کورونا، کورونا اور کورونا …!
13 جون 2020 (12:20) 2020-06-13

میں نے بہت دنوں سے کورونا وائرس (COVID 19 ) کے بارے میں کچھ نہیں لکھا۔ ڈیڑھ دو ماہ قبل جب کورونا کا پھیلائو اس حد تک وسیع نہیں ہوا تھا میں نے کورونا کے حوالے سے چند ایک کالم لگا تار لکھے تھے جن کا لب لباب یہ تھا کہ کورونا کی اس وبا کے دو پہلو ہیں ایک یہ کہ یہ ایک طرح کی آزمائش ہے ۔(عذابِ الہٰی کی ترکیب شاید مناسب نہ ہو) اور ہمیں اس سے نجات کے لیے بحیثیت قوم اپنے رب کے حضور توبہ استغفار اور اپنی کوتاہیوں ، غلطیوں ، گناہوں اور لغزشوں کی معافی مانگی چاہیے کہ وہ کریم ذات اپنے حبیب پاک ؐ کے صدقے ہمیں اس سے نجات دے۔ دوسرا پہلو جس پر میں نے زور دیا تھا وہ یہ کہ ہمیں ان تمام احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونا چاہیے جن سے اس وباء کے پھیلائو کو روکنے یا محدود کرنے میں مدد ملے۔ خاص طور پر چین جیسے ملک جہاں یہ وبا پہلے پہل پھوٹی تھی، وہاں اختیار کی جانے والی احتیاطی تدابیر کو ہم اپنے ہاں اختیار کر کے کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کا بندوبست کریں ۔ ۔ اس کے لیے حکومتی سطح پر لاک ڈائون اور عوامی سطح پر سماجی فاصلہ برقرار رکھنا، ماسک پہننا اور زیادہ میل جول سے بچنا اور دوسری احتیاطی تدابیر اختیا ر کرنا جیسے اعمال و افعال کو اپنا معمول بنانے میں ہمیں کوئی دقت یا ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔ ایک کالم میں ، میں نے یہاں تک لکھا کہ چین ، کوریا، جاپان یا جرمنی جیسے ممالک میں محض احتیاطی تدابیر ہی ایسا کارگر نسخہ ثابت ہوئی ہیں جن کی مدد سے وہ اپنے ہاں اس وبا کے پھیلائو کو روکنے میں کامیابی حاصل کر رہے ہیں جبکہ ہمارے ہاں احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کے ساتھ دین کی تعلیمات پر خلوصِ دل سے عمل پیرا ہونا اور اپنے رب سے اپنی لغزشوں کی معافی مانگنا ایک ایسا مثبت ، ارفع اور اعلیٰ پہلو ہے جس کی بنا پر ہمیں ان ممالک پر فوقیت حاصل ہے اور ہم بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ خیر دین کی تعلیمات اور اپنے رب کے حضور اپنے گناہوں اور غلطیوں کی معافی اور توبہ استغفار کا ہم نے کیا اہتمام کیا یہ ربِ کریم ہی بہتر جانتے ہیں ۔ تاہم اس ضمن میں رمضان کریم کے بابرکت مہینے میں کونسی خرابی ہم نے نہیں کی ، منافع خوری ، لوٹ مار اور افرا تفری پھیلانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی اور مساجد میں عبادات کے لیے جانے پر پابندی کو ہم نے اپنے لیے بہانہ سازی کا ایک ذریعہ جانا ۔ ذاتی طور پر اگر مجھے اس ضمن میں کچھ کہنا پڑے تو میں یہی کہوں گا کہ میں عمر کے اس حصے میں ہوں جہاں عبادات و فرائض کی پابندی ، اللہ کریم کے حضور اپنی لغزشوں اور کوتاہیوں کی معافی ، توبہ استغفار اور اُس کے ساتھ اُس کے حبیبِ کبریاؐ کے حضور ہدیہ درود و سلام پیش کرنے کو سب باتوں پر فوقیت حاصل ہونی چاہیے لیکن مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ بڑی عمر کے افراد کے مساجد میں پنجگانہ نمازوں اور نمازِ تراویح کی ادائیگی کے لیے جانے پر پابندی کو شاید میں نے اپنے لیے غنیمت جانا۔ اس طرح رمضان المبارک کے دوران نمازو عبادات کی ادائیگی میں وہ یکسوئی ، باقاعدگی اور عجز و انکساری قائم نہیں رکھی جا سکی جو ہونی چاہیے تھی۔ میں نے اپنے حوالے سے یہ جو کچھ بیان کیا ہے اس سے کوئی اپنی پارسائی یا خود نمائی ظاہر کرنا مقصود

