گھبرانے کی اجازت چاہیے صاحب
13 جون 2020 (12:21) 2020-06-13

کوئی تسلیم کرے یا انکار، ملک میں تبدیلی تو واقعی آگئی ہے مثلاََ پہلے حکمرانوں کوبدعنوان کہا جاتا تھا مگر اب عوام کو بدعنوان اور حکمرانوں کو دیانتدارکہا جاتا ہے یہ ایسی تبدیلی ہے جس کی مثال کسی دور میں نہیں ملتی ملک میں جمہوریت کا دوردورہ ہو یا آمریت نافذ ہوموجودہ حکمرانوں جیسی تبدیلی کوئی نہیں لا سکا یہاں تک کہ اسلام نافذ کرنے کے دعویدار جنرل ضیاالحق بھی یہ کام نہیں کر سکے اِس لیے موجودہ حکمرانوں کی تحسین تو بنتی ہے مگر بدعنوان عوام کے دیانتدار حکمران ملک کو مسائل کے گرداب سے نہیں نکال سکے ایسا لگتا ہے عوام دیانتداری کے بوجھ تلے کراہ رہی ہے لیکن حکمران گھبرانا نہیں کے احکامات صادرکررہے ہیں جس سے حالات کی سنگینی میںروز بروز اضافہ ہوتاجارہا ہے لیکن جب گھبرانا نہیں کا درس ملتا ہے تو لوگ بھونچکا رہ جاتے ہیں اور ایک دوسرے سے سوال کرنے لگتے ہیں کہ ملک کو درپیش خطرات کے باوجود کیسے مطمئن رہیں ؟

دیانتداری اتنی مہنگی پڑے گی کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا لوگوں نے تو دلفریب وعدوں سے متاثر ہو کر ووٹ دیے تھے لیکن وعدوں کے ساتھ شاید عوام بھی کسی کو یاد نہیں رہی اور عوام دوستی کے دعویدار رہنما اقتدار میں آکربرتری اور جاہ و حشمت کے آرزو مند نظر آنے لگے ہیں اسی لیے عوام نامی مخلوق سے بے نیاز ہیں مگر یہ اندازِ مسیحائی نامناسب محسوس کرتے ہوئے لوگوں میں اضطراب و گھبراہٹ جنم لینے لگی ہے اور جب یہ سُننے کو ملتا ہے کہ میرے پاکستانیوں گھبرانا نہیں تو لوگ سوال کرتے ہیں کہ گھبرائیں بھی نہ تو اور کیا کریں؟ کرنے کے لیے کوئی کام ہی نہیں حالات دن بدن خرابی کی طرف جا رہے ہیں کرونا سے تولوگوں کا گزشتہ تین ماہ کے دوران واسطہ پڑا ہے مگر اِس حقیقت کو جھٹلانا ممکن نہیں کہ کرونا سے پہلے بھی خرابی کی جانب سفر جاری تھا اب تو مسائل کے انبار میں دب چکے ہیںاسی لیے اپنے صاحب سے گھبرانے کی اجازت کے طلب گار ہیں۔

اشیائے خورونوش کوعوام کی دسترس میں رکھنا حکمرانوں کی ذمہ داری ہے مگر یہ ذمہ داری عرصہ ہوا ترک کی جا چکی ہے انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نرخ نامے کاغذ کے ٹکڑوں سے زیادہ کچھ نہیں پورا ملک ناجائز منافع خوروں کے نرغے میں ہے پرائس کنٹرول کمیٹیوں کا وجودبھی کاغذوںکی حد تک ہے عملی طورپرکہیںوجود نظر نہیں آتا ایسے میں عوام کا کوئی پُرسانِ حال نہیں اگر کوئی ملتجی نگاہوں سے حکمرانوں کی طرف دیکھتا ہے تو وہاں وفاق اورسندھ میں چھڑی لفظی جنگ کا معرکہ جاری ہے یا پھر سابق حکمرانوںکوگرفتار کرنا پہلی ترجیح ہے ایسے حالات میں مصائب و آلام کے شکار عوام جائیں تو کہاں جائیں ،کس سے فریاد کریںطرفہ تماشہ یہ کہ گھبرانا نہیں کا شاہی فرمان جاری ہو چکاہے مہنگائی کے مارے لوگ اگر گھبرائیں بھی نہ تو کیا کریں؟ روزگار تو ہیں نہیں صاحب کوئی اور مصروفیت ہی بتا دیں ۔

