چند دنوں بعد یہ واقعات بھی لوگ بھول جائیں گے۔ جیسا کہ ایک روز پہلے منہ کالا کروانے والے خواجہ آصف قومی اسمبلی کے فلور پر چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے ”پانامہ لیکس کوئی ایشو ہی نہیں ہے، چند دنوں بعد لوگ اُسے بھول جائیں گے“۔ اُس کی یہ بات واقعی درست ہے، ثابت ہوئی۔ لوگوں نے واقعی اس ایشو کو اتنا سیریس نہیں لیا کیونکہ ہمارے لوگوں کی اکثریت حکمرانوں جیسی ”خصوصیات“ ہی رکھتی ہے۔ ایسے ہی تو قرآن پاک میں ارشاد نہیں فرمایا گیا ”جیسی قوم ہوگی ویسے حکمران اُس پر مسلط کردیئے جائیں گے“ ۔....سو اگر عمران خان یا کوئی اور یہ کہے پانامہ لیکس کی وجہ سے کرپٹ حکمرانوں کا ایک ووٹ بھی کم ہوا ہے، میں اِسے تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ کرپٹ عوام یا کرپشن پسند عوام کے نزدیک حکمرانوں کا کرپٹ ہونا کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتا ۔ بلکہ کرپٹ حکمران سمجھتے ہیں موجودہ حکمران صحیح معنوں میں اُن کے نمائندے ہیں، لہٰذا میں عمران خان کی خدمت میں بھی یہ گزارش کرتا ہوں کرپشن کے خلاف گلا پھاڑنا اب بند کردے۔ اِس کا کوئی اثر کسی پر نہیں ہورہا۔ بلکہ ہوسکے تو اگلے چند مہینوں یعنی اگلے الیکشن تک خود بھی کرپٹ ہوجائے۔ اپنے کارکنوں اور رہنماﺅں کو بھی ہدایت فرما دے جہاں کسی کا داﺅ لگتا ہے لوٹ مار کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھے۔ مجھے یقین ہے ایسی صورت میں اُس کے ووٹ بینک میں اتنا اضافہ ہوجائے گا اُسے اقتدار میں آنے کے لیے اور کسی سہارے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوگی، میرے نزدیک اُس کے اقتدار میں آنے کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہی یہی ہے کہ وہ کرپٹ نہیں ہے۔ کرپشن کی دلدل میں پھنسے ہوئے ادارے یا کرپشن کو باقاعدہ ایک کاروبار سمجھنے والے عوام اور ادارے کیسے یہ چاہیں گے ایک ایسا شخص اُن پر مسلط ہوجائے جو کرپشن کو اس ملک اور معاشرے کے لیے زہرقاتل سمجھتا ہے؟.... البتہ نون لیگ کا تھوڑا بہت ووٹ بینک ختم نبوت قانون میں تبدیلی

کی کوشش کے حوالے سے ضرور کم ہوا ہے۔ یہ جواُن پر جوتے برسائے جارہے ہیں ، یا اُن کے منہ کالے کیے جارہے ہیں اُس کی وجہ اُن کی کرپشن نہیں، ختم نبوت قانون میں چھیڑ خانی کی وہ کوشش ہے جس میں بُری طرح وہ ناکام ہوگئے اور اُس کے بعد اپنے بیرونی دوستوںاور ملک ودین دشمنوں کو بھی منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے،....سو اگلے الیکشن میں وہ بری طرح ناکام ہوئے (جس کے چانسز کم ہیں) تو اُس کی وجہ اُن کی کرپشن، اُن کی لالچ، اُن کے ظلم یا ان کی نااہلیاں نہیں بلکہ ختم نبوت قانون میں تبدیلی کی کوشش ہوگی۔ اور یہ سزا بھی اُنہیں عوام کی طرف سے نہیں اللہ کی طرف سے ملے گی۔ حکمرانوں کی دین دشمنی کو بھی بڑی تعداد میں عوام کب خاطر میں لائے ہیں؟۔ عوام خود دین پر کتنا عمل کرتے ہیں؟۔ کیا یہ بھی آپ کی توہین ہی کی ایک صورت نہیں کہ لوگوں کا کردار آپ کی سنت اور احکامات کے بالکل برعکس ہو؟۔ ....البتہ چند اللہ والے ضرور ہیں حکمرانوں کی دین دشمنیوں پر جن کی تڑپ دیکھنے والی ہوتی ہے۔ اور اللہ اُن کی اِس تڑپ میں اتنی برکت ڈال دیتا ہے دین دشمن حکمران مشکلات ،بے عزتی اور بدنامی کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں، ....عوام بڑی تعداد میں حکمرانوں کی دین دشمنیوں کو خاطر میں لاتے ہوئے تو بجائے اس کے اُنہیں ایک آدھی جوتی پڑتی، یا کسی ایک آدھے وزیر کا منہ کالا ہوتا، اُن کے لیے ایسے حالات پیدا ہو جاتے اُن کا گھروں سے نکلنا محال ہو جاتا ۔ یہ بھی قدرت ہی کے انتقام کی ایک صورت ہے ایک شخص کے جوتا مارنے کے عمل کو عالمی سطح پر اتنی ”شہرت“ مِل رہی ہے جیسے یہ جوتا بیس کروڑ عوام کی طرف سے مارا گیا ہو۔ دوسری طرف وزیرخارجہ کے منہ پر ماری جانے والی سیاہی بھی دیکھتے ہی دیکھتے اتنی پھیل گئی یوں محسوس ہورہا تھا اُن کا منہ کسی ایک شخص نے نہیں کروڑوں لوگوں نے کالا کیا ہے۔ دونوں ”کشمیریوں “ کے ساتھ بڑی زیادتی ہوئی۔ مجھے یقین ہے اس بے عزتی کو بھی وہ ذرا خاطر میں نہیں لائیں گے کیونکہ وہ اچھے خاصے ”بے عزتی پروف“ ہوچکے ہیں۔ مجھے ایک ”بٹ صاحب“ یاد آرہے ہیں۔ روزے کی سرعام خلاف ورزی پر اُن کے محلے داروں نے فیصلہ کیا اُن کا منہ کالا کرکے اُنہیں کھوتے پر بٹھا کر گلی کے سات چکر لگوائے جائیں۔ چھٹے چکر پر جب وہ اپنے گھر کے قریب سے گزرے تو گھر کی دہلیز پر کھڑی بیوی سے کہنے لگے ”جلدی نال روٹی پکا بس اِک چکر باقی رہ گیا اے!“


ای پیپر