نہیں۔ صرف اظہارِ ندامت ہے اور اسکے ساتھ اس اجتماعی رویے کی تصویر کشی بھی ہے جو ہم میں عمومی طور پر پایا جاتا ہے۔ خیر ہم اس موضوع کو چھوڑ کر کورونا وائرس کے پھیلائو کی صورتحال کی طرف آتے ہیں۔

وزیرِ اعظم جناب عمران خان اگرچہ کورونا کے پھیلائو اور اُسکے مجموعی اثرات و نتائج و عواقب کے بارے میں اپنے ذاتی نقطہ ِ نظر یا اپنے حکومتی مئوقف کے اظہار میں ایک تسلسل قائم رکھے ہوئے ہیں اور اس میں وہ کوئی کوتاہی نہیںہونے دیتے۔ دو ، تین دن قبل اُن کا ارشاد تھا کہ ملک میں جولائی اگست میں کورونا عروج پر ہو گا۔ وبا سنجیدگی سے نہیں لی جا رہی ۔ لوگ احتیاط نہ کر کے اپنوں کی زندگی خطرے میں اور ملک کو مشکل میں ڈال رہے ہیں۔ عوام ایس او پیز پر عمل کریں ، احتیاط نہ کی تو بہت مشکل وقت آنے والا ہے۔ ماسک ضرور پہنیں۔ ماسک کی وجہ سے 50% تک بیماری سے بچا جا سکتا ہے۔ لاک ڈائون سے کورونا ختم نہیں ہوتا اس سے کورونا کے پھیلائو کو روکا جاسکتا ہے۔ جناب وزیرِ اعظم نے اور بھی کئی قابلِ قدر فرمودات ارشاد فرمائے ہیں لیکن اُن سے ہٹ کر اُسی دن وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی جناب اسد عمر جو کورونا کے حوالے سے قائم نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (NCOC ) کے انچارج بھی ہیں کا پریس کانفرنس میں دیا گیا یہ بیان سامنے آیا کہ کورونا کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے وینٹی لیٹرز اور بستروں کی قلت ہو گئی ہے ۔ اس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے جون کے مہینے میں ایک ہزار بیڈز جن میں آکسیجن کی سہولت شامل ہے صوبوں کو دینے کی ذمہ داری پوری کرنی ہے۔ صوبوں کو پہلے بھی اس وبا سے نمٹنے کے لیے امداد دی جا چکی ہے۔ وزیرِ اعظم جناب عمران خان اوراُنکی کابینہ کے سینیئر اور بااعتماد ساتھی اسد عمر کے ان اعترافات اور خدشات کے ساتھ سپریم کورٹ میں بھی کورونا از خود نوٹس کیس کی سماعت کے حوالے سے اُسی دن جو خبر چھپی ہے اس کا بھی کچھ حصہ یہاں پر اگر نقل کر دیا جائے تو کچھ ایسا بے جا نہیں ہو گا۔ کیس کی سماعت کے دوران جناب چیف جسٹس گلزار احمد اور بینچ کے ایک فاضل رُکن جسٹس اعجاز الااحسن کے بار بار یہ ریمارکس تھے کہ نہیں معلوم کورونا مریضوں کی تعداد کہاں جا کر رُکے۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ لیڈر کا کردار ادا کرے اور اس وبا سے بچائو کیلئے قانون سازی کرے۔

چوٹی کی سطح کے حکومتی اکابرین کے یہ بیانات اور سپریم کورٹ کے اس بارے میں ریمارکس یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کورونا وائرس کی وبا بلا شبہ اس حد تک پھیل چکی ہے کہ اب اس پر قابو پانا اتنا آسان نہیں رہا۔ ایسا کیوں ہوا ہے ؟ اس کا جواب ڈھونڈنے سے پہلے دیکھتے ہیں کہ کورونا وائرس کے مریضوں کے حوالے سے تازہ ترین صورتحال کیا ہے۔ جمعرات کو جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں ایک دن میں کورونا وائرس کے 6 ہزار نئے مریضوں کے اضافے سے ملک میں کورونا سے متاثر مریضوں کی کل تعداد 1,17,171 جبکہ ایک دن میں 101 مریضوں کے جاں بحق ہونے کی وجہ سے کورونا سے ہونے والی اموات کی تعداد 2317 ہو چکی ہے۔ کورونا سے متاثر ہونے والے نئے مریضوں میں ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی ، سینیٹ کے ارکان ، ہائی کورٹ کے ججز، سرکاری اہلکار اور ڈاکٹرز اور طبی عملے کے ارکان سمیت عوام کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔ اُوپر بیان کردہ یہ اعداد و شمار اگرچہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (NCOC ) کے جاری کردہ ہیں لیکن انہیں اس بنا پر مکمل یا ہر لحاظ سے حتمی نہیں سمجھا جا سکتا کہ بہت سارے افراد ایسے بھی ہیں جنہیں اپنے بارے میں کورونا سے متاثر ہونے کا شبہ ہے اور وہ اپنے گھروں میں الگ پڑے احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں کورونا سے متاثر تمام افراد کے اگر ٹیسٹ ہوں اور اُس کے ساتھ دیگر تفصیلات بھی مہیا ہوں تو یقینی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ملک میں کورونا سے متاثر افراد یا اس سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جتنی بتائی جا رہی ہے۔

