لداخ میں چین کی چشم کشاد کا رروائی: مودی کیلئے سرپرائز
13 جون 2020 (12:21) 2020-06-13

آج سے 3سال قبل جب ڈوکلام کے بارڈر پر چینی پیپلز لبریشن آرمی (PLA)نے سرحدی تنازعے پر انڈین فوجیوں کو وہاں سے مار بھگایا تواس وقت بھی دونوں ممالک ے درمیان خوفناک جنگ کا خطرہ موجود تھا۔یہ چینی قیادت کی برد باری کا ثبوت ہے کہ وزاعظم نریندرمودی کو وہاں بلا کر ان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا گیا جسے ڈوکلام ایگریمنٹ کہا جاتا ہے۔ یہ 2017ء میں سائن ہوا تھا جس کی رو سے چین اور انڈیا متنازعہ معاملات میں کوئی فیصلہ یا کارروائی یکطرفہ طور پر نہیں کریں گے اسی معاہدے کے دوسال بعد 5اگست 2019ء کو جب انڈیا نے یکطرفہ کے طور پر مقبوضہ جموں کشمیر کو زبردستی انڈیا کا حصہ قرار دیا تو اس کے ساتھ ہی ملحقہ علاقے لداخ کو بھی براہ راست انڈیا نے اپنی راجدھانی میں شامل کرنے کا اعلان کردیا جوکہ ڈوکلام معاہدے کی واضح خلاف ورزی تھی۔ اس پر چائنا نے بظاہرخاموشی اختیار کی اور کسی فوجی کارروائی سے فوری طور احتراز کیا مگر چینی میڈیا اور سیاسی قیادت کے بیانات میں انڈیا اور عالمی برادری کو باور کرادیا گیاتھا کہ انڈیا نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور لداخ انڈیا کا نہیں بلکہ چین کا حصہ ہے۔ انڈین فیصلے کے فوری نتائج اس لئے ظاہر نہیں ہوئے کہ جموں کشمیر کی گنجان آبادی کے بر عکس لداخ کا علاقہ بہت کم آبادی پر مشتمل ہے یہ لوگ اپنی زبان شکل وشباہت اور رہن سہن اور زبا ن وثقافت میں بھی انڈیا سے زیادہ چین سے مماثلت رکھتے ہیں۔

سیاچن کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اسے دنیا کا سب سے بلند رترین میدان جنگ کہا جاتا ہے سیاچن کی اونچائی 16 ہزار فٹ سے زیادہ ہے سیاچن کے بعد دنیا کا دوسرا بلند ترین ملٹری زون لداخ میں گلوان ویلی اور پیگانگ لیک کا علاقہ ہے جہاں حال ہی میں چینی فوجیوں نے لائن آف ایکچول کنٹرول (LAC) کو عبور کر کے بھارت کے زیر قبضہ متنازعہ علاقے میں کئی کلومیٹر اندر آکر اپنے مورچے اور خیمے قائم کرلئے ہیں اسی دوران چینی فوجیوں کی بھارت کے ساتھ دست بدست لڑائی ہوئی جس میں ڈنڈوں گھونسوں اور پتھروں کا استعمال کیا گیا اور بھارتی فوجیوں کو دھکے دے کر وہاں سے پیچھے دھکیل دیا گیا جب انڈیا والوں نے دیکھا کہ PLAفوجیوں کی باڈی لینگوئج خطرناک ہے تو وہ خود ہی پسپا ہو گئے۔ بعد کی اطلاعات کے مطابق انڈیا کا 60مربع کلومیٹر کا علاقہ چین کے قبضے میں آگیا ہے۔ فوجی سطح پر مذاکرات جاری ہیں مگر ابھی تک چین نے انڈیا کا چھینا ہوا علاقہ واپس نہیں کیا جو مذاکرات کی ناکامی ہے۔

جب چین گلوان ویلی پر قبضے کا دعویٰ کرتا ہے تو انڈیا اکسے چن پر ملکیت کا جوابی دعوی نہایت ڈھٹائی کے ساتھ دیتا ہے اسکے چن در، مل سیاچن کے دوسری جانب کا علاقہ ہے جو اس وقت چائنا کے قبضے میں ہے اور یہاں چائنا انڈیا سرحد کے صرف 8کلومیٹر دور شاہراہ قراقرم ہے جو پاکستان اور چین کوملاتی ہے ۔

