حکومت اپوزیشن کا خفیہ معاہدہ ،ایک حکومت بذریعہ نیب
13 جون 2020 (12:22) 2020-06-13

تاریخ کے صفحات پر یہ قصہ نقش ہے کہ ملک سکندر حیات اور ملک خضر حیات ٹوانہ مسلم لیگ کے پیش کردہ قیام پاکستا ن سے متعلق موقف کے مخالف تھے۔ان کی پارٹی یونینیسٹ پارٹی کوپنجا ب میں اکثریت حاصل تھی۔ مسلم لیگ یونینسٹ پارٹی پر دبائو ڈال رہی تھی اور احتجاجی مظاہرے کر رہی تھی کہ وہ قیام پاکستان سے متعلق اس کے موقف کی حمایت کرے۔ ایک ایسا ہی احتجاج ہو رہا تھا، جس میں یوننسٹوں کے خلاف نعرہ بازی ہوری تھی کہ قائد اعظم اور یونینسٹ پارٹی کے درمیان معاہدہ ہوگیا۔ اچانک خضر حیات مردہ باد کے نعرے لگانے والے مظاہرین جو نعرہ تبدیل کردیا، اور یہ نعرہ بلند کیا کہ ’’ ہن ہن خبر آئی ہے خضر ساڈا بھائی ہے۔ ‘‘ سو اب خبر آئی ہے کہ حکمران جماعت تحریک انصاف اور اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان پس پردہ معاہدہ ہو ہے ، اس کے بعد حکومت کو بجٹ اجلاس میں واک اوور مل گیا ہے۔ اپوزیشن نے بجٹ پر سخت موقف اختیار کرنے یا بجٹ کی منظوری کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپوزیشن نے یہ بھی مان لیا ہے کہ وہ بجٹ پر کٹ موشن پیش تو کرے گی تاہم اس پر ووٹنگ کے لئے زور نہیں دے گی۔ صرف اتنا ہی نہیں اپوزیشن نے یہ بھی قبول کرلیا ہے کہ وہ اجلاس میں کورم پورا نہ ہونے کی بھی نشاندہی نہیں کرے گی۔ کٹ موشن پر ووٹنگ کی صورت میں ممکن ہے کہ حکمران جماعت اور اس کے اتحادی اتنی اکثریت میں ایوان موجود نہ ہوں اور حکومت کی شکست ہو جائے۔ اور بجٹ اجلاس میں حکومت کی شکست کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ حکومت کو اکثریت حاصل نہیں رہی۔ اب وزیراعظم دوبارہ اعتماد کا ووٹ حاصل کریں یا نئی حکومت بنائی جائے۔

اسمبلی کے قواعد کے مطابق کل اراکین کی ایک چوتھائی کورم کہلاتا ہے۔ کسی بھی اجلاس کی کارروائی کی قانونی اور آئینی حیثیت کے لئے کورم کا مکمل ہونا ضروری ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ کورم نامکمل ہونے کو صرف تب تسلیم کیا جائے گا جب کوئی ممبر اس کی نشاندہی کریگا ، جس کا اسپیکر نوٹس لے گا۔ اسپیکر از خود نوٹس نہیں لے سکتا۔ جب تک نشاندہی نہیں کی جاتی تب تک یہی سمجھا جائے گا کہ کورم مکمل ہے خواہ ایوان میں دو تین درجن اراکین موجود ہوں۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کی کئی معنی ہیں۔ پہلی یہ کہ اپوزیشن بجٹ کی منظوری میں رکاوٹ بننے سے دستبردار ہو گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ دستبرداری رضاکارانہ تو ہو نہیں سکتی۔ ایوان میں شور شرابہ کرنے کی سیاسی اہمیت ضرور ہے ، لیکن اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ اگر اپوزیشن کٹ موشن پیش کرتی ہے اس پر ووٹنگ کے لئے جاتی ہے تو حکومت کے لئے خراب صورتحال پید اہوجاتی ہے۔ خاص طور پر ایسی مخلوط حکومت جو مختلف اتحادیوں کی حمایت سے چار پانچ ووٹوں کی اکثریت پر کھڑی ہو۔ کٹ موشن اگر ووٹنگ میں منظور ہو جاتا ہے تو اس کی قانونی حیثیت ہے۔ لیکن اپوزیشن حکومت کو قانونی یا آئینی طور پر کمزور پچ پر لے جانے سے دستبردار ہو گئی ہے۔ البتہ ہو بجٹ اجلاس میں شو رشرابہ ضرور کرے گی، جس سے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ تو ہو سکتی ہے لیکن مجموعی طور پر حکومت کو کوئی خطرہ نہیں لاحق ہوگا۔

