سانپ اور سیڑھی کا کھیل!
13 مارچ 2018

8 مارچ کو عرض کیا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو ایڈوانٹیج حاصل ہے اور یہ کہ آصف علی زرداری بلوچستان یا فاٹا سے کسی آزاد امیدوار کو نامزد کر کے سب کو حیران کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سو دم تحریر صادق سنجرانی 57 ووٹ کے ساتھ نئے چیئرمین سینٹ منتخب ہو چکے ہیں اور گزشتہ روز سے میری حقیر رائے یہ تھی کہ راجہ ظفر الحق کو امیدوار نامزد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) خود اس انتخاب کے نتیجہ کے حوالے سے پراعتماد یا یقین نہیں رکھتی کہ وہ جیت جائیں گے کیونکہ یہ بات طے ہے کہ انتخابات میں یقینی فتح کی صورت میں میاں نواز شریف کا امیدوار کوئی اور ہوتا ہے اور جیت نظر نہ آئے تو وہ کسی نہ کسی کو ”بھگتا“ دیتے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق کے اوپننگ بیٹسمین راجہ ظفر الحق کا نام سامنے لانے کے بعد سے مسلم لیگ (ن) کی بے یقینی تو واضح ہو گئی تھی کیونکہ ایک تو وہ میاں نواز شریف کے موجودہ بیانیے کے ساتھ چلنے کی سکت نہیں رکھتے تھے اور دوسرا یہ کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے زمانے میں راجہ ظفر الحق کے حوالے سے جو خبریں میاں نواز شریف تک پہنچی تھیں ان کے پیش نظر مجھے لگتا نہیں تھا کہ راجہ ظفر الحق کو سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر سے آگے کسی مقام پر لے جایا جا سکتا ہے۔ رہے صادق سنجرانی تو ان کا نام سامنے آنے کے بعد سے آصف علی زرداری یہی سوچ رہے تھے کہ ”چت بھی میری اور پٹ بھی“ بلوچستان سے آزاد امیدوار کے طور پر وہ سینیٹ کے انتخاب میں سامنے ضرور آئے کہ بلوچستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کا کوئی رکن صوبائی اسمبلی ہی موجود نہیں تھا کہ جو ان کی نامزدگی پر دستخط کر دیتا اور انہیں پارٹی ٹکٹ مل پاتا لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں وفاقی دارالحکومت کے صحافی ان کی پی پی پی کے ساتھ وابستگی اور تعلق کو اچھی طرح پہچانتے ہیں،سو جیتے تو پی پی پی اور ہارے تو آزاد امیدوار ،لیکن اگر صادق سنجرانی کو ملنے والے 57 ووٹوں کا تجزیہ کریں تو یہ بات واضح طور پر سامنے آ جاتی ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ووٹ مسلم لیگ (ن) کو حسب وعدہ نہیں ملے اور مولانا فضل الرحمن اور اکرم درانی حسب روایت اپنے وعدوں پر ، زبان پر پورا نہیں اترے اور ان کے سینیٹرز پر ”موقع پرستی“ کہیں یا ”مفاد پرستی“ کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) اور خاص کر اکرم درانی نے جس طرح سے مفتی محمود مرحوم کا نام ”روشن “ کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے اور خیبر پختونخوا کے عوام ہر گزرتے دن کے ساتھ تلخ حقائق سے روشناس ہو رہے ہیں۔ سلیم مانڈوی والا نے ایم کیو ایم کے ووٹوں کے بغیر جو کامیابی حاصل کی ہے اور جو مارجن سامنے آیا ہے اس سے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور ان کے اتحادیوں کی باہمی وابستگی پر مزید سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
تاہم صادق سنجرانی اور سلیم مانڈوی والا دونوں کو مبارکباد کہ وہ ایک باقاعدہ الیکشن کے ذریعے ووٹ لے کر ایوان بالا کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوئے ہیں۔ اس سے قبل جمعیت علمائے اسلام (ف) ، پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر ڈپٹی چیئرمین کے عہدے کا لطف اٹھا رہی تھی۔تاہم جب پیپلز پارٹی کو خود جوڑ توڑ میں پھنسا دیکھا اور امید نہ رہی کہ کچھ حاصل ہو پائے گا تو مولانا نے اعلان تو ایک طرف کر دیا لیکن اپنے نمائندوں کے ”ضمیر کی آواز“ اور اعلان میں مطابقت شاید نہیں لا سکے۔
میر حاصل بزنجو سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے بعد گرجتے برستے نظر آئے ان کے اس موقف سے جزوی طور پرا تفاق کرتا ہوں کہ بلوچستان کا نام استعمال کیا گیا ہے لیکن مریم اورنگزیب اور دیگر حکومتی زعماءاور ان کے اتحادی جب موجودہ سیاست میں اخلاقیات کی بنیاد پر کوئی دلیل استوار کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو میری ہنسی نکل جاتی ہے۔
بھٹو کا سہارا لے کر پاکستان پیپلز پارٹی کو طعنے دینے اور پارلیمان کی بالادستی کے نام پر اس پارلیمنٹ میں بیٹھنے میں شرم محسوس کرنے کے عمل کو جمہوری رویہ اور جمہویت سے منسلک کرنا بذات خود ایک بہت بڑی ”منافقت “ہے،یہ وہی منافقت ہے جس کا پورا معاشرہ شکار ہے۔
صادق سنجرانی کو چیئرمین منتخب کرنے سے بلوچستان کی محرومی کس حد تک دور ہو گی اور وہاں لوگوں کے جذبات پر کیا اثرات مرتب ہونگے، اس کا موجودہ بے رحم پاور پالیٹیکس کے ساتھ کیا لینا دینا۔ نہ محرومی نہ اخلاقیات، صرف اور صرف مفادات اور طاقت کے حصول کی جنگ ہے۔ جس میں ایک فریق ہار گیا اور دوسرا جیت گیا۔ پاکستان کے عوام تو ہار جیت کے اس کھیل میں کبھی شریک ہی نہیں تھے، ہم تو وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ اس سانپ اور سیڑھی کے کھیل میں شریک ہوئے بغیر ہارتے رہے ہیں!


ای پیپر