بدعنوانوں سے کسی کو ہمدردی نہیں مگر بیتے 23ماہ کے دوران کسی بدعنوان کو نہ سزا ملی ہے اور نہ ہی لوٹی گئی رقم کا ایک پیسہ بھی بیرونِ ملک سے واپس لایا گیاہے ملک میں وقفے وقفے سے نت نئے بحران پیدا ہورہے ہیں کبھی آٹے اور چینی کا بحران آتا ہے اب ملک میںپیٹرول کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے طلب کے مطابق رسد کو بنانا عوام کا نہیں حکومت کا فرض ہے مگر حکومت اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کرانے کی بجائے نرخ کم کرنے تک محدود ہو چکی ہے جس سے کمزوری کا تاثر ہویدا ہے پڑول پمپوں پر لوگوں کی قطاریں لگی

ہوئی ہیں لیکن طلب کے مطابق پیٹرول نہیں مل رہا کام کاج چھوڑ کر لوگ پیٹرول کے لیے خوار ہو رہے ہیں ایسے حالات میں گھبرانا نہیں کا تقاضا کرنا غلط ہے بلکہ اب تو عوام کو گھبرانے کی کُھلی چھٹی دینے کا اعلان کرنے کی ضرورت ہے۔

آٹا چینی بحران کے دوران بھی کہا گیا کہ اِس میں سابق حکومت کے اہم لوگ ملوث ہیں جس پر سب نے صاف شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا پھر ایک کمیشن بنایا گیاجس نے ملوث لوگوں کی نشاندہی کردی، رپورٹ افشا کی جا چکی ہے مگرکوئی ایکشن نہیں ہورہا بلکہ تاخیری حربے استعمال کیے جارہے ہیں طمطراق سے بننے والے کمیشن کی رپورٹ میں سقم ہیں یا کمیشن بنانے والوں کی نیت میں فتور آگیا ہے جو بھی ہے اب لوگ سچ سُننا اور کڑا احتساب ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں مگر عوامی آرزئووں کے مطابق کام کی بجائے حوصلہ رکھنے اور گھبرانا نہیں کے بھاشن دیے جاتے ہیں ارے صاحب آپ کی ہر بات سر آنکھوں پر، مگر گھر کی تباہی دیکھ کر اہلِ خانہ خاموش اور لاتعلق نہیں رہتے جبکہ آپ فرماتے ہیں گھبرانا نہیں۔

عالمی اِ دارہ صحت نے پاکستان میں بڑے پیمانے پر کرونا کے پھیلائو کا ذمہ دار حکومتی پالیسیوں کو قرار دیا ہے اگر لاک ڈائون کے دوران غیر ضروری نرمی سے پرہیز کیا جاتا تو نہ صرف جانی نقصان کم ہوتا بلکہ ہسپتالوں پر بھی استعداد سے زیادہ بوجھ نہ پڑتا مگر معاشی حالات کی آڑ میں لاک ڈائون ختم کر دیا گیا اگر غربت کا اتنا ہی زیادہ احساس تھا تو بہتر یہ تھا کہ لاک ڈائون میں مرحلہ وار نرمی لائی جاتی اور ایس او پیز پر عملدرآمد میں سختی سے کام لیا جاتا اِس طرح کچھ نہ کچھ بہتری کا امکان تھا مگر اچانک سب کو کُھلی چھٹی دینے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پاکستان مریضوں اور اموات کے حوالے سے خطے کا سب سے زیادہ متاثرہ ملک بن چکا ہے مگر جنھوں نے تعریف و توصیف کرنا ہوتی ہے وہ تعریف کا موقع تلاش کر لیتے ہیں محترمہ زرتاج گُل صاحبہ فرماتی ہیں کہ وزیرِ اعظم کی کرونا پالیسی کو ورلڈ اکنامک فورم نے سراہا ہے ورلڈ اکنامک فورم کا صحت کے معاملات سے بھلا کیا تعلق ؟ عالمی اِدارہ صحت ہی بات کرنے کا مجاز ہے جو حکومتی پالیسیوں کا ناقد ہے لیکن جو اِدارہ تنقید کرتا ہے وہ تو حکومت کو نظر نہیں آتا مگر کسی نہ کسی فورم سے تعریف نظر آ جاتی ہے کیا ہمارے ملک میں حکمران اشرفیہ گوئبلز کی پیروکار ہے اگر ایسا ہے تو پھر عوام کا گھبرانا بنتا ہے اور گھبرانے سے روکنا جائز نہیں ۔


ای پیپر