دوسری بات یہ کہ اب اپوزیشن کورم مکمل نہ ہونے کی بھی نشاندہی نہیں کرے گی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ خواہ چالیس پچاس اراکین حاضر ہوں ، اجلاس کی کارروائی چلتی رہے گی۔ یہ صورتحال بھی حکومت کے فائدے میں ہے۔ مطلب یہ کہ بجٹ اجلاس کے حوالے سے اپوزیشن کے پاس دو بڑے قانونی اور آئینی ہتھیار تھے جن کے ذریعے حکومت کو کمزور پوزیشن پر دھکیل سکتی تھی۔ لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔ اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ اب کے بار بجٹ اجلاس ایک رسمی کارروائی سے زیادہ کچھ نہیں۔ جس میں صرف بحث ہوگی، تقاریر اور الزام تراشی ہوگی۔ کوئی ایسا قدم نہیں ہوگا جو حکومت کو اپنی معاشی اور مالی پالیسیاں تبدیل کرنے پر مجبور کرے۔ یہ بھی عجیب سی بات ہے کہ پورے سال کے لئے ملک کی معاشی مالی پالیسیوں کے فیصلے میں اپوزیشن کا رول ہی ختم ہو گیا ہے اور صرف چار پانچ درجن اراکین قوم کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ اس کے لئے ان سے نہ کوئی پوچھنے والا ہوگا نہ اعتراض کرنے والا۔ تیسری بات یہ کہ حکمران جماعت اپنے ہی اراکین اسمبلی کی بجٹ اجلاس میں موجودی کو یقینی نہیں بنا پارہی ہے۔ یہاں تک کہ اس کے پاس شاید اپنے اراکین کے ذریعے کورم مکمل کرنے کے لئے اراکین موجود نہیں۔کم از کم یہ کہ بجٹ کے ایک ایک کر کے مطالبات منظور کرنے کے موقع پر یا اپوزیشن کی جانب سے کٹ موشن پر ووٹنگ کرانے کے وقت حکومت اپنے اراکین کا انتظام نہیں کر پارہی۔ اسے ڈر ہے کہ کیا پتہ کہ ان دنوں میں اپوزیشن اپنے زیادہ اراکین اسمبلی لے آئے ۔یہ منظر نامہ حکمران جماعت اور اس کی قیادت کے کمزور ہونے کی نشاندہی کرتا ہے ۔ شاید حکومتی پالیسیوں کو اپنی جماعت کے اراکین کی حمایت حاصل نہیں۔ یہ امر حکومت کی سیاسی کمزوری ہی نہیں بلکہ عددی کمزوری کو بھی عیاں کرتی ہے۔ وفاقی وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری آکر کیوں مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہیںکریں گے؟ شاید یہ موقف صرف اکیلے فواد چوہدری کا نہ ہو، ایسے اور بھی پارٹی کے اراکین ہو سکتے ہیں۔ معاہدے میں ایک نقطہ یہ بھی ہے کہ اجلاس میں صرف کورم کے برابر اکین آئیں گے۔ یعنی قومی اسمبلی کا کورم 86 اراکین کی موجودگی ہے۔ طے یہ ہوا ہے کہ اپوزیشن 40 اراکین اور حکومت اپنے 46 اراکین لے آئے گی۔ بالفاظ دیگرے اپوزیشن چالیس سے زیادہ بندے نہیں لے آئے گی۔ کیونکہ اس صورت میں حکومتی اراکین کم ہونگے۔

اراکین اسمبلی کی ایوان میں حاضری کم تعداد میں رکھنا بنیادی طور پر غیر آئینی اور غیر اخلاقی ہے، کیونکہ آئین کے مطابق کسی بھی رکن اسمبلی کو اجلاس میں شرکت سے روکا نہیں جاسکتا۔ بظاہر یہ کہا جارہا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے سماجی دوری پر عمل کرتے ہوئے اراکین اسمبلی کی ایوان میں موجود تعداد کم رکھی جارہی ہے۔

حکومت کی خواہش ہی نہیںپوری کوشش تھی کہ وہ بغیر کسی رکاوٹ کے بجٹ منظور کرالے۔ لیکن اپوزیشن اس بات کے لئے کیسے تیار ہو گئی؟ اس بات کو سمجھنے کے لئے گزشتہ تین ہفتے کے ملکی منظر نامے پر نظر رکھنی پڑے گی ۔ وفاقی حکومت نے چینی اسکینڈل کی تحقیقات کی کٹ ڈیٹ 1985کردی، یعنی یہ وہ سال ہے جب جنرل ضیاء کا مارشل اٹھا لیا گیا تھا اور ملک میں مارشل لا کے بعد وزیراعظم محمد خان جونیجو کی سربراہی میں پہلی سول حکومت قائم ہوئی تھی۔ بہت زیادہ ماضی کو دائرے میں لانے سے سیاستدانوں کی ایک بڑی تعداد اس لپیٹ میں آ رہی تھی۔ نیب نے اپوزیشن لیڈ شہباز شریف کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے، بعض گھروں کا گھیرائو کیا۔ اس کے علاوہ نیب نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو طلب کیا۔ اس طرح نیب کی بعض دیگ سرگرمیاں بھی سامنے آئیں۔ پھر شہباز شریف کو لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی۔ مراد علی شاہ بھی حاضری دے کر واپس آگئے۔ ایسے میں بلاول بھٹو زرداری کو بھی الیکشن کمیشن نے اثاثوں کے معاملے میں بری کردیا۔ نواز شریف جو لندن میں زیر علاج ہیں۔ ان کو واپس لانے کا بھی اسلام آباد کے حلقوں میں چرچہ ہونے لگا۔ لیکن بعد میں سب خیر ہو گیا۔ اور یہ خبر آگئی کہ خضر بھائی ساڈا بھائی ہے۔ آصف علی زرداری نے سب سے بنا کر رکھنے کی پالیسی پر عمل کرتے بچ بچائو کر کے پیپلزپارٹی کی حکومت کا دور مکمل کیا۔ نواز شریف نے سیاسی جماعتوں سے تو بنائے رکھی لیکن ان کا ٹکرائو بعض اداروں اور پنجاب کی قیادت سویلین کریں یا کوئی اور کی وجہ سے محاذ آرائی ہو گئی۔ لیکن پنجاب میں اپنی حمایت کے بل بوتے پر ان کی جماعت نے حکومت میں اپنی آئینی مدت پوری کی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کامیاب کرنے کا سب سے بڑا ہتھیار نیب ہے۔ اسی کے ذریعے اپوزیشن کو قابو کیا جارہا ہے۔ اپوزیشن کنٹرول میں ہے تو وزیراعظم عمران خان کو اپنے اتحادیوں کی حمایت کی بھی ضرورت نہیں۔


ای پیپر