آئو انسانیت کے مرنے کا ماتم کریں!
13 جون 2020 (12:20) 2020-06-13

ملی انساں پہ بھروسے کی سزا

میں تھی نادان ہوئی مجھ سے خطا

عرش والے نے تب ہی بھیجی ہے

فرش والوں پہ کرونا کی وبا

اس ہفتے کچھ ایسے دل خراش واقعات دیکھنے میں آئے کہ جس کے بعد خود کو اشرف المخلوقات کہنے پر شرم محسوس ہونے لگی ہے۔ یہ واقعہ یقینا قابل مذمت ہے جس میں کیرالہ ہندوستان میں چند بے حس لوگوں نے حاملہ مادہ ہاتھی کو بارود بھرے انناس کھلا دیے جس سے وہ اپنے ہونے والے بچے سمیت دریا میں کھڑے کھڑیبارودی مواد مُنہ میں پھٹنے سے مر گئی۔ اس بے حس انسان کے مکروہ عمل نے واضح کردیا کہ ہم واقعی انسان کہلانے کے لائق نہیں ہیں آخر کیا قصور تھا اس معصوم کا بس اتنا کہ اس نے انسانوں پہ یقین کرلیا۔ کتنی تکلیف میں رہی وہ تین دن درد کے مارے اپنی جگہ کھڑی رہی آخر اتنا انسانیت سوز خیال کیسے اس مکروہ انسان کے دماغ میں آیا؟

انسان واقعی اتنا شر پسند بھی ہوسکتا ہے کہ ہنسی مذاق کے لیے ایک معصوم جانور کی جان ہی لے لیں۔

محکمہ جنگلات کے مطابق ’اندر سے زخمی ہونے کے بعد وہ اس قدر تکلیف میں تھی کہ تین دن تک دریائے ویلیار میں کھڑی رہی تاہم اس کو طبی امداد فراہم کرنے کی تمام کوششیں ناکام رہیں۔یہ دراصل اس ہتھنی کی نہیں بلکہ انسانیت کی موت ہے۔ اس مظلوم ہتھنی نے کبھی کسی انسان کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا تھا مگر انسان نے تو اس کے بھروسے کو ہی توڑ دیا اور اس کی جان ہی لے لی۔ پچھلے دنوں امریکہ میں تشدد کا ایک واقعہ پیش آیا جب ایک سفید فام پولیس افسر نے ایک سیاہ فام شخص جورج فلوئیڈ کو گرفتار کرتے ہوئے اُن کی گردن پر انتہائی زور سے اپنا گھٹنا رکھ کر انھیں قابو کیا۔ اس گرفتاری کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں جورج فلوئیڈ پولیس والے سے یہ التجا کرتے نظر آئے کہ ان کا دم گھٹ رہا ہے لیکن پولیس افسر ٹس سے مس نہ ہوا۔ امریکہ میں کئی بار کی طرح اس بار بھی ایک سیاہ فام شخص بظاہر پولیس کی جانب سے بے جا طاقت کے استعمال کی وجہ سے ہلاک ہوا۔ اس پر امریکی شہری

خاص طور پر سیاہ فام اور دیگر رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے امریکی انصاف مانگ رہے ہیں اور وہ انصاف میں تاخیر نہیں چاہتے۔ ماضی میں بھی اِن واقعات پر امریکہ میں بسنے والے سیاہ فام اور دیگر رنگ و نسل کے افراد نے انصاف نہ ملنے پر مظاہرے کیے اورغم و غصے کا اظہار بھی کیا۔سوشل میڈیا بلیک لائیوز میٹرز جیسے سلوگن سے بھرا ہوا ہے۔ مگر کشمیر،بھارت، شام،فلسطین برما میں جس طرح بے دردی سے مسلمانوں کا قتل عام کیا جاتا رہا ہے کبھی یہ ٹیگ نہیں دیکھا کہ مسلم لائف میٹرز!