کارگل جنگ میں جب سیاچن کی سپلائی لائن کاٹ دی گئی تھی تو انڈیا نے اس واقع سے سبق سیکھاتھا کہ سیاچن (پاکستان) اور اس اکسے شن (چائنا) کے علاقوں پر کنٹرول رکھنے کیلئے انہیں کشمیراور لداخ پر اپنی گرفت مضبوط کرنا ہوں گی۔ چنانچہ انڈیا نے 1999ء میں ہی لداخ میں دولت بیگ کے علاقے میں اپنا بریگیڈہیڈ کوارٹر قائم کرنے کا منصوبہ بنایا۔ دولت بیگ میں انڈیا کا ملٹری ائیربیس موجود ہے۔ انڈیا نے گزشتہ دہائیوں کی محنت سے لداخ کے شہر لیہہ (LEH) سے دربوک شایوک سے چین کی سرحد کے ساتھ ساتھ ایک 200کلومیٹر لمبی روڈ بنائی ہے جو دولت بیگ تک جاتی ہے۔ چین اس پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے تھا یہ روڈ اب تکمیل کے مراحل میں دولت بیگ قراقرم سے 8کلومیٹر کی دوری پر ہے یہاں کا بریگیڈ ہیڈ کواٹر ایک طرف چائنا کیلئے خطرہ ہے تو دوسری طرف پاکستان اور انڈیا کی لائن آف کنٹرول بھی وہاں سے اتنے ہی فاصلے پر ہے۔ انڈیا کے دولت بیگ ہیڈ کوارٹر سے ہی پاکستان کے سی پیک کو فوجی خطرات ہو سکتے ہیں۔ چین نے انڈیا کو پیغام دیدیا ہے کہ وہ اس سڑک کو بطور انڈین سپلائی روٹ استعمال نہیںہونے دے گا۔انڈیا مجبور ہوجائے گا کہ جس سڑک پر انہوں نے اربوں روپے خرچ کرکے 20سال میں مکمل کیا اور ان کے ناقابل استعمال ہے۔ اب دولت بیگ کے ساتھ انڈیا کا رابط صرف فضائی رابطہ رہے گا جو مہنگا بھی ہے اور جنگ کی صورت میں خطرناک بھی۔ عسکری لحاظ سے دیکھیں تو اکسے چن میں چینی فوج اونچائی پر بیٹھی ہے لہٰذا انڈین فوجیوں کو نشانہ بنانایہ جنگ کی صورت میں ان کیلئے ماحول زیادہ سازگار ہے۔اگر گلوان میں فل سکیل جنگ کی صورتحال پیدا ہوجائے تو پاکستان کیلئے سیاچن میں انڈیا کی سپلائی لائن کاٹنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے اور اس کیلئے بہترین جگہ اب بھی کارگل ہی ہے۔ اگر 1999ء کے کارگل ایڈونچر میں پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت ایک پیج پر ہوتے تو انڈیا سیاچن سے بھاگ چکا ہوتا۔ سیاچن کا محاذ بھی انڈیا نے شروع کیا 1984ء تک اس علاقہ میں کوئی Demarkation یا حد بندی نہیں تھی کیونکہ وہاں کوئی آبادی ہی نہیں ہے جب انڈیا نے وہاں جا کر ملٹری پوسٹ قائم کی تو مجبوراً پاکستان کوبھی یہ کرنا پڑا۔ اب وہی شرارت انڈیا نے چین کے ساتھ کرنے کی کوشش کی۔ دربوک شایوک ہائی وے بنانے کے پیچھے انڈیا کے فوجی عزائم تھے جس کا جواب اب انڈیا کو مل چکا ہے۔

چائناکا Nagari eunsa ایئر بیس اکسے چن سے 200 کلو میٹر پیچھے ہے جس کی بلندی 14020فٹ ہے جو دنیا کا بلند ترین ایئر بیس ہے۔ انڈین میڈیا کے مطابق کسی ایئر وار کی صورت میں چائنا کو اس علاقے میں پہنچنے میں ایک گھنٹہ لگتا ہے جبکہ انڈیا کا پہنچنے کا ٹائم 4 گھنٹے ہے۔ یہ میدان جنگ ہر لحاظ سے چین کے لیے موزوں ہے۔

اس وقت بظاہر خاموشی ہے مگر مذاکرات کا عمل ڈیڈ لاک کا شکار ہے۔ چین کی طرف سے جو کچھ کیا گیا ہے اور انڈیا اور امریکہ کے لیے وارننگ شاٹ ہے کہ وہ خطے میں انڈیا کا تسلط نہیں رہنے دے گا۔ انڈیا کی طرف سے خاموشی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ صدر منتخب ہونے کی خواہش ٹوٹنے والی ہے لہٰذا وہ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ انڈیا کو چین کے خلاف کوئی مزید سبز باغ دکھا سکیں۔ نریندر مودی کی عوام اور اپوزیشن کی طرف سے تنقید اور شرمندگی میں اضافہ جاری ہے۔


ای پیپر