پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کی تفصیل 
13 جون 2020 (19:22) 2020-06-13

اسلام آباد:حکومتی معاشی ٹیم نے کہا ہے کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا ، کاروباری لاگت کم کر نے کیلئے 1623ٹیرف لائنز اور ہزاروں آئٹمز پر ڈیوٹی صفر کی جا رہی ہے، 10 قسم کے ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کر رہے ہیں، بجٹ میں عوام کو بڑے پیمانے پر ریلیف دیا جا رہا ہے،عوام کی خاطر حکومت کے اخراجات میں کمی کی، ماضی کے قرضے گلے کا طوق بن چکے ہیں، رواں سال 2900ارب روپے کا قرضہ واپس کرنا ہے، عیاشی کیلئے قرض نہیں لے رہے،، لوگوں کی آمدن بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں.

معیشت کو دستاویزی بنانے کیلئے پرعزم ہیں، اعتماد سے نہیں کہا جا سکتا کہ ایف بی آر کا 4900 ارب ریونیو کا ہدف پورا ہو گا لیکن کوشش کریں گے، کرونا وائرس میں شدت آئی تو بجٹ میں ایڈجسٹمنٹ ممکن ہے، آئندہ سال کیلئے مہنگائی کا ہدف ساڑھے 6فیصد ہے، کرونا وائرس کی وجہ سے معیشت متاثر ہوئی، نجکاری کا عمل بھی متاثر ہو گیا، کرونا وائرس کی وجہ سے اگر کوئی دقت پیدا ہوئی ہے تو اس کی ذمہ داری حکومت پر مت ڈالی جائے، ملازمتوں کو تحفظ فراہم کرنا اور نئی ملازمتیں پیدا کرنے میں پوری قوت لگا رہے ہیں ، ڈیوٹیز میں کمی سے صنعت سازی کا عمل تیز ہو گا، کرونا وائرس کی وجہ سے آئی ٹی سروسز کے شعبہ کو فائدہ ہوا، آئی ٹی سروسز کی برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ہفتہ کو ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ حفیظ شیخ، وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر، مشیر تجارت عبدالرزاق دائود نے چیئرمین ایف بی آر نوشین جاوید، سیکرٹری خزانہ و دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ کرونا وائرس کے حتمی نقصانات کا اندازہ لگانا مشکل ہے، اندازہ ہے کہ 3000ارب کی جی ڈی پی کا نقصان ہو گا، ایف بی آر 4500ارب کے ہدف تک پہنچ سکتا تھا، کرونا وائرس نے ساری دنیا میں تہلکہ مچایا، لیکن کرونا وائرس کی وجہ سے 3900ارب روپے ٹیکس وصول ہوا، کرونا کو روکنا کا حربہ کسی کے پاس نہیں تھا، ہماری صنعت بند ہوئی اور معاشی سر گرمیاں رک گئیں، غربت اور بے روزگاری بڑھی، فراخدلی سے لوگوں کی مدد کی، 1200ارب روپے کا پیکج دیا، ایک کروڑ 60لاکھ لوگوں کو کٹس دینے کا فیصلہ کیا، ایک کروڑ لوگوں کو اب تک رقم دی جا چکی ہے، اس کا مطلب ہے دس کروڑ لوگوں کو اس سے فائدہ ہوا، 280ارب کی کسانوں سے گندم خریدی تا کہ ان کے پاس پیسہ جائے، چھوٹے کاروباری اداروں کے تین ماہ کے بجلی کے بل دیئے، پچاس ارب زراعت کو دیئے گئے، کاروبار کو سبسڈی دی گئی، چھ لاکھ کاروباری اداروں نے اس سے فائدہ اٹھایا، قرضہ ایک سال کیلئے مووخرکیا، صارفین کے بجلی کے بل چھ ماہ تک موخر کئے، پٹرول کی قیمتیں کم ہوئیں تو زیادہ سے زیادہ فائدہ عوام کو دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کرونا سے پہلے ایف بی آر کے محاصل میں 17فیصد اضافہ ہوا، قرضوں کے سود کی مد میں 2700ارب دیا، بیرونی سرمایہ کاری میں 137فیصد اضافہ ہوا، قرضوں کی واپسی گلے کا طوق ہے، رواں سال 2900ارب کا قرضہ واپس لینا ہے، اس سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے، ہم چاہتے ہیں کہ قرضہ دینے کے بجائے عوام پر خرچ کریں، کوشش کی ہے کہ حکومت کے اخراجات کم کریں، عیاشی کیلئے قرض نہیں لے رہے، اس لئے نہیں لے رہے کہ وزیراعظم ہائوس یا سول حکومت کا بجٹ بڑھائیں، ماضی کے قرضے ادا کرنے کیلئے قرض لے رہے ہیں، ٹیکسوں کے محاصل میں اضافہ نہیں ہو گا تو قرض بڑھے گا، اس بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا تا کہ لوگوں پر بوجھ نہ بڑھے، گزشتہ سال ترقیاتی اخراجات میں 100ارب زائد استعمال کیا، کئی ٹیکس کم کر کے عوام کو ریلیف دیا گیا، 1623ٹیرف لائنز اور ہزاروں آئٹمز ان پر ڈیوٹی صفر کی جا رہی ہے تا کہ کاروباری لاگت کم ہو، 200ٹیرف لائنز پر ڈیوٹی کم کی جا رہی ہے، انجینئرنگ شعبہ کیلئے 166ٹیرف لائنز پر ریگولیٹری ڈیوٹی کم کی جا رہی ہے، دس قسم کے ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کر رہے ہیں، امپورٹ پر ود ہولڈنگ ٹیکس 5فیصد سے کم کر کے 2فیصد تک لا رہے ہیں،سیمنٹ پر 25روپے فی کلو کمی لا رہے ہیں، سیلز ٹیکس کو 14فیصد سے کم کر کے 12فیصد کر رہے ہیں تا کہ ٹیکس نیٹ بڑھے، ہوٹلوں ، ریستورانوں پر ٹیکس آدھا فیصد کیا جا رہا ہے، عوام کو بڑے پیمانے پر ریلیف دے رہے ہیں، 50ارب کی ڈیوٹیز ختم کر رہے ہیں تا کہ ملازمت کے مواقع پیدا ہوں، عوام کو کاروباری آسانی پیدا کرنے کیلئے ٹیکس قوانین میں تبدیلی کر رہے ہیں، سارا سال مانیٹرنگ کریں گے، جہاں پر کمی ہو گی پورا رسپانس دیں گے، دنیا کے ادارے ہمارے ساتھ ہیں ، لوگوں کے جیبوں میں ہاتھ نہیں ڈالنا چاہتے.