اب امریکہ اور بھارت سے اپنے ملک میں واپس آئیں جہاں ایک واقعے میں گلشن اقبال پارک مون مارکیٹ لاہور میں امیر زادوں نے شوق اور شرارت میں غبارے بیچنے والے غریب بچوں پر کتے چھوڑ دیئے ، جنہوں نے بچوں کو بھنبھوڑ ڈالا۔ یاد رہے غربت اور اس ملک کے انصاف کے نظام کے باعث بچے کے باپ نے کسی بھی قانونی کارروائی کرنے سے انکار کر دیا تھا لیکن پولیس نے اس افسوسناک واقعہ پر فوری کارروائی کی۔ ہم بھارت میں ہتھنی کو رو رہے ہیں مگر ہمیں کیا پتہ! کہ کیسے کیسے درندے یہاں ہمارے معاشرے میں رہتے ہیں۔ حال ہی میں بحریہ ٹاؤن اسلام آباد کے مہذب میاں بیوی نے طوطا اڑ جانے پر آٹھ سالہ ملازمہ کو مارمار کر قتل کردیا۔ پنجرہ کا طوطا اڑ جانے پر گھر کے مالک اور اسکی بیوی نے آٹھ سالہ ملازمہ کو لاتیں،مکے اور ٹھڈے مار کر قتل کر دیا۔ معصوم ملازمہ کی چیخیں سن کر اہل محلہ نے مداخلت کی اور بچی کو ہسپتال پہنچایا جہاں وہ اندرونی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئی۔

بتایا جا رہا ہے کہ ملزم حسن صدیقی اور اسکی اہلیہ تین ہزار ماہانہ تنخواہ پر آٹھ سالہ بچی کو اپنے بچوں کی دیکھ بھال کیلئے گاوں سے لائے تھے۔ پیر کے روز پنجرے کے طوطوں کو دانہ ڈالتے ہوئے طوطا اڑ گیا جس پر حسن صدیقی نے بچی کو اٹھا کر زمین پر دے مارا۔ بچی کو لاتیں اور مکے بھی مارے گئے۔ آٹھ سالہ معصوم بچی یہ وحشانہ تشدد برداشت نہ کر سکی اور اہل محلہ کی مداخلت سے پہلے ہی تشدد کی تاب نہ لا کر بہیوش ہو گئی ۔گھر کا مالک اور اسکی اہلیہ پولیس کو بچی کے والدین کا پتہ نہیں بتا رہے۔ پولیس نے ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور اس دردناک واقعہ کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ یہ سب واقعات الگ ہیں مگر ان سب سے ایک ہی بات ظاہر ہوتی ہے کہ جنگلوں میں جو رہتے ہیں وہ ہم سے زیادہ مہذب ہیں اور ہم انسان ہی اصل درندے ہیں اور یہ کرونا تو بہت ہی کم عذاب ہے ہمارے اعمال کے حساب سے!

ان تینوں واقعات کے تناظر میں اگر ہم اسلامی نقطہ نظر دیکھیں تو امریکہ میں نسلی تعصب پر ہونے والے مظاہروں میں جو سلوگن استعمال کیا جارہا ہے وہ تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو سال پہلے ہی دے دیا تھا کہ کسی کالے کو گورے اور کسی گورے کو کالے پر فضیلت حاصل نہیں سوائے تقویٰ کے! جبکہ ہمارے دین میںجانوروں کیساتھ رحمدلی اور ان کا خیال رکھنے کی جتنی تلقین کی گئی ہے کسی اور مذہب میں نہیں کی گئی! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانورں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید اور بدسلوکی کو عذاب اور سزا کی وجہ گردانا اورانتہائی درجہ کی معصیت اور گناہ قرار دیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ایک عورت کو اس لیے عذاب دیا گیا کہ وہ بلی کو باندھ کر رکھتی تھی نہ کھلاتی نہ پلاتی اور نہ اس کو چھوڑ دیتی کہ چر چگ کر کھائے(مسلم)

حضرت ابن ِعباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک گدھا گذرا، جس کے منہ پر داغا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھ کر فرمایا:اس شخص پر لعنت ہو جس نے اس کو داغا ہے(مسلم)

جانور پر اس کی طاقت اور قوت سے زیاد ہ بوجھ لادنا جائز نہیں،اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے منع فرمایا ہے۔ اب خود اندازہ لگا لیں جس میں جانوروں کے ساتھ اس قدر حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے اس میں بچوں اور انسانوں کے حقوق کیا ہوں گے؟ دنیا بھر میں جہاں بھی انسانیت پرمظالم ہو رہے ہیں ان کو جلد یا بدیر اس کا حساب دینا ہوگا اور یاد رکھیں مظلوم کی دعا سیدھا عرش تک جاتی ہے اور اللہ حساب لینے میں دیر نہیں کرتا۔ ان سب واقعات کو دیکھ کر ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہم معاشرتی پستی کے کس مقام پر ہیں اور یہ عذاب در عذاب کیوں آرہے ہیں؟ ہم اللہ سے رحم کی اپیل تب ہی کرسکتے ہیں جب ہم خود اس صفت کو اپنے اندر پیدا نہ کرلیں۔

کرو مہربانی تم اہل زمیں پر

خدا مہرباں ہو گا عرش بریں پر!


ای پیپر