آخر یہ سب کچھ کیوں ہوا؟ اور اڑھائی تین ماہ قبل کورونا وائرس جب ملک میں اپنے پنجے مضبوطی سے گاڑھنے کے درپے تھا اور ہمیں نظر آ رہا تھا کہ ہم نے کوئی متفقہ اور قابلِ عمل لائحہ عمل تیار کر کے اُس پر عملدرآمد نہ کیا تو کورونا وائرس اس طرح پھیلے گا کہ اُس کو روکنا ہمارے بس کی بات نہیں ہو گی۔ آج وہی صورتحال سامنے آ چکی ہے۔ اس کی ذمہ داری سب سے زیادہ کس پر عائد ہوتی ہے؟ اسے تسلیم کیا جائے یا نہ کیا جائے لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس کی سب سے بڑی ذمہ دار وفاقی حکومت بلکہ وزیرِ اعظم جناب عمران خان خود ہیں اور اسکے بعد پوری عوام جن میں میری طرح کے پڑھے لکھے جاہل اور ’’بد علم‘‘ بھی شامل ہیں کچھ نہ کچھ ضرور ذمہ دار ہیں۔یہ المیہ نہیں ہے کہ واضح طور پر یہ نظر آ رہا تھا کہ زیادہ میل جول ، مارکیٹوں ،بازاروں ، دکانوں، سٹورز ، چوکوں، چوراہوں اور سٹرکوںپر زیادہ رش کرنے اور لوگوں کے آزادانہ گھومنے پھرنے اور سماجی فاصلہ برقرار نہ رکھنے اور ماسک پہننے اور سیناٹائزر کے استعمال کی پابندی کو نظر انداز کرنے سے یہ وائرس زیادہ پھیلے گا تو پھر ہم نے اس کا خیال کیوں نہیں رکھا؟ اس کے ساتھ سخت لاک ڈائون کے نفاذ میں بھی ہم نے کوتاہی کی۔ میرے ایک عزیز بر خوردار حسن جاوید جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور ایک مثالی تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھے ہوئے ہیں اُن کی بزبان انگلشیہ میں ایک پوسٹ آئی ہوئی ہے جس میں انتہائی سخت الفاظ میں انہوں نے اس بات کا تذکرہ کیا کہ کورونا وائرس کے پھیلائو میں جہاں حکومت کی نااہلی کا عمل دخل ہے وہاں عوام کی ذمہ داری بھی اس حوالے سے کچھ کم نہیں ہے۔ میں نے عزیزم حسن جاوید کی اس پوسٹ کے جواب میں جو کچھ لکھا اُس کا یہاں حوالہ کچھ ایسا غیر متعلق نہیں ہو گا۔ میں نے لکھا ہم نے مجرمانہ غفلت، غیر ذمہ داری اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی میں کچھ کمی نہیں چھوڑی۔ حکومت کی طرف سے قدم قدم پر فیصلہ سازی میں تاخیر، غیر ذمہ دارانہ اندازِ فکر و عمل اور شرمناک حد تک قائدانہ صلاحیتوں کا فقدان ، کس کس بات کا رونا رویا جائے ۔ سب سے بڑھ کر اجتماعی طور پر اللہ کے حضور اپنی غلطیوں اور لغزشوں پر معافی مانگنے کی بجائے لوٹ مار اور تماشہ بینی کا انداز ۔ ہمارے لیے یہ کم سے کم سزا ہے ورنہ ہم اس سے بڑھ کر وعید کے حقدار ہیں۔ اب بھی شاید کچھ مہلت ہے کہ ہم سنبھل جائیں ورنہ…


ای پیپر