عوام کے مفاد کو سامنے رکھ کر کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،پاکستان کا تاریخی ناکامی رہی ہے، سیونگز کم ہوتی رہی، لوگوں کی آمدن بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، اعتماد سے نہیں کہہ سکتا کہ 4900ارب ریونیو کا ہدف پورا ہو گا لیکن اس کو حاصل کرنے کی کوشش کریں گے، تاجروں کو مشکل حالات میں فائدہ دینے کیلئے شناختی کارڈ کی شرط کیلئے 50ہزار سے بڑھا ایک لاکھ روپے کر رہے ہیں، معیشت کو دستاویزی بنانے کیلئے پرعزم ہیں، کرونا وائرس میں اگر شدت آتی ہے تو بجٹ میں ایڈجسٹمنٹ ہو سکتی ہے، مہنگائی کا ہدف آئندہ سال ساڑھے چھ فیصد رکھا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے کہا کہ ملازمتیں پیدا کرنے کا انجن پرائیویٹ شعبہ ہے، معیشت کو استحکام دینا پہلا ہدف تھا، برآمدات میں اضافہ ہو رہا تھا، کرونا وائرس سے معیشت کو نقصان ہوا، کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کے حوالے سے رینکنگ میں مزید بہتری لائیں گے، نوکریوں کو تحفظ دینے اور پیدا کرنے میں ہماری پوری قوت لگی ہوئی ہے۔ مشیر تجارت عبدالرزاق دائود نے کہا کہ ڈیوٹیز کم کر کے انٹراسٹیلائزیشن لانا ہے، صنعتوں کو فروغ دینا ہے، برآمدات کے خلاف تعصب کو ختم کرنا ہدف ہے، تاجروں کے ٹیکس ریفنڈز میں ایف بی آر سے مل کر بہتری لائی ہے۔ حفیظ شیخ نے کہا کہ نج کاری کا عمل تیز کر نے کی کوشش کی ، ایل این جی کے دو پلانٹس کی نجکاری آخری مراحل پر تھی، کرونا وائرس کی وجہ سے نجکاری کا عمل متاثر ہو گا، آئی ایم ایف کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات ہیں، پٹرولیم لیوی میں اضافہ نہیں کیا،خطہ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں سب سے زیادہ کمی ہم نے کی، کرونا وائرس کی وجہ سے دقت ہوئی ہے تو اس کی ذمہ داری حکومت پر مت ڈالی جائے۔ حماد اظہر نے کہا کہ شوگر پالیسی میں اصلاحات لارہے ہیں۔مشیر تجارت نے کہا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے آئی ٹی شعبہ میں فائدہ ہوا ہے، آئی ٹی کا شعبہ بند نہیں تھا، آئی ٹی کی سروسز کی برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حفیظ شیخ نے کہا کہ تعمیرات کے شعبہ کیلئے ٹیکسز کو نصف کر دیا ہے، آئی ایم ایف نے ہماری کارکردگی کو سراہا، نان ٹیکس ریونیو میں 16سو ارب حاصل کئے، تجارتی خسارہ ہم نے 20ارب ڈالر سے کم کر کے 3ارب ڈالر تک لایا، حکومت آئی تو ڈالر ختم ہو چکے تھے، حکومتی اخراجات پہلی بار آمدنی سے کم رہے،سٹیٹ بینک سے ٹکا نہیں لیا، کسی ادارے کو ضمنی گرانٹ نہیں دی، کرونا سے پہلے ٹیکس محاصل میں 17فیصد اضافہ ہوا، کرونا وائرس نے ساری دنیا میں تہلکہ مچایا، عالمی معیشت متاثر ہوئی۔


ای پیپر